تعلیم کاتجارتی پرگراموں کے ذریعے جنازہ

مہمان اداریہ: مومن منتظر وانی
کشمیر میں امتحانی موسم جاری ہے۔ بورڈ نے مختلف کلاسوں کے ڈیٹ شیٹس جاری کیے ہیں۔ ہر سال اس موسم میں تعلیمی ادارے کوچنگ مراکز یا دیگر تعلیمی اداروں کے ساتھ پروگرامز منعقد کرتے ہیں۔ ان پروگرامز میں تجارتی مقاصد شامل ہوتے ہیں۔ میرا مقصد ان پروگرامز کی تنقید کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ کہنا ہے کہ اب یہ تعلیمی تجارت ہمارے شعور اور عقل پر اس قدر مسلط ہو چکی ہے کہ والدین اس غیر اخلاقی منظرنامے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔
والدین کا خواب ہوتا ہے کہ ان کے بچے ڈاکٹر، انجینئر یا افسر بنیں۔ اس خواب کو حاصل کرنے کے لیے محنت اور اخلاقی حدود میں رہ کر کوشش کرنا ضروری ہے۔ اس سے پہلے بھی ہماری قوم نے اچھے ڈاکٹر، انجینئر اور سائنسدان پیدا کیے ہیں اور آئندہ بھی کرے گی۔ لیکن اچھے والدین نے کبھی اپنے کردار کا سودا نہیں کیا۔ استاد اور طالب علم کے درمیان جو رشتہ ہے، اسے احترام کے ساتھ رکھنا چاہیے۔ غیر اخلاقی اداکاری اس رشتہ کا حصہ نہیں ہو سکتی۔تعلیمی تاجروں کے بغیر بھی ہماری قوم کے بیٹے اور بیٹیوں نے غربت اور مشکلات کے باوجود ڈاکٹر اور انجینئر بننے کے خواب کو حقیقت بنایا۔ یہ بے حیائی تعلیم سے متعلق نہیں ہے۔ تحقیقی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ صرف ان طالب علموں کی کارستانی ہے جو حقیقت میں ہر طرح سے ناکام ہیں۔ کشمیری کہاوت ہے: "موجی ژ تھاو کانگر پھوکت بہ یمہ ووستس دوہ ٹھوکت”۔ ہمیں سائنسی ترقی کے لیے بچوں کی محنت کرنی چاہیے اور تحقیقی دروازے کھول کر ترقی کا نعرہ دینا چاہیے۔ لیکن بے حیائی اور بدکرداری کسی بھی قوم یا کلچر میں قابل قبول نہیں ہے۔تربیت کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر بچوں کو انسان بنانا چاہیے تاکہ ایک توانا اور زندہ سماج وجود میں آئے۔ ناچ گانے سے سائنسی ترقی نہیں، بلکہ زوال کا امکان ہے۔ سائنسی ترقی اور منازل کے جھوٹے خواب دکھا کر اپنے کاروبار کو فروغ دینے سے تعلیم کا جنازہ ہی نکلے گا۔ بچوں کو کوچنگ جانے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن ان کے کردار کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ اللہ تعالی ہمارے بچوں کو تعلیمی ترقی عطا کرے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دنیا بھر میں عوامی احتجاج: وجوہات، اثرات اور نتائج

  محسن ضیائی دنیا میں بعض حکمراں ایسے رہے ہیں، جنہوں...

یاہو کے جانے سے صرف چہرہ بدلے گا، نقشہ نہیں!

      ڈاکٹر اسداللہ خان سیاست میں سب سے بڑا دھوکا اکثر...

سری نگر پولیس کے زیرِ اہتمام فٹ بال ٹورنامنٹ شروع

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/سری نگر پولیس نے سوِک ایکشن...

نیتن یاہو کا سیاسی زوال!

اسرائیل کے 27 اکتوبر کے انتخابات نے وزیر اعظم...

تازہ ترین خبریں

دنیا بھر میں عوامی احتجاج: وجوہات، اثرات اور نتائج

  محسن ضیائی دنیا میں بعض حکمراں ایسے رہے ہیں، جنہوں...

یاہو کے جانے سے صرف چہرہ بدلے گا، نقشہ نہیں!

      ڈاکٹر اسداللہ خان سیاست میں سب سے بڑا دھوکا اکثر...

سری نگر پولیس کے زیرِ اہتمام فٹ بال ٹورنامنٹ شروع

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/سری نگر پولیس نے سوِک ایکشن...

نیتن یاہو کا سیاسی زوال!

اسرائیل کے 27 اکتوبر کے انتخابات نے وزیر اعظم...

تعلیم کاتجارتی پرگراموں کے ذریعے جنازہ

مہمان اداریہ: مومن منتظر وانی
کشمیر میں امتحانی موسم جاری ہے۔ بورڈ نے مختلف کلاسوں کے ڈیٹ شیٹس جاری کیے ہیں۔ ہر سال اس موسم میں تعلیمی ادارے کوچنگ مراکز یا دیگر تعلیمی اداروں کے ساتھ پروگرامز منعقد کرتے ہیں۔ ان پروگرامز میں تجارتی مقاصد شامل ہوتے ہیں۔ میرا مقصد ان پروگرامز کی تنقید کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ کہنا ہے کہ اب یہ تعلیمی تجارت ہمارے شعور اور عقل پر اس قدر مسلط ہو چکی ہے کہ والدین اس غیر اخلاقی منظرنامے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔
والدین کا خواب ہوتا ہے کہ ان کے بچے ڈاکٹر، انجینئر یا افسر بنیں۔ اس خواب کو حاصل کرنے کے لیے محنت اور اخلاقی حدود میں رہ کر کوشش کرنا ضروری ہے۔ اس سے پہلے بھی ہماری قوم نے اچھے ڈاکٹر، انجینئر اور سائنسدان پیدا کیے ہیں اور آئندہ بھی کرے گی۔ لیکن اچھے والدین نے کبھی اپنے کردار کا سودا نہیں کیا۔ استاد اور طالب علم کے درمیان جو رشتہ ہے، اسے احترام کے ساتھ رکھنا چاہیے۔ غیر اخلاقی اداکاری اس رشتہ کا حصہ نہیں ہو سکتی۔تعلیمی تاجروں کے بغیر بھی ہماری قوم کے بیٹے اور بیٹیوں نے غربت اور مشکلات کے باوجود ڈاکٹر اور انجینئر بننے کے خواب کو حقیقت بنایا۔ یہ بے حیائی تعلیم سے متعلق نہیں ہے۔ تحقیقی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ صرف ان طالب علموں کی کارستانی ہے جو حقیقت میں ہر طرح سے ناکام ہیں۔ کشمیری کہاوت ہے: "موجی ژ تھاو کانگر پھوکت بہ یمہ ووستس دوہ ٹھوکت”۔ ہمیں سائنسی ترقی کے لیے بچوں کی محنت کرنی چاہیے اور تحقیقی دروازے کھول کر ترقی کا نعرہ دینا چاہیے۔ لیکن بے حیائی اور بدکرداری کسی بھی قوم یا کلچر میں قابل قبول نہیں ہے۔تربیت کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر بچوں کو انسان بنانا چاہیے تاکہ ایک توانا اور زندہ سماج وجود میں آئے۔ ناچ گانے سے سائنسی ترقی نہیں، بلکہ زوال کا امکان ہے۔ سائنسی ترقی اور منازل کے جھوٹے خواب دکھا کر اپنے کاروبار کو فروغ دینے سے تعلیم کا جنازہ ہی نکلے گا۔ بچوں کو کوچنگ جانے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن ان کے کردار کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ اللہ تعالی ہمارے بچوں کو تعلیمی ترقی عطا کرے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں