غزہ:جنگ بندی نہیں، انصاف درکار ہے

ایک بار پھر دنیا نے غزہ کے امن معاہدے کو ٹوٹتے دیکھا ایک المناک تکرار، جو اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ فلسطین کے معاملے میں عالمی سفارت کاری کھوکھلے وعدوں اور غیر مؤثر بیانات سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی امن کی کوششیں آغاز سے پہلے ہی دم توڑ گئیں، اس لیے نہیں کہ امن ممکن نہیں، بلکہ اس لیے کہ انصاف موجود نہیں۔
غزہ میں حالیہ معاہدے کی ناکامی محض ایک وقتی سفارتی ناکامی نہیں، بلکہ اُس تاریخی بےحسی کی علامت ہے جس میں قابض کو کبھی جواب دہ نہیں ٹھہرایا گیا اور مظلوم سے ہمیشہ صبر اور خاموشی کا مطالبہ کیا گیا۔ ہر جنگ بندی محض ایک وقفہ ثابت ہوتی ہے — ملبے سے لاشیں نکالنے، گھر دوبارہ بنانے اور اگلی بمباری کے لیے تیار ہونے کا وقفہ۔ نام نہاد ثالث، خاص طور پر مغربی طاقتیں، ہمیشہ “دونوں فریقوں” کی بات کرتی ہیں، گویا غزہ اور تل ابیب ایک جیسے حالات میں ہیں، جبکہ حقیقت میں ایک طرف محاصرہ، بھوک اور تباہی ہے اور دوسری طرف جدید اسلحہ، حمایت اور استحصال۔
غزہ میں مذاکرات کی ہر ناکامی دراصل عالمی ضمیر کی شکست ہے۔ اقوامِ متحدہ محض قراردادوں اور مذمتوں کا تھیٹر بن چکی ہے۔ انسانیت کے نعرے سیاسی مفادات کے نیچے دفن ہو چکے ہیں۔ علاقائی طاقتیں بھی اکثر “امن کی کوششوں” کو اپنی سفارتی نمائش کے لیے استعمال کرتی ہیں، نہ کہ فلسطینیوں کے حقیقی درد کو مٹانے کے لیے۔ نتیجہ وہی نکلتا ہے — مذاکرات، جنگ بندی، خلاف ورزیاں اور پھر وہی خون و خاک کا سلسلہ۔ اصل امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مسئلے کی جڑ قبضہ کو تسلیم اور ختم نہیں کیا جاتا۔ ایسے تمام معاہدے جو اس حقیقت سے گریز کرتے ہیں، امن نہیں بلکہ زخم پر وقتی پٹی ہیں۔ دنیا، خاص طور پر مسلم اور عرب ممالک، کی اصل ذمہ داری صرف "امن” کی اپیل کرنا نہیں بلکہ انصاف کا مطالبہ کرنا ہے، کیونکہ آزادی کے بغیر امن غلامی ہے، اور خودمختاری کے بغیر تعمیرِ نو ایک دھوکہ۔
آج جب غزہ کے آسمان پھر آگ اگل رہے ہیں اور اسپتال پھر جنازہ گاہ بن چکے ہیں، دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اس المیے کو صرف منظم کرتی رہے گی یا حل بھی کرے گی۔تاریخ ان ناکام معاہدوں کو یاد نہیں رکھے گی، بلکہ یہ ضرور یاد رکھے گی کہ جب امن خاموشی میں بدل گیا تھا، اُس وقت کس نے سچ کا ساتھ دیا تھا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

غزہ:جنگ بندی نہیں، انصاف درکار ہے

ایک بار پھر دنیا نے غزہ کے امن معاہدے کو ٹوٹتے دیکھا ایک المناک تکرار، جو اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ فلسطین کے معاملے میں عالمی سفارت کاری کھوکھلے وعدوں اور غیر مؤثر بیانات سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی امن کی کوششیں آغاز سے پہلے ہی دم توڑ گئیں، اس لیے نہیں کہ امن ممکن نہیں، بلکہ اس لیے کہ انصاف موجود نہیں۔
غزہ میں حالیہ معاہدے کی ناکامی محض ایک وقتی سفارتی ناکامی نہیں، بلکہ اُس تاریخی بےحسی کی علامت ہے جس میں قابض کو کبھی جواب دہ نہیں ٹھہرایا گیا اور مظلوم سے ہمیشہ صبر اور خاموشی کا مطالبہ کیا گیا۔ ہر جنگ بندی محض ایک وقفہ ثابت ہوتی ہے — ملبے سے لاشیں نکالنے، گھر دوبارہ بنانے اور اگلی بمباری کے لیے تیار ہونے کا وقفہ۔ نام نہاد ثالث، خاص طور پر مغربی طاقتیں، ہمیشہ “دونوں فریقوں” کی بات کرتی ہیں، گویا غزہ اور تل ابیب ایک جیسے حالات میں ہیں، جبکہ حقیقت میں ایک طرف محاصرہ، بھوک اور تباہی ہے اور دوسری طرف جدید اسلحہ، حمایت اور استحصال۔
غزہ میں مذاکرات کی ہر ناکامی دراصل عالمی ضمیر کی شکست ہے۔ اقوامِ متحدہ محض قراردادوں اور مذمتوں کا تھیٹر بن چکی ہے۔ انسانیت کے نعرے سیاسی مفادات کے نیچے دفن ہو چکے ہیں۔ علاقائی طاقتیں بھی اکثر “امن کی کوششوں” کو اپنی سفارتی نمائش کے لیے استعمال کرتی ہیں، نہ کہ فلسطینیوں کے حقیقی درد کو مٹانے کے لیے۔ نتیجہ وہی نکلتا ہے — مذاکرات، جنگ بندی، خلاف ورزیاں اور پھر وہی خون و خاک کا سلسلہ۔ اصل امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مسئلے کی جڑ قبضہ کو تسلیم اور ختم نہیں کیا جاتا۔ ایسے تمام معاہدے جو اس حقیقت سے گریز کرتے ہیں، امن نہیں بلکہ زخم پر وقتی پٹی ہیں۔ دنیا، خاص طور پر مسلم اور عرب ممالک، کی اصل ذمہ داری صرف "امن” کی اپیل کرنا نہیں بلکہ انصاف کا مطالبہ کرنا ہے، کیونکہ آزادی کے بغیر امن غلامی ہے، اور خودمختاری کے بغیر تعمیرِ نو ایک دھوکہ۔
آج جب غزہ کے آسمان پھر آگ اگل رہے ہیں اور اسپتال پھر جنازہ گاہ بن چکے ہیں، دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اس المیے کو صرف منظم کرتی رہے گی یا حل بھی کرے گی۔تاریخ ان ناکام معاہدوں کو یاد نہیں رکھے گی، بلکہ یہ ضرور یاد رکھے گی کہ جب امن خاموشی میں بدل گیا تھا، اُس وقت کس نے سچ کا ساتھ دیا تھا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں