ٹرمپ کے دعوئوں کو رد کرنے کے لیے جرأت مقصود

سراج نقوی

گزشتہ بدھ یعنی 15اکتوبر کو وہائٹ ہائوس میں میڈیا نمائیندوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم مودی نے انھیں یقین دلایا ہے کہ ہندوستان روس سے تیل نہیں خریدیگا۔
امریکی صدر نے اسے ’ماسکو کو اقتصادی طور پر الگ تھلگ کرنے کی کوششوں میں بڑا قدم بھی قرار دیا۔
ٹرمپ کے مطابق ’ہندوستان روس سے تیل خرید رہا تھا ،اور انھیں یہ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔‘ اب ٹرمپ سے یہ کہنے کی ہمت تو ہماری حکومت میں بہرحال نہیں ہے کہ ہندوستان ایک خود مختار ملک ہے اور امریکہ یا دنیا کے کسی بھی ملک کو اس سے یہ کہنے کا اختیار نہیں ہے کہ کسی بھی ملک سے کیا خرید رہا ہے یا کسی کو کیا فروخت کر رہا ہے ،جب تک کہ عالمی برادری ایسے کسی معاملے میں اتفاق رائے سے اور تمام ممالک کے لیے کوئی فیصلہ نہ کر لے۔تیل جیسی بنیادی ضرورت کی چیز کو ہندوستان امریکہ یا سنکی صدر ٹرمپ کی خوشنودی کو سامنے رکھ کر نہیں خریدیگا،بلکہ اس کا فیصلہ ہندوستان اور اس کے عوام کے مالی و دیگر مفادات کے پیش نظر ہی کیا جائیگا۔ساتھ ہی یہ بھی واضح طور پر کہنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ ہندوستان کے معاملوں میںاس طرح کے دبائو سے باز آئے اور دو طرفہ تعلقات کو کسی تیسرے ملک سے ہندوستان کے سفارتی و کاروباری رشتوں کے تناظر میں دیکھنے کی آمرانہ حکمت عملی سے بچے۔اس لیے کہ اسے برداشت نہیں کیا جائیگا۔لیکن اتنا سخت اور دو ٹوک جواب دینے کا حوصلہ دکھانے کے لیے چھپّن انچ سینے کی نہیںقومی غیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔
بہرحال ٹرمپ نے یہ وضاحت بھی کی کہ ہندوستان روس سے فوری طور پر تیل خریدنا بند نہیں کریگا بلکہ اس میں’’تھوڑا وقت لگے گا،لیکن یہ عمل جلد مکمل ہو جائیگا۔‘‘قابلِ ذکر ہے کہ ہندوستان نے ٹرمپ کے دبائو یا کسی بھی سبب سے امریکہ سے بھی تیل کی خریداری شروع کر دی ہے۔جبکہ ٹرمپ کا مذکورہ بیان آنے کے بعد ہماری وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے زیر بحث دعوے یعنی ٹرمپ سے کیے گئے مودی کے مبینہ وعدے کا کوئی راست جواب دینے سے گریز ہی کیا،اور اس ایشو پر اپنے جواب میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے صرف یہ کہا کہ ،’’ہندوستان تیل اور گیس کا ایک اہم درآمدکاریا امپورٹر ہے۔ ہندوستانی صارفین کے مفادات کا تحفظ ہماری اوّلین ترجیح رہی ہے۔ہماری درآمدات کی پالیسیاں پوری طرح اس مقصد سے ہدایت یافتہ ہیں۔توانائی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا اور سپلائی کو یقینی بنانا،ہماری تونائی سے متعلق پالیسی کے دو اہم مقاصد ہیں۔اس میں ہماری توانائی کی سپلائی کے ذرائع کو وسعت دینا اور بازار کے حالات کے مطابق ہمہ جہتی لانے کی کوششیں شامل ہیں۔‘‘دوسری طرف ٹرمپ کے بیان کے بعد واشنگٹن میں ہندوستانی سفارتخانے نے بھی ٹرمپ کے دعوے پر خاموشی ہی اختیار کرلی۔
اب ذرا ٹرمپ کے دعوے اور اس کے بعد ہمارے سفارتخانے کی خاموشی جبکہ وزارت خارجہ کے بیان میں ایسی کوئی ایک بات بھی واضح طور پر یا پھر بین السطورمیں تلاش کیجیے کہ جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ ٹرمپ نے جو کچھ کہا ہے اس کی تردید کرنے کی ہمت دکھائی گئی ہو۔اگر بہت احتیاط اور سفارتی تدبر یا شعور کے ساتھ وزارت خارجہ کے مذکورہ بیان کو پڑھا جائے ،اس بات کو بھی ذہن نشین رکھا جائے کہ ہماری حکومت نے امریکہ سے بھی تیل کی خریداری شروع کر دی ہے،تو اندازہ ہوگا کہ وزارت خارجہ نے صرف الفاظ کی بازیگری کی ہے،اور یہ کہنے کا حوصلہ نہیں دکھایا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی یا اقتصادی رشتے ٹرمپ یا امریکہ کے دبائو سے طے نہیں ہوتے۔یہ درست ہے کہ وزارت خارجہ کی وضاحت میں ملک اور صارفین کے مفادات کی بات کہی گئی ہے،لیکن یہاں اس عمومی نوعیت کے بیان سے زیادہ ضرورت اس بات کی تھی کہ ٹرمپ کے مذکورہ دعوے کا سیدھا اور دو ٹوک جواب دیاجائے، اور بالفرض محال اگر یہ مان بھی لیں کہ وزارت خارجہ کا بیان ٹرمپ کے دعوے کی نفی کرتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ٹرمپ بھی کم جھوٹے نہیں ہیں۔
’کم‘ اور ’بھی‘ کے بین السطور مفہوم کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ویسے مجھے یہاں ایک محاورہ بھی یاد آرہا ہے کہ،’’چور چور موسیرے بھائی‘‘۔بہرحال ٹرمپ کے دعووں کی سچائی مشکوک ہوجانے کے باوجود اس معاملے پر ہندوستان کی وضاحت اسی طرح ضروری تھی جس طرح ’آپریشن سندور‘اور ،بھارت پاکستان جنگ بندی‘کے تعلق سے ٹرمپ کے بیان پر تھی،لیکن جنگ بندی سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کا جواب بھی بہت غیر واضح اور گول مول دیا گیا جبکہ ٹرمپ بار بار اس معاملے میں اپنا دعویٰ دوہراتے رہے،لیکن ہمیں اس معاملے میں سانپ سونگھ گیا ،اور یہ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی کہ ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں۔روس سے تیل کی خریداری کا بھی یہی معاملہ ہے۔وزارت خارجہ نے اس تعلق سے جو جواب دیا ہے اس میں اس میں بزدلانہ سفارتکاری کو صاف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ٹرمپ جیسے جھوٹے صدر کے معاملے میں یہ سفارتی پالیسی ہماری حکومت کی بھی کم ہمتی ظاہر کرتی ہے۔شائد اسی لیے اپوزیشن پارٹیاں بھی ٹرمپ کے مذکورہ دعوے اور اس پر ہندوستانی وزارت خارجہ کے دعوے کے بعد حکومت اور خصوصاً وزیر اعظم مودی پر حملہ آور ہو گئی ہیں۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ٹرمپ کے بیان کے بعد راست طور پر مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ’ٹرمپ سے ڈرے ہوئے ہیں۔‘‘ راقم الحروف راہل گاندھی کے اس بیان سے بھلے ہی اتفاق نہ رکھتا ہو ،لیکن یہ تو ایک حقیقت ہے کہ ہر آمر حکمراں ڈرپوک ہوتا ہے۔راہل گاندھی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ٹرمپ کی ان دیکھی کے باوجود انھیں مسلسل(کئی معاملوں میں) مبارکباد کے پیغامات بھیجتے رہے۔راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ مودی نے وزیر خارجہ کا امریکہ دورہ رد کر دیا اور’اپریشن سندر‘ پر ٹرمپ سے عدم اتفاق کا اظہار نہیں کیا۔اس تعلق سے راہل گاندھی نے کئی مثالیں بھی اپنی ایکس پوسٹ پر شئیر کی ہیں۔کہنے کی ضرورت نہیں کہ راہل گاندھی کے اس رد عمل پر مودی اور ان کی حکومت نے لب سی لیے ،لیکن سپریم کورٹ کے ایک سینئیر وکیل اور بی جے پی و مودی حکومت کے نقاد پرشانت بھوشن نے راہل گاندھی کی مذکورہ پوسٹ کو شئیر کرنے کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ،’’مودی ٹرمپ سے کیوں ڈرتے ہیں۔‘‘لیکن اس سوال سے زیادہ قابلِ ذکر اس سے آگے کی بات ہے اور وہ یہ کہ پرشانت بھوشن نے مذکورہ سوال کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ ،’’کیا یہ صرف اڈانی کو بچانے کے لیے ہے یا ٹرمپ کے پاس مودی کا کوئی خفیہ راز ہے؟‘‘ سب جانتے ہیں کہ اڈانی پر ایک مالی بد عنوانی کے معاملے میں امریکہ کی عدالت نے گرفتاری وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔ظاہر ہے مودی یا ہماری حکومت اس معاملے میں راست یا کھلے طور پر کچھ نہیں کر سکتی لیکن پس پردہ اس معاملے میں کسی کھیل کا امکان بہرحال موجود ہے،اور پرشانت بھوشن نے اسی ممکنہ کھیل کی طرف اشارہ کیا ہے۔اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ پرشانت بھوشن نے جو سوال اٹھائے ہیں وہ درست ہیں،لیکن شک کی سوئی تو بہرحال اسی لیے مودی کی طرف جاتی ہے کہ وہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم ہیں کہ جنھوں نے ’آدانی بھکتی‘ میں وزارت عظمیٰ جیسے باوقار عہدے کا بھی خیال نہیں رکھا اور ملک و غیر ملکی سطح پر ادانی کے کاروباری مفادات کی اس حد تک وکالت کی کہ جس کی دوسری کوئی مثال ہندوستان کی جمہوری تاریخ میں نہیں ملتی۔
بہرحال ٹرمپ کے مذکورہ بیان اور اس کے رد عمل میں ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ردعمل سے یہ سوال تو پیدا ہوتا ہی ہے کہ کیا ٹرمپ روس سے ہندوستان کے تیل خریدنے کے معاملے پر جھوٹ بول رہے ہیں یا پھر مودی حکومت ہی اس معاملے میں جھوٹ بول رہی ہے اور معاملہ ہندوستانی صارفین کے مفادات یا حقوق کے تحفظ کا نہیں بلکہ’کسی اور‘کے مفادات کے تحفظ کا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

خواتین کے T20 ورلڈ کپ میں بھارت کی پاکستان پر بڑی فتح

جنگ نیوز بھارت نے خواتین کے T20 ورلڈ کپ کے...

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

تازہ ترین خبریں

خواتین کے T20 ورلڈ کپ میں بھارت کی پاکستان پر بڑی فتح

جنگ نیوز بھارت نے خواتین کے T20 ورلڈ کپ کے...

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

ٹرمپ کے دعوئوں کو رد کرنے کے لیے جرأت مقصود

سراج نقوی

گزشتہ بدھ یعنی 15اکتوبر کو وہائٹ ہائوس میں میڈیا نمائیندوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم مودی نے انھیں یقین دلایا ہے کہ ہندوستان روس سے تیل نہیں خریدیگا۔
امریکی صدر نے اسے ’ماسکو کو اقتصادی طور پر الگ تھلگ کرنے کی کوششوں میں بڑا قدم بھی قرار دیا۔
ٹرمپ کے مطابق ’ہندوستان روس سے تیل خرید رہا تھا ،اور انھیں یہ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔‘ اب ٹرمپ سے یہ کہنے کی ہمت تو ہماری حکومت میں بہرحال نہیں ہے کہ ہندوستان ایک خود مختار ملک ہے اور امریکہ یا دنیا کے کسی بھی ملک کو اس سے یہ کہنے کا اختیار نہیں ہے کہ کسی بھی ملک سے کیا خرید رہا ہے یا کسی کو کیا فروخت کر رہا ہے ،جب تک کہ عالمی برادری ایسے کسی معاملے میں اتفاق رائے سے اور تمام ممالک کے لیے کوئی فیصلہ نہ کر لے۔تیل جیسی بنیادی ضرورت کی چیز کو ہندوستان امریکہ یا سنکی صدر ٹرمپ کی خوشنودی کو سامنے رکھ کر نہیں خریدیگا،بلکہ اس کا فیصلہ ہندوستان اور اس کے عوام کے مالی و دیگر مفادات کے پیش نظر ہی کیا جائیگا۔ساتھ ہی یہ بھی واضح طور پر کہنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ ہندوستان کے معاملوں میںاس طرح کے دبائو سے باز آئے اور دو طرفہ تعلقات کو کسی تیسرے ملک سے ہندوستان کے سفارتی و کاروباری رشتوں کے تناظر میں دیکھنے کی آمرانہ حکمت عملی سے بچے۔اس لیے کہ اسے برداشت نہیں کیا جائیگا۔لیکن اتنا سخت اور دو ٹوک جواب دینے کا حوصلہ دکھانے کے لیے چھپّن انچ سینے کی نہیںقومی غیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔
بہرحال ٹرمپ نے یہ وضاحت بھی کی کہ ہندوستان روس سے فوری طور پر تیل خریدنا بند نہیں کریگا بلکہ اس میں’’تھوڑا وقت لگے گا،لیکن یہ عمل جلد مکمل ہو جائیگا۔‘‘قابلِ ذکر ہے کہ ہندوستان نے ٹرمپ کے دبائو یا کسی بھی سبب سے امریکہ سے بھی تیل کی خریداری شروع کر دی ہے۔جبکہ ٹرمپ کا مذکورہ بیان آنے کے بعد ہماری وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے زیر بحث دعوے یعنی ٹرمپ سے کیے گئے مودی کے مبینہ وعدے کا کوئی راست جواب دینے سے گریز ہی کیا،اور اس ایشو پر اپنے جواب میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے صرف یہ کہا کہ ،’’ہندوستان تیل اور گیس کا ایک اہم درآمدکاریا امپورٹر ہے۔ ہندوستانی صارفین کے مفادات کا تحفظ ہماری اوّلین ترجیح رہی ہے۔ہماری درآمدات کی پالیسیاں پوری طرح اس مقصد سے ہدایت یافتہ ہیں۔توانائی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا اور سپلائی کو یقینی بنانا،ہماری تونائی سے متعلق پالیسی کے دو اہم مقاصد ہیں۔اس میں ہماری توانائی کی سپلائی کے ذرائع کو وسعت دینا اور بازار کے حالات کے مطابق ہمہ جہتی لانے کی کوششیں شامل ہیں۔‘‘دوسری طرف ٹرمپ کے بیان کے بعد واشنگٹن میں ہندوستانی سفارتخانے نے بھی ٹرمپ کے دعوے پر خاموشی ہی اختیار کرلی۔
اب ذرا ٹرمپ کے دعوے اور اس کے بعد ہمارے سفارتخانے کی خاموشی جبکہ وزارت خارجہ کے بیان میں ایسی کوئی ایک بات بھی واضح طور پر یا پھر بین السطورمیں تلاش کیجیے کہ جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ ٹرمپ نے جو کچھ کہا ہے اس کی تردید کرنے کی ہمت دکھائی گئی ہو۔اگر بہت احتیاط اور سفارتی تدبر یا شعور کے ساتھ وزارت خارجہ کے مذکورہ بیان کو پڑھا جائے ،اس بات کو بھی ذہن نشین رکھا جائے کہ ہماری حکومت نے امریکہ سے بھی تیل کی خریداری شروع کر دی ہے،تو اندازہ ہوگا کہ وزارت خارجہ نے صرف الفاظ کی بازیگری کی ہے،اور یہ کہنے کا حوصلہ نہیں دکھایا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی یا اقتصادی رشتے ٹرمپ یا امریکہ کے دبائو سے طے نہیں ہوتے۔یہ درست ہے کہ وزارت خارجہ کی وضاحت میں ملک اور صارفین کے مفادات کی بات کہی گئی ہے،لیکن یہاں اس عمومی نوعیت کے بیان سے زیادہ ضرورت اس بات کی تھی کہ ٹرمپ کے مذکورہ دعوے کا سیدھا اور دو ٹوک جواب دیاجائے، اور بالفرض محال اگر یہ مان بھی لیں کہ وزارت خارجہ کا بیان ٹرمپ کے دعوے کی نفی کرتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ٹرمپ بھی کم جھوٹے نہیں ہیں۔
’کم‘ اور ’بھی‘ کے بین السطور مفہوم کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ویسے مجھے یہاں ایک محاورہ بھی یاد آرہا ہے کہ،’’چور چور موسیرے بھائی‘‘۔بہرحال ٹرمپ کے دعووں کی سچائی مشکوک ہوجانے کے باوجود اس معاملے پر ہندوستان کی وضاحت اسی طرح ضروری تھی جس طرح ’آپریشن سندور‘اور ،بھارت پاکستان جنگ بندی‘کے تعلق سے ٹرمپ کے بیان پر تھی،لیکن جنگ بندی سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کا جواب بھی بہت غیر واضح اور گول مول دیا گیا جبکہ ٹرمپ بار بار اس معاملے میں اپنا دعویٰ دوہراتے رہے،لیکن ہمیں اس معاملے میں سانپ سونگھ گیا ،اور یہ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی کہ ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں۔روس سے تیل کی خریداری کا بھی یہی معاملہ ہے۔وزارت خارجہ نے اس تعلق سے جو جواب دیا ہے اس میں اس میں بزدلانہ سفارتکاری کو صاف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ٹرمپ جیسے جھوٹے صدر کے معاملے میں یہ سفارتی پالیسی ہماری حکومت کی بھی کم ہمتی ظاہر کرتی ہے۔شائد اسی لیے اپوزیشن پارٹیاں بھی ٹرمپ کے مذکورہ دعوے اور اس پر ہندوستانی وزارت خارجہ کے دعوے کے بعد حکومت اور خصوصاً وزیر اعظم مودی پر حملہ آور ہو گئی ہیں۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ٹرمپ کے بیان کے بعد راست طور پر مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ’ٹرمپ سے ڈرے ہوئے ہیں۔‘‘ راقم الحروف راہل گاندھی کے اس بیان سے بھلے ہی اتفاق نہ رکھتا ہو ،لیکن یہ تو ایک حقیقت ہے کہ ہر آمر حکمراں ڈرپوک ہوتا ہے۔راہل گاندھی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ٹرمپ کی ان دیکھی کے باوجود انھیں مسلسل(کئی معاملوں میں) مبارکباد کے پیغامات بھیجتے رہے۔راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ مودی نے وزیر خارجہ کا امریکہ دورہ رد کر دیا اور’اپریشن سندر‘ پر ٹرمپ سے عدم اتفاق کا اظہار نہیں کیا۔اس تعلق سے راہل گاندھی نے کئی مثالیں بھی اپنی ایکس پوسٹ پر شئیر کی ہیں۔کہنے کی ضرورت نہیں کہ راہل گاندھی کے اس رد عمل پر مودی اور ان کی حکومت نے لب سی لیے ،لیکن سپریم کورٹ کے ایک سینئیر وکیل اور بی جے پی و مودی حکومت کے نقاد پرشانت بھوشن نے راہل گاندھی کی مذکورہ پوسٹ کو شئیر کرنے کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ،’’مودی ٹرمپ سے کیوں ڈرتے ہیں۔‘‘لیکن اس سوال سے زیادہ قابلِ ذکر اس سے آگے کی بات ہے اور وہ یہ کہ پرشانت بھوشن نے مذکورہ سوال کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ ،’’کیا یہ صرف اڈانی کو بچانے کے لیے ہے یا ٹرمپ کے پاس مودی کا کوئی خفیہ راز ہے؟‘‘ سب جانتے ہیں کہ اڈانی پر ایک مالی بد عنوانی کے معاملے میں امریکہ کی عدالت نے گرفتاری وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔ظاہر ہے مودی یا ہماری حکومت اس معاملے میں راست یا کھلے طور پر کچھ نہیں کر سکتی لیکن پس پردہ اس معاملے میں کسی کھیل کا امکان بہرحال موجود ہے،اور پرشانت بھوشن نے اسی ممکنہ کھیل کی طرف اشارہ کیا ہے۔اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ پرشانت بھوشن نے جو سوال اٹھائے ہیں وہ درست ہیں،لیکن شک کی سوئی تو بہرحال اسی لیے مودی کی طرف جاتی ہے کہ وہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم ہیں کہ جنھوں نے ’آدانی بھکتی‘ میں وزارت عظمیٰ جیسے باوقار عہدے کا بھی خیال نہیں رکھا اور ملک و غیر ملکی سطح پر ادانی کے کاروباری مفادات کی اس حد تک وکالت کی کہ جس کی دوسری کوئی مثال ہندوستان کی جمہوری تاریخ میں نہیں ملتی۔
بہرحال ٹرمپ کے مذکورہ بیان اور اس کے رد عمل میں ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ردعمل سے یہ سوال تو پیدا ہوتا ہی ہے کہ کیا ٹرمپ روس سے ہندوستان کے تیل خریدنے کے معاملے پر جھوٹ بول رہے ہیں یا پھر مودی حکومت ہی اس معاملے میں جھوٹ بول رہی ہے اور معاملہ ہندوستانی صارفین کے مفادات یا حقوق کے تحفظ کا نہیں بلکہ’کسی اور‘کے مفادات کے تحفظ کا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں