چِلّہ کلان اور انتظامیہ کی تیاری

تجمل قادری
موسم سرما کی شدید سردی اپنے زوروں پر ہے۔ چالیس دن کا چِلّہ کلان، جس میں عموماً برف باری یقینی سمجھی جاتی ہے، اپنی دہلیز پر کھڑا ہے۔ جموں و کشمیر میں برف باری جہاں ایک حسین منظر پیش کرتی ہے، وہیں یہ متعدد مشکلات کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے۔
ہر سال یہی صورتحال دیکھی جاتی ہے کہ تیز برف باری کے بعد قومی شاہراہوں سے لے کر اضلاع، قصبوں اور دور دراز گاؤں کی سڑکیں کئی دنوں تک بند رہتی ہیں۔ بجلی بھی طویل وقت تک بحال نہیں ہوتی اور زندگی کا پہیہ اچانک رک جاتا ہے۔ کشمیر کے بیشتر اضلاع میں کاروبار، تعلیمی سرگرمیاں اور دیگر شعبے متاثر ہوتے ہیں۔ کئی علاقوں میں سڑکیں ہفتوں تک برف میں دبی رہتی ہیں اور لوگ گھروں تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔
انتظامیہ کی کوششوں کے باوجود صورتحال ہر سال دہرائی جاتی ہے، اور یہی سوال پھر سامنے آتا ہے کہ آیا اس مرتبہ حکومت اور متعلقہ محکمے کسی بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ میدان میں اتریں گے یا نہیں؟ کیا ضلعی حکام نے برف ہٹانے، بجلی بحالی اور ایمرجنسی حالات میں امداد پہنچانے کی مناسب تیاری کر رکھی ہے؟
برف باری سے براہِ راست متاثر ہونے والے محکموں کو چاہیے کہ پہلے ہی متبادل انتظامات مکمل رکھیں۔ ہر برس دیر سے ردِعمل دکھانا عوام کے لیے مشکلات کا سبب بنتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے واضح کردیا ہے کہ شدید برف باری کے دوران بجلی اور سڑکوں کا متاثر ہونا تقریباً طے ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا انتظامیہ کی موجودہ تیاریاں زمینی سطح پر بھی نظر آتی ہیں؟ ایمرجنسی کنٹرول روم اور مشینری کا دعویٰ اپنی جگہ، لیکن ضرورت وقت پر یہی ادارے اکثر گم ہوجاتے ہیں۔ عوام کو صرف مشورہ نہیں بلکہ عملی ریلیف چاہیے۔
دوسرے ممالک میں اگر برف باری ہوتی ہے تو وہاں عام زندگی کو چلائے رکھنے کے لئے پہلے سے عملی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ سڑکوں پر نمک کا چھڑکاؤ، گاڑیوں کیلئے خصوصی ٹائر، بجلی اور ہیٹنگ کے متبادل ذرائع اور ہنگامی عملے کی پہلے سے تعیناتی معمول کا حصہ ہے۔ اس کے برعکس کشمیر میں اب بھی برف کا انتظار ہوتا ہے۔ تیاری پہلے نہیں بلکہ حادثے کے بعد نظر آتی ہے۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ چِلّہ کلان ایک موسمی حقیقت ہے، اچانک پیش آنے والی آفت نہیں۔ اس لئے انتظامیہ کا کام صرف موسم کی پیش گوئی سنانا نہیں بلکہ اس سے پہلے عملی اقدامات یقینی بنانا ہے۔ کشمیر کے لوگوں نے مشکل موسم ہمیشہ برداشت کیا ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ذمہ دار ادارے بھی موسم کے تقاضوں کو سمجھ کر وقت پر اپنا کردار ادا کریں۔
ززز


