متحدہ مجلس علمائے کشمیر کی جانب سے ہوٹل مالکان اور ریستورانوں کو یہ اپیل کہ وہ درآمد شدہ ذبح شدہ گوشت کے استعمال کو ترک کریں اور مقامی حلال گوشت کو فروغ دیں، یقیناً قابلِ تحسین اقدام ہے۔ اس پیغام میں مذہبی شعور کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت کو مستحکم کرنے کی فکر بھی پوشیدہ ہے۔ تاہم یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ محض اعلانات یا فتوے جاری کرنے سے دیرپا تبدیلی ممکن نہیں، جب تک کہ ان کے ساتھ عملی اقدامات اور عوامی شمولیت نہ ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں ہوٹل انڈسٹری اور فوڈ بزنس ایک پیچیدہ سپلائی چین کے تابع ہے، جہاں دستیابی، لاگت اور سہولت بنیادی عوامل ہیں۔ ایسی صورت میں درآمدی گوشت کو فوری طور پر ختم کرکے مقامی گوشت پر انحصار کرنا تبھی ممکن ہے جب ایک مضبوط اور منظم مقامی نظام تیار کیا جائے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ علما، کاروباری طبقہ اور سرکاری ادارے مل کر ایسے اقدامات کریں جو مقامی سطح پر حلال گوشت کی تیاری اور فراہمی کو فروغ دیں۔ نوجوانوں اور اُبھرتے ہوئے Entrepreneursکو بھی اس سمت میں آگے آنا چاہیے۔بھیڑ بکریوں اور مرغیوں کی افزائش کے منصوبے شروع کیے جائیں، حلال سرٹیفکیشن کے نظام کو مضبوط بنایا جائے، اور کولڈ اسٹوریج و ترسیل کے جدید ذرائع متعارف کرائے جائیں۔
مجلس علمائے کرام کی اپیل کو ایک وسیع تر تحریک میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ ایسی تحریک جس میں صرف ممانعت نہیں بلکہ بااختیار بنانے کا جذبہ شامل ہو۔ عوام کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے حلال سپلائی نظام کیسے قائم کر سکتے ہیں، چھوٹے کسانوں کی کس طرح مدد کی جا سکتی ہے، اور مقامی مصنوعات کے استعمال سے سماجی و معاشی سطح پر کیا فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ایمان کے ساتھ روزگار کا رشتہ
ایمان کے ساتھ روزگار کا رشتہ
متحدہ مجلس علمائے کشمیر کی جانب سے ہوٹل مالکان اور ریستورانوں کو یہ اپیل کہ وہ درآمد شدہ ذبح شدہ گوشت کے استعمال کو ترک کریں اور مقامی حلال گوشت کو فروغ دیں، یقیناً قابلِ تحسین اقدام ہے۔ اس پیغام میں مذہبی شعور کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت کو مستحکم کرنے کی فکر بھی پوشیدہ ہے۔ تاہم یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ محض اعلانات یا فتوے جاری کرنے سے دیرپا تبدیلی ممکن نہیں، جب تک کہ ان کے ساتھ عملی اقدامات اور عوامی شمولیت نہ ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں ہوٹل انڈسٹری اور فوڈ بزنس ایک پیچیدہ سپلائی چین کے تابع ہے، جہاں دستیابی، لاگت اور سہولت بنیادی عوامل ہیں۔ ایسی صورت میں درآمدی گوشت کو فوری طور پر ختم کرکے مقامی گوشت پر انحصار کرنا تبھی ممکن ہے جب ایک مضبوط اور منظم مقامی نظام تیار کیا جائے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ علما، کاروباری طبقہ اور سرکاری ادارے مل کر ایسے اقدامات کریں جو مقامی سطح پر حلال گوشت کی تیاری اور فراہمی کو فروغ دیں۔ نوجوانوں اور اُبھرتے ہوئے Entrepreneursکو بھی اس سمت میں آگے آنا چاہیے۔بھیڑ بکریوں اور مرغیوں کی افزائش کے منصوبے شروع کیے جائیں، حلال سرٹیفکیشن کے نظام کو مضبوط بنایا جائے، اور کولڈ اسٹوریج و ترسیل کے جدید ذرائع متعارف کرائے جائیں۔
مجلس علمائے کرام کی اپیل کو ایک وسیع تر تحریک میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ ایسی تحریک جس میں صرف ممانعت نہیں بلکہ بااختیار بنانے کا جذبہ شامل ہو۔ عوام کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے حلال سپلائی نظام کیسے قائم کر سکتے ہیں، چھوٹے کسانوں کی کس طرح مدد کی جا سکتی ہے، اور مقامی مصنوعات کے استعمال سے سماجی و معاشی سطح پر کیا فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔


