جنگ فیچر ڈیسک
بشکریہ : DIPRجموں کشمیر
ایک ایسا وقت جب منشیات کی لت پورے ملک میں ایک سنگین سماجی اور عوامی صحت کا چیلنج بن چکی ہے اور جب سخت نفاذی اَقدامات اکثر دیرپا نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں۔ جموں و کشمیر نے ایک بالکل مختلف اور مؤثر مثال قائم کی ہے۔یہ حکمت عملی اعداد و شمار، شفافیت، اِدارہ جاتی ہم آہنگی اور مسلسل عوامی شمولیت پر مبنی ہندوستان میں منشیات کے مسئلے سے نمٹنے کے طریقے میں ایک فیصلہ کن تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔
’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان ‘ 5؍ اپریل 2025 ء کو شروع کیا گیا جس کی قیادت محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ ( ڈِی آئی پی آر) نے دیگر سرکاری محکموں کے اِشتراک سے کی، ملک میں سب سے جامع، ٹیکنالوجی پر مبنی اور عوامی طور پر قابلِ تصدیق انسدادِ منشیات مہمات میں سے ایک بن کر اُبھری ہے۔’ نشہ مکت بھارت ابھیان‘کے قومی ویژن کے مطابق جموںوکشمیر کا یہ اقدام ایسی اِنتظامی اِختراعات کو متعارف کرتاہے جو اسے دیگر ریاستوں اور خطوں کی کوششوں سے ممتاز بناتے ہیں۔
باریک بینی سے ڈیزائن کیا گیا، مشن کی طرز پر عمل درآمد
اِبتدا ہی سے اس مہم کو غیر معمولی ادارہ جاتی مضبوطی کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا جس میں اعلیٰ انتظامی سطح پر حکمتِ عملی کی تیاری اور زمینی سطح پر منظم عمل درآمدکے ساتھ ملایا گیا ہے۔ عوامی رسائی سرگرمیاں تین واضح سطحوں پنچایتیں، شہری بلدیاتی اداروں (یوایل بیز) اور تعلیمی اداروںپر انجام دی جا رہی ہیںجس سے جموں و کشمیر کے دیہی و شہری تمام علاقوں کا احاطہ یقینی بنایا گیا ہے۔
ضلع اِنتظامیہ ایک منظم اور پہلے سے منظور شدہ ہفتہ وار کیلنڈر کے تحت کام کرتی ہے جس میں پنچایت،یو ایل بی اور اِدارہ جاتی سرگرمیوں کے لئے مخصوص دِن مختص ہوتے ہیں۔ اِس طریقۂ کار نے بیداری کو محض علامتی یا وقتی سرگرمیوں سے نکال کر ایک مسلسل، متوقع اور دیرپا عمل میں تبدیل کیاہے۔ سکولوں اور کالجوں پر خصوصی توجہ نوجوانوں میں بروقت مداخلت، روکتھام اور رویوں میں مثبت تبدیلی کی واضح حکمت عملی کی عکاس ہے۔
ایک ایسی مہم جو دیکھی، ناپی اور جانچی جا سکے
اِس ابھیان کی سب سے انقلابی خصوصیات میں سے ایک’ نشہ مکت جموں و کشمیر‘ عوامی ڈیش بورڈ ہے جو حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ ہوتا ہے اور شفافیت کو حکمرانی کا مرکز بناتا ہے۔ روایتی مہمات کے برعکس جہاں پیش رفت صرف داخلی فائلوں تک محدود رہتی ہے، اس اقدام کے تحت ہر سرگرمی ڈیجیٹل طور پر درج، نگرانی شدہ اور عوام کے لئے دستیاب ہے۔
ماہِ جنوری 2026 ء تک ڈیش بورڈ کے مطابق 7,193 میں سے 5,736 پنچایت سطح کی سرگرمیاں مکمل کی جا چکی ہیں جبکہ اَربن لوکل باڈیز نے 853 کے ہدف کے مقابلے میں 630 سرگرمیاں انجام دی ہیں۔ تعلیمی اِداروں میں 2,513 میں سے 2,319 پروگرام منعقد ہوئے۔ مجموعی طور پر اِن سرگرمیوں میں یونین ٹریٹری بھر میں براہ راست زائد اَز 4.35 لاکھ شرکأ شامل ہوئے ہیں۔۔ شیڈول، عمل درآمد اور حتیٰ کہ شرکأ کی تفصیلات پر مشتمل یہ حقیقی وقت کی شفافیت عوامی جوابدہی کا ایک نیا معیار قائم کرتی ہے۔
متحد ردِّعمل کے لئے مکمل حکومتی ہم آہنگی
اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ منشیات کا استعمال ایک کثیر جہتی چیلنج ہے۔اِنتظامیہ نے ایک جامع حکومتی طریقہ کار اَپنایا ہے جس میں صحت، داخلہ/پولیس، تعلیم، سماجی بہبود، دیہی ترقی، شہری ترقی، اَمورِ نوجوان و کھیل کود اور اطلاعات محکموں کو ایک واحد متحدہ فریم ورک کے تحت لایا گیا ہے۔ ہر محکمے کو واضح ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں تاکہ روکتھام، نفاذ، مشاورت، بیداری اور بحالی کی کوششیںہم آہنگ انداز میں کام کر سکیں۔
رپورٹنگ میں بکھراؤ کے دیرینہ مسئلے پر قابو پانے کے لئے آٹھ اہم محکموں کو ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے جوڑا گیا ہے جس سے سرگرمی کے ڈیٹا کو نشہ مکّت جموں و کشمیر پورٹل پر حقیقی وقت میں اَپ لوڈ کرنا ممکن ہوا ہے۔ اِس اِدارہ جاتی ہم آہنگی نے دوہرا کام کم کیا، ڈیٹا خلا کو پُر کیا اور تمام شعبوں میں مربوط اور ہم وقت ردِّعمل کو یقینی بنایا۔
بصری کہانی سنانے کے ذریعے مؤثر رَسائی
اِس بات کو یقینی بنانے کے لئے بیداری سرگرمیوں کو مؤثر اور دلچسپ بنانے کے لئے مہم میں مختصر،تھیم پر مبنی ویڈیو فلموں کا وسیع اِستعمال کیا گیا ہے۔ پنچایت ہالوں، یو ایل بی مقامات ،سکولوں اور کالجوں میں دکھائی جانے والی یہ فلمیں خاندانی پریشانی، ہم عمر دباؤ، لت کے چکر اور بحالی کے سفر جیسے حقیقی حالات کی عکاسی کرتی ہیں۔
یہ فلمیں پُرکشش بصری کہانیوں کو ماہر پیغام رسانی کے ساتھ ملا کر معمول کے بیداری سیشنز کو کمیونٹی کے لئے ایک دلچسپ تجربے میں بدل چکی ہیں۔ یہ آڈیو ویژول طریقہ کار خاص طور پر خواندگی اور توجہ کی صلاحیت کی رُکاوٹوں کو عبور کرنے میں مؤثر ثابت ہوا ہے جبکہ نوجوانوں اور طالب علموںکے درمیان گہری جذباتی دلچسپی پیدا کی ہے۔
ایک وقتی بیداری سے مسلسل شہری شمولیت تک
اِس پروگرام کی ایک واضح اِختراع اس کا منظم بعد از تقریب شمولیتی نظام ہے۔ ہر سرگرمی کے بعد شرکأ کی تفصیلات بشمول رابطہ نمبرات پورٹل پر اَپ لوڈ کئے جاتے ہیں۔ اِسی شام شرکأ کو ذاتی نوعیت کے توثیقی پیغامات بھیجے جاتے ہیںجو مہم کے بنیادی پیغام کو مضبوط کرتے ہیں اور اُنہیں دستیاب معاونتی نظام سے دوبارہ مربوط کرتے ہیں۔
اَب تک اس میکانزم کے تحت زائد اَز 1.12 لاکھ ایس ایم ایس بھیجے جا چکے ہیں۔ اِس کے علاوہ پورٹل پر تمام 20 اَضلاع کے لئے ضلعی سطح کے ہیلپ لائن نمبرات واضح طور پر دِکھائے گئے ہیں اور ضلعی اِنتظامیہ کو شکایات کے خلاصے اَپ لوڈ کرنے کی سہولیت فراہم کی جاتی ہے جس سے جوابدہی، فالو اَپ اور ادارہ جاتی جوابدہی یقینی بنتا ہے۔
منشیات سے نجات کے مستقل اقدامات کے لئے اِنسانی صلاحیت میں اِضافہ
اِنتظامیہ نے بیداری پیدا کرنے کے علاوہ نچلی سطح پر انسانی صلاحیت مضبوط بنانے پر بھی بھرپور توجہ دی ہے۔ ضلعی اِنتظامیہ نے ریسورس پرسنوںکے تربیت کے نئے دور کی شروعات کی ہے،سکولوں اور کالجوں کے لئے مخصوص کونسلروں کو متعین کیا ہے اور آشا ورکروںو پیرا میڈیکل عملے کو متحرک کیا ہے تاکہ حساس آبادیوں تک براہِ راست رَسائی ممکن ہو۔
سیلف ہیلپ گروپس بھی مہم میں کمیونٹی کی شرکت اور ملکیت کو گہرا کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ یہ تمام اَقدامات مل کر ایک تربیت یافتہ اور مقامی سطح پر مضبوط معاون نظام تشکیل دے رہے ہیں جو باضابطہ مہم کے بعد بھی مستقل مداخلت، مشاورت اور بحالی کو ممکن بنائے گا۔
میڈیا، ثقافتی اور نوجوانوں پر مرکوز شمولیت
مہم کی رسائی میںپرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے مؤثر امتزاج کے ذریعے ریڈیو جنگلز اور ٹی وی اِشتہارات کی معاونت سے نمایاں اِضافہ ہوا ہے۔ ڈِی ڈِی جموں اور ڈِی ڈِی کشمیر پر نشر ہونے والی خصوصی’انسپائر‘ پوڈکاسٹ سیریز میں ذہنی صحت کے ماہرین، ڈاکٹرزاور نامور شخصیات شامل ہوئیں جس نے خصوصاً جَن۔زیڈناظرین و سامعین میں ایک لاکھ سے زائد ویوز اور تاثرات حاصل کئے۔
ثقافتی اقدامات جیسے سٹریٹ پلے، لوک پرفارمنس اور نُکڑ ناٹک نے پیغامات کو مقامی زبانوں اور ثقافتی انداز میں پیش کرتے ہوئے مہم کے اثر کو رسمی ادارہ جاتی حدود سے باہر تک پھیلا دیا ہے۔
حکمرانی کا ایک ماڈل نئے معیار قائم کرتا ہوا
اعداد و شمار کی شفافیت، ادارہ جاتی ہم آہنگی، مؤثر ابلاغ اور شہری سطح پر فالو اپ کو ملاکر نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان محض ایک روایتی مہم نہیں رہا۔ یہ اَب ایک قابلِ تقلید حکمرانی ماڈل بن چکا ہے جو دکھاتا ہے کہ پیچیدہ عوامی صحت کے مسائل کو منصوبہ بندی، عوامی شرکت اور جوابدہی کے ذریعے کیسے حل کیا جا سکتا ہے۔
چیف سیکرٹری کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی جائزوں کے بعد جب مہم کا دوسرا مرحلہ زور پکڑ رہا ہے، جموں و کشمیر کی منشیات کے خلاف جنگ اب صرف لڑی نہیں جا رہی بلکہ عوام خود اس کی نگرانی، جانچ اور اعتماد کر رہی ہے جو منشیات سے محفوظ بھارت کے حصول میں ایک نیا قومی معیار قائم کر رہا ہے۔


