شاہراہ کی بندش سے 700 کروڑ کا نقصان: وادی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی باغبانی بحران کا شکار

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/وادی کے فروٹ گرورز کم ڈیلرز یونین نے بدھ کو کہا کہ جموں-سرینگر قومی شاہراہ کی بار بار اور طویل بندش کی وجہ سے باغبانی شعبے کو اس سیزن میں تقریباً 700 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ یونین نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت کی عدم توجہی سے وادی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی فروٹ انڈسٹری ایک بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔
یونین کے صدر بشیر احمد بشیر نے کہا کہ ہزاروں ٹرکوں میں لدے سیب اور دیگر تازہ پھل کئی ہفتوں تک شاہراہ پر پھنسے رہتے ہیں، مگر حکومت ٹریفک کی بحالی یا متبادل انتظامات کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھا رہی۔
انہوں نے کہا کہ شاہراہ جتنی دیر تک بند رہے گی، نقصانات ہر گھنٹے کے ساتھ بڑھتے جائیں گے اور پھلوں کی مقدار اور معیار بری طرح متاثر ہوگا۔ بشیر نے مزید کہا کہ ریل رابطہ موجود ہونے کے باوجود پھلوں کی ترسیل کے لیے کوئی بندوبست نہیں کیا گیا، جس سے لاکھوں خاندانوں کا روزگار خطرے میں ہے۔
کاشتکاروں نے بتایا کہ گالا سیب اور ناشپاتی کی مختلف اقسام سے لدے ٹرک شاہراہ پر پھنسے ہیں اور جتنی دیر یہ پھنسے رہیں گے، پھل خراب ہوتا جائے گا اور اگر یہ مارکیٹ تک پہنچ بھی گئے تو منڈی میں اچھی قیمت نہیں ملے گی۔
کسانوں نے مطالبہ کیا کہ مغل روڈ جیسے متبادل راستوں کو فوری طور پر مضبوط کیا جائے، تاہم چھ ٹائروں والے وہیکلز تک محدود اجازت نے اس کی افادیت کو کم کردیا ہے کیونکہ یہ گاڑیاں دہلی سے آگے نہیں جا پاتیں اور بڑے شہروں جیسے بنگلور، کانپور اور چنئی تک نہیں پہنچتیں جو تجارت کے لیے اہم ہیں۔
دیگر باغبانوں نے سڑک ٹرانسپورٹ سے آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اگر حکومت مال بردار ریل گاڑیوں کا انتظام کرے تو کاشتکاروں کو بار بار ایسے بحرانوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
یونین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اپنی بے حسی جاری رکھی تو وادی کا باغبانی شعبہ ایک بے مثال بحران سے دوچار ہوگا جو وادی کی معیشت پر تباہ کن اثرات ڈالے گا۔
فروٹ گرورز نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے، پھلوں سے لدے ٹرکوں کی آزادانہ نقل و حمل کو یقینی بنائے اور طویل مدتی متبادل جیسے فریٹ کوریڈورز اور ریل کارگو سہولیات پر سنجیدگی سے غور کرے۔
بشیر نے کہا: "سیب وادی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر حکومت اس کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی تو اس کے معاشی اثرات صرف کاشتکاروں ہی نہیں بلکہ پوری وادی کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔”
قابل ذکر ہے کہ جموں-سرینگر قومی شاہراہ وادی کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والا واحد زمینی راستہ ہے جو آئے دن مٹی کے تودے، پتھروں کے گرنے اور ٹریفک کی بدانتظامی کی وجہ سے بند رہتا ہے اور اس سے کشمیر کی معیشت کو بار بار شدید نقصان پہنچتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

شاہراہ کی بندش سے 700 کروڑ کا نقصان: وادی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی باغبانی بحران کا شکار

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/وادی کے فروٹ گرورز کم ڈیلرز یونین نے بدھ کو کہا کہ جموں-سرینگر قومی شاہراہ کی بار بار اور طویل بندش کی وجہ سے باغبانی شعبے کو اس سیزن میں تقریباً 700 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ یونین نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت کی عدم توجہی سے وادی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی فروٹ انڈسٹری ایک بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔
یونین کے صدر بشیر احمد بشیر نے کہا کہ ہزاروں ٹرکوں میں لدے سیب اور دیگر تازہ پھل کئی ہفتوں تک شاہراہ پر پھنسے رہتے ہیں، مگر حکومت ٹریفک کی بحالی یا متبادل انتظامات کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھا رہی۔
انہوں نے کہا کہ شاہراہ جتنی دیر تک بند رہے گی، نقصانات ہر گھنٹے کے ساتھ بڑھتے جائیں گے اور پھلوں کی مقدار اور معیار بری طرح متاثر ہوگا۔ بشیر نے مزید کہا کہ ریل رابطہ موجود ہونے کے باوجود پھلوں کی ترسیل کے لیے کوئی بندوبست نہیں کیا گیا، جس سے لاکھوں خاندانوں کا روزگار خطرے میں ہے۔
کاشتکاروں نے بتایا کہ گالا سیب اور ناشپاتی کی مختلف اقسام سے لدے ٹرک شاہراہ پر پھنسے ہیں اور جتنی دیر یہ پھنسے رہیں گے، پھل خراب ہوتا جائے گا اور اگر یہ مارکیٹ تک پہنچ بھی گئے تو منڈی میں اچھی قیمت نہیں ملے گی۔
کسانوں نے مطالبہ کیا کہ مغل روڈ جیسے متبادل راستوں کو فوری طور پر مضبوط کیا جائے، تاہم چھ ٹائروں والے وہیکلز تک محدود اجازت نے اس کی افادیت کو کم کردیا ہے کیونکہ یہ گاڑیاں دہلی سے آگے نہیں جا پاتیں اور بڑے شہروں جیسے بنگلور، کانپور اور چنئی تک نہیں پہنچتیں جو تجارت کے لیے اہم ہیں۔
دیگر باغبانوں نے سڑک ٹرانسپورٹ سے آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اگر حکومت مال بردار ریل گاڑیوں کا انتظام کرے تو کاشتکاروں کو بار بار ایسے بحرانوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
یونین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اپنی بے حسی جاری رکھی تو وادی کا باغبانی شعبہ ایک بے مثال بحران سے دوچار ہوگا جو وادی کی معیشت پر تباہ کن اثرات ڈالے گا۔
فروٹ گرورز نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے، پھلوں سے لدے ٹرکوں کی آزادانہ نقل و حمل کو یقینی بنائے اور طویل مدتی متبادل جیسے فریٹ کوریڈورز اور ریل کارگو سہولیات پر سنجیدگی سے غور کرے۔
بشیر نے کہا: "سیب وادی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر حکومت اس کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی تو اس کے معاشی اثرات صرف کاشتکاروں ہی نہیں بلکہ پوری وادی کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔”
قابل ذکر ہے کہ جموں-سرینگر قومی شاہراہ وادی کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والا واحد زمینی راستہ ہے جو آئے دن مٹی کے تودے، پتھروں کے گرنے اور ٹریفک کی بدانتظامی کی وجہ سے بند رہتا ہے اور اس سے کشمیر کی معیشت کو بار بار شدید نقصان پہنچتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں