امریکہ میںآج یعنی 4 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات محض ایوانِ نمائندگان، سینیٹ اور مختلف ریاستوں کے گورنروں کے انتخاب تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت، پالیسیوں اور سیاسی مستقبل کا بھی امتحان ثابت ہوں گے۔ اگرچہ ووٹرز کے پیش نظر مہنگائی، روزگار، نئی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے خطرات، امیگریشن اور سماجی تقسیم جیسے داخلی مسائل ہوں گے، تاہم ان انتخابات کے نتائج کے اثرات امریکی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔ خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کی جنگوں کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کی خارجہ پالیسی کا مستقبل بھی ان نتائج سے متاثر ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ نے اقتدار میں واپسی کے بعد اپنے حامیوں سے کئی بڑے وعدے کیے تھے، جن میں طویل جنگوں کا خاتمہ، مہنگائی پر قابو پانا اور سیاسی و سماجی اشرافیہ کی اجارہ داری ختم کرنا شامل تھا، لیکن اب انہی محاذوں پر ان کی کارکردگی سوالات کی زد میں ہے۔ ایران کے خلاف یکطرفہ فوجی کارروائی اور اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی متوسط اور محنت کش طبقے کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ دوسری جانب ایپسٹین فائلز کے معاملے پر انتظامیہ کے متضاد بیانات نے بھی ٹرمپ کے حامیوں میں بداعتمادی پیدا کی ہے۔
اگر ری پبلکن پارٹی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اپنی اکثریت کھو دیتی ہے تو وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان سیاسی کشمکش میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔ اس صورت میں ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں، محصولات کے استعمال اور ایران و یوکرین سے متعلق حکمت عملی پر پارلیمانی نگرانی اور سوالات مزید سخت ہوسکتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ری پبلکن اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھنے یا اسے مزید مستحکم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ٹرمپ کو اپنی پالیسیوں پر آگے بڑھنے کا مزید حوصلہ ملے گا۔
بھارت بھی ان انتخابات کے نتائج پر گہری نظر رکھے گا۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں مسلسل قربت پیدا ہوئی ہے، لیکن ٹرمپ کی حالیہ پالیسیوں نے اس تعلق میں بعض پیچیدگیاں پیدا کی ہیں۔ نئی دہلی کی خواہش ہوگی کہ امریکی داخلی سیاست میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں واشنگٹن کو زیادہ متوازن اور باہمی تعلقات کے لئے سازگار پالیسی اختیار کرنے پر آمادہ کریں۔
تاہم ان انتخابات کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ امریکی صدر، خواہ وہ اپنی صدارتی اختیارات کے استعمال میں کتنے ہی پُرعزم کیوں نہ ہوں، ملکی جمہوری اداروں اور سیاسی مخالفت سے بالاتر نہیں ہوسکتے۔ امریکی جمہوریت کی اصل طاقت یہی ہے کہ مقننہ، عدلیہ اور سیاسی حزبِ اختلاف انتظامیہ کے غیر متوازن اور یکطرفہ فیصلوں کے سامنے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ یہی ادارہ جاتی توازن عالمی سطح پر امریکی طاقت کے من مانے استعمال کو محدود کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات اور ٹرمپ کی آزمائش
امریکی وسط مدتی انتخابات اور ٹرمپ کی آزمائش
امریکہ میںآج یعنی 4 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات محض ایوانِ نمائندگان، سینیٹ اور مختلف ریاستوں کے گورنروں کے انتخاب تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت، پالیسیوں اور سیاسی مستقبل کا بھی امتحان ثابت ہوں گے۔ اگرچہ ووٹرز کے پیش نظر مہنگائی، روزگار، نئی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے خطرات، امیگریشن اور سماجی تقسیم جیسے داخلی مسائل ہوں گے، تاہم ان انتخابات کے نتائج کے اثرات امریکی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔ خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کی جنگوں کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کی خارجہ پالیسی کا مستقبل بھی ان نتائج سے متاثر ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ نے اقتدار میں واپسی کے بعد اپنے حامیوں سے کئی بڑے وعدے کیے تھے، جن میں طویل جنگوں کا خاتمہ، مہنگائی پر قابو پانا اور سیاسی و سماجی اشرافیہ کی اجارہ داری ختم کرنا شامل تھا، لیکن اب انہی محاذوں پر ان کی کارکردگی سوالات کی زد میں ہے۔ ایران کے خلاف یکطرفہ فوجی کارروائی اور اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی متوسط اور محنت کش طبقے کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ دوسری جانب ایپسٹین فائلز کے معاملے پر انتظامیہ کے متضاد بیانات نے بھی ٹرمپ کے حامیوں میں بداعتمادی پیدا کی ہے۔
اگر ری پبلکن پارٹی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اپنی اکثریت کھو دیتی ہے تو وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان سیاسی کشمکش میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔ اس صورت میں ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں، محصولات کے استعمال اور ایران و یوکرین سے متعلق حکمت عملی پر پارلیمانی نگرانی اور سوالات مزید سخت ہوسکتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ری پبلکن اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھنے یا اسے مزید مستحکم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ٹرمپ کو اپنی پالیسیوں پر آگے بڑھنے کا مزید حوصلہ ملے گا۔
بھارت بھی ان انتخابات کے نتائج پر گہری نظر رکھے گا۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں مسلسل قربت پیدا ہوئی ہے، لیکن ٹرمپ کی حالیہ پالیسیوں نے اس تعلق میں بعض پیچیدگیاں پیدا کی ہیں۔ نئی دہلی کی خواہش ہوگی کہ امریکی داخلی سیاست میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں واشنگٹن کو زیادہ متوازن اور باہمی تعلقات کے لئے سازگار پالیسی اختیار کرنے پر آمادہ کریں۔
تاہم ان انتخابات کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ امریکی صدر، خواہ وہ اپنی صدارتی اختیارات کے استعمال میں کتنے ہی پُرعزم کیوں نہ ہوں، ملکی جمہوری اداروں اور سیاسی مخالفت سے بالاتر نہیں ہوسکتے۔ امریکی جمہوریت کی اصل طاقت یہی ہے کہ مقننہ، عدلیہ اور سیاسی حزبِ اختلاف انتظامیہ کے غیر متوازن اور یکطرفہ فیصلوں کے سامنے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ یہی ادارہ جاتی توازن عالمی سطح پر امریکی طاقت کے من مانے استعمال کو محدود کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔


