تبصرہ نگار
ایم ایس رحمٰن شمسؔ
مدیر نصرۃ الاسلام
سرینگر کشمیر
تصوف و سلوک کی علمی و روحانی روایت میں بعض تصانیف ایسی ہوتی ہیں جو محض معلومات کی فراہمی تک محدود نہیں رہتیں بلکہ سالک کے قلب و باطن میں فکر و شعور کی نئی جہتیں پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ایسی ہی ایک قابلِ توجہ تصنیف جناب سید اعجاز احمد اندرابی صاحب کی تازہ کتاب ’’سلوک شناسی مع اوراد و وظائف‘‘ ہے، جس کا مطالعہ کرنے کا مجھے بھی موقع ملا۔ اس کتاب کے مطالعے کے بعد یہ احساس مزید پختہ ہوا کہ مصنف نے ایک نہایت اہم اور حساس روحانی موضوع کو اپنی علمی و فکری توجہ کا مرکز بنایا ہے۔
جناب سید اعجاز احمد اندرابی صاحب ساداتِ اندرابیہ سے تعلق رکھتے ہیں اور سری نگر میں مقیم ہیں۔ تصوف، سلوک اور روحانی تعلیمات کے حوالے سے ان کی متعدد علمی و فکری کاوشیں منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ ان کی تحریروں میں روحانی موضوعات سے دلچسپی، معرفتِ باطن کی جستجو اور تصوف کی عملی جہات کو سمجھنے اور سمجھانے کا جذبہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
ان کی روحانی نسبت بھی اس حوالے سے قابلِ ذکر ہے کہ وہ سلسلۂ عالیہ کی بزرگ خاتون سیدہ حاجی آمنہ احمد صاحبہ کے مرید اور سلسلہ ہائے چشتیہ و ریشیہ سے وابستہ ہیں۔ تصوف کی روایت میں صحبتِ اہلِ دل، نسبتِ مرشد اور تعلیماتِ مشائخ کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ یہی نسبت ایک سالک کے روحانی سفر میں رہنمائی، اصلاحِ نفس اور تزکیۂ قلب کا ذریعہ بنتی ہے۔
کتاب کے عنوان ہی سے اس کے موضوع کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اوراد و وظائف محض چند مخصوص کلمات، اذکار یا معمولات کی تکرار کا نام نہیں، بلکہ اسلامی روحانی روایت میں یہ اعمال ذکرِ الٰہی سے تعلق کو مضبوط کرنے، قلب کو غفلت سے بیدار رکھنے اور انسان کے باطنی وجود کو پاکیزگی کی طرف راغب کرنے کا وسیلہ ہیں۔
سلوک کا راستہ دراصل اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح، نفس کی تربیت، قلب کی صفائی اور معرفتِ الٰہی کی جستجو کا راستہ ہے۔ اس راستے میں ذکر و فکر، تلاوتِ قرآن، درود و سلام، دعاؤں اور مسنون اذکار کی پابندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم ان اعمال کی اصل روح اخلاص، استقامت، ادب اور شریعتِ مطہرہ کی پیروی میں مضمر ہے۔
اسی تناظر میں اوراد و وظائف کی اہمیت محض ان کے الفاظ یا تعداد میں نہیں، بلکہ اس کیفیت میں ہے جو ان کی مداومت سے انسان کے قلب و کردار میں پیدا ہوتی ہے۔ جب ذکر زبان سے آگے بڑھ کر قلب کی کیفیت بن جائے تو انسان کی فکر، عمل اور طرزِ زندگی میں بھی اس کے اثرات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔
تصوف کی حقیقی غایت محض روحانی اصطلاحات سے واقفیت یا مخصوص معمولات کی انجام دہی نہیں، بلکہ بندے کا اپنے خالق کے ساتھ تعلقِ عبودیت کو شعوری طور پر مضبوط کرنا ہے۔ سلوک دراصل اس باطنی سفر کا نام ہے جس میں سالک اپنے نفس کی اصلاح کرتے ہوئے اخلاص، تواضع، صبر، محبت، تقویٰ اور معرفت کی منازل طے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس سفر میں ذکرِ الٰہی کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ۔
ترجمہ: خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
یہ قرآنی حقیقت واضح کرتی ہے کہ ذکر محض ایک ظاہری عمل نہیں بلکہ قلبی سکون، روحانی بالیدگی اور بندگی کے شعور کو تازہ رکھنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔
اسلامی تاریخ میں سلسلہ ہائے تصوف نے تزکیۂ نفس، اصلاحِ باطن اور اخلاقی تربیت کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سلسلۂ چشتیہ اپنی محبت، رواداری، خدمتِ خلق، انکساری اور ذکر و عبادت کی روایات کے باعث معروف ہے، جبکہ کشمیر کی روحانی تاریخ میں سلسلۂ ریشیہ کو بھی ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔
حضرت شیخ نورالدین نورانیؒ (نند ریشیؒ) اور ان کے نامور خلفاء کی تعلیمات نے کشمیری معاشرے میں روحانیت، اخلاق، سادگی، انسان دوستی اور خدا ترسی کے تصورات کو گہرا اثر دیا ہے۔ ان روحانی روایات کا مطالعہ ہمیں اس حقیقت سے آشنا کرتا ہے کہ تصوف کا اصل جوہر انسان کے ظاہر و باطن کی اصلاح اور مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک میں پوشیدہ ہے۔
جناب سید اعجاز احمد اندرابی صاحب کی ان سلسلوں سے وابستگی ان کی روحانی دلچسپی اور تصوف سے قلبی تعلق کی ایک اہم جہت ہے۔ سیدہ حاجی آمنہ احمد صاحبہ جیسی بزرگ ہستی سے ان کی مریدانہ نسبت بھی اس روحانی روایت کے تسلسل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
میرے نزدیک ’’سلوک شناسی مع اوراد و وظائف‘‘ کی اہمیت اس امر میں ہے کہ یہ تصوف کے ایک ایسے موضوع کو زیرِ بحث لاتی ہے جس کا تعلق براہِ راست سالک کے روزمرہ روحانی معمولات اور باطنی تربیت سے ہے۔ اس نوعیت کی تصانیف کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی ہے، کیونکہ روحانی سفر میں محض شوق کافی نہیں ہوتا؛ اس کے لئے علم، عمل، رہنمائی، استقامت اور صحیح فہم بھی ضروری ہیں۔
مصنف کی یہ کاوش اس اعتبار سے قابلِ تحسین ہے کہ انہوں نے اوراد و وظائف جیسے اہم موضوع کو اپنی تصنیفی دلچسپی کا حصہ بنایا۔ تصوف کے طالب علموں، ذکر و اذکار سے شغف رکھنے والوں اور سلوک کے راستے سے وابستہ افراد کے لئے ایسے موضوعات پر علمی گفتگو یقیناً افادیت رکھتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اوراد و وظائف کی افادیت کو ہمیشہ قرآن و سنت کی تعلیمات، شریعت کے اصولوں اور معتبر علمی رہنمائی کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ کسی بھی روحانی عمل کی اصل قدر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بندگی، اخلاقی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق میں ہے۔
میں جناب قبلہ سید اعجاز احمد اندرابی صاحب کو ان کی اس علمی و روحانی کاوش پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ان کی تازہ تصنیف ’’سلوک شناسی مع اوراد و وظائف‘‘ کے مطالعے نے مجھے ان کی تصنیفی دلچسپی اور تصوف کے موضوع سے ان کے قلبی لگاؤ پر اپنے تاثرات قلم بند کرنے کی تحریک دی۔’’ جبکہ اس سے قبل سلوک کا سفر ‘‘ جیسی ضخیم کتاب پر بھی مجھے تاثرات اور تبصرہ قلمبند کرنے کی سعادت حاصل رہی ہے ۔
بلاشبہ علم و معرفت کی راہ میں قلم اٹھانا ایک اہم ذمہ داری ہے، خصوصاً جب موضوع تصوف و سلوک جیسا حساس اور روحانی اہمیت کا حامل ہو۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت دے، ان کی روحانی نسبتوں کو خیر و عافیت کے ساتھ قائم رکھے اور انہیں مزید ایسی علمی و فکری تصانیف پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو طالبانِ حق، سالکانِ راہِ معرفت اور اہلِ ذوق کے لئے رہنمائی کا ذریعہ بنیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ذکرِ الٰہی کی حقیقی لذت، اصلاحِ نفس کی توفیق، اخلاصِ عمل اور معرفتِ حق کے نور سے بہرہ مند فرمائے۔ جناب سید اعجاز احمد اندرابی صاحب کی خدمت میں اس علمی و روحانی تحفے پر تہِ دل سے شکریہ، مبارک باد اور دعائے خیر و سلامتی۔


