جموں/لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کے روز لوک بھون میں جموں و کشمیر ہائیر ایجوکیشن کونسل (جے کے ایچ ای سی ) کے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔
میٹنگ میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ،وزیر برائے سکولی تعلیم، اعلیٰ تعلیم اور جل شکتی محکمہ جات شمیم فردوس،وائس چیئرمین جموں و کشمیر ہائیر ایجوکیشن کونسل پروفیسر دنیش سنگھ؛ قائم مقام چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ خزانہ، شیلندر کمار، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری گووند جیسوال، کمشنر سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم رام نواس شرما، وائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسر امیش رائے،وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹ یپروفیسر نیلوخان،وائس چانسلراسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی یو ایس ٹی) پروفیسر شکیل احمد رومشو،وائس چانسلر شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی پروفیسر پراگتی کمار،؛ وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر پروفیسر نذیر احمد گنائی، وائس چانسلر سکاسٹ جموں پروفیسر بی این ترپاٹھی، وائس چانسلر سینٹرل یونیورسٹی کشمیر پروفیسر اے رویندر ناتھ؛وائس چانسلر سینٹرل یونیورسٹی جموں پروفیسر سنجیو جین،وائس چانسلر بی جی ایس بی یو پروفیسر جاوید اقبال،وائس چانسلر کلسٹر یونیورسٹی جموں ڈاکٹر کے ایس چندر شیکھر،وائس چانسلر کلسٹر یونیورسٹی سری نگر پروفیسر محمد مبین،ڈائریکٹر آئی آئی ٹی جموں پروفیسر منوج سنگھ گور،ڈائریکٹر آئی آئی ایم جموں پروفیسر بی ایس سہائے،ڈائریکٹر این آئی ٹی سری نگر پروفیسر انوراگ مشرا، آئی آئی ٹی بمبئی کے پروفیسر کاوی آریہ،ڈائریکٹر کلسٹر انوویشن سینٹر دہلی یونیورسٹی شوبھا بگائی اور دیگر اراکین نے شرکت کی۔
لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت میں منعقدہ میٹنگ میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لئے مستقبل پر مبنی روڈ میپ تیار کرنے پر غور و خوض کیا گیا۔میٹنگ میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے، تحقیق اور اختراع کے کلچر کو فروغ دینے اور مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے اور اُبھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اُٹھانے کے لئے تعلیمی اداروں کو حکمت عملی کے تحت ہم آہنگ کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
میٹنگ کے اہم ایجنڈوں میں تعلیمی کریڈٹس اور وسائل کااشتراک اور ’ڈیزائن یور ڈگری‘ پروگرام اور قومی تعلیمی پالیسی۔ 2020 کی روشنی میں اَنڈر گریجویٹ (یوجی) اور پوسٹ گریجویٹ (پی جی) پروگراموں کی ازسرنو تشکیل شامل تھی۔میٹنگ میں اَنڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں آرٹیفیشل انٹلی جنس (مشین لرننگ اور ڈیپ لرننگ) اور ڈیٹا سائنس کو شامل کرنے کے لئے ایک ٹاسک فورس قائم کرنے کے طریقۂ کار پر بھی غور و خوض کیا گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے تعلیمی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لئے جموں و کشمیر کی یونیورسٹیوں کو ’ڈیزائن یور ڈگری‘ پروگرام شروع کرنے کے لئے چھ ماہ کی ڈیڈ لائن مقرر کی۔اُنہوں باہمی تعاون کے جذبے پر زور دیتے ہوئے تعلیمی کریڈٹس، تحقیقی لیبارٹریوں اور دیگر وسائل کو ایک دوسرے کے ساتھ مشترک کرنے کی اپیل کی۔
اُنہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر میں اعلیٰ تعلیم کو ایک جامع، ہمہ گیر اور ویژنری نظام میں تبدیل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔اَب وقت آگیا ہے کہ ہائیرایجوکیشن کونسل کے اَقدامات کو ٹھوس کامیابیوں میں بدلا جائے اور ہر طالب علم نتائج پر مبنی اثاثوں کے استعمال سے مستفید ہو۔‘‘
منوج سنہا نے یونیورسٹیوں کے درمیان مضبوط باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات پر کامیابی سے عمل درآمد کے لئے ادارہ جاتی سطح پر بنیادی اصلاحات اور ایک مضبوط طویل مدتی حکمت عملی ضروری ہے۔
اُنہوںنے تعلیمی پروگراموں میں آرٹیفیشل انٹلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جدید ترین ٹیکنالوجیوں کے میدان میں پیش قدمی کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے اس بات کو بھی اُجاگر کیا کہ ان پروگراموں میں مقامی زبانوں اور ثقافتوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
وائس چانسلر جموں و کشمیر ہائیر ایجوکیشن کونسل پروفیسر دنیش سنگھ نے اَنڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ نصاب کو ’ڈیزائن یور ڈگری‘ فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لئے پالیسی ہدایات جاری کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وائس چانسلروں اور کونسل کے اراکین نے ’ڈیزائن یور ڈگری‘ پروگرام اور قومی تعلیمی پالیسی۔ 2020 کے اَقدامات کو آگے بڑھانے کے لئے اَپنی تجاویز اور آرأ پیش کیں۔
کونسل نے اعلیٰ تعلیم سے متعلق جاری اقدامات، انجینئرنگ کچنز اور اَنٹرپرینیورشپ پروگراموں میں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ بجٹ کے اخراجات اور فنڈز کی تقسیم کے طریقہ کار میں اصلاحات پر بھی غوروخوض کیا گیا۔


