کرکٹ کے نام پر شرمندگی !

جموں و کشمیر میں عالمی کرکٹ کی بحالی اور مثبت شناخت کے خواب کے ساتھ شروع ہونے والی انڈین ہیون پریمیئر لیگ (IHPL) کا اچانک انہدام نہ صرف ایک مالی بدعنوانی کا معاملہ ہے بلکہ یہ کشمیر کی ساکھ اور اعتبار پر ایک کاری ضرب بھی ہے۔ جس لیگ کوکرکٹ شائقین کی جانب سے ایک سنہری موقع کے طور پر دیکھا جا رہا تھا تاکہ وادیِ کشمیر کا ایک روشن اور پُرامن چہرہ دنیا کے سامنے آئے وہ اب عالمی کرکٹ برادری کے سامنے شرمندگی کا باعث بن گئی ہے۔
یہ خبر کہ منتظمین نصف شب کو سری نگر سے فرار ہو گئے، پیچھے غیر ادا شدہ بلز، پریشان کھلاڑیوں اور حیران ہوٹل عملے کو چھوڑ کر، ایک سنگین انتظامی اور اخلاقی بحران کو ظاہر کرتی ہے۔ اس المیے نے نہ صرف کھیل بلکہ کشمیر کے تاثر کو بھی متاثر کیا ہے۔
یہ امر افسوسناک ہے کہ ویسٹ انڈیز کے کرس گیل، نیوزی لینڈ کے جَیسے رائیڈر، اور سری لنکا کے تھیسارا پریرا جیسے بین الاقوامی کھلاڑی جن کی شرکت سے امید کی جا رہی تھی کہ کشمیر کا امن، مہمان نوازی اور کھیل کے لئے محبت کا پیغام دنیا تک پہنچے گا اب ایک ایسے اسکینڈل سے وابستہ ہو گئے ہیں جو سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ ان غیر ملکی کھلاڑیوں، امپائروں، کیمرہ کریو اور دیگر بین الاقوامی مہمانوں کو دراصل کشمیر کے غیر رسمی سفیر سمجھا جانا چاہیے تھا، مگر اس بدنظمی نے ان کے تجربے کو تلخ اور مایوس کن بنا دیا۔
یہ صرف ایک کھیل یا تقریب کا نہیں بلکہ اعتماد کے ٹوٹنے کا واقعہ ہے۔ کشمیر کی معیشت، سیاحت، اور سماجی تصویرگری کے لئے ایسے ایونٹس نایاب مواقع ہوتے ہیں، اور جب وہ بدانتظامی یا دھوکہ دہی کا شکار ہو جائیں تو نقصان صرف مالی نہیں بلکہ اخلاقی اور تہذیبی بھی ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس واقعے کی جامع اور شفاف تحقیقات کریں، اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی ادارہ یا شخص کشمیر کے نام پر اس طرح کا کھیل نہ کھیل سکے۔
کشمیر کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے سچائی، شفافیت، اور پیشہ ورانہ دیانت داری ہی اصل بنیادیں ہیں ورنہ چند لمحات کی چمک دمک ساری محنت کو داغدار کر سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

کرکٹ کے نام پر شرمندگی !

جموں و کشمیر میں عالمی کرکٹ کی بحالی اور مثبت شناخت کے خواب کے ساتھ شروع ہونے والی انڈین ہیون پریمیئر لیگ (IHPL) کا اچانک انہدام نہ صرف ایک مالی بدعنوانی کا معاملہ ہے بلکہ یہ کشمیر کی ساکھ اور اعتبار پر ایک کاری ضرب بھی ہے۔ جس لیگ کوکرکٹ شائقین کی جانب سے ایک سنہری موقع کے طور پر دیکھا جا رہا تھا تاکہ وادیِ کشمیر کا ایک روشن اور پُرامن چہرہ دنیا کے سامنے آئے وہ اب عالمی کرکٹ برادری کے سامنے شرمندگی کا باعث بن گئی ہے۔
یہ خبر کہ منتظمین نصف شب کو سری نگر سے فرار ہو گئے، پیچھے غیر ادا شدہ بلز، پریشان کھلاڑیوں اور حیران ہوٹل عملے کو چھوڑ کر، ایک سنگین انتظامی اور اخلاقی بحران کو ظاہر کرتی ہے۔ اس المیے نے نہ صرف کھیل بلکہ کشمیر کے تاثر کو بھی متاثر کیا ہے۔
یہ امر افسوسناک ہے کہ ویسٹ انڈیز کے کرس گیل، نیوزی لینڈ کے جَیسے رائیڈر، اور سری لنکا کے تھیسارا پریرا جیسے بین الاقوامی کھلاڑی جن کی شرکت سے امید کی جا رہی تھی کہ کشمیر کا امن، مہمان نوازی اور کھیل کے لئے محبت کا پیغام دنیا تک پہنچے گا اب ایک ایسے اسکینڈل سے وابستہ ہو گئے ہیں جو سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ ان غیر ملکی کھلاڑیوں، امپائروں، کیمرہ کریو اور دیگر بین الاقوامی مہمانوں کو دراصل کشمیر کے غیر رسمی سفیر سمجھا جانا چاہیے تھا، مگر اس بدنظمی نے ان کے تجربے کو تلخ اور مایوس کن بنا دیا۔
یہ صرف ایک کھیل یا تقریب کا نہیں بلکہ اعتماد کے ٹوٹنے کا واقعہ ہے۔ کشمیر کی معیشت، سیاحت، اور سماجی تصویرگری کے لئے ایسے ایونٹس نایاب مواقع ہوتے ہیں، اور جب وہ بدانتظامی یا دھوکہ دہی کا شکار ہو جائیں تو نقصان صرف مالی نہیں بلکہ اخلاقی اور تہذیبی بھی ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس واقعے کی جامع اور شفاف تحقیقات کریں، اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی ادارہ یا شخص کشمیر کے نام پر اس طرح کا کھیل نہ کھیل سکے۔
کشمیر کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے سچائی، شفافیت، اور پیشہ ورانہ دیانت داری ہی اصل بنیادیں ہیں ورنہ چند لمحات کی چمک دمک ساری محنت کو داغدار کر سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں