جنگ فیچر
اننت ناگ کے کوکرناگ میں واقع دَمہال کا وہ پُرسکون گاؤں، جو کبھی محض پہاڑی ڈھلانوں، چشموں اور دیہاتی سادگی کا ایک معمولی گوشہ سمجھا جاتا تھا، آج ایک نام کی وجہ سے عالمی نقشے پر جگمگا رہا ہے۔ یہ نام ہے عامر احمدبٹ۔ ان کا سفر اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ اگر عزائم بلند ہوں تو پہاڑوں کے دل سے اٹھنے والا ایک معمولی نوجوان بھی دنیا کی چوٹیوں پر اپنا پرچم گاڑ سکتا ہے۔
عامر کی پیدائش 1994 میں ہوئی۔ محدود وسائل اور دور دراز محل وقوع کے باوجود ان کا ماحول خلوص، محنت اور سادگی سے معمور تھا۔ گورنمنٹ ہائی اسکول دَمہال اور پھر گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول دَلگام میں ابتدائی تعلیم نے ان کے اندر وہ بنیاد استوار کی جس پر آگے چل کر ان کے کردار کی عمارت کھڑی ہوئی۔ 2012 میں، جب انہوں نے جموں اینڈ کشمیر لائٹ انفنٹری کی بھرتی میں حصہ لیا، تو ان کی آنکھوں میں ایک ہی خواب تھا: اپنے وطن کی خدمت۔
مگر تقدیر ہمیشہ سیدھی لکیر نہیں کھینچتی۔ 2018 میں راجوری کے محاذ پر ڈیوٹی کے دوران شدید زخمی ہونے کے بعد ان کا فوجی مستقبل دھندلا پڑتا دکھائی دیتا تھا۔ یہ لمحہ کسی بھی سپاہی کے لیے امتحان ہوتا ہے، مگر عامر نے اسے اپنی حدود کا فیصلہ نہیں بننے دیا۔ علاج، بحالی اور ناقابلِ شکست عزم نے انہیں دوبارہ میدان میں لا کھڑا کیا۔ نئے حوصلے کے ساتھ جب 2021 میں انہوں نے انڈور ماہو میں فوج کی مارکسمین شپ یونٹ کے ٹرائلز میں حصہ لیا تو قسمت نے بھی ان کی استقامت کے آگے سر جھکا دیا۔
اصل تاریخ ساز لمحہ البتہ 2025 میں آیا، جب العین، متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ڈبلیو ایس پی ایس ورلڈ کپ نے عامر کا نام عالمی سطح پر منقش کر دیا۔ مکسڈ 25 میٹر اسپورٹ پسٹل ایونٹ P3 میں سونے کا تمغہ اور مکسڈ 10 میٹر اسٹینڈرڈ پسٹل میں کانسی کا تمغہ جیت کر انہوں نے ثابت کیا کہ کشمیر کی وادی صرف حسن کی وادی نہیں بلکہ قابلیت اور غیر معمولی مہارت کی سرزمین بھی ہے۔ 721.55 پوائنٹس کے ساتھ انہوں نے چین، امریکہ اور جنوبی کوریا جیسے ملکوں کے مشاق شوٹروں کو پیچھے چھوڑا اور SH1 زمرے میں عالمی نمبر ایک کا خطاب اپنے نام کیا۔ یہ اعزاز نہ صرف انفرادی کامیابی ہے بلکہ بھارتی پیرا شوٹنگ کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
فوج کے اسپورٹس اینڈ ایڈونچر ونگ نے ان کی یہ کامیابی بھارت کی پیرا شوٹنگ تاریخ کا ایک نیا باب قرار دیا ہے۔ عامر کی یہی کاوش آنے والے پیرالمپکس میں ہندوستان کے امکانات کو نئی قوت بخشتی ہے۔ خود عامر کے الفاظ میں عالمی نمبر ایک بننا محض خوشی کا باعث نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ان کا اگلا ہدف پیرالمپکس میں سونے کا تمغہ ہے، جسے وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ ملک کے وقار کے لیے جیتنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عامر کا سفر صرف ایک کھلاڑی کی جیت نہیں بلکہ جغرافیے، تاریخ، حالات اور محرومیوں کے مقابلے میں انسانی ارادے کا جشن ہے۔ کشمیر جیسے خطّے سے جہاں اکثر خبریں تشویش کی کیفیت میں لپٹی رہتی ہیں، عامر کی یہ کامیابی نوجوانوں کے لیے روشنی کی اس کرن کی مانند ہے جو دلوں میں امید جگاتی ہے کہ حوصلہ، نظم و ضبط اور محنت کسی بھی خواب کو ممکن بنا سکتے ہیں۔
جب عامر نشانے پر نظر جماتے ہیں تو یہ صرف ایک کھلاڑی کی توجہ نہیں ہوتی بلکہ ایک سپاہی کی خاموش نذر، ایک بیٹے کی عقیدت، ایک کشمیری نوجوان کی لگن اور ایک ہندوستانی شہری کی ذمہ داری بھی شامل ہوتی ہے۔ ان کا ہر وار ملک کے پرچم میں ایک نئی لہر پیدا کر دیتا ہے۔
آج عامر احمدبٹ صرف دَمہال گاؤں کے فرزند نہیں، کشمیر کی شان اور ہندوستان کی عظمت کا استعارہ ہیں۔ ان کا سفر آنے والی نسلوں کو یاد دلاتا رہے گا کہ عزائم بلند ہوں، نیت پاک ہو اور محنت مسلسل ہو تو دنیا کی کوئی طاقت راستہ نہیں روک سکتی۔
ززز


