جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر/رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی کی نیشنل کانفرنس سے علیحدگی کے ایک روز بعد پارٹی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی اپنے ’آپریشن لوٹس‘ میں کامیاب ہوگئی ہے۔
نوائے صبح پارٹی ہیڈکوارٹر میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ایم ایل اے سلمان علی ساگر نے کہا کہ آغا روح اللہ کو پارٹی کے اندر اپنے اختلافات اٹھانے اور قیادت سے بات کرنے کا حق حاصل تھا، تاہم انہیں علیحدگی کے بجائے تنظیمی فورم پر مسائل حل کرنے چاہئیں تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی برسوں سے نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے اور آغا روح اللہ کی علیحدگی سے اس کے سیاسی مفادات پورے ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پارٹی کی طاقت کسی ایک فرد کے بجائے اجتماعی قیادت، نظریے اور عوامی حمایت میں ہے۔
سلمان ساگر نے کہا کہ دفعہ 370 اور 35A کی بحالی اور ریاستی درجے کی واپسی کے لئے پارٹی کا موقف برقرار ہے۔ ریزرویشن پالیسی پر انہوں نے بتایا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی جون 2025 میں اپنی رپورٹ پیش کرچکی ہے، جسے مزید کارروائی کے لئے لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجا گیا تھا۔
اس موقع پر بانہال کے ایم ایل اے سجاد شاہین نے بھی آغا روح اللہ کی علیحدگی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے نہ صرف پارٹی بلکہ ان ووٹروں سے بھی بے وفائی کی جنہوں نے انہیں نیشنل کانفرنس کے ٹکٹ پر منتخب کیا تھا۔
شاہین نے پارلیمنٹ میں روح اللہ کی تقریباً 2 سالہ کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جسٹس شیکھر کمار یادو کے مواخذے کی کوشش کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کے عوامی مسائل کے لئے کوئی نمایاں پارلیمانی اقدام نہیں کیا۔
انہوں نے پی ڈی پی پر بھی تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ آغا روح اللہ نیشنل کانفرنس کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے والی پی ڈی پی کے کردار پر خاموش کیوں ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے کہا کہ ایک لیڈر کی علیحدگی سے نیشنل کانفرنس کی سیاسی طاقت اور عوامی بنیاد متاثر نہیں ہوگی اور پارٹی اپنے سیاسی ایجنڈے اور عوامی حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی


