الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے راجیہ سبھا کے انتخابات اور نگروٹہ و بڈگام کے ضمنی انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی کشمیر ایک بار پھر سیاسی تماشے کے لیے تیار ہو چکا ہے۔ جو عمل جمہوری وقار اور عوامی نمائندگی کا مظہر ہونا چاہیے تھا، وہ اب حسبِ روایت وعدوں، نعروں، الزامات اور مفاداتی جوڑ توڑ کے ایک نئے کھیل میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
کشمیر میں انتخابات ہمیشہ صرف ووٹوں کا معاملہ نہیں رہے، بلکہ یہ اکثر اقتدار کی کشمکش، سیاسی وفاداریوں کے بدلتے رنگ، اور عوامی احساسات کی سمت جانچنے کا ایک غیر علانیہ ریفرنڈم بن جاتے ہیں۔ آنے والے انتخابات بھی اس روایت سے مختلف نظر نہیں آتے۔ اگلے چند ہفتوں میں وادی ایک بار پھر بلند بانگ دعووں، اخلاقی بیداری کے نعروں اور تازہ تراشیدہ منشوروں سے گونجنے والی ہے منشور جو دلوں سے زیادہ سرخیوں کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
جموں و کشمیر کا سیاسی منظرنامہ اس وقت ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں بحالی اور تکرار کے درمیان کی لکیر دھندلا چکی ہے۔ وہ جماعتیں جو کبھی خود کو خودمختاری کی محافظ کہتی تھیں، اب بدلتے اقتداری حالات کے مطابق اپنے بیانیے تراش رہی ہیں۔ پرانے حریف ممکن ہے وقتی مفاد کے تحت ایک دوسرے کے قریب آ جائیں، اور نئی اتحاد سازی "عوامی اتفاق” کے نام پر وجود میں آئے۔ عام ووٹر کے لیے یہ سب کچھ پرانے کھیل کا نیا منظر ہے جوش کم، تجسس زیادہ۔
تا ہم اب کشمیری عوام وہ ناظر نہیں رہے جو ہر منظر پر تالیاں بجاتے رہیں۔ برسوں کے تجربات، ادھورے وعدوں اور انتظامی مداخلتوں نے ایک نئی سیاسی بصیرت کو جنم دیا ہے۔ عوام اب تقریر اور تدبیر میں فرق پہچاننے لگے ہیں۔ یہ بصیرت آنے والے انتخابات میں شرکت بنے گی یا بے زاری یہ تو وقت بتائے گا، مگر یہ طے ہے کہ روایتی نعروں کا جادو اب مدھم پڑ چکا ہے۔
سیاسی اسٹیج ایک بار پھر سجا دیا گیا ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا، بلکہ یہ ہے کہ یہ انتخابات آخر معنی کیا رکھتے ہیں؟ کیا یہ حقیقی جمہوری عمل کی بحالی کا آغاز ثابت ہوں گے یا محض نمائشی سیاست کی ایک اور قسط؟ کشمیر، جو برسوں سے امید اور مایوسی کے درمیان جھولتا آیا ہے، شاید ایک بار پھر سیاسی ڈرامے اور ماضی کی بازگشت کا سامنا کرنے جا رہا ہے وہی پرانا اسٹیج، وہی اداکار، اور وہی ناظرین جو اب تماشے سے زیادہ سچائی کے متلاشی ہیں۔


