جموں و کشمیر میں محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (DIPR) کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ سخت ہدایات ایک اہم اور بروقت اقدام ہیں۔ محکمہ نے تمام ضلعی اطلاعاتی افسران (DIOs) کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اُن عناصر کے خلاف چوکسی برتیں جو خود کو ’’صحافی‘‘ ظاہر کر کے سرکاری اہلکاروں کو بلیک میل یا دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ اقدام اس بڑھتی ہوئی سماجی برائی کے خلاف ہے جس نے صحافت جیسے مقدس پیشے کو بدنامی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
محکمہ کے مطابق مختلف فیلڈ افسران، عوامی نمائندوں اور میڈیا اداروں سے بار بار شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ کچھ افراد جعلی شناخت کے ذریعے خود کو صحافی ظاہر کر کے اداروں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ لوگ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر بغیر کسی ذمہ داری کے غیر مصدقہ اور توہین آمیز مواد پھیلا کر اداروں اور افسران کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
تاہم اس مسئلے کا حل صرف سرکاری اقدامات سے ممکن نہیں۔ عوام کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ جو لوگ ان جعلی صحافیوں کا مواد دیکھتے، شیئر کرتے یا ان کے صفحات کو فالو کرتے ہیں، وہ بالواسطہ طور پر اس بے ہودہ کلچر کو تقویت دیتے ہیں۔ ایسے صفحات اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک اور رپورٹ کرنا ہر باشعور شہری کا اخلاقی فرض ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان ’’مائیک تھامے‘‘ افراد کی اکثریت کو نہ صحافت کی زبان کا علم ہے اور نہ اخلاقی حدود کا۔ ان کے صفحات کے ناموں میں بھی ادبی یا لسانی غلطیاں نمایاں ہوتی ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ نئی نسل، جو پہلے ہی سوشل میڈیا کی لت میں گرفتار ہے، ان کی بدزبانی، غیر پارلیمانی لہجے اور غیر سنجیدہ طرزِ اظہار سے متاثر ہو رہی ہے۔ یہ رجحان آنے والی نسلوں کی فکری و اخلاقی تربیت کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوسکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافت کے وقار کو بحال رکھنے کے لیے نہ صرف محکمہ اطلاعات بلکہ اصل صحافی برادری، تعلیمی ادارے اور عوام سب ایک مشترکہ ذمہ داری کے تحت آگے آئیں۔ صحافت اظہارِ حق کا نام ہے، بلیک میلنگ یا ذاتی مفاد کا نہیں۔ اس جھوٹے نقاب کے پیچھے چھپے افراد کو بے نقاب کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔


