تعلیم یافتہ عورت کا معاشرتی مقام

 

صائمہ مقبول
ٹیکی پورہ لولاب

عورت محض ایک وجود نہیں، بلکہ احساس، قربانی اور استقامت کی علامت ہے۔ اگر مرد کو طاقت اور اختیار کا پیکر کہا جائے تو عورت محبت، شفقت اور برداشت کی تصویر ہے۔ دنیا کا کوئی نظام، کوئی معاشرہ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک عورت اس میں اپنے حقیقی مقام کے ساتھ شامل نہ ہو۔
افسوس، انسان کی تاریخ کے کئی باب ایسے بھی ہیں جہاں عورت کے حصے میں صرف خاموشی اور محرومی آئی۔ اس کی آواز دبا دی گئی، اس کی آزادی چھین لی گئی۔ مگر وقت کے ساتھ جب علم نے آنکھ کھولی، جب شعور نے سوال کیا، تب عورت نے خود کو پہچانا اور دنیا کو بتایا کہ وہ کمزور نہیں — زندگی کی بنیاد ہے۔اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا جس کی مثال دنیا کی کوئی دوسری تہذیب نہیں دیتی۔ قرآنِ مجید نے عورت کو عزت، وراثت، احترام عطا کی۔
رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے ساتھ بہترین سلوک کرے۔”
یہ جملہ صرف نصیحت نہیں، عورت کے مقام کی پہچان ہے۔
یہ تو سب جانتے ہیں کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا سب سے معتبر راز اس کی عورتوں کی تعلیم ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عورت صرف ایک فرد نہیں، بلکہ ایک نسل کی معمار ہے۔
اکثر کہا جاتا ہے:
“اگر ایک مرد تعلیم حاصل کرے تو وہ ایک فرد بدلتا ہے،
مگر اگر ایک عورت تعلیم حاصل کرے تو وہ ایک خاندان بدل دیتی ہے۔”
تعلیم عورت کو سوچ عطا کرتی ہے، شعور دیتی ہے، اور سب سے بڑھ کر اپنے وجود کی پہچان۔ایک تعلیم یافتہ ماں اپنی گود کو علم کی پہچان بنا دیتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو صرف پڑھنا نہیں سکھاتی، بلکہ جینا اور انسان بننا سکھاتی ہے۔جہالت وہ دیوار ہے جو عورت کے پر کاٹتی ہے۔جہاں عورت کو پڑھنے نہیں دیا جاتا، وہاں قوم کے خواب مر جاتے ہیں۔میرے خیال میں عورت کی ذہانت سے ڈرنے والے معاشرے دراصل اپنی ہی ترقی سے خائف ہوتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ عورت سوال کرے، سوچے یا خود کو پہچانے۔ مگر وقت بدل چکا ہے۔ اب عورت قلم بھی اٹھا چکی ہے، آواز بھی۔وہ میدانِ عمل میں ہے ۔ڈاکٹر، استاد،معلمہ،وکیل، افسانہ نگار، سپاہی، سائنسدان— ہر روپ میں وہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہےتعلیم یافتہ عورت بغاوت نہیں کرتی، توازن لاتی ہے۔وہ گھر کو بکھیرتی نہیں، سنوارتی ہے۔وہ اپنے والدین کا سہارا شوہر کی مشیر، اپنے بچوں کی رہنما، اور معاشرے کے لیے ستون بن جاتی ہے۔اس کے وجود میں وقار ہے، اس کی سوچ میں روشنی، اور اس کے کردار میں صبر۔
میں سمجھتی ہوں کہ عورت کی خودمختاری مرد کے مقابل آنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا حوصلہ ہے۔یہ خودمختاری عورت کو برتر نہیں، برابر بناتی ہےاور معاشرے میں عورت کو عزت اور سر اٹھا کر جینا سکھاتی ہے۔ زندگی سکھ دکھ کا نام ہے اگر عورت تعلیم کے نور سے منور ہوگی تو وہ علم کی روشنی سے اپنی بکھری ہوی دنیا کو آباد کرسکتی ہے اور جہاں عورت کو دبایا جاتا ہے، وہاں ترقی کا چراغ بجھ جاتا ہے۔اور جہاں عورت کو تعلیم اور عزت دی جاتی ہے، وہاں تمدن پھولتا ہے۔جب ماں تعلیم یافتہ ہوگی تو بچہ علم دوست ہوگا اور جب بہن مضبوط ہوگی تو بھائی غیرت مند ہوگا۔آج کے جدید دور میں عورت کے لیے تعلیم اور ہنر دونوں ناگزیر ہیں۔یہ زمانہ ان عورتوں کا ہے جو قلم سے طاقت حاصل کرتی ہیں،جو اپنے فیصلے خود لیتی ہیں، مگر اپنے وقار کے دائرے میں ۔عورت اگر بیدار ہو جائے،تو پوری قوم بیدار ہو جاتی ہے۔اور اگر عورت سو جائے،تو اندھیرا صرف گھروں میں نہیں، نسلوں میں اتر آتا ہے۔آج کا دور کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ان پڑھ عورتوں کا اس دور میں جینا مشکل ہو جاتا ہے جدید زمانے کے کاموں کو سمجھ نہیں پاتی ۔اسلے تعلیم عورت کے لیے بہت ضروری ہے تاکہ وہ اپنے گھر اور معاشرے میں بہترین کردار ادا کرے۔
لہٰذا، عورت کو دبانا نہیں اسے پڑھانا، سمجھانا، حوصلہ اور اعتماد دینا ہی اصل معاشرتی ذمہ داری ہے۔کیونکہ عورت روشنی ہے، اور روشنی کو قید نہیں کیا جا سکتا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تعلیم یافتہ عورت کا معاشرتی مقام

 

صائمہ مقبول
ٹیکی پورہ لولاب

عورت محض ایک وجود نہیں، بلکہ احساس، قربانی اور استقامت کی علامت ہے۔ اگر مرد کو طاقت اور اختیار کا پیکر کہا جائے تو عورت محبت، شفقت اور برداشت کی تصویر ہے۔ دنیا کا کوئی نظام، کوئی معاشرہ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک عورت اس میں اپنے حقیقی مقام کے ساتھ شامل نہ ہو۔
افسوس، انسان کی تاریخ کے کئی باب ایسے بھی ہیں جہاں عورت کے حصے میں صرف خاموشی اور محرومی آئی۔ اس کی آواز دبا دی گئی، اس کی آزادی چھین لی گئی۔ مگر وقت کے ساتھ جب علم نے آنکھ کھولی، جب شعور نے سوال کیا، تب عورت نے خود کو پہچانا اور دنیا کو بتایا کہ وہ کمزور نہیں — زندگی کی بنیاد ہے۔اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا جس کی مثال دنیا کی کوئی دوسری تہذیب نہیں دیتی۔ قرآنِ مجید نے عورت کو عزت، وراثت، احترام عطا کی۔
رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے ساتھ بہترین سلوک کرے۔”
یہ جملہ صرف نصیحت نہیں، عورت کے مقام کی پہچان ہے۔
یہ تو سب جانتے ہیں کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا سب سے معتبر راز اس کی عورتوں کی تعلیم ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عورت صرف ایک فرد نہیں، بلکہ ایک نسل کی معمار ہے۔
اکثر کہا جاتا ہے:
“اگر ایک مرد تعلیم حاصل کرے تو وہ ایک فرد بدلتا ہے،
مگر اگر ایک عورت تعلیم حاصل کرے تو وہ ایک خاندان بدل دیتی ہے۔”
تعلیم عورت کو سوچ عطا کرتی ہے، شعور دیتی ہے، اور سب سے بڑھ کر اپنے وجود کی پہچان۔ایک تعلیم یافتہ ماں اپنی گود کو علم کی پہچان بنا دیتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو صرف پڑھنا نہیں سکھاتی، بلکہ جینا اور انسان بننا سکھاتی ہے۔جہالت وہ دیوار ہے جو عورت کے پر کاٹتی ہے۔جہاں عورت کو پڑھنے نہیں دیا جاتا، وہاں قوم کے خواب مر جاتے ہیں۔میرے خیال میں عورت کی ذہانت سے ڈرنے والے معاشرے دراصل اپنی ہی ترقی سے خائف ہوتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ عورت سوال کرے، سوچے یا خود کو پہچانے۔ مگر وقت بدل چکا ہے۔ اب عورت قلم بھی اٹھا چکی ہے، آواز بھی۔وہ میدانِ عمل میں ہے ۔ڈاکٹر، استاد،معلمہ،وکیل، افسانہ نگار، سپاہی، سائنسدان— ہر روپ میں وہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہےتعلیم یافتہ عورت بغاوت نہیں کرتی، توازن لاتی ہے۔وہ گھر کو بکھیرتی نہیں، سنوارتی ہے۔وہ اپنے والدین کا سہارا شوہر کی مشیر، اپنے بچوں کی رہنما، اور معاشرے کے لیے ستون بن جاتی ہے۔اس کے وجود میں وقار ہے، اس کی سوچ میں روشنی، اور اس کے کردار میں صبر۔
میں سمجھتی ہوں کہ عورت کی خودمختاری مرد کے مقابل آنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا حوصلہ ہے۔یہ خودمختاری عورت کو برتر نہیں، برابر بناتی ہےاور معاشرے میں عورت کو عزت اور سر اٹھا کر جینا سکھاتی ہے۔ زندگی سکھ دکھ کا نام ہے اگر عورت تعلیم کے نور سے منور ہوگی تو وہ علم کی روشنی سے اپنی بکھری ہوی دنیا کو آباد کرسکتی ہے اور جہاں عورت کو دبایا جاتا ہے، وہاں ترقی کا چراغ بجھ جاتا ہے۔اور جہاں عورت کو تعلیم اور عزت دی جاتی ہے، وہاں تمدن پھولتا ہے۔جب ماں تعلیم یافتہ ہوگی تو بچہ علم دوست ہوگا اور جب بہن مضبوط ہوگی تو بھائی غیرت مند ہوگا۔آج کے جدید دور میں عورت کے لیے تعلیم اور ہنر دونوں ناگزیر ہیں۔یہ زمانہ ان عورتوں کا ہے جو قلم سے طاقت حاصل کرتی ہیں،جو اپنے فیصلے خود لیتی ہیں، مگر اپنے وقار کے دائرے میں ۔عورت اگر بیدار ہو جائے،تو پوری قوم بیدار ہو جاتی ہے۔اور اگر عورت سو جائے،تو اندھیرا صرف گھروں میں نہیں، نسلوں میں اتر آتا ہے۔آج کا دور کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ان پڑھ عورتوں کا اس دور میں جینا مشکل ہو جاتا ہے جدید زمانے کے کاموں کو سمجھ نہیں پاتی ۔اسلے تعلیم عورت کے لیے بہت ضروری ہے تاکہ وہ اپنے گھر اور معاشرے میں بہترین کردار ادا کرے۔
لہٰذا، عورت کو دبانا نہیں اسے پڑھانا، سمجھانا، حوصلہ اور اعتماد دینا ہی اصل معاشرتی ذمہ داری ہے۔کیونکہ عورت روشنی ہے، اور روشنی کو قید نہیں کیا جا سکتا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں