جنگ فیچر: احمد الشرع کی دہشت گرد سے صدر تک کی کہانی


بلال بشیر بٹ

سرینگر جنگ 
احمد الشرع، جو کبھی ابو محمد الجولانی کے نام سے جانے جاتے تھے، کی دہشت گرد سے شام کے عبوری صدر تک کی حیرت انگیز تبدیلی جدید جغرافیائی سیاسی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ ان کا سفر، جو مئی 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تاریخی ملاقات اور اس کے بعد شام سے امریکی پابندیوں کے خاتمے پر منتج ہوا، مشرق وسطیٰ کے سیاسی منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ مضمون الشرع کے پیچیدہ ماضی، ایک حقیقت پسند رہنما کے طور پر ان کی نئی شناخت، ان کے سامنے موجود چیلنجز، اور ٹرمپ کی جرات مندانہ پالیسی تبدیلی کے مضمرات پر گہرائی سے روشنی ڈالتا ہے، جسے سعودی عرب اور ترکی جیسے علاقائی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔

احمد الشرع 1982 میں سعودی عرب میں ایک شامی خاندان میں پیدا ہوئے، جو عرب قوم پرستی کی جڑوں سے منسلک تھا، جو اس سیاسی اسلام سے متصادم تھا جسے وہ بعد میں اپنائیں گے۔ دمشق میں پرورش پانے والے، ان کی ابتدائی زندگی حافظ الاسد کے سیکولر بعثی نظام کے تحت گزری۔ تاہم، 2003 میں عراق پر امریکی حملے نے ان کی زندگی کا رخ موڑ دیا۔ 21 سال کی عمر میں، الشرع عراق میں داخل ہوئے تاکہ امریکی فوج کے خلاف القاعدہ کی بغاوت میں شامل ہوں، اور ابو محمد الجولانی کا نام اپنایا۔ وہ تیزی سے القاعدہ فی العراق (AQI) کے عہدوں پر ترقی پاتے گئے، جو بعد میں داعش کا پیش خیمہ بنا، اور حملوں کی منصوبہ بندی کی۔

2006 میں امریکی فوج نے انہیں گرفتار کیا، اور انہوں نے عراق میں امریکی فوجی جیل میں پانچ سال سے زائد وقت گزارا، ایک تجربہ جس نے ان کے عزم کو مزید مضبوط کیا لیکن انہیں مختلف نظریاتی دھاروں سے بھی روشناس کرایا۔ 2011 میں عرب بہار کے دوران رہائی کے بعد، انہیں AQI کے رہنما ابو بکر البغدادی نے شام بھیجا، جہاں بشار الاسد کے رژیم کے خلاف عوامی بغاوت خانہ جنگی میں بدل چکی تھی۔ وہاں الشرع نے نصرہ فرنٹ کی بنیاد رکھی، جو القاعدہ کی شامی شاخ تھی اور خودکش دھماکوں اور شریعت کے نفاذ کے سیکٹیرین وژن کے لیے بدنام ہوئی۔ 2013 میں، امریکہ نے انہیں عالمی دہشت گرد قرار دیا اور ان کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر رکھی۔

2014 تک، الشرع نے حقیقت پسندی کے آثار دکھانا شروع کر دیے۔ البغدادی کے ساتھ عوامی اختلاف، جو نصرہ کو داعش کے ساتھ ضم کرنا چاہتے تھے، نے الشرع کو ایمن الظواہری کی قیادت میں القاعدہ کی مرکزی شاخ سے وفاداری برقرار رکھنے پر مجبور کیا۔ تاہم، نصرہ فرنٹ کے سفاکانہ حربوں اور انتہا پسندانہ بیانات نے ممکنہ اتحادیوں اور مقامی آبادیوں کو دور کر دیا۔ وسیع تر حمایت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے، الشرع نے ایک نئی شناخت بنانے کی مہم شروع کی۔ 2016 میں، انہوں نے القاعدہ سے نصرہ کے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا اور تنظیم کو حیات تحریر الشام (HTS) کے طور پر دوبارہ تشکیل دیا۔

یہ ایک اسٹریٹجک اقدام تھا۔ الشرع نے نقاب ہٹا کر انٹرویوز دینا شروع کیے، جنگی وردی کے بجائے کاروباری لباس اپنایا۔ 2021 میں PBS FRONTLINE کے ایک انٹرویو میں، انہوں نے خود کو ایک اصلاح یافتہ رہنما کے طور پر پیش کیا، معصوموں کے قتل کی مذمت کی اور مغربی پابندیوں کو غیر منصفانہ قرار دیا۔ انہوں نے شام کے متنوع طبقات، بشمول دروز اور کرد، سے اپیل کی اور ایک جامع حکومت بنانے کا عہد کیا۔ جہاں ناقدین نے اسے موقع پرستی قرار دیا، وہیں حامیوں کا خیال تھا کہ یہ ایک حقیقی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جو ادلب صوبے پر حکمرانی کے عملی حقائق سے متاثر تھی، جہاں HTS نے اپنی طاقت کو مستحکم کیا تھا۔

دسمبر 2024 میں ایک اہم موڑ آیا جب الشرع کی قیادت میں HTS نے ایک برق رفتار حملہ کیا جس نے بشار الاسد کے رژیم کا تختہ الٹ دیا۔ اسد ماسکو فرار ہو گئے، اور ان کے خاندان کی 54 سالہ آمرانہ حکمرانی ختم ہو گئی۔ الشرع کی فوج نے دمشق پر قبضہ کیا، اور جنوری 2025 میں، انہیں شام کا عبوری صدر نامزد کیا گیا۔ دسمبر 2024 میں، امریکہ نے ان کے سر پر 10 ملین ڈالر کا انعام ہٹا دیا، جو ان کی قیادت کے لیے احتیاط سے کھلے پن کی علامت تھا، حالانکہ HTS اب بھی ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد تھی۔

الشرع کا ابتدائی دور بلند و بانگ دعووں سے بھرپور تھا: ایک منقسم شام کو متحد کرنا، پابندیوں سے تباہ حال معیشت کو بحال کرنا، اور نسلی و مذہبی اقلیتوں کا تحفظ کرنا۔ انہوں نے HTS کو ایک فوجی ادارے کے طور پر تحلیل کر دیا، اس کے جنگجوؤں کو نئی شامی فوج میں ضم کیا، اور امریکی حمایت یافتہ شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے رہنما مظلوم عبدی سے ملاقات کی تاکہ مشرقی شام کو متحد کیا جا سکے۔ تاہم، چیلنجز برقرار رہے۔ فرقہ وارانہ جھڑپوں، بشمول مارچ 2025 میں علوی شہریوں کے قتل عام نے اقلیتوں میں خوف پیدا کیا۔ اسرائیل، الشرع کے ماضی سے ہوشیار، نے گولان کی پہاڑیوں کے قریب شامی علاقے پر قبضہ کیا اور فضائی حملے کیے، انہیں ایک ممکنہ جہادی خطرہ سمجھ کر۔
ٹرمپ کی پابندیوں کا خاتمہ اور تاریخی ملاقات
13 مئی 2025 کو، ریاض کے دورے کے دوران، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ڈرامائی پالیسی تبدیلی کا اعلان کیا: 1979 سے عائد تمام امریکی پابندیوں کا خاتمہ، جب شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیا گیا تھا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کی ترغیب پر لیا گیا یہ فیصلہ شام کو “عظمت کا موقع” دینے اور 14 سالہ خانہ جنگی کے بعد اس کی تعمیر نو کی حمایت کرنے کا مقصد رکھتا تھا۔ اس اعلان نے دمشق میں جشن کا سماں پیدا کیا، جہاں 90 فیصد شامی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اگلے دن، ٹرمپ نے ریاض میں الشرع سے ملاقات کی، جو 25 سال میں امریکی-شامی صدارتی سطح کی پہلی ملاقات تھی۔ محمد بن سلمان کی میزبانی میں اور ایردوان کی فون پر شرکت کے ساتھ، یہ 37 منٹ کی ملاقات شامی حکام نے “تاریخی” قرار دی۔ ٹرمپ نے الشرع کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک “جوان، پرکشش شخص” اور “سخت جنگجو” قرار دیا، جس کے پاس “ملک کو متحد رکھنے کا اصلی موقع” ہے۔ انہوں نے الشرع پر زور دیا کہ وہ ابراہم معاہدوں کے ذریعے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لائیں، غیر ملکی جنگجوؤں کو نکالیں، اور داعش کے خلاف اقدامات کریں، جبکہ الشرع نے شکریہ ادا کیا اور امریکی سرمایہ کاری کو شامی تیل و گیس میں مدعو کیا۔

ٹرمپ کے فیصلے نے اسرائیل کے اعتراضات کو نظر انداز کیا، جس کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ پابندیوں کا خاتمہ انتہا پسندوں کو حوصلہ دے سکتا ہے۔ اسرائیل کا شک الشرع کے القاعدہ کے ماضی اور HTS کی دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزدگی سے پیدا ہوتا ہے۔ تاہم، سعودی عرب، قطر، اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک، جو شام کے تیل اور معدنی ذخائر میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں، نے اس اقدام کو علاقائی استحکام کے دروازے کے طور پر سراہا۔ پابندیوں کا خاتمہ بین الاقوامی سرمائے کے بہاؤ، امدادی اداروں کی شمولیت، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو ممکن بناتا ہے، جو اس ملک کے لیے انتہائی ضروری ہے جہاں بے روزگاری اور غربت عام ہے۔

الشرع کی سفارتی کوششیں، بشمول فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ملاقاتیں اور اسرائیل کے لیے کھلے پن کے اشارے، ان کی قانونی حیثیت کی کوشش کی عکاسی کرتی ہیں۔ دمشق میں ٹرمپ ٹاور پر بات چیت اور امریکہ کے ساتھ تیل کی تجارت کی ان کی پیشکش ٹرمپ کے سودے بازی کے انداز سے ہم آہنگ ان کے لین دین کے نقطہ نظر کو واضح کرتی ہے۔ تاہم، ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ ان کا آئینی اعلان، جو پانچ سالہ عبوری دور کے لیے اسلامی قانون کو نافذ کرتا ہے، اقلیتی حقوق اور جمہوری پسپائی کے بارے میں خدشات کو جنم دیتا ہے۔

الشرع کی جہادی سے سیاستدان تک کی تبدیلی حیرت انگیز ہے لیکن چیلنجز سے بھرپور ہے۔ اندرونی طور پر، انہیں فرقہ وارانہ تناؤ کو نیویگیٹ کرنا ہے، آزاد ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنا ہے، اور معاشی بحالی فراہم کرنی ہے۔ بیرونی طور پر، انہیں امریکی مطالبات پورے کرنے ہیں، جن میں فلسطینی اور ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کو نکالنا اور داعش کے حراستی مراکز کو محفوظ کرنا شامل ہے۔ اسرائیل کے جاری فوجی اقدامات اور عدم اعتماد ان کے شام کے سرحدوں کو مستحکم کرنے کے عہد کو پیچیدہ بناتے ہیں۔

مزید برآں، الشرع کا ماضی بدستور ایک سائے کی طرح موجود ہے۔ جہاں شامی-امریکی کارکن معاذ مصطفیٰ جیسے حامی انہیں “تبدیل شدہ شخص” قرار دیتے ہیں جو تعمیر نو پر مرکوز ہے، وہیں ناقدین ان کے گروہ کے پرتشدد ماضی کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ان کے تکثیری عہد پر سوال اٹھاتے ہیں۔ مارچ 2025 کے علوی قتل عام اور دروز جنگجوؤں سے جھڑپوں نے ان کے جامع بیانات کی نزاکت کو اجاگر کیا۔

احمد الشرع کا القاعدہ کے عسکریت پسند سے شام کے صدر تک کا سفر، ٹرمپ سے ملاقات اور پابندیوں کی چھوٹ، مشرق وسطیٰ کی غیر مستحکم حرکیات کو سمیٹتا ہے۔ ٹرمپ کا الشرع کے ساتھ عملی تعلق، جو خلیجی اتحادیوں اور ایران کے مقابلے کی خواہش سے چلتا ہے، شام کو ایک منفور ملک سمجھنے کی دہائیوں کی امریکی پالیسی سے انحراف ہے۔ شامیوں کے لیے، پابندیوں کا خاتمہ برسوں کی تنہائی کے بعد امید کی کرن پیش کرتا ہے، لیکن الشرع کی استحکام فراہم کرنے، اقلیتوں کے تحفظ، اور اپنے جہادی ورثے سے نجات پانے کی صلاحیت غیر یقینی ہے۔

ریاض میں ہاتھ ملانے کی تصویر، جو عالمی سرخیوں میں چھائی، ایک نئے عالمی نظام کی علامت ہے جہاں ماضی کی دشمنیوں کو اسٹریٹجک فوائد کے لیے پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ آیا الشرع اس “غیر معمولی موقع” سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جیسا کہ ٹرمپ نے بیان کیا، یا شام کی گہری تقسیموں کا شکار ہو جائیں گے، یہ خطے کے مستقبل کی تشکیل کرے گا۔ فی الحال، ان کی تبدیلی تاریخ کے غیر متوقع دھاروں کی گواہی دیتی ہے، جہاں کل کا دہشت گرد کل کا صدر بن سکتا ہے۔

نوٹ: تمام معلومات فراہم کردہ ویب نتائج سے اخذ کی گئی ہیں، جن کا جائزہ درستگی اور تعصب کے لیے لیا گیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

جنگ فیچر: احمد الشرع کی دہشت گرد سے صدر تک کی کہانی


بلال بشیر بٹ

سرینگر جنگ 
احمد الشرع، جو کبھی ابو محمد الجولانی کے نام سے جانے جاتے تھے، کی دہشت گرد سے شام کے عبوری صدر تک کی حیرت انگیز تبدیلی جدید جغرافیائی سیاسی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ ان کا سفر، جو مئی 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تاریخی ملاقات اور اس کے بعد شام سے امریکی پابندیوں کے خاتمے پر منتج ہوا، مشرق وسطیٰ کے سیاسی منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ مضمون الشرع کے پیچیدہ ماضی، ایک حقیقت پسند رہنما کے طور پر ان کی نئی شناخت، ان کے سامنے موجود چیلنجز، اور ٹرمپ کی جرات مندانہ پالیسی تبدیلی کے مضمرات پر گہرائی سے روشنی ڈالتا ہے، جسے سعودی عرب اور ترکی جیسے علاقائی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔

احمد الشرع 1982 میں سعودی عرب میں ایک شامی خاندان میں پیدا ہوئے، جو عرب قوم پرستی کی جڑوں سے منسلک تھا، جو اس سیاسی اسلام سے متصادم تھا جسے وہ بعد میں اپنائیں گے۔ دمشق میں پرورش پانے والے، ان کی ابتدائی زندگی حافظ الاسد کے سیکولر بعثی نظام کے تحت گزری۔ تاہم، 2003 میں عراق پر امریکی حملے نے ان کی زندگی کا رخ موڑ دیا۔ 21 سال کی عمر میں، الشرع عراق میں داخل ہوئے تاکہ امریکی فوج کے خلاف القاعدہ کی بغاوت میں شامل ہوں، اور ابو محمد الجولانی کا نام اپنایا۔ وہ تیزی سے القاعدہ فی العراق (AQI) کے عہدوں پر ترقی پاتے گئے، جو بعد میں داعش کا پیش خیمہ بنا، اور حملوں کی منصوبہ بندی کی۔

2006 میں امریکی فوج نے انہیں گرفتار کیا، اور انہوں نے عراق میں امریکی فوجی جیل میں پانچ سال سے زائد وقت گزارا، ایک تجربہ جس نے ان کے عزم کو مزید مضبوط کیا لیکن انہیں مختلف نظریاتی دھاروں سے بھی روشناس کرایا۔ 2011 میں عرب بہار کے دوران رہائی کے بعد، انہیں AQI کے رہنما ابو بکر البغدادی نے شام بھیجا، جہاں بشار الاسد کے رژیم کے خلاف عوامی بغاوت خانہ جنگی میں بدل چکی تھی۔ وہاں الشرع نے نصرہ فرنٹ کی بنیاد رکھی، جو القاعدہ کی شامی شاخ تھی اور خودکش دھماکوں اور شریعت کے نفاذ کے سیکٹیرین وژن کے لیے بدنام ہوئی۔ 2013 میں، امریکہ نے انہیں عالمی دہشت گرد قرار دیا اور ان کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر رکھی۔

2014 تک، الشرع نے حقیقت پسندی کے آثار دکھانا شروع کر دیے۔ البغدادی کے ساتھ عوامی اختلاف، جو نصرہ کو داعش کے ساتھ ضم کرنا چاہتے تھے، نے الشرع کو ایمن الظواہری کی قیادت میں القاعدہ کی مرکزی شاخ سے وفاداری برقرار رکھنے پر مجبور کیا۔ تاہم، نصرہ فرنٹ کے سفاکانہ حربوں اور انتہا پسندانہ بیانات نے ممکنہ اتحادیوں اور مقامی آبادیوں کو دور کر دیا۔ وسیع تر حمایت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے، الشرع نے ایک نئی شناخت بنانے کی مہم شروع کی۔ 2016 میں، انہوں نے القاعدہ سے نصرہ کے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا اور تنظیم کو حیات تحریر الشام (HTS) کے طور پر دوبارہ تشکیل دیا۔

یہ ایک اسٹریٹجک اقدام تھا۔ الشرع نے نقاب ہٹا کر انٹرویوز دینا شروع کیے، جنگی وردی کے بجائے کاروباری لباس اپنایا۔ 2021 میں PBS FRONTLINE کے ایک انٹرویو میں، انہوں نے خود کو ایک اصلاح یافتہ رہنما کے طور پر پیش کیا، معصوموں کے قتل کی مذمت کی اور مغربی پابندیوں کو غیر منصفانہ قرار دیا۔ انہوں نے شام کے متنوع طبقات، بشمول دروز اور کرد، سے اپیل کی اور ایک جامع حکومت بنانے کا عہد کیا۔ جہاں ناقدین نے اسے موقع پرستی قرار دیا، وہیں حامیوں کا خیال تھا کہ یہ ایک حقیقی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جو ادلب صوبے پر حکمرانی کے عملی حقائق سے متاثر تھی، جہاں HTS نے اپنی طاقت کو مستحکم کیا تھا۔

دسمبر 2024 میں ایک اہم موڑ آیا جب الشرع کی قیادت میں HTS نے ایک برق رفتار حملہ کیا جس نے بشار الاسد کے رژیم کا تختہ الٹ دیا۔ اسد ماسکو فرار ہو گئے، اور ان کے خاندان کی 54 سالہ آمرانہ حکمرانی ختم ہو گئی۔ الشرع کی فوج نے دمشق پر قبضہ کیا، اور جنوری 2025 میں، انہیں شام کا عبوری صدر نامزد کیا گیا۔ دسمبر 2024 میں، امریکہ نے ان کے سر پر 10 ملین ڈالر کا انعام ہٹا دیا، جو ان کی قیادت کے لیے احتیاط سے کھلے پن کی علامت تھا، حالانکہ HTS اب بھی ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد تھی۔

الشرع کا ابتدائی دور بلند و بانگ دعووں سے بھرپور تھا: ایک منقسم شام کو متحد کرنا، پابندیوں سے تباہ حال معیشت کو بحال کرنا، اور نسلی و مذہبی اقلیتوں کا تحفظ کرنا۔ انہوں نے HTS کو ایک فوجی ادارے کے طور پر تحلیل کر دیا، اس کے جنگجوؤں کو نئی شامی فوج میں ضم کیا، اور امریکی حمایت یافتہ شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے رہنما مظلوم عبدی سے ملاقات کی تاکہ مشرقی شام کو متحد کیا جا سکے۔ تاہم، چیلنجز برقرار رہے۔ فرقہ وارانہ جھڑپوں، بشمول مارچ 2025 میں علوی شہریوں کے قتل عام نے اقلیتوں میں خوف پیدا کیا۔ اسرائیل، الشرع کے ماضی سے ہوشیار، نے گولان کی پہاڑیوں کے قریب شامی علاقے پر قبضہ کیا اور فضائی حملے کیے، انہیں ایک ممکنہ جہادی خطرہ سمجھ کر۔
ٹرمپ کی پابندیوں کا خاتمہ اور تاریخی ملاقات
13 مئی 2025 کو، ریاض کے دورے کے دوران، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ڈرامائی پالیسی تبدیلی کا اعلان کیا: 1979 سے عائد تمام امریکی پابندیوں کا خاتمہ، جب شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیا گیا تھا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کی ترغیب پر لیا گیا یہ فیصلہ شام کو “عظمت کا موقع” دینے اور 14 سالہ خانہ جنگی کے بعد اس کی تعمیر نو کی حمایت کرنے کا مقصد رکھتا تھا۔ اس اعلان نے دمشق میں جشن کا سماں پیدا کیا، جہاں 90 فیصد شامی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اگلے دن، ٹرمپ نے ریاض میں الشرع سے ملاقات کی، جو 25 سال میں امریکی-شامی صدارتی سطح کی پہلی ملاقات تھی۔ محمد بن سلمان کی میزبانی میں اور ایردوان کی فون پر شرکت کے ساتھ، یہ 37 منٹ کی ملاقات شامی حکام نے “تاریخی” قرار دی۔ ٹرمپ نے الشرع کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک “جوان، پرکشش شخص” اور “سخت جنگجو” قرار دیا، جس کے پاس “ملک کو متحد رکھنے کا اصلی موقع” ہے۔ انہوں نے الشرع پر زور دیا کہ وہ ابراہم معاہدوں کے ذریعے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لائیں، غیر ملکی جنگجوؤں کو نکالیں، اور داعش کے خلاف اقدامات کریں، جبکہ الشرع نے شکریہ ادا کیا اور امریکی سرمایہ کاری کو شامی تیل و گیس میں مدعو کیا۔

ٹرمپ کے فیصلے نے اسرائیل کے اعتراضات کو نظر انداز کیا، جس کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ پابندیوں کا خاتمہ انتہا پسندوں کو حوصلہ دے سکتا ہے۔ اسرائیل کا شک الشرع کے القاعدہ کے ماضی اور HTS کی دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزدگی سے پیدا ہوتا ہے۔ تاہم، سعودی عرب، قطر، اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک، جو شام کے تیل اور معدنی ذخائر میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں، نے اس اقدام کو علاقائی استحکام کے دروازے کے طور پر سراہا۔ پابندیوں کا خاتمہ بین الاقوامی سرمائے کے بہاؤ، امدادی اداروں کی شمولیت، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو ممکن بناتا ہے، جو اس ملک کے لیے انتہائی ضروری ہے جہاں بے روزگاری اور غربت عام ہے۔

الشرع کی سفارتی کوششیں، بشمول فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ملاقاتیں اور اسرائیل کے لیے کھلے پن کے اشارے، ان کی قانونی حیثیت کی کوشش کی عکاسی کرتی ہیں۔ دمشق میں ٹرمپ ٹاور پر بات چیت اور امریکہ کے ساتھ تیل کی تجارت کی ان کی پیشکش ٹرمپ کے سودے بازی کے انداز سے ہم آہنگ ان کے لین دین کے نقطہ نظر کو واضح کرتی ہے۔ تاہم، ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ ان کا آئینی اعلان، جو پانچ سالہ عبوری دور کے لیے اسلامی قانون کو نافذ کرتا ہے، اقلیتی حقوق اور جمہوری پسپائی کے بارے میں خدشات کو جنم دیتا ہے۔

الشرع کی جہادی سے سیاستدان تک کی تبدیلی حیرت انگیز ہے لیکن چیلنجز سے بھرپور ہے۔ اندرونی طور پر، انہیں فرقہ وارانہ تناؤ کو نیویگیٹ کرنا ہے، آزاد ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنا ہے، اور معاشی بحالی فراہم کرنی ہے۔ بیرونی طور پر، انہیں امریکی مطالبات پورے کرنے ہیں، جن میں فلسطینی اور ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کو نکالنا اور داعش کے حراستی مراکز کو محفوظ کرنا شامل ہے۔ اسرائیل کے جاری فوجی اقدامات اور عدم اعتماد ان کے شام کے سرحدوں کو مستحکم کرنے کے عہد کو پیچیدہ بناتے ہیں۔

مزید برآں، الشرع کا ماضی بدستور ایک سائے کی طرح موجود ہے۔ جہاں شامی-امریکی کارکن معاذ مصطفیٰ جیسے حامی انہیں “تبدیل شدہ شخص” قرار دیتے ہیں جو تعمیر نو پر مرکوز ہے، وہیں ناقدین ان کے گروہ کے پرتشدد ماضی کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ان کے تکثیری عہد پر سوال اٹھاتے ہیں۔ مارچ 2025 کے علوی قتل عام اور دروز جنگجوؤں سے جھڑپوں نے ان کے جامع بیانات کی نزاکت کو اجاگر کیا۔

احمد الشرع کا القاعدہ کے عسکریت پسند سے شام کے صدر تک کا سفر، ٹرمپ سے ملاقات اور پابندیوں کی چھوٹ، مشرق وسطیٰ کی غیر مستحکم حرکیات کو سمیٹتا ہے۔ ٹرمپ کا الشرع کے ساتھ عملی تعلق، جو خلیجی اتحادیوں اور ایران کے مقابلے کی خواہش سے چلتا ہے، شام کو ایک منفور ملک سمجھنے کی دہائیوں کی امریکی پالیسی سے انحراف ہے۔ شامیوں کے لیے، پابندیوں کا خاتمہ برسوں کی تنہائی کے بعد امید کی کرن پیش کرتا ہے، لیکن الشرع کی استحکام فراہم کرنے، اقلیتوں کے تحفظ، اور اپنے جہادی ورثے سے نجات پانے کی صلاحیت غیر یقینی ہے۔

ریاض میں ہاتھ ملانے کی تصویر، جو عالمی سرخیوں میں چھائی، ایک نئے عالمی نظام کی علامت ہے جہاں ماضی کی دشمنیوں کو اسٹریٹجک فوائد کے لیے پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ آیا الشرع اس “غیر معمولی موقع” سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جیسا کہ ٹرمپ نے بیان کیا، یا شام کی گہری تقسیموں کا شکار ہو جائیں گے، یہ خطے کے مستقبل کی تشکیل کرے گا۔ فی الحال، ان کی تبدیلی تاریخ کے غیر متوقع دھاروں کی گواہی دیتی ہے، جہاں کل کا دہشت گرد کل کا صدر بن سکتا ہے۔

نوٹ: تمام معلومات فراہم کردہ ویب نتائج سے اخذ کی گئی ہیں، جن کا جائزہ درستگی اور تعصب کے لیے لیا گیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں