جنگ نیوز ڈیسک
کوکرناگ/جمیل انصاری/ جموں اینڈ کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کے اہتمام سے وادی کے معروف ادیب، شاعر اور دانشور سروانند کول پریمی کی 102ویں یومِ پیدائش کے موقعے پر گورنمنٹ ڈگری کالج کوکرناگ میں ایک روزہ ادبی سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سمینار کا مقصد سروانند کول پریمی کی ادبی، علمی اور فکری خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیری زبان و ادب کے لئے ان کے گراں قدر کردار کو اجاگر کرنا تھا۔
سمینار کی افتتاحی نشست کی صدارت معروف کشمیری شاعر اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ علی شیدا نے کی، جبکہ صدر جے کے ایم پی ایف شیخ مظفر احمد, نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقعے پر گورنمنٹ ڈگری کالج کوکرناگ کے پرنسپل پروفیسر غلام عباس, کالج کے وائس پرنسپل پروفیسر گلزار اور جموں و کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کے ایڈیٹر کشمیری جاوید اقبال خان بھی ایوانِ صدارت میں موجود تھے۔ تقریب میں کالج کے اساتذہ، ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور طلبہ نے شرکت کی۔
تقریب کے آغاز میں اکیڈیمی کے ایڈیٹر کشمیری جاوید اقبال خان نے مہمانوں اور شرکائے تقریب کا استقبال کرتے ہوئے سروانند کول پریمی کی شخصیت اور ادبی خدمات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سروانند کول پریمی کشمیری ادب کی ان اہم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں، علمی بصیرت اور فکری وسعت کے ذریعے زبان و ادب کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی ادبی شخصیت کا مطالعہ کشمیری زبان کی تخلیقی اور فکری روایت کو سمجھنے کے لئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جاوید اقبال خان نے مزید کہا کہ کسی بھی زبان کے ادبی ورثے کو محفوظ رکھنے اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس زبان سے وابستہ ممتاز ادیبوں اور شاعروں کی زندگی اور کارناموں پر تحقیقی و تنقیدی کام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈیمی اس مقصد کے تحت مختلف ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد کرتی رہتی ہے تاکہ ادبی شخصیات کی خدمات کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ زبان و ادب کے فروغ کے لئے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے ڈگری کالج کوکرناگ کے اشتراک کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کی تقریبات کا انعقاد طلبہ کو اپنے ادبی ورثے سے روشناس کرانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اس موقعے پر ڈاکٹر امتیاز لون نے سروانند کول پریمی کی زندگی، شخصیت اور ادبی کارناموں پر ایک مدلل، مفصل اور تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ اپنے مقالے میں انہوں نے پریمی کی ادبی زندگی، تخلیقی سفر، فکری رجحانات اور کشمیری زبان و ادب کے لئے ان کی خدمات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سروانند کول پریمی کی ادبی شخصیت کئی جہتوں پر مشتمل ہے اور ان کی تخلیقات میں انسانی احساسات، سماجی شعور، تہذیبی اقدار اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی ملتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے ادبی کام کا سنجیدہ مطالعہ اور تحقیقی جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ ان کی خدمات اور ادبی مقام کو مزید بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
صاحبِ صدر علی شیدا نے اپنے صدارتی خطاب میں سروانند کول پریمی کو ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کشمیری زبان و ادب کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پریمی کی شخصیت اور تخلیقی کام کا مطالعہ ہمیں ان کی فکری وسعت، ادبی بصیرت اور زبان کے ساتھ ان کی گہری وابستگی سے روشناس کراتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادبی شخصیات کو یاد کرنے کا حقیقی مقصد ان کے تخلیقی سرمائے کو پڑھنا، سمجھنا اور نئی نسل تک منتقل کرنا ہے۔ اس طرح کے سمینار ادبی ورثے کے تحفظ اور علمی و تنقیدی مکالمے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مہمانِ خصوصی نے اپنے خطاب میں اکیڈیمی کی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ممتاز ادبی شخصیات کی یاد میں اس نوعیت کے پروگراموں کا انعقاد ایک قابلِ قدر کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبان و ادب کسی بھی معاشرے کی تہذیبی شناخت کے بنیادی عناصر ہیں اور ان کے تحفظ و فروغ کے لئے تعلیمی اداروں، ادبی تنظیموں اور ثقافتی اداروں کو مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے۔
گورنمنٹ ڈگری کالج کوکرناگ کے پرنسپل نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اکیڈیمی کے اس اقدام کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ادبی سرگرمیوں کے انعقاد سے طلبہ میں مطالعے، تحقیق اور تخلیقی اظہار کا رجحان فروغ پاتا ہے۔ انہوں نے اکیڈیمی کے ساتھ اشتراک کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مستقبل میں بھی اس طرح کی سرگرمیوں کے انعقاد کے لئے تعاون کا یقین دلایا۔ سمینار کی دوسری نشست میں ایک محفلِ مشاعرہ منعقد ہوئی جس میں مقامی شعرا نے شرکت کرتے ہوئے اپنا کلام پیش کیا۔ شعرا نے اپنی منظومات کے ذریعے سروانند کول پریمی کی شخصیت اور ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس نشست میں پیش کیے گئے کلام کو حاضرین نے سراہا اور محفل ایک خوبصورت ادبی ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔ مشاعرے میں جن شعراء نے شرکت کی اُن میں فیظ حائل, تنہا شہلپوری, غلام نبی شاید کٹھاری, ردا مدثر, عتیقہ صدیقی, پاکیزہ حنا, یحیحا توصیف, ساگر سلام, عرش کشمیری, اور واجد بشیر شامل ہیں.
تقریب کی نظامت کے فرائض اکیڈیمی کے اسسٹنٹ ایڈیٹر ڈاکٹر گلزار احمد راتھر نے انجام دیے۔ انہوں نے دونوں نشستوں کے دوران مقررین اور شعرا کا تعارف پیش کرتے ہوئے تقریب کے علمی و ادبی تسلسل کو برقرار رکھا۔ آخر میں اکیڈیمی کے ایڈیٹر کشمیری جاوید اقبال خان نے شکریے کی تحریک پیش کرتے ہوئے صاحبِ صدر، مہمانِ خصوصی، پرنسپل ڈگری کالج کوکرناگ، مقالہ نگار، شعرا، اساتذہ، طلبہ اور دیگر شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بالخصوص کالج انتظامیہ کے تعاون کو سراہا۔
اس طرح سروانند کول پریمی کی 102ویں یومِ پیدائش کے موقعے پر منعقدہ یہ سمینار ان کی ادبی و فکری خدمات کو یاد کرنے اور کشمیری زبان و ادب کے حوالے سے علمی و ادبی مکالمے کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش ثابت ہوا۔


