فلسطین کیلئےمعاہدہ!

اب جبکہ عالمی رہنماؤں نے بالآخر فلسطین کے لیے امن معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، دنیا کی نظریں غفلت میں نہیں جھپکنی چاہییں۔ یہ سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی، مگر تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ فلسطین کے لیے کیے گئے وعدے اکثر مدھم پڑ جاتے ہیں ابتدا میں گونج دار، اور کچھ ہی عرصے بعد خاموش۔ اگر اس جنگ بندی کو پامال کیا گیا، اگر بمباری ’’سلامتی‘‘ کے نام پر جاری رہی، یا اگر جبر سفارتی مسکراہٹوں کے پسِ پردہ برقرار رہا، تو یہ معاہدہ محض کاغذ کا ایک بے روح ٹکڑا رہ جائے گا۔
دہاکوں سے دنیا نے دیکھا ہے کہ جنگ بندیاں ریت کے محلوں کی طرح ٹوٹتی رہی ہیں ہر بار مفاد پرستی کی ایک نئی لہر انہیں بہا لے گئی۔ بڑی طاقتوں نے اکثر امن کو سیاسی کھیل بنا دیا ہے: جب مفاد مانگے تو امن، اور جب مفاد بدلے تو بارود۔ اس بار دنیا کسی اور دھوکے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ جو اس جنگ بندی کا غلط استعمال کرے، جو اسے اپنے سیاسی یا فوجی مقاصد کے لیے بگاڑے، اُسے اخلاقی اور سفارتی طور پر بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ امن کے دشمنوں کو سزا اور امن کے پاسبانوں کو عزت ملنی چاہیے۔
فلسطینی عوام نے نسل در نسل ٹوٹے وعدے، اجڑے گھر اور ناکام جنگ بندیاں دیکھی ہیں۔ اب اُنہیں تصویروں اور بیانات سے زیادہ حقیقی انصاف اور پائیدار امن چاہیے ایسا امن جو مساوات، احتساب اور انسانی وقار پر قائم ہو۔
دنیا کے رہنماؤں کو یاد رکھنا چاہیے کہ امن محض ایک معاہدہ نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے — نہ کہ دستخطوں کے لمحے میں، بلکہ اُن دنوں اور راتوں میں جب خاموشی یا بے عملی دوبارہ ظلم کا جواز بن سکتی ہے۔
دنیا کو جاگتے رہنا ہوگا، ہوشیار اور ثابت قدم رہنا ہوگا، کیونکہ صرف اسی صورت میں یہ جنگ بندی ایک نئے دور کے امن کی بنیاد بن سکتی ہے، نہ کہ ایک اور تاریخی فریب کا باب۔
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بالسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا حملہ: 3 افراد ہلاک، ایک درجن سے زائد زخمی

  کیف، 01 اگست: مقامی حکام کے مطابق، جمعہ اور ہفتے...

SKUAST-K اور نقش رائل آرٹس کے درمیان پشمینہ مصنوعات کی جدت کے لئے معاہدہ

جنگ نیوز ڈیسک SKUAST-K نے کشمیر کی روایتی پشمینہ صنعت...

جموں و کشمیر میں عمارتوں کی اجازت نامہ فیس یکساں

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ ہاؤسنگ...

کشمیر میں بجلی کے نقصانات ملک میں سب سے زیادہ

جنگ نیوز ڈیسک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی...

جموں کشمیر: جنگلاتی حقوق کے دعووں کی جلد یکسوئی کی ہدایت

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر کے محکمہ قبائلی امور...

تازہ ترین خبریں

بالسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا حملہ: 3 افراد ہلاک، ایک درجن سے زائد زخمی

  کیف، 01 اگست: مقامی حکام کے مطابق، جمعہ اور ہفتے...

SKUAST-K اور نقش رائل آرٹس کے درمیان پشمینہ مصنوعات کی جدت کے لئے معاہدہ

جنگ نیوز ڈیسک SKUAST-K نے کشمیر کی روایتی پشمینہ صنعت...

جموں و کشمیر میں عمارتوں کی اجازت نامہ فیس یکساں

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ ہاؤسنگ...

کشمیر میں بجلی کے نقصانات ملک میں سب سے زیادہ

جنگ نیوز ڈیسک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی...

جموں کشمیر: جنگلاتی حقوق کے دعووں کی جلد یکسوئی کی ہدایت

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر کے محکمہ قبائلی امور...

فلسطین کیلئےمعاہدہ!

اب جبکہ عالمی رہنماؤں نے بالآخر فلسطین کے لیے امن معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، دنیا کی نظریں غفلت میں نہیں جھپکنی چاہییں۔ یہ سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی، مگر تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ فلسطین کے لیے کیے گئے وعدے اکثر مدھم پڑ جاتے ہیں ابتدا میں گونج دار، اور کچھ ہی عرصے بعد خاموش۔ اگر اس جنگ بندی کو پامال کیا گیا، اگر بمباری ’’سلامتی‘‘ کے نام پر جاری رہی، یا اگر جبر سفارتی مسکراہٹوں کے پسِ پردہ برقرار رہا، تو یہ معاہدہ محض کاغذ کا ایک بے روح ٹکڑا رہ جائے گا۔
دہاکوں سے دنیا نے دیکھا ہے کہ جنگ بندیاں ریت کے محلوں کی طرح ٹوٹتی رہی ہیں ہر بار مفاد پرستی کی ایک نئی لہر انہیں بہا لے گئی۔ بڑی طاقتوں نے اکثر امن کو سیاسی کھیل بنا دیا ہے: جب مفاد مانگے تو امن، اور جب مفاد بدلے تو بارود۔ اس بار دنیا کسی اور دھوکے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ جو اس جنگ بندی کا غلط استعمال کرے، جو اسے اپنے سیاسی یا فوجی مقاصد کے لیے بگاڑے، اُسے اخلاقی اور سفارتی طور پر بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ امن کے دشمنوں کو سزا اور امن کے پاسبانوں کو عزت ملنی چاہیے۔
فلسطینی عوام نے نسل در نسل ٹوٹے وعدے، اجڑے گھر اور ناکام جنگ بندیاں دیکھی ہیں۔ اب اُنہیں تصویروں اور بیانات سے زیادہ حقیقی انصاف اور پائیدار امن چاہیے ایسا امن جو مساوات، احتساب اور انسانی وقار پر قائم ہو۔
دنیا کے رہنماؤں کو یاد رکھنا چاہیے کہ امن محض ایک معاہدہ نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے — نہ کہ دستخطوں کے لمحے میں، بلکہ اُن دنوں اور راتوں میں جب خاموشی یا بے عملی دوبارہ ظلم کا جواز بن سکتی ہے۔
دنیا کو جاگتے رہنا ہوگا، ہوشیار اور ثابت قدم رہنا ہوگا، کیونکہ صرف اسی صورت میں یہ جنگ بندی ایک نئے دور کے امن کی بنیاد بن سکتی ہے، نہ کہ ایک اور تاریخی فریب کا باب۔
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں