جنگ نیوز
سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر عزیز حاجنی کی زندگی اور ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ہفتے کے روز ٹیگور ہال سرینگر میں ایک روزہ ادبی سمپوزیم منعقد ہوا۔ اس کا اہتمام ساہتیہ اکیڈمی نئی دہلی نے حلقۂ ادب سوناواری اور وہاب کلچرل سوسائٹی حاجن کے اشتراک سے کیا تھا۔
تقریب میں آئی اے ایس افسراطہر عامر خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ معروف ماہر امراض سینہ ڈاکٹر نوید نذیر شاہ مہمان اعزازی تھے۔ ساہتیہ اکیڈمی کے جنرل کونسل رکن محمد زمان آزردہ نے صدارتی خطاب کیا۔
اَتھر عامر نے ڈاکٹر عزیز حاجنی کی شاعری میں امید اور مثبت سوچ کو ان کی نمایاں خصوصیت قرار دیا، جبکہ مقررین نے کشمیری زبان کے فروغ، ادبی اداروں کے استحکام اور مادری زبان کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کے لئے ان کی خدمات کو سراہا۔
کلیدی خطبہ کشمیری ایڈوائزری بورڈ کے کنوینر شاد رمضان نے پیش کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عزیز حاجنی کے فرزند اور معروف براڈکاسٹر اظہر حاجنی بھی موجود تھے۔
سمپوزیم کے مختلف علمی اجلاسوں میں فاروق فیاض، اعجاز محمد شیخ، ریاض الحسن، شاکر شفیع، مجید مجازی، جی این شاکر، عادل محی الدین، طارق خاور، نذیر جاوید، محی الدین پوشپوری، سعد الدین سادی اور ناصر مرزا سمیت متعدد ادیبوں اور محققین نے مقالات پیش کیے۔ محمد امین بھٹ اور دیگر ادبی شخصیات نے بھی اجلاسوں میں شرکت کی۔
مقررین نے ڈاکٹر عزیز حاجنی کو ایک ممتاز شاعر، نقاد، ثقافتی کارکن اور منتظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیری زبان و ادب کے ادارہ جاتی فروغ کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ سمپوزیم کا اختتام کشمیری زبان، ادب اور تہذیبی ورثے کے تحفظ و فروغ کے عزم کے ساتھ ہوا۔


