جاوید جمال الدین
غزہ میں بالآخر امن معاہدہ پر عمل ہوچکا ہے ،یہاں بین الاقوامی امن فورس تعینات کرنے منصوبہ پر عمل شروع ہوچکا ہے،یہ ایک اچھی پہل ضرور ہے،لیکن کتنا کارگر ثابت ہوگا،یہ مستقبل میں ہی پتہ چل سکے گا۔ویسے اس سلسلہ میں فرانس اور برطانیہ نے غزہ کے لیے بین الاقوامی فورس کی قرارداد کے منصوبوں کو حتمی شکل دینے کا کام تیز کر دیا ہے۔ دونوں یورپی طاقتیں اس سلسلے میں امریکہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے کام کر رہی ہیں۔ یہ بہتر بھی ہوگا کیونکہ گزشتہ دو سال سے غزہ کے فلسطینیوں نے بہت کچھ جھیلا ہے اور بھوک اور بیماری ان کے درمیان واقع ہے۔
واضح رہے کہ یہ استحکام فراہم کرنے والی فورس اقوام متحدہ کی رسمی امن فورس نہیں ہوگی۔کیونکہ اقوام متحدہ امن فورس کا ریکارڈ کبھی بھی اچھا نہیں رہا ہے۔
اس منصوبے کے حوالے سے انڈونیشیا نے غزہ میں اپنی بیس ہزار فوج بھیجنے کی پیشکش کر دی ہے۔فرانس نےکہاہے کہ وہ برطانیہ کے ساتھ مل کر اور امریکہ کے تعاون سےآئندہ دنوں میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک ایسی قرارداد کو حتمی شکل دے رہا ہے جو غزہ میں مستقبل کی بین الاقوامی فورس کی بنیاد فراہم کرے گی۔
اس پورے معاملے میں امریکی مشیروں کے مطابق، اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکہ کے توسط سے قائم غیر مستحکام جنگ بندی کے پیش نظر فلسطینی علاقے میں سلامتی بحال کرنے کے لیے بین الاقوامی فورس کے منصوبہ بندی کا آغاز ہو چکا ہے۔فرانس کے ترجمان پاسکل کونفاوْرِیوکس نے کہا ہےکہ ایسی کسی فورس کے لیے اقوام متحدہ کی اجازت ضروری ہے تاکہ بین الاقوامی قانون کی رو سے مضبوط بنیاد میسر آ سکے اور دیگر ممالک کی شرکت کا عمل آسان ہو سکے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ان کئی ممالک سے بات چیت کر رہی ہے جو اس فورس میں حصہ لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ اس استحکام فراہم کرنے والی فورس کے تشکیل میں کچھ وقت لگے گا اور اس کے اختیارات و حدود (ٹرمز آف ریفرنس) پر ابھی کام جاری ہے۔ڈپلومیٹس کے مطابق یہ فورس اقوام متحدہ کی رسمی امن فورس نہیں ہوگی، بلکہ سلامتی کونسل کی قرارداد’’ ہیتی ‘‘میں تعینات بین الاقوامی فوج کی طرز پر ہو سکتی ہے جس میں فوج کو تمام ضروری اقدامات کرنے کا اختیار ہوگا۔
امریکی مشیروں کے مطابق، امریکہ، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، مصر، قطر اور آذربائیجان جیسے ممالک سے اس فورس میں شراکت کے بارے میں بات چیت کر رہا ہے۔اگرچہ اس وقت خطے میں امریکی فوج کے تقریباً دو درجن اہلکار بھی ’’ہم آہنگی اور نگرانی ‘‘کا کردار ادا کر رہے ہیں۔جبکہ اٹلی نے بھی اس امن فوج میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ، اس کے علاوہ انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبیانتو کا خیال ہے کہ اگر اقوام متحدہ کی قرارداد منظور ہو گئی تو انڈونیشیا امن کے قیام میں مدد کے لیے غزہ میں بیس ہزار یا اس سے زیادہ فوج بھیجنے کے لیے تیار ہے۔اس طرح دوسرے ممالک بھی فورس میں شامل ہوسکتے ہیں۔جو ایک اچھی علامت ہوگی۔
غزہ پٹی میں کئی ٹن ملبے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کے ذریعہ گرائے گئے بم پھٹنے سے رہ گئے تھے،ملبہ کی صفائی میں سب سے بڑی رکاوٹ، صاف صفائی کے دوران ان کے پھٹنے کا اندیشہ، اسرائیل بڑی مشینوں کو بھی اندر نہیں آنے دے رہا۔
غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر نے اس بارے میں خبردار کیا ہے کہ محصور علاقہ اس وقت جدید تاریخ کی بدترین تعمیراتی اور انسانی تباہی سے دوچار ہے۔ قابض اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کے نتیجے میں غزہ میں70،ملین ٹن سے زائد ملبہ جمع ہو چکا ہے جبکہ بیس ہزار سے زیادہ نہ پھٹے بم اور گولے ابھی تک زمین میں موجود ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ سکتے ہیں۔
جمعرات کے روز جاری کردہ بیان میں میڈیا دفتر نے بتایا کہ 7؍ اکتوبر 2025،کے وسط تک کے سرکاری تخمینوں کے مطابق غزہ میں65؍ سے 70؍ ملین ٹن تک ملبہ اور کھنڈرات موجود ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ یہ ہولناک اعداد و شمار ان ہزاروں گھروں، عمارتوں اور بنیادی ڈھانچوں پر مشتمل ہیں جنہیں قابض اسرائیلی فوج نے دانستہ طور پر تباہ کیا۔ اس جارحیت نے پورے غزہ کو ماحولیاتی اور تعمیراتی لحاظ سے مکمل طور پر تباہ شدہ علاقے میں بدل دیا ہے اور انسانی امداد، بچاؤ اور ریلیف کی سرگرمیوں میں سنگین رکاوٹ پیدا کی ہے۔دفتر نے وضاحت کی کہ ملبہ ہٹانے کے عمل کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ قابض اسرائیلی ریاست بھاری مشینری اور تعمیراتی آلات کی غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہی۔ تمام سرحدی گزرگاہیں بند ہیں اور اسرائیلی پابندیوں کے باعث وہ آلات اور مواد بھی نہیں لائے جا سکتے جو شہداء کی لاشیں نکالنے یا صفائی کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس صورتحال نے غزہ کے المیے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔میڈیا دفتر نے زور دے کر کہا کہ یہ المناک حقیقت عالمی برادری پر ایک اخلاقی اور قانونی ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ فوری طور پر سرحدی گزرگاہیں کھولے اور ملبہ ہٹانے کے کام کا آغاز ممکن بنائے۔ قابض اسرائیلی جنگی مشینری نے جس طرح غزہ کے ہر گھر، عمارت اور سڑک کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، اس کے بعد انسانی مداخلت کے بغیر زندگی کی بحالی ناممکن ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے پھینکے گئے تقریباً 20؍ہزار بم اور راکٹ تاحال نہیں پھٹے۔ یہ ہتھیار عام شہریوں اور امدادی کارکنوں کی زندگی کے لیے شدید خطرہ ہیں۔ ان کو ہٹانے کیلئے انتہائی نازک انجینئرنگ اور سیکورٹی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ملبہ ہٹانے کا کام محفوظ طریقےسے شروع کیا جا سکے۔
اس بارے میں فلسطینی اتھاریٹی نے غزہ کی تعمیرنو کے لیے3 مراحل پر مشتمل 5،سالہ منصوبہ پیش کردیا ہے، جس کا مقصد جنگ سے تباہ حال علاقے کو دوبارہ آباد کرنا اور اسے ریاست فلسطین کا فعال، مربوط اور ترقی یافتہ حصہ بنانا ہے۔ میڈیارپورٹ کے مطابق فلسطینی وزیر اعظم محمدمصطفیٰ نےجمعرات کو اقوامِ متحدہ اور سفارتی حکام سے ملاقات کی اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا، حالانکہ اس بارے میں غیر یقینی پائی جاتی ہے کہ جنگ سے برباد علاقے کے مستقبل میں ان کی حکومت کا کیا کردار ہوگا۔
محمد مصطفیٰ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ 12، ماہ بعد فلسطینی اتھاریٹی غزہ میں مکمل طور پر فعال ہو جائے، یہ بیان اس وقت آیا جب چند روز قبل امریکی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی غزہ میں نافذ ہوئی تھی۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ غزہ کے امن منصوبے میں فلسطینی ریاست کے قیام کو خارج نہیں کیا گیا اور یہ تجویز بھی شامل ہے کہ اصلاحات کے نفاذ کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو ایک کردار دیا جائے۔ مگر اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف عزم ظاہر کیا ہوا ہے اور راملہ میں مقیم فلسطینی اتھاریٹی کے غزہ کے بعد کے انتظام پر حکمرانی کے امکان کو عملاً رد کر چکے ہیں۔
محمد مصطفیٰ نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کے لیے5، سالہ منصوبہ تیار کیا ہے جو 3،مراحل پر مشتمل ہوگا اور رہائش، تعلیم، حکمرانی اور دیگر 18،شعبوں کے لیے65؍ ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ اس بنیاد پر بنایا گیا ہے جو مارچ 2025 میں قاہرہ میں عرب ممالک کے ایک اجلاس میں طے پایا تھا اور مصر اور اردن کے ساتھ شروع کیاگیا پولیس ٹریننگ پروگرام پہلے ہی جاری ہیں۔ انہوں نے راملہ میں اپنے دفتر سے فلسطینی وزرا، اقوامِ متحدہ کے اداروں کے سربراہان اور سفارتی مشنز کے سربراہان کے ایک اجلاس سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہمارا نظریہ واضح ہے۔ محمد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ غزہ کو ریاست فلسطین کا ایک کھلے، مربوط اور ترقی پذیر حصے کے طور پر تعمیر نو کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوروپی یونین کے ساتھ محفوظ عبوری آپریشنز، کسٹمز کے نظام اور مربوط پولیسنگ یونٹس پر تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔ یوروپی یونین، فلسطینی اتھاریٹی کے بڑے امداد دہندگان میں سے ایک ہے، سب سے بڑھ کر یہ جنگ کے بعد کی تعمیر نو کا منصوبہ ایک واحد فلسطینی حکومت کے لیے راہ ہموار کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ فلسطینی وزیر اعظم نے کہا کہ یہ عمل غزہ اور مغربی کنارہ کے درمیان سیاسی اور علاقائی یکجہتی کو مضبوط کرے گا اور ریاست فلسطین کے لیے ایک قابل اعتبار حکمرانی فریم ورک کی بحالی میں حصہ ڈالے گا۔
غزہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے کچھ علاقوں سے انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے۔
مقامی آبادی نے غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا ہے کہ فوجی غزہ شہر کے شمال مغربی مضافات سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور مشرق کی طرف چلے گئے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے ترجمان نے کہا ہے کہ فوجی دستے اس حد تک واپس چلے جائیں گے جہاں سے اسرائیلی فوج کا غزہ کی پٹی پر 53 فیصد کنٹرول رہے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ اسرائیلی فوجی دستے ’متفقہ‘ لائن پر واپس چلے جائیں گے۔
گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس نے ایک نقشہ جاری کیا تھا جس میں زرد رنگ کی لکیر سے اسرائیلی افواج کے ابتدائی انخلا کی پوزیشن کو دکھایا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس وقت کہا تھا کہ یہاں تک انخلا تین مراحل میں سے پہلا مرحلہ ہو گا۔
رپورٹر ڈورون کدوش نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بار جب فوجی ان پوزیشنوں پر پہنچ جائیں گے تو حماس کے پاس یرغمالیوں کو واپس کرنے کے لیے 72 گھنٹے کا وقت ہو گا۔
اس سے قبل اسرائیلی حکومت نے ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر عملدرآمد کی تجویز کی منظوری دی ،جس میں حماس اور اسرائیل کے درمیان یرغمالیوں، قیدیوں اور زیر حراست افراد کا تبادلہ اور غزہ میں جنگ بندی شامل تھی۔
خیال رہے کہ مصر میں ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد غزہ میں دو سال سے جاری جنگ اپنے خاتمے کے قریب ہے۔
اسرائیل نے سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے جواب میں غزہ پر جنگ مسلط کی تھی۔
حماس کے حملے میں 1200 افراد ہلاک ہوئے اور حماس نے 251 اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنایا۔ اسرائیل کی جوابی کارروائی میں 67 ہزار فلسطینی شہری ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سے 18 ہزار بچے بھی شامل ہے۔
طے پانے والے معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد حماس کو 72 گھنٹے میں ان تمام 20 یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ اس کے بعد 28 ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی لاشیں واپس کی جائیں گی، حالانکہ یہ واضح نہیں ہے کہ اس میں کتنا وقت لگ سکتا ہے۔
امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ غزہ میں قید تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو آئندہ پیر یا منگل تک رہا کر دیا جائے گا۔
غزہ کی پٹی میں حماس کے سربراہ اور مذاکراتی وفد کے سربراہ خلیل الحیہ کہا ہے کہ اس کے بعد اسرائیل اپنی جیلوں میں عمرقید کی سزا پانے والے تقریباً 250 فلسطینی قیدیوں اور غزہ کے 1700 قیدیوں کو رہا کرے گا۔ ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق اسرائیل ہر اسرائیلی یرغمال کی باقیات کے بدلے غزہ کے 15 لوگوں کی لاشیں بھی واپس کرے گا۔
ادھر عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ وہ ’یرغمالیوں اور قیدیوں کو ان کے اہل خانہ تک واپس بھیجنے کے عمل‘ میں مدد دے کر اس معاہدے کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ، اسرائیل اور مغربی کنارے میں اس کی ٹیمیں انسانی باقیات کی واپسی میں بھی مدد کے لیے تیار ہیں تاکہ اہل خانہ اپنے پیاروں کی تدفین کر سکیں۔
عالمی ادارے کا مزید کہنا ہے کہ وہ غزہ میں امداد کی فراہمی اور اس کی تقسیم کرے گا۔ادارے کے صدر مرجانا سپولجیرک نے کہا کہ ’آنے والے دن نازک ہیں۔ میں فریقین پر زور دیتا ہوں کہ وہ اپنے وعدوں پر قائم رہیں۔ یہ معاہدہ زندگیاں بچانے اور مصائب کو کم کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔‘
خیال رہے کہ آئی سی آر سی نے ماضی میں اسرائیل اور حماس کے مابین یرغمالیوں کے تبادلے کو آسان بنانے میں مدد دی ہے۔
اس کے علاوہ معاہدے کے تحت امداد لے جانے والے سینکڑوں ٹرک غزہ میں داخل ہوں گے، جہاں اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ماہرین نے اگست میں قحط کی تصدیق کی تھی۔ یاد رہے کہ اس جنگ میں غزہ کا بیشتر علاقہ تباہ ہو گیا ہے اور ایک تباہ کن انسانی بحران نے جنم لیا ہے۔جسے کس طرح دور کیا جاسکے گا۔


