نیپال نے احتجاج میں 19 ہلاکتوں کے بعد سوشل میڈیا پر پابندی ہٹا لی

جنگ نیوز ڈیسک

کٹھمنڈو/نیپال حکومت نے پیر کی رات دیر گئے سوشل میڈیا ایپس پر عائد پابندی ختم کر دی، جب کہ ’جنریشن زی‘ کی قیادت میں ہونے والے پُرتشدد احتجاجات میں پولیس جھڑپوں کے دوران 19 افراد جاں بحق ہوئے۔
وزیر اطلاعات پرتھوی سبا گورنگ نے ہنگامی کابینہ اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ فیصلہ عوامی مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، تاہم حکومت کو ابتدائی پابندی پر افسوس نہیں ہے۔
گورنگ نے مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی اور بتایا کہ پرتشدد واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو 15 روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

روشنائی سے روشنی تک: اردو صحافت کا تہذیبی سفر

  محمد عامر مصباحی کہا جاتا ہے کہ اردو زبان اپنے...

تازہ ترین خبریں

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

روشنائی سے روشنی تک: اردو صحافت کا تہذیبی سفر

  محمد عامر مصباحی کہا جاتا ہے کہ اردو زبان اپنے...

نیپال نے احتجاج میں 19 ہلاکتوں کے بعد سوشل میڈیا پر پابندی ہٹا لی

جنگ نیوز ڈیسک

کٹھمنڈو/نیپال حکومت نے پیر کی رات دیر گئے سوشل میڈیا ایپس پر عائد پابندی ختم کر دی، جب کہ ’جنریشن زی‘ کی قیادت میں ہونے والے پُرتشدد احتجاجات میں پولیس جھڑپوں کے دوران 19 افراد جاں بحق ہوئے۔
وزیر اطلاعات پرتھوی سبا گورنگ نے ہنگامی کابینہ اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ فیصلہ عوامی مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، تاہم حکومت کو ابتدائی پابندی پر افسوس نہیں ہے۔
گورنگ نے مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی اور بتایا کہ پرتشدد واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو 15 روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں