جموں و کشمیرکیلئےگیس پائپ لائن کی تجویز

جنگ نیوز ڈیسک

پیٹرولیم اینڈ نیچرل گیس ریگولیٹری بورڈ (PNGRB) نے جموں و کشمیر میں ایل پی جی ترسیل کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے جالندھر (پنجاب) سے جموں تک 230 کلومیٹر طویل ایل پی جی پائپ لائن منصوبے کی منظوری کے لیے بولیاں طلب کی ہیں۔ اس منصوبے کو خطے میں ایندھن کی محفوظ اور پائیدار فراہمی کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق یہ پائپ لائن ہر سال کم از کم 0.30ملین میٹرک ٹن کی گنجائش کے ساتھ چلائی جائے گی اور اس کے ذریعے جموں خطے کے بوتلنگ پلانٹس کو سیدھی سپلائی فراہم ہوگی۔ منصوبے کا مقصد روایتی سڑکوں کے ذریعے ٹینکر ترسیل پر انحصار کم کرنا ہے، جس سے نہ صرف ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا بلکہ حادثات اور آلودگی میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
ڈیلوئٹ کے تجزیے کے مطابق یہ پائپ لائن سالانہ 231 کروڑ روپے کی بچت کرے گی، تقریباً0.4ملین ٹینکر ٹرپس کو ختم کرے گی اور 0.42ملین ٹن کاربن اخراج میں کمی لائے گی۔ منصوبے پر کل 830 کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
یہ پائپ لائن پنجاب کی موجودہ پانی پت-جالندھر ایل پی جی پائپ لائن (PJPL) سے منسلک ہوگی اور ایک کامن کیریئر پائپ لائن کے طور پر کام کرے گی، جس کا مطلب ہے کہ اس کے ذریعے متعدد کمپنیوں کو بھی سپلائی کا موقع ملے گا۔
پی این جی آر بی نے بتایا کہ عوامی مشاورت اور اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کے بعد یہ تجویز تیار کی گئی ہے تاکہ جموں و کشمیر میں ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کی جا سکے اور مستقبل میں توانائی کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف جموں بلکہ وادیٔ کشمیر کے لیے بھی بالواسطہ فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ بوتلنگ پلانٹس کو بہتر رسائی ملنے سے گھریلو صارفین کو ایل پی جی زیادہ آسانی اور پائیداری کے ساتھ دستیاب ہوگی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

جموں و کشمیرکیلئےگیس پائپ لائن کی تجویز

جنگ نیوز ڈیسک

پیٹرولیم اینڈ نیچرل گیس ریگولیٹری بورڈ (PNGRB) نے جموں و کشمیر میں ایل پی جی ترسیل کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے جالندھر (پنجاب) سے جموں تک 230 کلومیٹر طویل ایل پی جی پائپ لائن منصوبے کی منظوری کے لیے بولیاں طلب کی ہیں۔ اس منصوبے کو خطے میں ایندھن کی محفوظ اور پائیدار فراہمی کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق یہ پائپ لائن ہر سال کم از کم 0.30ملین میٹرک ٹن کی گنجائش کے ساتھ چلائی جائے گی اور اس کے ذریعے جموں خطے کے بوتلنگ پلانٹس کو سیدھی سپلائی فراہم ہوگی۔ منصوبے کا مقصد روایتی سڑکوں کے ذریعے ٹینکر ترسیل پر انحصار کم کرنا ہے، جس سے نہ صرف ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا بلکہ حادثات اور آلودگی میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
ڈیلوئٹ کے تجزیے کے مطابق یہ پائپ لائن سالانہ 231 کروڑ روپے کی بچت کرے گی، تقریباً0.4ملین ٹینکر ٹرپس کو ختم کرے گی اور 0.42ملین ٹن کاربن اخراج میں کمی لائے گی۔ منصوبے پر کل 830 کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
یہ پائپ لائن پنجاب کی موجودہ پانی پت-جالندھر ایل پی جی پائپ لائن (PJPL) سے منسلک ہوگی اور ایک کامن کیریئر پائپ لائن کے طور پر کام کرے گی، جس کا مطلب ہے کہ اس کے ذریعے متعدد کمپنیوں کو بھی سپلائی کا موقع ملے گا۔
پی این جی آر بی نے بتایا کہ عوامی مشاورت اور اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کے بعد یہ تجویز تیار کی گئی ہے تاکہ جموں و کشمیر میں ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کی جا سکے اور مستقبل میں توانائی کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف جموں بلکہ وادیٔ کشمیر کے لیے بھی بالواسطہ فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ بوتلنگ پلانٹس کو بہتر رسائی ملنے سے گھریلو صارفین کو ایل پی جی زیادہ آسانی اور پائیداری کے ساتھ دستیاب ہوگی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں