
اسلم ٹیٹاگڑھی
غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں غم کے مارو مجھے تم نہ آواز دو
گھر سے نکلا ہوں میں ڈھونڈنے کو خوشی بیقرارو مجھے تم نہ آواز دو
میری دنیا سیہ میری قسمت سیہ مجھ پہ تاریکیوں کا ابھی راج ہے
ہوں اسیرِ اندھیرا ابھی اس لئے ائے شرارو مجھے تم نہ آواز دو
رہشے ریشے میں پنہاں میرا زہر ہے میری ہستی جہاں کے لئے قہر ہے
میرا کانٹوں میں لپٹا ہوا ہے بدن گل گدارو مجھے تم نہ آواز دو
مت سہارا بنو مت اُڑاؤ ہنسی لٹ چکی اِس جہاں میں میری ہر خوشی
چاندنی رات بھی دیکھو بھائے نہ اب ماہ پارو مجھے تم نہ آواز دو
ہر طرف بے بسی بے کلی بے حسی لے کے جاؤں کہاں زندگی بے سُری
ڈوب جانے میں ہی ہے بھللائی میری ائے کنارو مجھے تم نہ آواز دو
زندگی دینے والے نے اہسا کیا جو بھرے نہ کبھی زخم ویسا دیا
مصلحت سے میں رب کی ہوں نا آشنا ضرردارو مجھے تم نہ آواز دو
اک بلَا نا گہانی نے غمگین کی وار ہنستے گھرانے پہ سنگین کی
شاعری سے بھی اسلم ہے اب بے خبر سخن شعارو مجھے تم نہ آواز دو


