قرآن کی قدیم رہنمائی اور آج کی جدید تحقیق

 

پرویز عالم

اللہ رب العزت نے دنیا میں انسانوں کے ضروریات کو پورا کرنے کے لئے متعدد اشیاء کو پیدا کیا مثلا:ہوا، پانی ،مٹی وغیرہ اسی طرح انسان کے کھانے پینے کی چیزوں میں بھی مختلف الانواع اور مختلف الذائقہ چیزیں کو وجود بخشا اور ان میں بے شمار فوائد پوشیدہ رکھے۔ قران مجید میں بھی متعدد پھلوں کا ذکر کیا جیسے انجیر،انگور،انار وغیرہ ۔اور احادیث میں بھی پھلوں کا ذکر ملتا ہے۔توجہ طلب بات یہ ہے کی انہی پھلوں میں ایک ایسا پھل ہے جس کا تذکرہ بطور خاص کیا گیا ہے اور جو صدیوں سے بڑی ہی مقوی غذا رہا ہے اور جس کے متعلق حدیث میں فضیلتیں بھی آئی ہیں، مثلا اس پھل کے درخت سے مومن کی مثال دی گئی، یوں ہی یہ کہا گیا ہے کہ وہ پھل جس گھر میں رہے گا اس گھر کے لوگ کبھی بھوکے نہیں ہوں گے۔
محترم قاریین! وہ کوئی اور پھل نہیں بلکہ کھجور ہے۔یہاں اس تحریر میں کھجور کی فضیلت و فوائد بیان کرنا مقصود نہیں، کیونکہ وہ ظاہر و باہر ہے۔بلکہ دور جدید میں کھجور پر کی گئی طبی تحقیقات کے تناظر میں یہ سمجھنا مقصود ہے کہ قران کتنا ترقی یافتہ ہے وہ یہ کہ کھجور کے جس مخصوص فائدے کا انکشاف آج کے اس دور جدید میں تجربہ گاہوں میں موجود تحقیقی آلات کو بروئے کار لانے کے بعد حاصل ہوا ہے،قران نےاس حقیقت سے ساڑھے چودہ صدیوں پہلے ہی پردہ اٹھا دیا تھا۔
یاد کریں کہ جب حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن پاک سے حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش وجود میں آئی، اس وقت اللہ رب العزت نے ان کو پینے کے لئے پانیکا ایک صاف چشمہ جاری کر دیا اور کھانے کے لئے جو چیز اللہ رب العزت نے انہیں عطا کی وہ کوئی اور شے نہیں بلکہ کھجور تھی ۔
اب سوال یہ ہوتا ہے کہ دنیا میں میوے،سبزے اور دوسری قوت بخشنے والی غذائیں تو بے شمار ہیں تو آخر اللہ تعالی نے کھجور ہی پیدا کیوں کیا جبکہ وہ دوسری چیز بھی پیدا کرنے پر قادر ہے۔
تو آئیے اس سوال کا جواب جاننے کے لئے کھجور پر کی گئی چند جدید طبی تحقیقات اور ان کی روداد سے آپ کو روشناس کراؤں تاکہ نہ صرف کھجور میں موجود مخصوص فائدے کا ہمیں علم ہو بلکہ قران کے ترقی یافتہ ہونے پر ایک دلیل، اور جو اسلام اور اہل اسلام کو پسماندہ سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں، ان کی غلط فہمی کا ازالہ بھی ہو۔
پہلی روداد ۔
آٹھ نومبر 2019 کو "دا ٹائمز آف انڈیا” نے اپنی ویب سائٹ پر ایک مضمون شائع کیا جس کا موضوع تھا”
عورتوں کو بچے کی پیدائش کے بعد کیا چیزیں کھانا چاہیے؟”اس مضمون میں چند چیزوں کا مشورہ دیا گیا تھا جیسے میوے،پھل ،انڈے اور کچھ ہری سبزیاں۔اہم بات یہ ہے کہ اس مضمون میں ایک چیز کو اہم طور پرذکر کیا گیا تھا اور وہ چیز کوئی اور نہیں بلکہ کھجور تھی۔ اور اس بات کی خبر دی گئی تھی کہ وضع حمل یعنی بچہ پیدا ہونے کے بعد خون کی کمی کو پورا کرنے اور توانائی فراہم کرنے کے لئے کھجور ایک مفید غذا ہے۔
دوسری روداد سے پہلے ایک چیز کا جاننا ضروری ہے جو اس روداد کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
وہ یہ کہ امریکہ میں ایک بہت بڑا "ہیلتھ کیئر سسٹم” ہے جس کا نام ہے "او ایس ایف ہیلتھ کیئر جس کی بنیاد 1876 عیسوی میں رکھی گئی تھی، جو طبی خدمات فراہم کرتا ہے۔
اس کی روداد کے مطابق ایک بچہ پیدا ہونے کا جو عمل ہے اس میں اوسطا 12 سے 18 یا 12 سے 24 گھنٹے لگتے ہیں۔
اب دوسری روداد سنیے! "نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ” نے اپنی ویب سائٹ پر 2025 میں ایک تحقیق کو شائع کیا جس کے مطابق یورپ کے ایک ملک "بوسنیا اور ہرزیگووینا” کے دارالحکومت "سرجیوو” میں ایک امراض نسواں اور زرچگی کا ہسپتال ہے ۔اس میں 2020 میں 120 حاملہ عورتوں پر ایک تحقیق کی گئی جس کا موضوع تھا "کھجور کے استعمال سے زچگی کے آغاز اور اس کی پیشرفت پر اثرات”۔ جس کا طریقہ یہ تھا کہ 60 عورتوں کو آخر کے چار مہینوں میں روزانہ چھ کھجوریں کھلائی گئیں، جبکہ دوسری 60 عورتوں کو اس سے باز رکھا گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جن عورتوں نے کھجوریں کھائی تھی ان کے رحم کا منہ جلدی کھل گیا اور تقریبا آٹھ سے ساڑھے آٹھ گھنٹے میں بچے کی ولادت ہو گئی، اور ان میں بھی 60 فیصد خواتین کی جو ولادت تھی وہ "نیچرل برتھ” یعنی قدرتی ولادت ہوئی اور 40 فیصد عورتوں کو "آکسیٹوسن” کی ضرورت پڑی جو کہ ایک دوا ہے جو ولادت اور زچگی میں مددگار ثابت ہوتی ہے، جبکہ جن عورتوں نے کھجوریں نہیں کھائی تھی، ان کا بچہ پیدا ہونے کا جو عمل تھا وہ تقریبا 15 گھنٹوں تک جاری رہا۔
:تیسری روداد
اسی طرح انڈونیشیا کی "کدیری یونیورسٹی”کے "فیکلٹی آف ہیلتھ سائنس” کے محققین نے ایک تحقیق کی جس کا موضوع تھا "ماں کے دودھ پر کھجور کے اثرات” جس کا طریقہ کار یہ تھا کہ 15 عورتوں کو بچے کی ولادت کے بعد 10 دن تک تقریبا 100 گرام کھجوریں کھلائی گئی بایں طور کہ 50 گرام ناشتے کے بعد اور 50 گرام رات کے کھانے کے بعد۔اس کے بعد جب محققین نے بذات خود مشاہدہ کیا تو معلوم ہوا کہ کھجور کھانے سے ماؤں کی دودھ کی روانی اور اس میں اضافے پر مثبت اثر پڑا ہے، تحقیق کے مطابق 80 فیصد یعنی تقریبا 12 ماؤں میں دودھ کے اخراج میں روانی آئی ہے۔
ان تحقیقات کے علاوہ صرف کھجور میں موجود مفید غذائیت کی بات کریں تو دوسرے میووں کی بنسبت کھجور میں غذائیت کی کثرت پائی جاتی ہے۔ مثلا
Protein, Fiber, Carbs, Magnesium, Potassium, Iron, Vitamin اور alories وغیرہ ۔
اللہ کی قدرت دیکھیں کہ یہ سارے فوائد ایک ہی چیز میں موجود ہیں۔
نکتے کی بات یہ ہے کہ آج دنیا نے جب ترقی کی, آلات تحقیق وجود میں آئے، تجربہ گاہیں بنائی گئیں اور اس میں تجربے کیے گئے، اس کے بعد کھانے پینے کی اشیاء میں موجود پوشیدہ فوائد کو نمایا کیا گیا۔اور زمانے نےبطور خاص یہ معلوم کیا کہ حاملہ عورت کو، بچہ پیدا ہونےسے پہلے اور بعد میں کھجور کھانے سے کتنے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟ اس حقیقت کا انکشاف اس وقت ہوا جب دنیا میں تجربہ گاہوں کی کثرت اور تحقیقی الات کے فراوانی ہے اور جس دنیا کو ہم "مور ایڈوانسد” سمجھ رہے ہیں۔
لیکن سوچیے کہ قران کتنا "ایڈوانسڈ” ہےکہ جس تحقیق اور انکشاف سے دنیا کو آج آشنائی حاصل ہوئی ،قران نے ہمیں تقریبا 14.5 صدیوں پہلے ہی اس کے متعلق باخبر کر دیا تھا،جب قران نے حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کے ذریعے حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کا ذکر کیا۔
سورہ مريم کی آیت نمبر 24 میں قران حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کو مخاطب کر کے کہتاہے
اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی۔ القران
اپ ذرا سوچیں کہ جب حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہ کے توسط سے حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو اس وقت اللہ رب العزت نے ان کو کھانے کے لئے وہی چیز عطا کی جو ایک نئی ماں کے لئے سب سے مفید اور قوت بخش غذا تھی،یعنی کھجور،جس کی تصدیق آج کی جدید طبی تحقیقات بھی کر رہی ہے۔
نیز اسی آیت کے تحت مفسرین نے بھی یہ لکھا کہ نئی ماؤں کے لئے کھجور سے بہترین کوئی شے نہیں ہے، اور اگر کھجور سے بہتر کوئی چیز ہوتی تو اللہ رب العزت حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کو وہی چیز کھلاتا۔
اور تفسیر کی ایک کتاب "تفسیر نعیمی” میں اس کے مصنف "مفتی احمد یار خان نعیمی” نے اس سوال کہ "اللہ رب العزت نے حضرت کھجور ہی کیوں پیدا کیا؟ کے جواب میں 13 وجوہ بیان کی ہیں، اس میں سے ایک یہ ہے کہ "انسانی جسم کو توانائی بخشنے کے لئے جن مختلف غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب کے سب مناسب مقدار میں کھجور میں موجود ہیں۔اور آخری یعنی 13ویں نمبر پر جو وجہ بتائی وہ یہ کہ کھجور طبی اعتبار سے تقریبا 40 امراض میں مفید اور 40 تکلیف میں شفا ہے ۔
ان تحقیقات اور معلومات سے دن میں دوپہر کے وقت چمکتے ہوئے سورج طرح یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ قران پہلے بھی ترقی یافتہ تھا اج بھی ہے اور انشاءاللہ تبارک و تعالی قیامت تک ترقی یافتہ ہی رہے گا،اور قران کے ذریعے نوع انسانی کی عقل و خرد کے لئے حیران کن انکشافات مسلسل قیامت تک ہوتے رہیں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

عمان کے ساحل کے قریب ہندوستانی جہاز پر حملہ،

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور...

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹنگ جاری،

واشنگٹن ڈی سی: 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے...

کشمیر میں روایتی پھول ’موَل‘ کی مانگ میں اضافہ، مصنوعی رنگوں پر پابندی کا اثر

سری نگر/جنگ نیوز/ کشمیر کے روایتی پکوانوں کو سرخ رنگ...

جموں و کشمیر سیاحت کی عالمی تشہیر، لندن میں عالمی ٹریول نمائش میں شرکت

جنگ نیوز جموں و کشمیر محکمہ سیاحت نے عالمی سیاحتی...

نمرود کی آگ اور جدید سائنسی تحقیقات

  ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نمرود کی...

تازہ ترین خبریں

عمان کے ساحل کے قریب ہندوستانی جہاز پر حملہ،

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور...

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹنگ جاری،

واشنگٹن ڈی سی: 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے...

کشمیر میں روایتی پھول ’موَل‘ کی مانگ میں اضافہ، مصنوعی رنگوں پر پابندی کا اثر

سری نگر/جنگ نیوز/ کشمیر کے روایتی پکوانوں کو سرخ رنگ...

جموں و کشمیر سیاحت کی عالمی تشہیر، لندن میں عالمی ٹریول نمائش میں شرکت

جنگ نیوز جموں و کشمیر محکمہ سیاحت نے عالمی سیاحتی...

نمرود کی آگ اور جدید سائنسی تحقیقات

  ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نمرود کی...

قرآن کی قدیم رہنمائی اور آج کی جدید تحقیق

 

پرویز عالم

اللہ رب العزت نے دنیا میں انسانوں کے ضروریات کو پورا کرنے کے لئے متعدد اشیاء کو پیدا کیا مثلا:ہوا، پانی ،مٹی وغیرہ اسی طرح انسان کے کھانے پینے کی چیزوں میں بھی مختلف الانواع اور مختلف الذائقہ چیزیں کو وجود بخشا اور ان میں بے شمار فوائد پوشیدہ رکھے۔ قران مجید میں بھی متعدد پھلوں کا ذکر کیا جیسے انجیر،انگور،انار وغیرہ ۔اور احادیث میں بھی پھلوں کا ذکر ملتا ہے۔توجہ طلب بات یہ ہے کی انہی پھلوں میں ایک ایسا پھل ہے جس کا تذکرہ بطور خاص کیا گیا ہے اور جو صدیوں سے بڑی ہی مقوی غذا رہا ہے اور جس کے متعلق حدیث میں فضیلتیں بھی آئی ہیں، مثلا اس پھل کے درخت سے مومن کی مثال دی گئی، یوں ہی یہ کہا گیا ہے کہ وہ پھل جس گھر میں رہے گا اس گھر کے لوگ کبھی بھوکے نہیں ہوں گے۔
محترم قاریین! وہ کوئی اور پھل نہیں بلکہ کھجور ہے۔یہاں اس تحریر میں کھجور کی فضیلت و فوائد بیان کرنا مقصود نہیں، کیونکہ وہ ظاہر و باہر ہے۔بلکہ دور جدید میں کھجور پر کی گئی طبی تحقیقات کے تناظر میں یہ سمجھنا مقصود ہے کہ قران کتنا ترقی یافتہ ہے وہ یہ کہ کھجور کے جس مخصوص فائدے کا انکشاف آج کے اس دور جدید میں تجربہ گاہوں میں موجود تحقیقی آلات کو بروئے کار لانے کے بعد حاصل ہوا ہے،قران نےاس حقیقت سے ساڑھے چودہ صدیوں پہلے ہی پردہ اٹھا دیا تھا۔
یاد کریں کہ جب حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن پاک سے حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش وجود میں آئی، اس وقت اللہ رب العزت نے ان کو پینے کے لئے پانیکا ایک صاف چشمہ جاری کر دیا اور کھانے کے لئے جو چیز اللہ رب العزت نے انہیں عطا کی وہ کوئی اور شے نہیں بلکہ کھجور تھی ۔
اب سوال یہ ہوتا ہے کہ دنیا میں میوے،سبزے اور دوسری قوت بخشنے والی غذائیں تو بے شمار ہیں تو آخر اللہ تعالی نے کھجور ہی پیدا کیوں کیا جبکہ وہ دوسری چیز بھی پیدا کرنے پر قادر ہے۔
تو آئیے اس سوال کا جواب جاننے کے لئے کھجور پر کی گئی چند جدید طبی تحقیقات اور ان کی روداد سے آپ کو روشناس کراؤں تاکہ نہ صرف کھجور میں موجود مخصوص فائدے کا ہمیں علم ہو بلکہ قران کے ترقی یافتہ ہونے پر ایک دلیل، اور جو اسلام اور اہل اسلام کو پسماندہ سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں، ان کی غلط فہمی کا ازالہ بھی ہو۔
پہلی روداد ۔
آٹھ نومبر 2019 کو "دا ٹائمز آف انڈیا” نے اپنی ویب سائٹ پر ایک مضمون شائع کیا جس کا موضوع تھا”
عورتوں کو بچے کی پیدائش کے بعد کیا چیزیں کھانا چاہیے؟”اس مضمون میں چند چیزوں کا مشورہ دیا گیا تھا جیسے میوے،پھل ،انڈے اور کچھ ہری سبزیاں۔اہم بات یہ ہے کہ اس مضمون میں ایک چیز کو اہم طور پرذکر کیا گیا تھا اور وہ چیز کوئی اور نہیں بلکہ کھجور تھی۔ اور اس بات کی خبر دی گئی تھی کہ وضع حمل یعنی بچہ پیدا ہونے کے بعد خون کی کمی کو پورا کرنے اور توانائی فراہم کرنے کے لئے کھجور ایک مفید غذا ہے۔
دوسری روداد سے پہلے ایک چیز کا جاننا ضروری ہے جو اس روداد کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
وہ یہ کہ امریکہ میں ایک بہت بڑا "ہیلتھ کیئر سسٹم” ہے جس کا نام ہے "او ایس ایف ہیلتھ کیئر جس کی بنیاد 1876 عیسوی میں رکھی گئی تھی، جو طبی خدمات فراہم کرتا ہے۔
اس کی روداد کے مطابق ایک بچہ پیدا ہونے کا جو عمل ہے اس میں اوسطا 12 سے 18 یا 12 سے 24 گھنٹے لگتے ہیں۔
اب دوسری روداد سنیے! "نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ” نے اپنی ویب سائٹ پر 2025 میں ایک تحقیق کو شائع کیا جس کے مطابق یورپ کے ایک ملک "بوسنیا اور ہرزیگووینا” کے دارالحکومت "سرجیوو” میں ایک امراض نسواں اور زرچگی کا ہسپتال ہے ۔اس میں 2020 میں 120 حاملہ عورتوں پر ایک تحقیق کی گئی جس کا موضوع تھا "کھجور کے استعمال سے زچگی کے آغاز اور اس کی پیشرفت پر اثرات”۔ جس کا طریقہ یہ تھا کہ 60 عورتوں کو آخر کے چار مہینوں میں روزانہ چھ کھجوریں کھلائی گئیں، جبکہ دوسری 60 عورتوں کو اس سے باز رکھا گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جن عورتوں نے کھجوریں کھائی تھی ان کے رحم کا منہ جلدی کھل گیا اور تقریبا آٹھ سے ساڑھے آٹھ گھنٹے میں بچے کی ولادت ہو گئی، اور ان میں بھی 60 فیصد خواتین کی جو ولادت تھی وہ "نیچرل برتھ” یعنی قدرتی ولادت ہوئی اور 40 فیصد عورتوں کو "آکسیٹوسن” کی ضرورت پڑی جو کہ ایک دوا ہے جو ولادت اور زچگی میں مددگار ثابت ہوتی ہے، جبکہ جن عورتوں نے کھجوریں نہیں کھائی تھی، ان کا بچہ پیدا ہونے کا جو عمل تھا وہ تقریبا 15 گھنٹوں تک جاری رہا۔
:تیسری روداد
اسی طرح انڈونیشیا کی "کدیری یونیورسٹی”کے "فیکلٹی آف ہیلتھ سائنس” کے محققین نے ایک تحقیق کی جس کا موضوع تھا "ماں کے دودھ پر کھجور کے اثرات” جس کا طریقہ کار یہ تھا کہ 15 عورتوں کو بچے کی ولادت کے بعد 10 دن تک تقریبا 100 گرام کھجوریں کھلائی گئی بایں طور کہ 50 گرام ناشتے کے بعد اور 50 گرام رات کے کھانے کے بعد۔اس کے بعد جب محققین نے بذات خود مشاہدہ کیا تو معلوم ہوا کہ کھجور کھانے سے ماؤں کی دودھ کی روانی اور اس میں اضافے پر مثبت اثر پڑا ہے، تحقیق کے مطابق 80 فیصد یعنی تقریبا 12 ماؤں میں دودھ کے اخراج میں روانی آئی ہے۔
ان تحقیقات کے علاوہ صرف کھجور میں موجود مفید غذائیت کی بات کریں تو دوسرے میووں کی بنسبت کھجور میں غذائیت کی کثرت پائی جاتی ہے۔ مثلا
Protein, Fiber, Carbs, Magnesium, Potassium, Iron, Vitamin اور alories وغیرہ ۔
اللہ کی قدرت دیکھیں کہ یہ سارے فوائد ایک ہی چیز میں موجود ہیں۔
نکتے کی بات یہ ہے کہ آج دنیا نے جب ترقی کی, آلات تحقیق وجود میں آئے، تجربہ گاہیں بنائی گئیں اور اس میں تجربے کیے گئے، اس کے بعد کھانے پینے کی اشیاء میں موجود پوشیدہ فوائد کو نمایا کیا گیا۔اور زمانے نےبطور خاص یہ معلوم کیا کہ حاملہ عورت کو، بچہ پیدا ہونےسے پہلے اور بعد میں کھجور کھانے سے کتنے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟ اس حقیقت کا انکشاف اس وقت ہوا جب دنیا میں تجربہ گاہوں کی کثرت اور تحقیقی الات کے فراوانی ہے اور جس دنیا کو ہم "مور ایڈوانسد” سمجھ رہے ہیں۔
لیکن سوچیے کہ قران کتنا "ایڈوانسڈ” ہےکہ جس تحقیق اور انکشاف سے دنیا کو آج آشنائی حاصل ہوئی ،قران نے ہمیں تقریبا 14.5 صدیوں پہلے ہی اس کے متعلق باخبر کر دیا تھا،جب قران نے حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کے ذریعے حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کا ذکر کیا۔
سورہ مريم کی آیت نمبر 24 میں قران حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کو مخاطب کر کے کہتاہے
اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی۔ القران
اپ ذرا سوچیں کہ جب حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہ کے توسط سے حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو اس وقت اللہ رب العزت نے ان کو کھانے کے لئے وہی چیز عطا کی جو ایک نئی ماں کے لئے سب سے مفید اور قوت بخش غذا تھی،یعنی کھجور،جس کی تصدیق آج کی جدید طبی تحقیقات بھی کر رہی ہے۔
نیز اسی آیت کے تحت مفسرین نے بھی یہ لکھا کہ نئی ماؤں کے لئے کھجور سے بہترین کوئی شے نہیں ہے، اور اگر کھجور سے بہتر کوئی چیز ہوتی تو اللہ رب العزت حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کو وہی چیز کھلاتا۔
اور تفسیر کی ایک کتاب "تفسیر نعیمی” میں اس کے مصنف "مفتی احمد یار خان نعیمی” نے اس سوال کہ "اللہ رب العزت نے حضرت کھجور ہی کیوں پیدا کیا؟ کے جواب میں 13 وجوہ بیان کی ہیں، اس میں سے ایک یہ ہے کہ "انسانی جسم کو توانائی بخشنے کے لئے جن مختلف غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب کے سب مناسب مقدار میں کھجور میں موجود ہیں۔اور آخری یعنی 13ویں نمبر پر جو وجہ بتائی وہ یہ کہ کھجور طبی اعتبار سے تقریبا 40 امراض میں مفید اور 40 تکلیف میں شفا ہے ۔
ان تحقیقات اور معلومات سے دن میں دوپہر کے وقت چمکتے ہوئے سورج طرح یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ قران پہلے بھی ترقی یافتہ تھا اج بھی ہے اور انشاءاللہ تبارک و تعالی قیامت تک ترقی یافتہ ہی رہے گا،اور قران کے ذریعے نوع انسانی کی عقل و خرد کے لئے حیران کن انکشافات مسلسل قیامت تک ہوتے رہیں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں