لڑکیوں کی پُر اعتماد شخصیت، وقت کی اہم ضرورت

سیما شکور
عموماً یہ سوچ لیا جاتا ہے کہ لڑکیوں کی شادی اُن کی خوشیوں کی ضمانت ہے، اکثر والدین اپنی بیٹیوں کی پُر اعتماد شخصیت کی خاطر کسی قسم کی محنت نہیں کرتے نہ ہی اُن پر اتنی توجہ دیتے ہیں جتنی کہ دینی چاہئیے اُن کا یہ خیال ہوتا ہے کہ لڑکیاں معمولی سی تعلیم حاصل کرلیں، گھر کے کام کاج سیکھ لیں اور اُن کی شادی ہوجائے بس یہی کافی ہے جبکہ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم اور اُن کی پُر اعتماد شخصیت بے حد اہم ہے اگر لڑکی پُر اعتماد اوراعلیٰ تعلیم یافتہ ہوگی تو اُس کی شخصیت نِکھر جائے گی وہ معاشرے میں سر اُٹھا کر جینے کے قابل ہوجائے گی۔ والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ اُن میں اعتماد پیدا کیا جائے اُن کی شخصیت کو نکھارا جائے وہ اس قابل ہوں کہ کٹھِن سے کٹھِن حالات میں بھی دل برداشتہ نہ ہوں اپنے آپ کو سنبھال لیں۔ زندگی کے دشوار ترین موڑ بھی آجائیں تو وہ ہمت اور حوصلے سے معاملات کو سُلجھانے کے قابل ہوں۔ صرف لڑکیوں کی شادی کردینا ہی اُن کا فرض نہیں ہے ایک باوقار، پُر اعتماد اور سُلجھے ہوئے لڑکے کو اپنی بیٹی کا شریک حیات بنانا بھی اُن کی اولین ذمہ داری ہے۔ عموماً  بُرے سے بُرا عیب بھی کسی لڑکے میں ہو تو یہی کہا جاتا ہے کہ شادی ہوجائے گی تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔ جبکہ کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوتا بلکہ حالات بد سے بدتر ہی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ معمولی معمولی رنجشوں پر بھی راستے جُدا کرلئے جاتے ہیں ۔زیادہ تر لڑکیاں ہر ممکن یہ کوشش کرتی ہیں کہ رشتے نہ ٹوٹیں وہ درگُزر سے کام لیتی ہیں لیکن اُن کی ان خوبیوں کو کمزوری تصور کیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عجیب سے رواج رائج ہیں۔ لڑکیوں کو آج کے دور میں بھی بہت سے گھرانوں میں تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے۔ پیسے جو ڑ جوڑ کر شاندار طریقے سے شادی کی جاتی ہے، جہیز دیا جاتا ہے اگر وہ پیسہ جو شادی میں خرچ کیا گیا، دکھاوے کے لئے ، جھوٹی شان کے لئے وہی پیسہ اگر لڑکی کی تعلیم پر خرچ کیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ زندگی میں ہمیں ہر معاملے کو مدِ نظر رکھنا چاہئیے۔ آگے چل کر مستقبل میں کچھ بھی ہوسکتا ہے اس لئے لڑکیوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
تعلیم شخصیت کو سنوار دیتی ہے ۔ لڑکیوں میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے وہ کسی کی محتاج نہیں رہتیں۔ حالات کبھی بھی ایک جیسے نہیں رہتے اپنی بچیوں کی صلاحیتوں کو پہنچانئیے اُن کے مزاج کو سمجھئیے اُن سے رائے لیجئیے، اُن سے پوچھئیے کہ وہ زندگی میں کیا کرنا چاہتی ہیں، اُن کا کیریئر بنانے میں اُن کی ہر ممکن مدد کیجیئے ، توجہ سے اُن کی بات سنئیے ، اُن کی رائے کا احترام کیجئیے۔ اُن پر اپنی رائے مت تھوپئیے۔ وسیع الخیال بنئیے ان لڑکیوں پر اعتماد اور بھروسہ کیجئیے۔ اُن کی راہوں کے سارے کانٹے چُن لیجیئے۔ زندگی نجانے کس موڑ پر بدل جائے، کچھ نہیں کہا جاسکتا ہمارے معاشرے میں زیادہ تر سسرال والے اپنی بہوئوں کو نہ ہی وہ آزادی دیتے ہیں جو اُن کا حق ہے، نہ ہی محبت دیتے ہیں اور نہ ہی اُن پر اعتماد کرتے ہیں، یہاں تک کہ اُنہیں اپنے گھر کا فرد بھی نہیں سمجھا جاتا ، اُن سے غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اُن سے باتوں کو چھُپایا جاتا ہے، اُن پر تہمتیں لگائی جاتی ہیں اُن کی راہ میں کانٹے بچھائے جاتے ہیں، ہر قدم پر لڑکی کے لئے ایک نیا امتحان ، ایک نئی آزمائش ہوتی ہے، اُن پر ظلم توڑے جاتے ہیں۔ اپنے بیٹے کو بہو کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے تاکہ اُن کا بیٹا اپنی بیوی سے متنفر ہوجائے۔ بہو کو بیٹی کے برابر نہیں سمجھا جاتا۔ رشتوں کو پامال کیا جاتا ہے۔
 اگر لڑکی غیر تعلیم یافتہ ہو تو وہ اُن کے لئے تر نوالہ ثابت ہوتی ہے اس لئے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوتی اس لئے اُسے بے انتہا مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اپنے پیروں پر کھڑی لڑکی جو جاب بھی کرتی ہو اس کے خلاف بات کرنے سے پہلے سسرال والے سو بار سوچتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ اگر لڑکی زیادہ جہیز لے کر سسرال میں وارد نہ ہوئی ہو تو اُسے اور بھی زیادہ دُکھوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لئے کہ مادہ پرستی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اپنی بچیوں کو حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے اُنہیں پیار، محبت دیجئیے کیونکہ پیار محبت اُن میں خود اعتمادی کو پلنے پھولنے میں مدد فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اپنی بچیوں کو کبھی بھی نظر انداز مت کیجیئے۔ اُن کی شخصیت کو اتنا مضبوط اور طاقتور بنادیجئیے کہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر وہ اپنے آپ کو کبھی بھی کمزور تصّور نہ کریں۔ اُن کی شخصیت کو خوبصورت ، پُر اعتماد اور پُر وقار بنانے پر توجہ مرکوز کریں۔ بچپن سے ہی اُن کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ ایک مضبوط ، با صلاحیت شخصیت کے طور پر اُبھر کر سامنے آسکیں۔ والدین کا فرض ہوتا ہے کہ وہ کبھی بھی بیٹے اور بیٹی میں فرق نہ کریں۔ دونوں کے ساتھ برابر کا سلوک روا رکھیں کبھی بھی بیٹے کے ساتھ اِمتیازی سلوک نہ کریں آپ کی خلوصِ نیت سے کی گئی بہترین تربیت آپ کی بیٹی کو معاشرے میں وہ اعلیٰ مقام دلائے گی جو کوئی تعلیمی ادارہ بھی نہیں دلاسکتا۔ اپنی ننھی کلیوں کی اس طرح آبیاری کیجیئے کہ وہ شعور پانے پر آپ پر فخر کرسکیں، وہ شعور پانے پر آپ پر فخر کرسکیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

عمان کے ساحل کے قریب ہندوستانی جہاز پر حملہ،

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور...

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹنگ جاری،

واشنگٹن ڈی سی: 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے...

کشمیر میں روایتی پھول ’موَل‘ کی مانگ میں اضافہ، مصنوعی رنگوں پر پابندی کا اثر

سری نگر/جنگ نیوز/ کشمیر کے روایتی پکوانوں کو سرخ رنگ...

جموں و کشمیر سیاحت کی عالمی تشہیر، لندن میں عالمی ٹریول نمائش میں شرکت

جنگ نیوز جموں و کشمیر محکمہ سیاحت نے عالمی سیاحتی...

نمرود کی آگ اور جدید سائنسی تحقیقات

  ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نمرود کی...

تازہ ترین خبریں

عمان کے ساحل کے قریب ہندوستانی جہاز پر حملہ،

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور...

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹنگ جاری،

واشنگٹن ڈی سی: 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے...

کشمیر میں روایتی پھول ’موَل‘ کی مانگ میں اضافہ، مصنوعی رنگوں پر پابندی کا اثر

سری نگر/جنگ نیوز/ کشمیر کے روایتی پکوانوں کو سرخ رنگ...

جموں و کشمیر سیاحت کی عالمی تشہیر، لندن میں عالمی ٹریول نمائش میں شرکت

جنگ نیوز جموں و کشمیر محکمہ سیاحت نے عالمی سیاحتی...

نمرود کی آگ اور جدید سائنسی تحقیقات

  ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نمرود کی...

لڑکیوں کی پُر اعتماد شخصیت، وقت کی اہم ضرورت

سیما شکور
عموماً یہ سوچ لیا جاتا ہے کہ لڑکیوں کی شادی اُن کی خوشیوں کی ضمانت ہے، اکثر والدین اپنی بیٹیوں کی پُر اعتماد شخصیت کی خاطر کسی قسم کی محنت نہیں کرتے نہ ہی اُن پر اتنی توجہ دیتے ہیں جتنی کہ دینی چاہئیے اُن کا یہ خیال ہوتا ہے کہ لڑکیاں معمولی سی تعلیم حاصل کرلیں، گھر کے کام کاج سیکھ لیں اور اُن کی شادی ہوجائے بس یہی کافی ہے جبکہ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم اور اُن کی پُر اعتماد شخصیت بے حد اہم ہے اگر لڑکی پُر اعتماد اوراعلیٰ تعلیم یافتہ ہوگی تو اُس کی شخصیت نِکھر جائے گی وہ معاشرے میں سر اُٹھا کر جینے کے قابل ہوجائے گی۔ والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ اُن میں اعتماد پیدا کیا جائے اُن کی شخصیت کو نکھارا جائے وہ اس قابل ہوں کہ کٹھِن سے کٹھِن حالات میں بھی دل برداشتہ نہ ہوں اپنے آپ کو سنبھال لیں۔ زندگی کے دشوار ترین موڑ بھی آجائیں تو وہ ہمت اور حوصلے سے معاملات کو سُلجھانے کے قابل ہوں۔ صرف لڑکیوں کی شادی کردینا ہی اُن کا فرض نہیں ہے ایک باوقار، پُر اعتماد اور سُلجھے ہوئے لڑکے کو اپنی بیٹی کا شریک حیات بنانا بھی اُن کی اولین ذمہ داری ہے۔ عموماً  بُرے سے بُرا عیب بھی کسی لڑکے میں ہو تو یہی کہا جاتا ہے کہ شادی ہوجائے گی تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔ جبکہ کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوتا بلکہ حالات بد سے بدتر ہی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ معمولی معمولی رنجشوں پر بھی راستے جُدا کرلئے جاتے ہیں ۔زیادہ تر لڑکیاں ہر ممکن یہ کوشش کرتی ہیں کہ رشتے نہ ٹوٹیں وہ درگُزر سے کام لیتی ہیں لیکن اُن کی ان خوبیوں کو کمزوری تصور کیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عجیب سے رواج رائج ہیں۔ لڑکیوں کو آج کے دور میں بھی بہت سے گھرانوں میں تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے۔ پیسے جو ڑ جوڑ کر شاندار طریقے سے شادی کی جاتی ہے، جہیز دیا جاتا ہے اگر وہ پیسہ جو شادی میں خرچ کیا گیا، دکھاوے کے لئے ، جھوٹی شان کے لئے وہی پیسہ اگر لڑکی کی تعلیم پر خرچ کیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ زندگی میں ہمیں ہر معاملے کو مدِ نظر رکھنا چاہئیے۔ آگے چل کر مستقبل میں کچھ بھی ہوسکتا ہے اس لئے لڑکیوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
تعلیم شخصیت کو سنوار دیتی ہے ۔ لڑکیوں میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے وہ کسی کی محتاج نہیں رہتیں۔ حالات کبھی بھی ایک جیسے نہیں رہتے اپنی بچیوں کی صلاحیتوں کو پہنچانئیے اُن کے مزاج کو سمجھئیے اُن سے رائے لیجئیے، اُن سے پوچھئیے کہ وہ زندگی میں کیا کرنا چاہتی ہیں، اُن کا کیریئر بنانے میں اُن کی ہر ممکن مدد کیجیئے ، توجہ سے اُن کی بات سنئیے ، اُن کی رائے کا احترام کیجئیے۔ اُن پر اپنی رائے مت تھوپئیے۔ وسیع الخیال بنئیے ان لڑکیوں پر اعتماد اور بھروسہ کیجئیے۔ اُن کی راہوں کے سارے کانٹے چُن لیجیئے۔ زندگی نجانے کس موڑ پر بدل جائے، کچھ نہیں کہا جاسکتا ہمارے معاشرے میں زیادہ تر سسرال والے اپنی بہوئوں کو نہ ہی وہ آزادی دیتے ہیں جو اُن کا حق ہے، نہ ہی محبت دیتے ہیں اور نہ ہی اُن پر اعتماد کرتے ہیں، یہاں تک کہ اُنہیں اپنے گھر کا فرد بھی نہیں سمجھا جاتا ، اُن سے غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اُن سے باتوں کو چھُپایا جاتا ہے، اُن پر تہمتیں لگائی جاتی ہیں اُن کی راہ میں کانٹے بچھائے جاتے ہیں، ہر قدم پر لڑکی کے لئے ایک نیا امتحان ، ایک نئی آزمائش ہوتی ہے، اُن پر ظلم توڑے جاتے ہیں۔ اپنے بیٹے کو بہو کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے تاکہ اُن کا بیٹا اپنی بیوی سے متنفر ہوجائے۔ بہو کو بیٹی کے برابر نہیں سمجھا جاتا۔ رشتوں کو پامال کیا جاتا ہے۔
 اگر لڑکی غیر تعلیم یافتہ ہو تو وہ اُن کے لئے تر نوالہ ثابت ہوتی ہے اس لئے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوتی اس لئے اُسے بے انتہا مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اپنے پیروں پر کھڑی لڑکی جو جاب بھی کرتی ہو اس کے خلاف بات کرنے سے پہلے سسرال والے سو بار سوچتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ اگر لڑکی زیادہ جہیز لے کر سسرال میں وارد نہ ہوئی ہو تو اُسے اور بھی زیادہ دُکھوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لئے کہ مادہ پرستی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اپنی بچیوں کو حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے اُنہیں پیار، محبت دیجئیے کیونکہ پیار محبت اُن میں خود اعتمادی کو پلنے پھولنے میں مدد فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اپنی بچیوں کو کبھی بھی نظر انداز مت کیجیئے۔ اُن کی شخصیت کو اتنا مضبوط اور طاقتور بنادیجئیے کہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر وہ اپنے آپ کو کبھی بھی کمزور تصّور نہ کریں۔ اُن کی شخصیت کو خوبصورت ، پُر اعتماد اور پُر وقار بنانے پر توجہ مرکوز کریں۔ بچپن سے ہی اُن کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ ایک مضبوط ، با صلاحیت شخصیت کے طور پر اُبھر کر سامنے آسکیں۔ والدین کا فرض ہوتا ہے کہ وہ کبھی بھی بیٹے اور بیٹی میں فرق نہ کریں۔ دونوں کے ساتھ برابر کا سلوک روا رکھیں کبھی بھی بیٹے کے ساتھ اِمتیازی سلوک نہ کریں آپ کی خلوصِ نیت سے کی گئی بہترین تربیت آپ کی بیٹی کو معاشرے میں وہ اعلیٰ مقام دلائے گی جو کوئی تعلیمی ادارہ بھی نہیں دلاسکتا۔ اپنی ننھی کلیوں کی اس طرح آبیاری کیجیئے کہ وہ شعور پانے پر آپ پر فخر کرسکیں، وہ شعور پانے پر آپ پر فخر کرسکیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں