مادری زبان کا گلا گھونٹنے کی روایت

اسمبلی اجلاس میں جب سینئر رکن اور سابق اسپیکر مبارک گل نے کشمیری زبان میں اظہارِ خیال شروع کیا تو موجودہ اسپیکر کا یہ جملہ "کشمیری میں مت بولیے، ایوان میں مترجم موجود نہیں” ایک انتظامی تبصرہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس اجتماعی غفلت کا اعلان تھا جس نے ہماری مادری زبان کو سرکاری و سماجی زندگی سے تقریباً بے دخل کر دیا ہے۔یہ منظر محض ایک اسمبلی کارروائی کا حصہ نہیں بلکہ ہماری تہذیبی زوال پذیری کی علامت ہے۔
المیہ یہ کہ چند معروف ادبی انجمنیں جو کشمیری زبان کی علمبردارکہلاتی ہیں، اس واقعے کے بعد جلدی سے مذمتی بیانات جاری کرتی دکھائی دیں، مگر ان کا احتجاج بھی رسمی سا ہے۔ یہی ادارے اپنی پریس ریلیزیں اور اعلانات کشمیری میں تو درکنار، اردو میں بھی جاری کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کے لیےکشمیری زبان محض تقاریر، مشاعروں اور یادگار نشستوں کی زینت بن چکی ہے، روزمرہ کے عمل اور فکری جدوجہد کا حصہ نہیں۔
اسی تناظر میں ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے جمعہ کے خطبات، جو کبھیمقامی زبان میں ادا ہوتے تھے، اب بڑی حد تک اردواور ہندی میں منتقل ہو چکے ہیں۔ مسجد کے منبر سے لے کر تعلیمی اداروں اور میڈیا کے میدان تک، کشمیری زبان کو شعوری یا غیر شعوری طور پر حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے۔
اگر اسمبلی میں کشمیری کی گنجائش نہیں، ادبی ادارے اسے عملی طور پر برتنا نہیں چاہتے، اور مذہبی منابر پر بھی اس کا وجود مدھم پڑ چکا ہے، تو سوال یہ ہے کہ اس زبان کا وارث کون ہے؟
یہ محض ایک رکنِ اسمبلی کی زبان بندی کا معاملہ نہیں؛ یہ پوری قوم کی خاموشی کی داستان ہے۔
جب زبان خاموش ہو جائے تو ثقافت، احساس، اور شناخت بھی بتدریج مٹنے لگتے ہیں۔ شاید سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ ہم نے اپنی خاموشی کو معمول بنا لیا ہے اورکشمیری زبان کی موت اسی لمحے شروع ہوتی ہے جب اہلِ زبان اسے بولنے میں شرمندگی محسوس کرنے لگیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

مادری زبان کا گلا گھونٹنے کی روایت

اسمبلی اجلاس میں جب سینئر رکن اور سابق اسپیکر مبارک گل نے کشمیری زبان میں اظہارِ خیال شروع کیا تو موجودہ اسپیکر کا یہ جملہ "کشمیری میں مت بولیے، ایوان میں مترجم موجود نہیں” ایک انتظامی تبصرہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس اجتماعی غفلت کا اعلان تھا جس نے ہماری مادری زبان کو سرکاری و سماجی زندگی سے تقریباً بے دخل کر دیا ہے۔یہ منظر محض ایک اسمبلی کارروائی کا حصہ نہیں بلکہ ہماری تہذیبی زوال پذیری کی علامت ہے۔
المیہ یہ کہ چند معروف ادبی انجمنیں جو کشمیری زبان کی علمبردارکہلاتی ہیں، اس واقعے کے بعد جلدی سے مذمتی بیانات جاری کرتی دکھائی دیں، مگر ان کا احتجاج بھی رسمی سا ہے۔ یہی ادارے اپنی پریس ریلیزیں اور اعلانات کشمیری میں تو درکنار، اردو میں بھی جاری کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کے لیےکشمیری زبان محض تقاریر، مشاعروں اور یادگار نشستوں کی زینت بن چکی ہے، روزمرہ کے عمل اور فکری جدوجہد کا حصہ نہیں۔
اسی تناظر میں ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے جمعہ کے خطبات، جو کبھیمقامی زبان میں ادا ہوتے تھے، اب بڑی حد تک اردواور ہندی میں منتقل ہو چکے ہیں۔ مسجد کے منبر سے لے کر تعلیمی اداروں اور میڈیا کے میدان تک، کشمیری زبان کو شعوری یا غیر شعوری طور پر حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے۔
اگر اسمبلی میں کشمیری کی گنجائش نہیں، ادبی ادارے اسے عملی طور پر برتنا نہیں چاہتے، اور مذہبی منابر پر بھی اس کا وجود مدھم پڑ چکا ہے، تو سوال یہ ہے کہ اس زبان کا وارث کون ہے؟
یہ محض ایک رکنِ اسمبلی کی زبان بندی کا معاملہ نہیں؛ یہ پوری قوم کی خاموشی کی داستان ہے۔
جب زبان خاموش ہو جائے تو ثقافت، احساس، اور شناخت بھی بتدریج مٹنے لگتے ہیں۔ شاید سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ ہم نے اپنی خاموشی کو معمول بنا لیا ہے اورکشمیری زبان کی موت اسی لمحے شروع ہوتی ہے جب اہلِ زبان اسے بولنے میں شرمندگی محسوس کرنے لگیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں