سیلاب متاثرین کو زمین دینے کا اعلان

قدرتی آفات صرف مکانات کو منہدم نہیں کرتیں بلکہ زندگیاں، روزگار اور عوام کے اعتماد کو بھی چکنا چور کر دیتی ہیں۔ جموں و کشمیر میں حالیہ تباہ کن سیلاب نے یہی منظر نامہ پیدا کیا، خاص طور پر کٹھوعہ ضلع کے بلاور تحصیل کے دگگین گاؤں میں جہاں لوگوں کے گھر اور وسائل پانی کی نذر ہوگئے۔
ایسے کڑے وقت میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا یہ اعلان کہ ہر بے گھر متاثرہ خاندان کو پانچ مرلہ زمین دی جائے گی تاکہ وہ اپنے مکانات دوبارہ تعمیر کر سکیں نہایت خوش آئند قدم ہے۔ یہ فیصلہ محض ہمدردی نہیں بلکہ عملی بصیرت کا مظہر ہے۔ کیونکہ جس خاندان کے پاس زمین ہی نہ ہو وہ اپنا گھر کہاں سے تعمیر کرے؟ زمین کی فراہمی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ بحالی کے اقدامات عارضی ڈھانچوں تک محدود نہ رہیں بلکہ متاثرہ افراد کے لیے دیرپا استحکام کا باعث بنیں۔
اس فیصلے کو مساوات کے تناظر میں بھی دیکھنا ضروری ہے۔ مالی معاوضہ اکثر وقتی ضرورتوں یا قرضوں کی نذر ہو جاتا ہے، لیکن زمین ایک مستقل اثاثہ ہے، عزتِ نفس کی بحالی کا ذریعہ ہے اور زندگی کو دوبارہ سنبھالنے کی اساس ہے۔ اگر یہ اقدام شفافیت کے ساتھ اور بروقت عمل میں لایا گیا تو یہ خطے میں آفات سے نمٹنے کے ایک مثالی ماڈل کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔
تاہم اچھی نیت کے ساتھ مضبوط عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ حکومت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ زمین کی تقسیم میں اقربا پروری یا بدعنوانی کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ مستحقین کی نشاندہی درست انداز میں ہو تاکہ کوئی بھی بے سہارا خاندان محروم نہ رہ جائے۔ مزید برآں صرف زمین دینا کافی نہیں، متاثرین کو تعمیراتی سہولیات، مالی معاونت اور تکنیکی رہنمائی بھی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے گھروں کو حقیقتاً دوبارہ کھڑا کر سکیں۔
کٹھوعہ کے عوام اس اعلان کو امید بھری نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ اُن کے لیے سیاسی قیادت کی جانب سے ایک ایسا پیغام ہے جو محض الفاظ نہیں بلکہ عمل کی نوید دیتا ہے۔ اب سول سوسائٹی اور میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عمل پر نگاہ رکھیں اور حکومت کو جواب دہ بنائیں تاکہ یہ وعدہ محض بیانات تک محدود نہ رہ جائے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا اعلان دراصل بحالی سے بڑھ کر اعتماد کی بحالی کا پیغام ہے۔ اگر اسے دیانت داری سے نافذ کیا گیا تو یہ نہ صرف گھر بلکہ عوام کے دلوں میں اعتماد اور اُمید کی شمع بھی روشن کرے گا۔
قدرتی آفات عوام اور اُن کے قائدین دونوں کا امتحان ہوتی ہیں۔ یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ جموں و کشمیر میں قیادت اب بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق اٹھ کھڑی ہوسکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

سیلاب متاثرین کو زمین دینے کا اعلان

قدرتی آفات صرف مکانات کو منہدم نہیں کرتیں بلکہ زندگیاں، روزگار اور عوام کے اعتماد کو بھی چکنا چور کر دیتی ہیں۔ جموں و کشمیر میں حالیہ تباہ کن سیلاب نے یہی منظر نامہ پیدا کیا، خاص طور پر کٹھوعہ ضلع کے بلاور تحصیل کے دگگین گاؤں میں جہاں لوگوں کے گھر اور وسائل پانی کی نذر ہوگئے۔
ایسے کڑے وقت میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا یہ اعلان کہ ہر بے گھر متاثرہ خاندان کو پانچ مرلہ زمین دی جائے گی تاکہ وہ اپنے مکانات دوبارہ تعمیر کر سکیں نہایت خوش آئند قدم ہے۔ یہ فیصلہ محض ہمدردی نہیں بلکہ عملی بصیرت کا مظہر ہے۔ کیونکہ جس خاندان کے پاس زمین ہی نہ ہو وہ اپنا گھر کہاں سے تعمیر کرے؟ زمین کی فراہمی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ بحالی کے اقدامات عارضی ڈھانچوں تک محدود نہ رہیں بلکہ متاثرہ افراد کے لیے دیرپا استحکام کا باعث بنیں۔
اس فیصلے کو مساوات کے تناظر میں بھی دیکھنا ضروری ہے۔ مالی معاوضہ اکثر وقتی ضرورتوں یا قرضوں کی نذر ہو جاتا ہے، لیکن زمین ایک مستقل اثاثہ ہے، عزتِ نفس کی بحالی کا ذریعہ ہے اور زندگی کو دوبارہ سنبھالنے کی اساس ہے۔ اگر یہ اقدام شفافیت کے ساتھ اور بروقت عمل میں لایا گیا تو یہ خطے میں آفات سے نمٹنے کے ایک مثالی ماڈل کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔
تاہم اچھی نیت کے ساتھ مضبوط عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ حکومت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ زمین کی تقسیم میں اقربا پروری یا بدعنوانی کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ مستحقین کی نشاندہی درست انداز میں ہو تاکہ کوئی بھی بے سہارا خاندان محروم نہ رہ جائے۔ مزید برآں صرف زمین دینا کافی نہیں، متاثرین کو تعمیراتی سہولیات، مالی معاونت اور تکنیکی رہنمائی بھی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے گھروں کو حقیقتاً دوبارہ کھڑا کر سکیں۔
کٹھوعہ کے عوام اس اعلان کو امید بھری نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ اُن کے لیے سیاسی قیادت کی جانب سے ایک ایسا پیغام ہے جو محض الفاظ نہیں بلکہ عمل کی نوید دیتا ہے۔ اب سول سوسائٹی اور میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عمل پر نگاہ رکھیں اور حکومت کو جواب دہ بنائیں تاکہ یہ وعدہ محض بیانات تک محدود نہ رہ جائے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا اعلان دراصل بحالی سے بڑھ کر اعتماد کی بحالی کا پیغام ہے۔ اگر اسے دیانت داری سے نافذ کیا گیا تو یہ نہ صرف گھر بلکہ عوام کے دلوں میں اعتماد اور اُمید کی شمع بھی روشن کرے گا۔
قدرتی آفات عوام اور اُن کے قائدین دونوں کا امتحان ہوتی ہیں۔ یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ جموں و کشمیر میں قیادت اب بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق اٹھ کھڑی ہوسکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں