عامر گلزار
چکورہ شوپیان
ایک وقت ایسا بھی تھا جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ جتنی کم آگاہی ہو، اتنی ہی زندگی میں اطمینان ہوتا ہے، لیکن آج کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب جو شخص جس قدر کم جانتا ہے، وہ اتنا ہی نقصان میں رہتا ہے۔ ابتدائی دور کا انسان بے خبری اور لاعلمی کی زندگی گزارتا تھا اور ذرا سی آہٹ سے گھبرا کر چونک اٹھتا تھا، لیکن آج کا انسان اس بے خبری اور لاعلمی کی دنیا سے بڑی حد تک باہر نکل آیا ہے۔ یہ سب لکھنے اور پڑھنے کا ہی ثمر ہے کہ بنی نوع انسان پتھر کے عہد سے نکل کر مشینی عہد میں داخل ہوا۔
علم وہ واحد ذریعہ ہے جس کی بدولت ہم صحیح و غلط، حق و باطل، نور و ظلمت اور خیر و شر میں امتیاز کر سکتے ہیں۔ اپنے اندر وسعتِ علم اور فکری پختگی پیدا کرنے کے لیے مطالعہ نہایت ضروری ہے، کیونکہ مطالعے کے بغیر انسان زندگی کے ہر شعبے میں کمزور رہ جاتا ہے۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے بے جا استعمال اور کتابوں سے دوری نے ہمارے اذہان کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم کتابوں کے مطالعے سے دن بہ دن دور ہوتے گئے۔
جس طرح ورزش انسانی صحت کے لیے ضروری ہے، اسی طرح کتابوں کا مطالعہ ذہنی سکون کو راحت بخشتا ہے۔ مطالعہ انسان کے ذہن میں نت نئے خیالات کے دریچے کھول دیتا ہے اور کتابوں کی روشنی سے تخیل کی دنیا آباد ہوتی ہے۔ ایک عظیم دانشور کا قول ہے کہ:
“دماغ کے لیے مطالعے کی وہی اہمیت ہے جو کنول کے لیے پانی کی۔”
عہدِ حاضر کا انسان اپنی زندگی کے قیمتی لمحات انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی نذر کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، لیکن کتابوں کے مطالعے کے لیے وقت کی تنگی کا شکوہ کرتا نظر آتا ہے۔ کاش ہمیں مطالعے کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ ہوتا تو ہم یوں اپنے ہی ہاتھوں وقت کی دولت لٹا نہ بیٹھتے۔ بغیر مطالعے کے نہ انسان کی صلاحیتیں نکھرتی ہیں اور نہ ہی خیالات میں پختگی آتی ہے۔
کتابوں کے مطالعے سے انسان کو شعور و آگہی اور فہم و فراست حاصل ہوتی ہے، نت نئے تجربات سے سابقہ پڑتا ہے، گفتگو میں روانی آتی ہے اور انسان تنگ نظری سے باہر نکلتا ہے۔ فرانسس بیکن مطالعے کی اہمیت کے بارے میں لکھتے ہیں:
“مطالعے سے خلوت میں خوشی، تقریر میں زیبائش، ترتیب و تدوین میں استعداد اور تجربے میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔”
مولانا ابو الکلام آزاد اپنی تصنیف غبارِ خاطر میں اپنے شوقِ مطالعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"میرے تخیل میں عیشِ زندگی کا سب سے بہترین تصور کیا ہو سکتا ہے؟ جاڑے کا موسم ہو، جاڑا بھی قریب قریب درجۂ انجماد کا، رات کا وقت ہو، آتش دان میں اونچے اونچے شعلے بھڑک رہے ہوں اور میں کمرے کی ساری مسندیں چھوڑ کر اس کے قریب بیٹھا پڑھنے یا لکھنے میں مشغول ہوں۔”
اگر ہم کامیابی اور کامرانی کی شاہراہ پر گامزن ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں کتابوں کے مطالعے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا ہوگا، کیونکہ مطالعہ ہی وہ چراغ ہے جو انسانی فکر کو منور کر کے دنیا کے پیچیدہ مسائل کے حل کی راہیں دکھاتا ہے۔ دنیا میں امن و امان کے قیام کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم کتابوں سے اپنا رشتہ مضبوط سے مضبوط تر کریں اور سوشل میڈیا کے بے جا استعمال کے بجائے مطالعے کے لیے وقت وقف کریں، تاکہ حقیقی فلاح و بہبود اور فکری بالیدگی حاصل کی جا سکے۔


