بظاہر بڈگام کا ضمنی انتخاب ایک خاندانی مقابلہ دکھائی دیتا ہے۔ ایسا مقابلہ جو آغا خاندان کے اندرونی سیاسی اثرورسوخ کے گرد گھوم رہا ہے۔ مگر سطح کے نیچے انتخابی حرکیات کہیں زیادہ پیچیدہ اور غیر متوقع رخ اختیار کر رہی ہیں، جو بڑے سیاسی کھلاڑیوںکیلئے حیرت اور سبق دونوں ثابت ہو سکتی ہیں۔
زمینی حقیقت یہ ہے کہ بڈگام کی تقریباً 65 فیصد ووٹنگ آبادی سنی رائے دہندگان پر مشتمل ہے۔ یہ وہ اہم پہلو ہے جسے غالباً تمام بڑی جماعتوں نے نظر انداز کر دیا۔ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اوربھاجپا نے صرف شیعہ امیدواروں کو میدان میں اتار کر اپنے انتخابی دائرے کو محدود کر دیا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ اکثریتی طبقہ خود کو نمائندگی سے محروم محسوس کرے۔
اسی دوران اپنی پارٹی سے محی الدین منتظر کی غیر متوقع علیحدگی نے سیاسی منظر کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ان کی رخصتی نے نہ صرف پارٹی کے انتخابی توازن کو متاثر کیا بلکہ ووٹ بینک میں دراڑ بھی ڈال دی ہے۔ دوسری جانب نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمان آغا روح اللہ مہدی اور پارٹی کے درمیان واضح خلیج بھی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ اگر آغا روح اللہ کے ناراض اپنے کمیونٹی کے حامی ووٹ ڈالنے سے گریز کریں، یا کسی اور سمت رجوع کریں، تو نیشنل کانفرنس کیلئے یہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ایسی صورتِ حال میں امکان بڑھ گیا ہے کہ سنی برادری سے تعلق رکھنے والا کوئی آزاد امیدوار فائدہ اٹھائے اور اکثریتی ووٹوں کو اپنے حق میں مجتمع کرے۔ یہ پیش رفت نہ صرف اس ضمنی انتخاب کے نتائج کو بدل سکتی ہے بلکہ بڑی سیاسی جماعتوں کیلئے یہ انتباہ بھی ثابت ہو گی کہ خاندانی شناخت پر مبنی سیاست اب ووٹروں کے وسیع تر سماجی و اقتصادی رجحانات کے سامنے کمزور پڑ رہی ہے۔
بڈگام کا یہ انتخاب محض شخصیات کا ٹکراؤ نہیں، بلکہ سیاسی بصیرت کا امتحان بھی ہے۔ اگر بڑی جماعتوں نے زمینی حقائق اور آبادیاتی توازن کو سمجھنے میں کوتاہی جاری رکھی، تو آنے والے نتائج ان کیلئے محض حیرت نہیں بلکہ سیاسی سبق بھی ثابت ہوں گے۔


