بھارت -افغان تعلقات حقیقت پسندانہ

جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی منظرنامے میں بھارت کی افغانستان کے طالبان حکومت سے حالیہ سفارتی پیش رفت ایک محتاط مگر نمایاں تبدیلی کی علامت ہے۔ دبئی میں بھارت کے نائب وزیرِ خارجہ وکرَم مِسری اور طالبان کے نگران وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے درمیان ملاقات نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اب تک کی اعلیٰ ترین سطحی گفتگو تھی بلکہ یہ ملاقات اس حقیقت کا اعتراف بھی تھی کہ کابل سے نظریاتی فاصلہ اب عملی تقاضوں کے آگے کمزور پڑ رہا ہے۔
کابل پر طالبان کے دوبارہ قبضے کو تین برس سے زائد گزر چکے ہیں۔ اُس وقت بھارت کو ایک بڑی اسٹریٹجک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ دو دہائیوں پر محیط سفارتی سرمایہ کاری، تعلیمی وظائف، فوجی تربیت، اور تعمیراتی منصوبے جن میں افغان پارلیمنٹ کی عمارت بھی شامل تھی لمحوں میں برباد ہوگئے۔ اشرف غنی حکومت کے انہدام نے ایک خلا پیدا کیا جسے پاکستان اور چین جیسے علاقائی حریفوں نے فوراً پُر کر دیا۔
ابتدائی برسوں میں بھارت نے محتاط فاصلے کی پالیسی اپنائی۔ ایک طرف طالبان کے جابرانہ نظامِ حکومت پر اخلاقی اعتراض برقرار رکھا، تو دوسری طرف علاقائی اثرورسوخ کے تحفظ کی کوشش بھی جاری رکھی۔ لیکن جب روس، ایران اور چین جیسے ممالک طالبان سے براہِ راست روابط استوار کرنے لگے، تو نئی دہلی کے سامنے یہ سوال ابھر آیا کہ آیا کابل سے مکمل دوری کسی مفاد کی ضامن رہ سکتی ہے؟ افغانستان، جو بھارت کے وسطی ایشیا سے رابطے اور اسٹریٹجک گہرائی کے لئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اُس کی تنہائی دراصل خود بھارت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہی تھی۔
دبئی میں ہونے والی ملاقات اسی ادراک کا مظہر ہے۔ طالبان نے بھارت کو ’’اہم علاقائی و معاشی طاقت‘‘ قرار دیتے ہوئے سیاسی و اقتصادی تعلقات کے فروغ کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے راستے تجارت میں اضافے پر گفتگو اس امر کا اشارہ ہے کہ عملی تعاون رسمی سفارتی اعتراف سے پہلے ممکن ہے۔تاہم یہ قدم اپنے اندر کئی سفارتی و اخلاقی پیچیدگیاں سموئے ہوئے ہے۔ براہِ راست مذاکرات کے ذریعے بھارت نے طالبان کو اس غیر رسمی اعتبار کا ایک حصہ دے دیا ہے جس کے لئے وہ عالمی سطح پر برسوں سے کوشاں ہیں۔ ماہرِ جنوبی ایشیا مائیکل کیگل مین کے الفاظ میں، ’’یہ بات طالبان کے لئے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ انہیں وہ حیثیت بھارت سے ملی جس نے ماضی میں کبھی اُن سے دوستانہ تعلقات نہیں رکھے۔‘‘
مگر بھارت کی یہ پیش رفت دراصل طالبان حکومت کی تائید نہیں بلکہ علاقائی حقیقتوں کے تحت اختیار کی گئی ایک عملی حکمتِ عملی ہے۔ پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر کو محدود کرنا، وسطی ایشیا تک تجارتی راہداریوں کو محفوظ بنانا، اور اپنی اسٹریٹجک موجودگی برقرار رکھنا — یہ سب وہ عوامل ہیں جنہوں نے نئی دہلی کو اس مشکل فیصلے کی طرف مائل کیا۔
اخلاقی کشمکش کے باوجود اب حقیقت پسندی اُس کی افغان پالیسی کی بنیاد بنتی جا رہی ہے۔ اصل آزمائش یہ ہوگی کہ بھارت کس طرح طالبان کے ساتھ تعلقات کو وسعت دیتے ہوئے انتہا پسندی کو جائز حیثیت دیے بغیر اپنا مفاد محفوظ رکھ سکے۔ یہی توازن آئندہ برسوں میں بھارتی سفارت کاری کی بالغ نظری اور سیاسی بصیرت کا حقیقی امتحان ثابت ہوگا۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

بھارت -افغان تعلقات حقیقت پسندانہ

جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی منظرنامے میں بھارت کی افغانستان کے طالبان حکومت سے حالیہ سفارتی پیش رفت ایک محتاط مگر نمایاں تبدیلی کی علامت ہے۔ دبئی میں بھارت کے نائب وزیرِ خارجہ وکرَم مِسری اور طالبان کے نگران وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے درمیان ملاقات نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اب تک کی اعلیٰ ترین سطحی گفتگو تھی بلکہ یہ ملاقات اس حقیقت کا اعتراف بھی تھی کہ کابل سے نظریاتی فاصلہ اب عملی تقاضوں کے آگے کمزور پڑ رہا ہے۔
کابل پر طالبان کے دوبارہ قبضے کو تین برس سے زائد گزر چکے ہیں۔ اُس وقت بھارت کو ایک بڑی اسٹریٹجک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ دو دہائیوں پر محیط سفارتی سرمایہ کاری، تعلیمی وظائف، فوجی تربیت، اور تعمیراتی منصوبے جن میں افغان پارلیمنٹ کی عمارت بھی شامل تھی لمحوں میں برباد ہوگئے۔ اشرف غنی حکومت کے انہدام نے ایک خلا پیدا کیا جسے پاکستان اور چین جیسے علاقائی حریفوں نے فوراً پُر کر دیا۔
ابتدائی برسوں میں بھارت نے محتاط فاصلے کی پالیسی اپنائی۔ ایک طرف طالبان کے جابرانہ نظامِ حکومت پر اخلاقی اعتراض برقرار رکھا، تو دوسری طرف علاقائی اثرورسوخ کے تحفظ کی کوشش بھی جاری رکھی۔ لیکن جب روس، ایران اور چین جیسے ممالک طالبان سے براہِ راست روابط استوار کرنے لگے، تو نئی دہلی کے سامنے یہ سوال ابھر آیا کہ آیا کابل سے مکمل دوری کسی مفاد کی ضامن رہ سکتی ہے؟ افغانستان، جو بھارت کے وسطی ایشیا سے رابطے اور اسٹریٹجک گہرائی کے لئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اُس کی تنہائی دراصل خود بھارت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہی تھی۔
دبئی میں ہونے والی ملاقات اسی ادراک کا مظہر ہے۔ طالبان نے بھارت کو ’’اہم علاقائی و معاشی طاقت‘‘ قرار دیتے ہوئے سیاسی و اقتصادی تعلقات کے فروغ کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے راستے تجارت میں اضافے پر گفتگو اس امر کا اشارہ ہے کہ عملی تعاون رسمی سفارتی اعتراف سے پہلے ممکن ہے۔تاہم یہ قدم اپنے اندر کئی سفارتی و اخلاقی پیچیدگیاں سموئے ہوئے ہے۔ براہِ راست مذاکرات کے ذریعے بھارت نے طالبان کو اس غیر رسمی اعتبار کا ایک حصہ دے دیا ہے جس کے لئے وہ عالمی سطح پر برسوں سے کوشاں ہیں۔ ماہرِ جنوبی ایشیا مائیکل کیگل مین کے الفاظ میں، ’’یہ بات طالبان کے لئے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ انہیں وہ حیثیت بھارت سے ملی جس نے ماضی میں کبھی اُن سے دوستانہ تعلقات نہیں رکھے۔‘‘
مگر بھارت کی یہ پیش رفت دراصل طالبان حکومت کی تائید نہیں بلکہ علاقائی حقیقتوں کے تحت اختیار کی گئی ایک عملی حکمتِ عملی ہے۔ پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر کو محدود کرنا، وسطی ایشیا تک تجارتی راہداریوں کو محفوظ بنانا، اور اپنی اسٹریٹجک موجودگی برقرار رکھنا — یہ سب وہ عوامل ہیں جنہوں نے نئی دہلی کو اس مشکل فیصلے کی طرف مائل کیا۔
اخلاقی کشمکش کے باوجود اب حقیقت پسندی اُس کی افغان پالیسی کی بنیاد بنتی جا رہی ہے۔ اصل آزمائش یہ ہوگی کہ بھارت کس طرح طالبان کے ساتھ تعلقات کو وسعت دیتے ہوئے انتہا پسندی کو جائز حیثیت دیے بغیر اپنا مفاد محفوظ رکھ سکے۔ یہی توازن آئندہ برسوں میں بھارتی سفارت کاری کی بالغ نظری اور سیاسی بصیرت کا حقیقی امتحان ثابت ہوگا۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں