افسانہ : قید آرزو

 

 

 

oplus_1059

شگفتہ پروین

رات کے دو بج رہے تھے۔ کمرے میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک اس خاموشی میں غیر معمولی طور پر بلند محسوس ہو رہی تھی۔
حرا اپنی گود میں ایک پرانی ڈائری کھولے بیٹھی تھی۔ ڈائری کے ایک صفحے پر اس کے بچپن کی ایک تحریر آج بھی واضح تھی:
’’مجھے بڑے ہو کر اپنی اُستانی جیسی ہی ایک اسکول ٹیچر بننا ہے۔‘‘
اس رات نہ جانے کتنی مرتبہ اس نے ان الفاظ کو پڑھا۔ ہر بار اس کے دل میں ایک ہی عزم تازہ ہوتا کہ وہ اپنے بچپن کی اس ادھوری خواہش کو ایک دن ضرور پورا کرے گی۔
بچپن ہی سے حرا کو پڑھنے کا شوق تھا۔ وہ اکثر اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اُستانی بن جایا کرتی اور سب کو بڑے اہتمام سے پڑھاتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا یہ شوق محض ایک خواہش نہیں بلکہ زندگی کا مقصد بن گیا تھا۔ وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی، اپنے قدموں پر کھڑا ہونا چاہتی تھی اور ایک کامیاب معلمہ بن کر اپنے والدین کا نام روشن کرنا چاہتی تھی۔
لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
کالج کے آخری سمسٹر میں اس کے لئے ایک رشتہ آیا اور جلد ہی اس کی شادی کر دی گئی۔ حرا نے بہت مزاحمت کی، اپنے والدین کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ وہ ابھی مزید پڑھنا چاہتی ہے، اس کے کچھ خواب ہیں، کچھ ارمان ہیں جنہیں وہ حقیقت کا روپ دینا چاہتی ہے۔ مگر اس کی خواہشات کے سامنے خاندان کی روایات اور والدین کے فیصلے زیادہ اہم تھے۔
آخرکار اماں نے صاف الفاظ میں کہہ دیا:
’’ہمارے خاندان کی لڑکیاں اس قسم کے شوق نہیں پالتیں۔ میں اور تمہارے ابا چاہتے ہیں کہ اپنی ذمہ داری سے جلد از جلد فارغ ہو جائیں۔‘‘
اور یوں ایک ہی لمحے میں حرا کے خواب تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔
شادی کے بعد اس نے اپنی تمام تر توجہ نئے گھر کو آباد کرنے میں لگا دی۔ شوہر کی ہر ضرورت کا خیال رکھا، ساس سسر کی دل و جان سے خدمت کی اور اپنی خواہشات کو ہمیشہ دوسروں کی خوشیوں کے پیچھے چھپائے رکھا۔ اسے لگتا تھا کہ شاید اسی طرح وہ ایک اچھی بیوی اور اچھی بہو ہونے کا حق ادا کر سکے گی۔
مگر شادی کے پانچ سال گزر جانے کے باوجود جب اس کی گود نہ بھری تو اس کے لئے زندگی مزید دشوار ہو گئی۔ سسرال والوں کے رویے میں تلخی آنے لگی۔ آئے دن اسے طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا اور اس کی ساس اکثر اپنے بیٹے کی دوسری شادی کی دھمکی دیتی۔
حرا ان دھمکیوں سے خوف زدہ ہو جاتی۔ وہ بار بار اپنے سسرالیوں کی منت سماجت کرتی کہ اسے اس طرح اذیت نہ دی جائے۔ اسے امید تھی کہ شاید ایک دن اس کے شوہر کو اس کی محبت، وفاداری اور قربانیوں کا احساس ہو جائے گا۔
لیکن قسمت نے اسے ایک اور امتحان میں ڈال دیا۔
بالآخر اس کے شوہر نے دوسری شادی کر لی۔ اس دن کے بعد حرا کی حیثیت اس گھر میں محض ایک ملازمہ جیسی رہ گئی۔ جس گھر کو اس نے اپنی محبت اور محنت سے سنوارنے کی کوشش کی تھی، وہاں اب اس کے لئے عزت اور اپنائیت کے چند لفظ بھی باقی نہ رہے تھے۔
جب بھی وہ اپنے شوہر سے بات کرنے کی کوشش کرتی، وہ کسی نہ کسی بہانے سے اسے ٹال دیتا۔ کبھی اپنے دکھ کا اظہار کرتی یا کسی بات کی شکایت کرتی تو جواب میں اسے صرف چند تلخ جملے سننے کو ملتے:
’’اس گھر میں تمہیں اب بھی رکھا ہوا ہے، تمہیں طلاق بھی نہیں دی، اب بھی اپنا نام دیا ہوا ہے۔ اور کیا چاہیے تمہیں؟‘‘
وہ ہمیشہ اسی لہجے میں بات کرتا اور ہر بار حرا کا دل ایک نئے انداز سے ٹوٹ جاتا۔ وہ خاموشی سے اس کی باتیں سنتی اور اپنے آنسوؤں کو پلکوں کے پیچھے چھپا لیتی۔ شاید اسے اب بھی اس گھر سے زیادہ اپنے رشتے کے ٹوٹ جانے کا خوف تھا۔
اس رات بھی کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں سونے چلے گئے تھے۔ حرا نے کچن کا سارا کام سمیٹا، برتن صاف کیے اور تھکے ہوئے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ موسم میں ایک عجیب سی اداسی تھی۔ وہ کچھ دیر خاموش کھڑی رہی، پھر الماری کی طرف بڑھی اور وہاں سے اپنی پرانی ڈائری نکال لی۔
کھڑکی کے قریب ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ باہر بارش کی بوندیں شیشے سے ٹکرا رہی تھیں اور وہ ڈائری کے ایک کے بعد ایک صفحے پلٹتی جا رہی تھی۔
ہر صفحے پر اس کی اپنی ہی تحریر تھی۔ کہیں مستقبل کے خواب تھے، کہیں چھوٹی چھوٹی خواہشات اور کہیں ایک ہی جملہ بار بار لکھا ہوا تھا:
’’مجھے بڑے ہو کر اپنی اُستانی جیسی ہی ایک اسکول ٹیچر بننا ہے۔‘‘
وہ ان الفاظ کو دیکھتی رہی۔ یہ محض چند سطریں نہیں تھیں بلکہ اس کی زندگی کا وہ حصہ تھا جسے اس نے کبھی جیا ہی نہیں دیا تھا۔ یہ وہ خواب تھا جسے اس نے اپنے گھر والوں کی خوشی، اپنے شوہر کی رضا اور رشتوں کو نبھانے کی خاطر قربان کر دیا تھا۔
آج پہلی مرتبہ اسے شدت سے احساس ہوا کہ اس نے سب کے لئے جیتے جیتے خود کو کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اس کی آنکھوں سے چند آنسو ڈائری کے صفحے پر آ گرے۔ اس نے جلدی سے انہیں صاف کیا اور ڈائری بند کر دی۔
نہیں! اب مزید نہیں۔
اب وہ اپنی باقی زندگی صرف دوسروں کی خوشنودی کے لئے نہیں گزارے گی۔ وہ اپنی تعلیم مکمل کرے گی، اپنے خواب کو حقیقت بنائے گی اور اپنی ایک الگ پہچان قائم کرے گی۔ اسے معلوم تھا کہ اس فیصلے کی راہ آسان نہیں ہوگی۔ اپنے ہی لوگوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا، طعنے سننے پڑیں گے اور شاید اس کے خلاف سب سے پہلا پتھر بھی کسی اپنے ہی ہاتھ سے اٹھے گا۔
مگر اب وہ خوف زدہ نہیں تھی۔
وہ جانتی تھی کہ زندگی میں اس نے بہت سے مقامات پر اپنی عزتِ نفس کو مجروح ہونے دیا، اپنی خاموشی کو اپنی مجبوری بنایا اور دوسروں کی خوشی کے لئے اپنے وجود تک کو نظرانداز کیا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عزتِ نفس کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ پھر آخر کب تک وہ اپنے وجود کی نفی کرتی رہے گی؟ کب تک دوسروں کے فیصلوں کو اپنی تقدیر سمجھ کر قبول کرتی رہے گی؟
اس نے ایک بار پھر ڈائری کھولی، آخری خالی صفحے پر قلم رکھا اور بڑی مضبوطی سے لکھا:
’’میں حرا ہوں، اور اب مجھے اپنی زندگی اپنے خوابوں کے مطابق جینی ہے۔ میں ایک دن ضرور اسکول ٹیچر بنوں گی۔ یہ میرا خواب تھا، ہے اور رہے گا۔‘‘
اس نے قلم بند کیا، ڈائری سینے سے لگائی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
بارش اب تھم چکی تھی۔
شاید اس کی زندگی میں بھی ایک نئی صبح ہونے والی تھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

افسانہ : قید آرزو

 

 

 

oplus_1059

شگفتہ پروین

رات کے دو بج رہے تھے۔ کمرے میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک اس خاموشی میں غیر معمولی طور پر بلند محسوس ہو رہی تھی۔
حرا اپنی گود میں ایک پرانی ڈائری کھولے بیٹھی تھی۔ ڈائری کے ایک صفحے پر اس کے بچپن کی ایک تحریر آج بھی واضح تھی:
’’مجھے بڑے ہو کر اپنی اُستانی جیسی ہی ایک اسکول ٹیچر بننا ہے۔‘‘
اس رات نہ جانے کتنی مرتبہ اس نے ان الفاظ کو پڑھا۔ ہر بار اس کے دل میں ایک ہی عزم تازہ ہوتا کہ وہ اپنے بچپن کی اس ادھوری خواہش کو ایک دن ضرور پورا کرے گی۔
بچپن ہی سے حرا کو پڑھنے کا شوق تھا۔ وہ اکثر اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اُستانی بن جایا کرتی اور سب کو بڑے اہتمام سے پڑھاتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا یہ شوق محض ایک خواہش نہیں بلکہ زندگی کا مقصد بن گیا تھا۔ وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی، اپنے قدموں پر کھڑا ہونا چاہتی تھی اور ایک کامیاب معلمہ بن کر اپنے والدین کا نام روشن کرنا چاہتی تھی۔
لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
کالج کے آخری سمسٹر میں اس کے لئے ایک رشتہ آیا اور جلد ہی اس کی شادی کر دی گئی۔ حرا نے بہت مزاحمت کی، اپنے والدین کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ وہ ابھی مزید پڑھنا چاہتی ہے، اس کے کچھ خواب ہیں، کچھ ارمان ہیں جنہیں وہ حقیقت کا روپ دینا چاہتی ہے۔ مگر اس کی خواہشات کے سامنے خاندان کی روایات اور والدین کے فیصلے زیادہ اہم تھے۔
آخرکار اماں نے صاف الفاظ میں کہہ دیا:
’’ہمارے خاندان کی لڑکیاں اس قسم کے شوق نہیں پالتیں۔ میں اور تمہارے ابا چاہتے ہیں کہ اپنی ذمہ داری سے جلد از جلد فارغ ہو جائیں۔‘‘
اور یوں ایک ہی لمحے میں حرا کے خواب تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔
شادی کے بعد اس نے اپنی تمام تر توجہ نئے گھر کو آباد کرنے میں لگا دی۔ شوہر کی ہر ضرورت کا خیال رکھا، ساس سسر کی دل و جان سے خدمت کی اور اپنی خواہشات کو ہمیشہ دوسروں کی خوشیوں کے پیچھے چھپائے رکھا۔ اسے لگتا تھا کہ شاید اسی طرح وہ ایک اچھی بیوی اور اچھی بہو ہونے کا حق ادا کر سکے گی۔
مگر شادی کے پانچ سال گزر جانے کے باوجود جب اس کی گود نہ بھری تو اس کے لئے زندگی مزید دشوار ہو گئی۔ سسرال والوں کے رویے میں تلخی آنے لگی۔ آئے دن اسے طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا اور اس کی ساس اکثر اپنے بیٹے کی دوسری شادی کی دھمکی دیتی۔
حرا ان دھمکیوں سے خوف زدہ ہو جاتی۔ وہ بار بار اپنے سسرالیوں کی منت سماجت کرتی کہ اسے اس طرح اذیت نہ دی جائے۔ اسے امید تھی کہ شاید ایک دن اس کے شوہر کو اس کی محبت، وفاداری اور قربانیوں کا احساس ہو جائے گا۔
لیکن قسمت نے اسے ایک اور امتحان میں ڈال دیا۔
بالآخر اس کے شوہر نے دوسری شادی کر لی۔ اس دن کے بعد حرا کی حیثیت اس گھر میں محض ایک ملازمہ جیسی رہ گئی۔ جس گھر کو اس نے اپنی محبت اور محنت سے سنوارنے کی کوشش کی تھی، وہاں اب اس کے لئے عزت اور اپنائیت کے چند لفظ بھی باقی نہ رہے تھے۔
جب بھی وہ اپنے شوہر سے بات کرنے کی کوشش کرتی، وہ کسی نہ کسی بہانے سے اسے ٹال دیتا۔ کبھی اپنے دکھ کا اظہار کرتی یا کسی بات کی شکایت کرتی تو جواب میں اسے صرف چند تلخ جملے سننے کو ملتے:
’’اس گھر میں تمہیں اب بھی رکھا ہوا ہے، تمہیں طلاق بھی نہیں دی، اب بھی اپنا نام دیا ہوا ہے۔ اور کیا چاہیے تمہیں؟‘‘
وہ ہمیشہ اسی لہجے میں بات کرتا اور ہر بار حرا کا دل ایک نئے انداز سے ٹوٹ جاتا۔ وہ خاموشی سے اس کی باتیں سنتی اور اپنے آنسوؤں کو پلکوں کے پیچھے چھپا لیتی۔ شاید اسے اب بھی اس گھر سے زیادہ اپنے رشتے کے ٹوٹ جانے کا خوف تھا۔
اس رات بھی کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں سونے چلے گئے تھے۔ حرا نے کچن کا سارا کام سمیٹا، برتن صاف کیے اور تھکے ہوئے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ موسم میں ایک عجیب سی اداسی تھی۔ وہ کچھ دیر خاموش کھڑی رہی، پھر الماری کی طرف بڑھی اور وہاں سے اپنی پرانی ڈائری نکال لی۔
کھڑکی کے قریب ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ باہر بارش کی بوندیں شیشے سے ٹکرا رہی تھیں اور وہ ڈائری کے ایک کے بعد ایک صفحے پلٹتی جا رہی تھی۔
ہر صفحے پر اس کی اپنی ہی تحریر تھی۔ کہیں مستقبل کے خواب تھے، کہیں چھوٹی چھوٹی خواہشات اور کہیں ایک ہی جملہ بار بار لکھا ہوا تھا:
’’مجھے بڑے ہو کر اپنی اُستانی جیسی ہی ایک اسکول ٹیچر بننا ہے۔‘‘
وہ ان الفاظ کو دیکھتی رہی۔ یہ محض چند سطریں نہیں تھیں بلکہ اس کی زندگی کا وہ حصہ تھا جسے اس نے کبھی جیا ہی نہیں دیا تھا۔ یہ وہ خواب تھا جسے اس نے اپنے گھر والوں کی خوشی، اپنے شوہر کی رضا اور رشتوں کو نبھانے کی خاطر قربان کر دیا تھا۔
آج پہلی مرتبہ اسے شدت سے احساس ہوا کہ اس نے سب کے لئے جیتے جیتے خود کو کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اس کی آنکھوں سے چند آنسو ڈائری کے صفحے پر آ گرے۔ اس نے جلدی سے انہیں صاف کیا اور ڈائری بند کر دی۔
نہیں! اب مزید نہیں۔
اب وہ اپنی باقی زندگی صرف دوسروں کی خوشنودی کے لئے نہیں گزارے گی۔ وہ اپنی تعلیم مکمل کرے گی، اپنے خواب کو حقیقت بنائے گی اور اپنی ایک الگ پہچان قائم کرے گی۔ اسے معلوم تھا کہ اس فیصلے کی راہ آسان نہیں ہوگی۔ اپنے ہی لوگوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا، طعنے سننے پڑیں گے اور شاید اس کے خلاف سب سے پہلا پتھر بھی کسی اپنے ہی ہاتھ سے اٹھے گا۔
مگر اب وہ خوف زدہ نہیں تھی۔
وہ جانتی تھی کہ زندگی میں اس نے بہت سے مقامات پر اپنی عزتِ نفس کو مجروح ہونے دیا، اپنی خاموشی کو اپنی مجبوری بنایا اور دوسروں کی خوشی کے لئے اپنے وجود تک کو نظرانداز کیا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عزتِ نفس کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ پھر آخر کب تک وہ اپنے وجود کی نفی کرتی رہے گی؟ کب تک دوسروں کے فیصلوں کو اپنی تقدیر سمجھ کر قبول کرتی رہے گی؟
اس نے ایک بار پھر ڈائری کھولی، آخری خالی صفحے پر قلم رکھا اور بڑی مضبوطی سے لکھا:
’’میں حرا ہوں، اور اب مجھے اپنی زندگی اپنے خوابوں کے مطابق جینی ہے۔ میں ایک دن ضرور اسکول ٹیچر بنوں گی۔ یہ میرا خواب تھا، ہے اور رہے گا۔‘‘
اس نے قلم بند کیا، ڈائری سینے سے لگائی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
بارش اب تھم چکی تھی۔
شاید اس کی زندگی میں بھی ایک نئی صبح ہونے والی تھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون