کشمیر میں روایتی پھول ’موَل‘ کی مانگ میں اضافہ، مصنوعی رنگوں پر پابندی کا اثر

سری نگر/جنگ نیوز/

کشمیر کے روایتی پکوانوں کو سرخ رنگ دینے والا پھول ’موَل‘ ایک بار پھر مقبول ہو رہا ہے۔ مصنوعی غذائی رنگوں پر پابندی اور صحت سے متعلق بڑھتی بیداری کے باعث وازوان میں اس کے استعمال اور مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔
موَل، جس کا نباتاتی نام سیلوشیا کرسٹاٹا ہے، مرغ کی کلغی سے مشابہ سرخ پھول ہے۔ اسے سکھا کر محفوظ کیا جاتا ہے اور پانی میں بھگونے سے گہرا سرخ رنگ حاصل ہوتا ہے، جو رستہ، روگن جوش اور مرچ وانگن قورمہ جیسے روایتی پکوانوں میں استعمال ہوتا ہے۔
نور باغ کے کاشتکار بشیر احمد پانپوری نے ہندوستھان سماچار کو بتایا کہ شہر میں وازہ حضرات دوبارہ اس قدرتی رنگ کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ ان کے مطابق مصنوعی رنگوں پر حکومتی پابندی نے بھی موَل کی مانگ بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
واضح رہے کہ ڈرگز اینڈ فوڈ کنٹرول آرگنائزیشن نے گزشتہ برس اگست میں وازوان، بریانی اور دیگر تیار کھانوں میں مصنوعی رنگوں کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے خلاف ورزی پر 3 لاکھ روپے تک جرمانے کی تنبیہ کی تھی۔
بشیر احمد کے مطابق وہ گزشتہ 3 سے 4 برس سے دوبارہ موَل کی کاشت کر رہے ہیں اور 2 کنال زمین پر اگائی گئی فصل کے خشک پھول بیوپاریوں کو 300 روپے فی کلو فروخت کرتے ہیں۔ تاہم پھولوں کو خشک کرنا مشکل مرحلہ ہے، کیونکہ انہیں براہ راست دھوپ سے بچا کر بند جگہ پر رکھنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فی الحال اس کا استعمال زیادہ تر شہری علاقوں تک محدود ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں اس کی کاشت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق شہر میں زمین کی کمی بھی اس فصل کی توسیع میں رکاوٹ ہے۔
بشیر احمد نے وازہ حضرات سے اپیل کی کہ وہ مصنوعی رنگوں کے بجائے موَل کا قدرتی رنگ استعمال کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی پابندی کے ساتھ کسانوں کو مراعات فراہم کی جائیں تاکہ کشمیر کے اس روایتی قدرتی رنگ کی کاشت اور استعمال کو دوبارہ فروغ مل سکے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

عمان کے ساحل کے قریب ہندوستانی جہاز پر حملہ،

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور...

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹنگ جاری،

واشنگٹن ڈی سی: 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے...

جموں و کشمیر سیاحت کی عالمی تشہیر، لندن میں عالمی ٹریول نمائش میں شرکت

جنگ نیوز جموں و کشمیر محکمہ سیاحت نے عالمی سیاحتی...

نمرود کی آگ اور جدید سائنسی تحقیقات

  ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نمرود کی...

لڑکیوں کی پُر اعتماد شخصیت، وقت کی اہم ضرورت

سیما شکور عموماً یہ سوچ لیا جاتا ہے کہ لڑکیوں...

تازہ ترین خبریں

عمان کے ساحل کے قریب ہندوستانی جہاز پر حملہ،

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور...

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹنگ جاری،

واشنگٹن ڈی سی: 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے...

جموں و کشمیر سیاحت کی عالمی تشہیر، لندن میں عالمی ٹریول نمائش میں شرکت

جنگ نیوز جموں و کشمیر محکمہ سیاحت نے عالمی سیاحتی...

نمرود کی آگ اور جدید سائنسی تحقیقات

  ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نمرود کی...

لڑکیوں کی پُر اعتماد شخصیت، وقت کی اہم ضرورت

سیما شکور عموماً یہ سوچ لیا جاتا ہے کہ لڑکیوں...

کشمیر میں روایتی پھول ’موَل‘ کی مانگ میں اضافہ، مصنوعی رنگوں پر پابندی کا اثر

سری نگر/جنگ نیوز/

کشمیر کے روایتی پکوانوں کو سرخ رنگ دینے والا پھول ’موَل‘ ایک بار پھر مقبول ہو رہا ہے۔ مصنوعی غذائی رنگوں پر پابندی اور صحت سے متعلق بڑھتی بیداری کے باعث وازوان میں اس کے استعمال اور مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔
موَل، جس کا نباتاتی نام سیلوشیا کرسٹاٹا ہے، مرغ کی کلغی سے مشابہ سرخ پھول ہے۔ اسے سکھا کر محفوظ کیا جاتا ہے اور پانی میں بھگونے سے گہرا سرخ رنگ حاصل ہوتا ہے، جو رستہ، روگن جوش اور مرچ وانگن قورمہ جیسے روایتی پکوانوں میں استعمال ہوتا ہے۔
نور باغ کے کاشتکار بشیر احمد پانپوری نے ہندوستھان سماچار کو بتایا کہ شہر میں وازہ حضرات دوبارہ اس قدرتی رنگ کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ ان کے مطابق مصنوعی رنگوں پر حکومتی پابندی نے بھی موَل کی مانگ بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
واضح رہے کہ ڈرگز اینڈ فوڈ کنٹرول آرگنائزیشن نے گزشتہ برس اگست میں وازوان، بریانی اور دیگر تیار کھانوں میں مصنوعی رنگوں کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے خلاف ورزی پر 3 لاکھ روپے تک جرمانے کی تنبیہ کی تھی۔
بشیر احمد کے مطابق وہ گزشتہ 3 سے 4 برس سے دوبارہ موَل کی کاشت کر رہے ہیں اور 2 کنال زمین پر اگائی گئی فصل کے خشک پھول بیوپاریوں کو 300 روپے فی کلو فروخت کرتے ہیں۔ تاہم پھولوں کو خشک کرنا مشکل مرحلہ ہے، کیونکہ انہیں براہ راست دھوپ سے بچا کر بند جگہ پر رکھنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فی الحال اس کا استعمال زیادہ تر شہری علاقوں تک محدود ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں اس کی کاشت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق شہر میں زمین کی کمی بھی اس فصل کی توسیع میں رکاوٹ ہے۔
بشیر احمد نے وازہ حضرات سے اپیل کی کہ وہ مصنوعی رنگوں کے بجائے موَل کا قدرتی رنگ استعمال کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی پابندی کے ساتھ کسانوں کو مراعات فراہم کی جائیں تاکہ کشمیر کے اس روایتی قدرتی رنگ کی کاشت اور استعمال کو دوبارہ فروغ مل سکے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں