جنگ کے سائے میں زخم خوردہ فطرت

دنیا میں جب بھی جنگ کے بادل گہرے ہوتے ہیں، صرف انسان ہی نہیں بلکہ فطرت بھی لہو لہان ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ ہر سال 6 نومبر کو "ماحولیاتی استحصال کے انسداد کا بین الاقوامی دن”International Day for Preventing the Exploitation of the Environment in War and Armed Conflict مناتی ہے تاکہ دنیا کو یاد دلایا جا سکے کہ جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کے اثرات زمین، پانی، ہوا اور زندگی کے تمام مظاہر پر گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔
گزشتہ دہائیوں میں افغانستان، شام، عراق، یوکرین اور فلسطین جیسے علاقوں نے یہ خوفناک حقیقت دیکھی کہ جدید جنگیں صرف انسانی نسلوں کو نہیں، بلکہ زمین کی سانسوں کو بھی چھین لیتی ہیں۔ بمباری اور زہریلے ہتھیار زمین کی زرخیزی کو تباہ کرتے ہیں، پانی کے ذخائر آلودہ ہو جاتے ہیں اور لاکھوں درختوں کے جلنے سے ماحولیاتی توازن درہم برہم ہو جاتا ہے۔ فلسطین میں جاری تباہی اس کی تازہ ترین مثال ہے، جہاں جنگ نے نہ صرف انسانی المیہ پیدا کیا بلکہ فطرت کو بھی برباد کر کے رکھ دیا ہے۔
ماحولیاتی تباہی کے یہ زخم صرف وقتی نہیں ہوتے۔ جنگ کے بعد برسوں تک زمین اپنی زرخیزی کھو دیتی ہے، ندی نالے زہریلے مادوں سے بھرجاتے ہیں اور نسلِ انسانی کی بقا کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ اگر اقوامِ عالم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو ماحولیاتی نظام کی یہ ٹوٹ پھوٹ انسان کے اپنے وجود کے لیے چیلنج بن جائے گی۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی عینک اتار کر انسانی اور فطری زندگی کے مشترکہ تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ امن معاہدوں میں صرف انسانوں کے حقوق نہیں بلکہ ماحول کے حقوق بھی شامل کیے جائیں۔ جنگ کے دوران قدرتی وسائل کے تحفظ کو بین الاقوامی قانون کا حصہ بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
دنیا کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جنگ کا اصل فاتح کوئی نہیں نہ ملک، نہ قوم، نہ فوج۔ اس کی واحد شکست خوردہ فریق ہماری زمین ہے، جو ہر بار خاموشی سے اپنا لہو بہا کر بھی زندہ رہنے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر ہم نے اس کی آواز نہ سنی، تو اگلی جنگ شاید انسان اور فطرت دونوں کے خاتمے کی جنگ ہو گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

جنگ کے سائے میں زخم خوردہ فطرت

دنیا میں جب بھی جنگ کے بادل گہرے ہوتے ہیں، صرف انسان ہی نہیں بلکہ فطرت بھی لہو لہان ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ ہر سال 6 نومبر کو "ماحولیاتی استحصال کے انسداد کا بین الاقوامی دن”International Day for Preventing the Exploitation of the Environment in War and Armed Conflict مناتی ہے تاکہ دنیا کو یاد دلایا جا سکے کہ جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کے اثرات زمین، پانی، ہوا اور زندگی کے تمام مظاہر پر گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔
گزشتہ دہائیوں میں افغانستان، شام، عراق، یوکرین اور فلسطین جیسے علاقوں نے یہ خوفناک حقیقت دیکھی کہ جدید جنگیں صرف انسانی نسلوں کو نہیں، بلکہ زمین کی سانسوں کو بھی چھین لیتی ہیں۔ بمباری اور زہریلے ہتھیار زمین کی زرخیزی کو تباہ کرتے ہیں، پانی کے ذخائر آلودہ ہو جاتے ہیں اور لاکھوں درختوں کے جلنے سے ماحولیاتی توازن درہم برہم ہو جاتا ہے۔ فلسطین میں جاری تباہی اس کی تازہ ترین مثال ہے، جہاں جنگ نے نہ صرف انسانی المیہ پیدا کیا بلکہ فطرت کو بھی برباد کر کے رکھ دیا ہے۔
ماحولیاتی تباہی کے یہ زخم صرف وقتی نہیں ہوتے۔ جنگ کے بعد برسوں تک زمین اپنی زرخیزی کھو دیتی ہے، ندی نالے زہریلے مادوں سے بھرجاتے ہیں اور نسلِ انسانی کی بقا کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ اگر اقوامِ عالم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو ماحولیاتی نظام کی یہ ٹوٹ پھوٹ انسان کے اپنے وجود کے لیے چیلنج بن جائے گی۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی عینک اتار کر انسانی اور فطری زندگی کے مشترکہ تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ امن معاہدوں میں صرف انسانوں کے حقوق نہیں بلکہ ماحول کے حقوق بھی شامل کیے جائیں۔ جنگ کے دوران قدرتی وسائل کے تحفظ کو بین الاقوامی قانون کا حصہ بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
دنیا کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جنگ کا اصل فاتح کوئی نہیں نہ ملک، نہ قوم، نہ فوج۔ اس کی واحد شکست خوردہ فریق ہماری زمین ہے، جو ہر بار خاموشی سے اپنا لہو بہا کر بھی زندہ رہنے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر ہم نے اس کی آواز نہ سنی، تو اگلی جنگ شاید انسان اور فطرت دونوں کے خاتمے کی جنگ ہو گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں