آغا روح اللہ کی نیشنل کانفرنس سےکنارہ کشی ، لوک سبھا نشست چھوڑنے کا اعلان

جنگ نیوز

سرینگر کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے منگل کو اپنے والد آغا سید مہدی کی برسی کے موقع پر نیشنل کانفرنس سے علیحدگی اور پارلیمانی عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور وقار کے تحفظ کے لئے نئی سیاسی تحریک شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔
بہشتِ زہرا پارک بڈگام میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے روح اللہ نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور پارٹی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس نے اقتدار میں آنے کے بعد دفعہ 370، ریزرویشن، قیدیوں کی رہائی، مفت بجلی اور اسمارٹ میٹروں کے خاتمے سمیت انتخابی وعدے پورے نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی نے انتخابات کے دوران ان کی مقبولیت سے فائدہ اٹھایا، لیکن اقتدار ملنے کے بعد عوامی وعدوں سے انحراف کیا۔ انہوں نے عمر عبداللہ پر عوامی مسائل کے بجائے اقتدار کو ترجیح دینے کا الزام بھی عائد کیا۔
روح اللہ نے جموں اور کشمیر کے نوجوانوں پر مشتمل ایک نئے سیاسی پلیٹ فارم کی تشکیل کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تمام مذاہب اور طبقوں کو نمائندگی دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ایک جماعت چھوڑ کر دوسری جماعت میں شامل ہونا نہیں بلکہ عوامی حقوق اور وقار کے لئے نئی سیاسی جدوجہد شروع کرنا ہے۔
انہوں نے مرکزی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب جموں و کشمیر اپنے سیاسی ایجنڈے کا تعین خود کرے گا۔
اس موقع پر انہوں نے 2010 کے احتجاجی واقعے میں جاں بحق ہونے والے طُفیل متو کے والد محمد اشرف متو سے اپیل کی کہ وہ ان کا استعفیٰ نیشنل کانفرنس صدر فاروق عبداللہ تک پہنچائیں۔
واضح رہے کہ لوک سبھا کی نشست اسپیکر کی جانب سے استعفیٰ منظور کیے جانے کے بعد ہی خالی ہوگی۔ روح اللہ کے آئندہ سیاسی لائحہ عمل کے بارے میں فی الحال کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

نیشنل کانفرنس کا جوابی وار

سری نگر/نیشنل کانفرنس نے آغا روح اللہ مہدی کی حالیہ تقریر پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ان کی ذہنی و اخلاقی پستی اور خود غرضی کا مظہر قرار دیا ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ روح اللہ نے خصوصی حیثیت اور ریزرویشن کے مسائل کو پارٹی سے علیحدگی کا جواز بنایا، حالانکہ وہ برسوں تک ان معاملات پر خاموش رہے۔
پارٹی کے مطابق روح اللہ نے 2010 میں وزیر کی حیثیت سے عہدہ قبول کیا اور 2014 میں بھی نیشنل کانفرنس کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کے خواہش مند تھے، لیکن اس وقت انہیں 2010 کے واقعات یاد نہیں آئے۔ پارٹی نے سوال کیا کہ اگر یہ مسائل اتنے ہی اہم تھے تو انہوں نے 16 سال تک آواز کیوں نہیں اٹھائی؟
نیشنل کانفرنس نے کہا کہ روح اللہ نے 6 نومبر 2024 کو اسمبلی میں خصوصی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک وعدے کی تکمیل قرار دیا تھا۔ پارٹی نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں خصوصی حیثیت یا ریاستی درجے کی بحالی کے لئے ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت حاصل کرنے، کوئی قرارداد پیش کرنے یا بل لانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔
ریزرویشن کے معاملے پر پارٹی نے کہا کہ یہ ناانصافی لیفٹیننٹ گورنر کے دور میں ہوئی، جبکہ نیشنل کانفرنس نے اسے انتخابی منشور میں شامل کرکے اصلاحات کا وعدہ کیا اور کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دے کر تبدیلیوں کی سفارش کی۔ تاہم، متعلقہ فائل بااختیار حلقوں میں زیرِ التوا ہے۔ پارٹی نے سوال کیا کہ روح اللہ نے اس معاملے پر مرکز یا لیفٹیننٹ گورنر سے جواب طلب کیوں نہیں کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ نیشنل کانفرنس کی جدوجہد ریاستی درجے کی بحالی کے لئے ضرور ہے، لیکن یہ خصوصی حیثیت کی قیمت پر نہیں ہوگی۔ پارٹی نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کی شناخت اور آئینی حقوق کا تحفظ اس کے 90 سالہ سیاسی نظریے کی بنیاد ہے۔
نیشنل کانفرنس نے روح اللہ پر بڈگام اسمبلی ضمنی انتخاب میں پارٹی کی شکست کا سبب بننے میں کردار ادا کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور سوال کیا کہ اس وقت ان کا ضمیر کہاں تھا۔ پارٹی کے مطابق روح اللہ نے اسی جماعت سے سیاسی شناخت حاصل کی، تین مرتبہ رکنِ اسمبلی رہے، وزیر بنے، پارٹی ترجمانِ اعلیٰ رہے اور اسی کے ٹکٹ پر رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔
بیان میں ان کے استعفے کے فیصلے کو تاخیر سے کیا گیا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ سنجیدہ سیاسی جدوجہد کے بجائے ڈرامے بازی اور سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرنے سے عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

امریکی وسط مدتی انتخابات اور ٹرمپ کی آزمائش

امریکہ میںآج یعنی 4 نومبر کو ہونے والے وسط...

پاورگرڈ کا دوسری سہ ماہی میں 3,866 کروڑ روپے کا منافع (PAT)، سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ

  سرینگر جنگ ڈیسک پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پاورگرڈ)،...

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

متحدہ مجلسِ علما ء نے اننت ناگ میں مسجد پر حملے کی مذمت کی

جنگ نیوز ڈیسک متحدہ مجلسِ علما جموں و کشمیرنے اننت...

تازہ ترین خبریں

امریکی وسط مدتی انتخابات اور ٹرمپ کی آزمائش

امریکہ میںآج یعنی 4 نومبر کو ہونے والے وسط...

پاورگرڈ کا دوسری سہ ماہی میں 3,866 کروڑ روپے کا منافع (PAT)، سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ

  سرینگر جنگ ڈیسک پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پاورگرڈ)،...

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

متحدہ مجلسِ علما ء نے اننت ناگ میں مسجد پر حملے کی مذمت کی

جنگ نیوز ڈیسک متحدہ مجلسِ علما جموں و کشمیرنے اننت...

آغا روح اللہ کی نیشنل کانفرنس سےکنارہ کشی ، لوک سبھا نشست چھوڑنے کا اعلان

جنگ نیوز

سرینگر کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے منگل کو اپنے والد آغا سید مہدی کی برسی کے موقع پر نیشنل کانفرنس سے علیحدگی اور پارلیمانی عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور وقار کے تحفظ کے لئے نئی سیاسی تحریک شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔
بہشتِ زہرا پارک بڈگام میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے روح اللہ نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور پارٹی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس نے اقتدار میں آنے کے بعد دفعہ 370، ریزرویشن، قیدیوں کی رہائی، مفت بجلی اور اسمارٹ میٹروں کے خاتمے سمیت انتخابی وعدے پورے نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی نے انتخابات کے دوران ان کی مقبولیت سے فائدہ اٹھایا، لیکن اقتدار ملنے کے بعد عوامی وعدوں سے انحراف کیا۔ انہوں نے عمر عبداللہ پر عوامی مسائل کے بجائے اقتدار کو ترجیح دینے کا الزام بھی عائد کیا۔
روح اللہ نے جموں اور کشمیر کے نوجوانوں پر مشتمل ایک نئے سیاسی پلیٹ فارم کی تشکیل کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تمام مذاہب اور طبقوں کو نمائندگی دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ایک جماعت چھوڑ کر دوسری جماعت میں شامل ہونا نہیں بلکہ عوامی حقوق اور وقار کے لئے نئی سیاسی جدوجہد شروع کرنا ہے۔
انہوں نے مرکزی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب جموں و کشمیر اپنے سیاسی ایجنڈے کا تعین خود کرے گا۔
اس موقع پر انہوں نے 2010 کے احتجاجی واقعے میں جاں بحق ہونے والے طُفیل متو کے والد محمد اشرف متو سے اپیل کی کہ وہ ان کا استعفیٰ نیشنل کانفرنس صدر فاروق عبداللہ تک پہنچائیں۔
واضح رہے کہ لوک سبھا کی نشست اسپیکر کی جانب سے استعفیٰ منظور کیے جانے کے بعد ہی خالی ہوگی۔ روح اللہ کے آئندہ سیاسی لائحہ عمل کے بارے میں فی الحال کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

نیشنل کانفرنس کا جوابی وار

سری نگر/نیشنل کانفرنس نے آغا روح اللہ مہدی کی حالیہ تقریر پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ان کی ذہنی و اخلاقی پستی اور خود غرضی کا مظہر قرار دیا ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ روح اللہ نے خصوصی حیثیت اور ریزرویشن کے مسائل کو پارٹی سے علیحدگی کا جواز بنایا، حالانکہ وہ برسوں تک ان معاملات پر خاموش رہے۔
پارٹی کے مطابق روح اللہ نے 2010 میں وزیر کی حیثیت سے عہدہ قبول کیا اور 2014 میں بھی نیشنل کانفرنس کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کے خواہش مند تھے، لیکن اس وقت انہیں 2010 کے واقعات یاد نہیں آئے۔ پارٹی نے سوال کیا کہ اگر یہ مسائل اتنے ہی اہم تھے تو انہوں نے 16 سال تک آواز کیوں نہیں اٹھائی؟
نیشنل کانفرنس نے کہا کہ روح اللہ نے 6 نومبر 2024 کو اسمبلی میں خصوصی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک وعدے کی تکمیل قرار دیا تھا۔ پارٹی نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں خصوصی حیثیت یا ریاستی درجے کی بحالی کے لئے ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت حاصل کرنے، کوئی قرارداد پیش کرنے یا بل لانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔
ریزرویشن کے معاملے پر پارٹی نے کہا کہ یہ ناانصافی لیفٹیننٹ گورنر کے دور میں ہوئی، جبکہ نیشنل کانفرنس نے اسے انتخابی منشور میں شامل کرکے اصلاحات کا وعدہ کیا اور کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دے کر تبدیلیوں کی سفارش کی۔ تاہم، متعلقہ فائل بااختیار حلقوں میں زیرِ التوا ہے۔ پارٹی نے سوال کیا کہ روح اللہ نے اس معاملے پر مرکز یا لیفٹیننٹ گورنر سے جواب طلب کیوں نہیں کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ نیشنل کانفرنس کی جدوجہد ریاستی درجے کی بحالی کے لئے ضرور ہے، لیکن یہ خصوصی حیثیت کی قیمت پر نہیں ہوگی۔ پارٹی نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کی شناخت اور آئینی حقوق کا تحفظ اس کے 90 سالہ سیاسی نظریے کی بنیاد ہے۔
نیشنل کانفرنس نے روح اللہ پر بڈگام اسمبلی ضمنی انتخاب میں پارٹی کی شکست کا سبب بننے میں کردار ادا کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور سوال کیا کہ اس وقت ان کا ضمیر کہاں تھا۔ پارٹی کے مطابق روح اللہ نے اسی جماعت سے سیاسی شناخت حاصل کی، تین مرتبہ رکنِ اسمبلی رہے، وزیر بنے، پارٹی ترجمانِ اعلیٰ رہے اور اسی کے ٹکٹ پر رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔
بیان میں ان کے استعفے کے فیصلے کو تاخیر سے کیا گیا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ سنجیدہ سیاسی جدوجہد کے بجائے ڈرامے بازی اور سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرنے سے عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں