جنگ نیوز ڈیسک
سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتے کے روز درگاہ حضرت بل میں نئے گیسٹ ہاؤس کی سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قرآن کی سورہ نساء اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام امن، بھائی چارے اور اتحاد کا مذہب ہے۔
ایل جی سنہا نے کہا: "اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک”ارسلان” ہے جس کا مطلب ہے امن اور سلامتی۔ نبی کریم ﷺ نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ امن ہے۔ جنت کو "دارالسلام”کہا گیا ہے، یعنی امن کا گھر۔ جموں و کشمیر بھی ہمیشہ سے دارالسلام رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر نے اس دارالسلام کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور ہم سب جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ان کے ان گناہوں کی سزا دی جائے۔
ایل جی سنہا نے کہا کہ 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے نے بھارت کی روح کو مجروح کیا۔ "حملے میں مارے جانے والوں سے ان کا مذہب پوچھا گیا، یہ کشمیریت کی روح کو ختم کرنے کی گھناؤنی کوشش تھی،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف 23 منٹ کے اندر بھارتی افواج نے 9 دہشت گرد کیمپوں کو تباہ کر دیا۔ "وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو جنگ تصور کیا جائے گا اور اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اس بار دہشت گردوں کو سبق سکھا دیا گیا ہے،” انہوں نے کہا۔
ایل جی سنہا نے کہا: "جموں و کشمیر کے عوام نے اس حملے پر متحد ہو کر سڑکوں پر غصے کا اظہار کیا۔ پوری دنیا نے کشمیریوں کا نیا چہرہ دیکھا—پُرعزم، بہادر اور دہشت گردی و اس کے حامیوں کے خلاف شدید نفرت رکھنے والا۔”
انہوں نے کہا کہ اس مقدس سرزمین پر دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں جہاں بابا امرناتھ اور ماتا ویشنو دیوی کے درشن ہوتے ہیں۔
پاکستان کی ریاستی پالیسی دہشت گردی ہے
ایل جی سنہا نے کہا کہ آزادی کے بعد سے پاکستان جموں و کشمیر میں امن کو خراب کرنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کرتا آیا ہے۔ "1947 میں قبائلیوں کو بھیجنے سے لے کر آج تک دہشت گردی ان کی ریاستی پالیسی رہی ہے۔”
انہوں نے کہا: "پاکستان کے عوام بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے ہیں، جبکہ ان کے حکمران کشکول لیے گھومتے ہیں لیکن بھارت میں دہشت گردی کی مالی امداد جاری رکھتے ہیں۔”
بزرگ، علما، اور سول سوسائٹی کو سرگرم کردار ادا کرنا ہوگا
ایل جی سنہا نے کہا: "جیسے کشمیری عوام نے پاکستان کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا، اب وقت ہے کہ ہم اپنے اندر موجود دہشت گردی کے حمایتیوں کو بھی بے نقاب کریں۔ ان کے لیے سزا بھی وہی ہونی چاہیے جو ایک دہشت گرد کے لیے ہوتی ہے۔”
فرقہ وارانہ بیانیے اور استحصال پر مبنی رویے کے خلاف انتباہ
انہوں نے بعض بیانات کو فرقہ وارانہ کشیدگی کا باعث قرار دیا اور کہا: "یہ افسوسناک ہے کہ کچھ لوگ ریاستی سرپرستی میں حملے کی بات کرتے ہیں، ایسے بیانات مسائل پیدا کرتے ہیں۔”
بغیر کسی کا نام لیے ایل جی سنہا نے کہا: "ایسے افراد جو اہم عہدوں پر فائز ہیں یا رہ چکے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ ایسے بیانات دینے سے گریز کریں جو عوام میں تفرقہ پیدا کریں۔ ایسے بیانات صرف انتشار پھیلانے والے عناصر کو تقویت دیتے ہیں۔”
غیر اخلاقی منافع خوری پر ناراضی
انہوں نے انکشاف کیا کہ پہلگام حملے سے قبل ہوٹل مالکان کے ساتھ ایک میٹنگ میں انہوں نے کہا تھا: "10 ہزار روپے کے کمرے کو 50 ہزار میں بیچنا نہ صرف غلط بلکہ غیر اخلاقی ہے۔ اوپر والا سب دیکھ رہا ہے، وہ کب تک برداشت کرے گا؟”
وزیر اعظم کی قیادت میں تبدیلی
ایل جی سنہا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ پانچ برسوں میں جموں و کشمیر نے امن، ترقی اور سیاحت میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے۔ "کشمیری نوجوان خوشحالی کی راہ پر گامزن تھے۔ پہلگام حملے کا مقصد اس ترقی کو پٹڑی سے اتارنا تھا، لیکن ہم اس میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔”
آخر میں انہوں نے کہا: "امن ترقی کے لیے ضروری ہے۔ آئیے متحد ہو کر دہشت گردی اور اس کے حمایتیوں کا خاتمہ کریں۔ یہ صرف سیکیورٹی فورسز کی ذمہ داری نہیں بلکہ عوام کی بھی ہے کہ وہ خاموش تماشائی نہ بنیں بلکہ اپنا کردار ادا کریں۔”


