آوارہ کتوں کا بحران اور پالتو بلیوں کا بڑھتا ہوا رجحان

ہر سال 28 ستمبر کو عالمی ریبیز ڈے منایا جاتا ہے، تاکہ دنیا کو یہ یاد دلایا جائے کہ ریبیز اگرچہ قابلِ علاج اور قابلِ انسداد ہے، مگر اب بھی ہزاروں جانیں اس کا شکار بنتی ہیں۔ کشمیر کے لئے یہ دن خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہاں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے حملوں نے اسے ایک سنگین سماجی اور صحت عامہ کے مسئلے میں بدل دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، وادی کشمیر میں ہر سال ہزاروں لوگ کتوں کے کاٹنے کا شکار ہوتے ہیں، جو اسے جنوبی ایشیا کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل کرتا ہے۔ آوارہ کتوں کی یہ بڑھتی ہوئی تعداد بے قابو کچرے، ناقص منصوبہ بندی اور غیر مؤثر پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ سڑکوں پر چلنا عوام کے لئے خوف کا باعث بن گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے عقیم کاری (sterilization)، ویکسینیشن اور ٹھوس کچرے کے انتظام جیسے اقدامات میں سنجیدگی کی کمی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی ایک دلچسپ سماجی رجحان بھی ابھر رہا ہے۔ وادی میں پالتو بلیاں رکھنے کا رواج تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ کبھی گھروں میں بلیاں شاذونادر ہی پالنے کو ملتی تھیں، مگر اب شہری علاقوں میں یہ روایت بڑھ رہی ہے۔ نوجوان نسل بلیوں کو صاف ستھرا، پُرسکون اور محفوظ ساتھی سمجھتی ہے۔ سوشل میڈیا نے بھی اس رجحان کو فروغ دیا ہے اور یہ ایک نئی شہری طرزِ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ تاہم بلیوں کا یہ بڑھتا ہوا شوق ہمیں ریبیز کے بنیادی مسئلے سے غافل نہیں کر سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ واضح اور مربوط حکمت عملی اپنائے۔ آوارہ کتوں کی ویکسینیشن اور عقیم کاری کے ساتھ ساتھ اسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی فوری فراہمی، کچرے کے مؤثر انتظام اور عوامی بیداری مہمات کو یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی، پالتو جانور رکھنے والوں کو ذمہ دارانہ رویے، ویکسینیشن اور ویٹرنری دیکھ بھال کی طرف راغب کرنا ضروری ہے۔
عالمی ریبیز ڈے محض ایک تقویمی دن نہیں، بلکہ ایک تنبیہ ہے۔ کشمیر کے لئے یہ دن یاد دہانی ہے کہ ہر کتے کا کاٹا ہوا شخص ایک ممکنہ سانحہ ہے، ہر آوارہ کتا حکومتی ناکامی کی علامت ہے اور ہر پالتو بلی انسان اور جانور کے درمیان محفوظ اور صحت مند تعلق کے نئے امکانات کی نمائندگی کرتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے، کیونکہ بچاؤ ہمیشہ علاج سے بہتر ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

آوارہ کتوں کا بحران اور پالتو بلیوں کا بڑھتا ہوا رجحان

ہر سال 28 ستمبر کو عالمی ریبیز ڈے منایا جاتا ہے، تاکہ دنیا کو یہ یاد دلایا جائے کہ ریبیز اگرچہ قابلِ علاج اور قابلِ انسداد ہے، مگر اب بھی ہزاروں جانیں اس کا شکار بنتی ہیں۔ کشمیر کے لئے یہ دن خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہاں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے حملوں نے اسے ایک سنگین سماجی اور صحت عامہ کے مسئلے میں بدل دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، وادی کشمیر میں ہر سال ہزاروں لوگ کتوں کے کاٹنے کا شکار ہوتے ہیں، جو اسے جنوبی ایشیا کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل کرتا ہے۔ آوارہ کتوں کی یہ بڑھتی ہوئی تعداد بے قابو کچرے، ناقص منصوبہ بندی اور غیر مؤثر پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ سڑکوں پر چلنا عوام کے لئے خوف کا باعث بن گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے عقیم کاری (sterilization)، ویکسینیشن اور ٹھوس کچرے کے انتظام جیسے اقدامات میں سنجیدگی کی کمی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی ایک دلچسپ سماجی رجحان بھی ابھر رہا ہے۔ وادی میں پالتو بلیاں رکھنے کا رواج تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ کبھی گھروں میں بلیاں شاذونادر ہی پالنے کو ملتی تھیں، مگر اب شہری علاقوں میں یہ روایت بڑھ رہی ہے۔ نوجوان نسل بلیوں کو صاف ستھرا، پُرسکون اور محفوظ ساتھی سمجھتی ہے۔ سوشل میڈیا نے بھی اس رجحان کو فروغ دیا ہے اور یہ ایک نئی شہری طرزِ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ تاہم بلیوں کا یہ بڑھتا ہوا شوق ہمیں ریبیز کے بنیادی مسئلے سے غافل نہیں کر سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ واضح اور مربوط حکمت عملی اپنائے۔ آوارہ کتوں کی ویکسینیشن اور عقیم کاری کے ساتھ ساتھ اسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی فوری فراہمی، کچرے کے مؤثر انتظام اور عوامی بیداری مہمات کو یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی، پالتو جانور رکھنے والوں کو ذمہ دارانہ رویے، ویکسینیشن اور ویٹرنری دیکھ بھال کی طرف راغب کرنا ضروری ہے۔
عالمی ریبیز ڈے محض ایک تقویمی دن نہیں، بلکہ ایک تنبیہ ہے۔ کشمیر کے لئے یہ دن یاد دہانی ہے کہ ہر کتے کا کاٹا ہوا شخص ایک ممکنہ سانحہ ہے، ہر آوارہ کتا حکومتی ناکامی کی علامت ہے اور ہر پالتو بلی انسان اور جانور کے درمیان محفوظ اور صحت مند تعلق کے نئے امکانات کی نمائندگی کرتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے، کیونکہ بچاؤ ہمیشہ علاج سے بہتر ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں