آوارہ کتوں کے بحران پر عدالتی جھٹکا

11 اگست 2025 کا سپریم کورٹ کا حکم بھارت میں آوارہ کتوں کے مسئلے پر اب تک کی سب سے سخت عدالتی مداخلت ہے۔ عدالت نے دہلی اور اس کے مضافاتی شہروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ آٹھ ہفتوں کے اندر تمام آوارہ کتوں کو پکڑ کر مستقل طور پر پاؤنڈز میں رکھیں اور پناہ گاہوں کی گنجائش میں تیزی سے اضافہ کریں۔ یہ واضح پیغام ہے کہ انتظامی سستی اب برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ عجلت بے وجہ نہیں۔ دہلی میں ہر سال تقریباً 30 ہزار کتے کے کاٹنے کے واقعات ریکارڈ ہوتے ہیں، اور ریبیز اب بھی شہری غریبوں کی جان لے رہا ہے، بالخصوص ان کا جنہیں بروقت علاج تک رسائی حاصل نہیں۔ مگر عدالت کا یہ حکم براہِ راست 2023 کے اینمل برتھ کنٹرول (ABC) رولز سے ٹکراتا ہے، جو ’’پکڑو، نس بندی کرو، ویکسین لگاؤ اور واپس چھوڑ دو‘‘ کے اصول پر مبنی ہیں اور صحت مند کتوں کو مستقل ہٹانے یا طویل عرصے تک قید رکھنے کی ممانعت کرتے ہیں، سوائے اس کے کہ وہ ریبیز زدہ، لاعلاج بیمار یا مستند طور پر خطرناک ثابت ہوں۔
عملی طور پر ABC نظام مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ نس بندی کی مہمات چھٹ پٹ چلتی رہیں اور وہ 70 فیصد کوریج، جو افزائشِ نسل روکنے کے لیے ناگزیر ہے، شاذ و نادر ہی حاصل کی گئی۔ عقیم کتوں کو انہی علاقوں میں واپس چھوڑنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچرے سے اٹے اور بچوں سے بھرے محلوں میں وہی جتھے جمی رہے جہاں کاٹنے کے واقعات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ان قواعد نے بلدیاتی اداروں کو متبادل حکمتِ عملیوں، مثلاً طویل مدتی قید، پر غور کرنے سے بھی روک دیا۔
یہ صورتِ حال ایک قانونی مخمصہ پیدا کر چکی ہے۔ اگر بلدیہ عدالت کے حکم پر عمل کرے تو وہ ABC قواعد کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو سکتی ہے، اور اگر قواعد کی پابندی کرے تو توہینِ عدالت کا خطرہ مول لینا پڑے گا۔ یہ ٹکراؤ ایک گہری ناکامی کی عکاسی کرتا ہے—برسوں کی پالیسی کی غفلت، جانوروں کی آبادی پر قابو پانے کے لیے ناکافی فنڈز، اور ایک مؤثر، صحتِ عامہ پر مبنی قومی حکمتِ عملی کا فقدان۔
آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمدردی اور عوامی تحفظ میں توازن قائم کیا جائے۔ ABC فریم ورک پر نظرِثانی، سائنسی معیار کے مطابق بڑے پیمانے پر نس بندی، اور ضرورت پڑنے پر قانونی و انسانی بنیادوں پر قید کی اجازت دینا لازمی ہے۔ بصورتِ دیگر، بھارت میں آوارہ کتوں پر بحث عدالتوں میں الجھی رہے گی، اور گلیاں انسانوں اور جانوروں، دونوں کے لیے غیر محفوظ رہیں گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

روشنائی سے روشنی تک: اردو صحافت کا تہذیبی سفر

  محمد عامر مصباحی کہا جاتا ہے کہ اردو زبان اپنے...

ریاضی: کائنات کی خاموش زبان اور عدل و توازن کا علم

    ڈاکٹر ریاض احمد ریاضی کو عموماً ایک خشک، مشکل اور بے...

ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی: مسائل اور امکانات

      محمد مسلم کبیر   جمہوریت میں اقتدار کی اصل طاقت عوام...

اسلامیہ کالج نے انٹر کالج والی بال ٹورنامنٹ جیت لیا

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے...

پلوامہ کے یاسر عرفات وانی نے قومی پاور لفٹنگ چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیت لیا

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے...

تازہ ترین خبریں

روشنائی سے روشنی تک: اردو صحافت کا تہذیبی سفر

  محمد عامر مصباحی کہا جاتا ہے کہ اردو زبان اپنے...

ریاضی: کائنات کی خاموش زبان اور عدل و توازن کا علم

    ڈاکٹر ریاض احمد ریاضی کو عموماً ایک خشک، مشکل اور بے...

ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی: مسائل اور امکانات

      محمد مسلم کبیر   جمہوریت میں اقتدار کی اصل طاقت عوام...

اسلامیہ کالج نے انٹر کالج والی بال ٹورنامنٹ جیت لیا

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے...

پلوامہ کے یاسر عرفات وانی نے قومی پاور لفٹنگ چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیت لیا

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے...

آوارہ کتوں کے بحران پر عدالتی جھٹکا

11 اگست 2025 کا سپریم کورٹ کا حکم بھارت میں آوارہ کتوں کے مسئلے پر اب تک کی سب سے سخت عدالتی مداخلت ہے۔ عدالت نے دہلی اور اس کے مضافاتی شہروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ آٹھ ہفتوں کے اندر تمام آوارہ کتوں کو پکڑ کر مستقل طور پر پاؤنڈز میں رکھیں اور پناہ گاہوں کی گنجائش میں تیزی سے اضافہ کریں۔ یہ واضح پیغام ہے کہ انتظامی سستی اب برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ عجلت بے وجہ نہیں۔ دہلی میں ہر سال تقریباً 30 ہزار کتے کے کاٹنے کے واقعات ریکارڈ ہوتے ہیں، اور ریبیز اب بھی شہری غریبوں کی جان لے رہا ہے، بالخصوص ان کا جنہیں بروقت علاج تک رسائی حاصل نہیں۔ مگر عدالت کا یہ حکم براہِ راست 2023 کے اینمل برتھ کنٹرول (ABC) رولز سے ٹکراتا ہے، جو ’’پکڑو، نس بندی کرو، ویکسین لگاؤ اور واپس چھوڑ دو‘‘ کے اصول پر مبنی ہیں اور صحت مند کتوں کو مستقل ہٹانے یا طویل عرصے تک قید رکھنے کی ممانعت کرتے ہیں، سوائے اس کے کہ وہ ریبیز زدہ، لاعلاج بیمار یا مستند طور پر خطرناک ثابت ہوں۔
عملی طور پر ABC نظام مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ نس بندی کی مہمات چھٹ پٹ چلتی رہیں اور وہ 70 فیصد کوریج، جو افزائشِ نسل روکنے کے لیے ناگزیر ہے، شاذ و نادر ہی حاصل کی گئی۔ عقیم کتوں کو انہی علاقوں میں واپس چھوڑنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچرے سے اٹے اور بچوں سے بھرے محلوں میں وہی جتھے جمی رہے جہاں کاٹنے کے واقعات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ان قواعد نے بلدیاتی اداروں کو متبادل حکمتِ عملیوں، مثلاً طویل مدتی قید، پر غور کرنے سے بھی روک دیا۔
یہ صورتِ حال ایک قانونی مخمصہ پیدا کر چکی ہے۔ اگر بلدیہ عدالت کے حکم پر عمل کرے تو وہ ABC قواعد کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو سکتی ہے، اور اگر قواعد کی پابندی کرے تو توہینِ عدالت کا خطرہ مول لینا پڑے گا۔ یہ ٹکراؤ ایک گہری ناکامی کی عکاسی کرتا ہے—برسوں کی پالیسی کی غفلت، جانوروں کی آبادی پر قابو پانے کے لیے ناکافی فنڈز، اور ایک مؤثر، صحتِ عامہ پر مبنی قومی حکمتِ عملی کا فقدان۔
آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمدردی اور عوامی تحفظ میں توازن قائم کیا جائے۔ ABC فریم ورک پر نظرِثانی، سائنسی معیار کے مطابق بڑے پیمانے پر نس بندی، اور ضرورت پڑنے پر قانونی و انسانی بنیادوں پر قید کی اجازت دینا لازمی ہے۔ بصورتِ دیگر، بھارت میں آوارہ کتوں پر بحث عدالتوں میں الجھی رہے گی، اور گلیاں انسانوں اور جانوروں، دونوں کے لیے غیر محفوظ رہیں گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں