اسرائیل کے حالیہ انتخابی نتائج نے ایک بار پھر ملک کی گہری سیاسی تقسیم کو بے نقاب کردیا ہے۔ 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت سازی کے لئے درکار 61 نشستیں کوئی بھی سیاسی اتحاد حاصل نہیں کرسکا۔ وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے حریف گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں دونوں دھڑے اکثریت سے محروم رہے، جس سے حکومت سازی کا عمل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگیا ہے۔
حماس کے ہولناک حملے کے بعد ہونے والے اس پہلے انتخاب کو اپوزیشن نے نیتن یاہو کی سلامتی پالیسیوں اور حکومتی ناکامیوں پر عوامی فیصلے کے طور پر پیش کیا تھا۔ تاہم نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی عوام نے انہیں مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔ ان کی جماعت لیکوڈ نے 27 نشستیں حاصل کیں، جبکہ دائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو 53 نشستیں ملیں۔ اس کے باوجود یہ کامیابی حکومت سازی کے لئے واضح عوامی مینڈیٹ نہیں ہے۔
ان انتخابات کا سب سے اہم پہلو عرب سیاسی جماعتوں کی غیر معمولی کامیابی ہے، جنہوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں۔ یہ ان کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اسرائیل کی تقریباً پانچویں آبادی پر مشتمل عرب برادری نے سیاسی شراکت داری اور مشترکہ نمائندگی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ایسے میں حکومت سازی کے کسی بھی ممکنہ فارمولے میں ان کا کردار فیصلہ کن ہوسکتا ہے۔
تاہم عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کا راستہ آسان دکھائی نہیں دیتا۔ نیتن یاہو کی ان جماعتوں کے تئیں مخالفت کسی سے پوشیدہ نہیں، جبکہ گادی آئزنکوٹ نے بھی قومی سلامتی اور غزہ کے معاملات پر اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے ساتھ اتحاد سے گریز کیا ہے۔ دوسری جانب نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کے درمیان قومی اتحاد کی حکومت کا قیام بھی مشکل نظر آتا ہے۔
یہ صورتحال اسرائیلی جمہوریت کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کرتی ہے کہ کیا سیاسی قیادت نظریاتی اختلافات اور اقتدار کی کشمکش سے بالاتر ہوکر مستحکم حکومت تشکیل دے سکتی ہے؟ مسلسل انتخابی بحران اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیلی سیاست میں قومی سلامتی، فلسطین پالیسی، عرب شہریوں کے حقوق اور ریاست کی سیاسی شناخت جیسے مسائل گہرائی سے پیوست ہیں۔
حکومت سازی کے مذاکرات کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتے ہیں اور اتفاقِ رائے نہ ہونے کی صورت میں ایک اور انتخاب کا امکان بھی موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نتائج کسی ایک سیاسی قوت کی واضح فتح کے بجائے اسرائیلی معاشرے کی تقسیم اور سیاسی نظام کی کمزوریوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
عرب جماعتوں کی کامیابی نے نئی سیاسی گنجائش ضرور پیدا کی ہے، لیکن اسے حقیقی تبدیلی میں بدلنے کے لئے اسرائیلی قیادت کو روایتی تعصبات اور اقتدار کی سیاست سے باہر نکلنا ہوگا۔ محض حکومت کی تشکیل سیاسی استحکام کی ضمانت نہیں؛ اصل امتحان مساوات، جمہوری شراکت داری اور فلسطینی مسئلے کے پائیدار حل کی جانب پیش رفت ہے۔
اسرائیل کے انتخابی نتائج
اسرائیل کے انتخابی نتائج
اسرائیل کے حالیہ انتخابی نتائج نے ایک بار پھر ملک کی گہری سیاسی تقسیم کو بے نقاب کردیا ہے۔ 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت سازی کے لئے درکار 61 نشستیں کوئی بھی سیاسی اتحاد حاصل نہیں کرسکا۔ وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے حریف گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں دونوں دھڑے اکثریت سے محروم رہے، جس سے حکومت سازی کا عمل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگیا ہے۔
حماس کے ہولناک حملے کے بعد ہونے والے اس پہلے انتخاب کو اپوزیشن نے نیتن یاہو کی سلامتی پالیسیوں اور حکومتی ناکامیوں پر عوامی فیصلے کے طور پر پیش کیا تھا۔ تاہم نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی عوام نے انہیں مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔ ان کی جماعت لیکوڈ نے 27 نشستیں حاصل کیں، جبکہ دائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو 53 نشستیں ملیں۔ اس کے باوجود یہ کامیابی حکومت سازی کے لئے واضح عوامی مینڈیٹ نہیں ہے۔
ان انتخابات کا سب سے اہم پہلو عرب سیاسی جماعتوں کی غیر معمولی کامیابی ہے، جنہوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں۔ یہ ان کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اسرائیل کی تقریباً پانچویں آبادی پر مشتمل عرب برادری نے سیاسی شراکت داری اور مشترکہ نمائندگی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ایسے میں حکومت سازی کے کسی بھی ممکنہ فارمولے میں ان کا کردار فیصلہ کن ہوسکتا ہے۔
تاہم عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کا راستہ آسان دکھائی نہیں دیتا۔ نیتن یاہو کی ان جماعتوں کے تئیں مخالفت کسی سے پوشیدہ نہیں، جبکہ گادی آئزنکوٹ نے بھی قومی سلامتی اور غزہ کے معاملات پر اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے ساتھ اتحاد سے گریز کیا ہے۔ دوسری جانب نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کے درمیان قومی اتحاد کی حکومت کا قیام بھی مشکل نظر آتا ہے۔
یہ صورتحال اسرائیلی جمہوریت کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کرتی ہے کہ کیا سیاسی قیادت نظریاتی اختلافات اور اقتدار کی کشمکش سے بالاتر ہوکر مستحکم حکومت تشکیل دے سکتی ہے؟ مسلسل انتخابی بحران اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیلی سیاست میں قومی سلامتی، فلسطین پالیسی، عرب شہریوں کے حقوق اور ریاست کی سیاسی شناخت جیسے مسائل گہرائی سے پیوست ہیں۔
حکومت سازی کے مذاکرات کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتے ہیں اور اتفاقِ رائے نہ ہونے کی صورت میں ایک اور انتخاب کا امکان بھی موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نتائج کسی ایک سیاسی قوت کی واضح فتح کے بجائے اسرائیلی معاشرے کی تقسیم اور سیاسی نظام کی کمزوریوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
عرب جماعتوں کی کامیابی نے نئی سیاسی گنجائش ضرور پیدا کی ہے، لیکن اسے حقیقی تبدیلی میں بدلنے کے لئے اسرائیلی قیادت کو روایتی تعصبات اور اقتدار کی سیاست سے باہر نکلنا ہوگا۔ محض حکومت کی تشکیل سیاسی استحکام کی ضمانت نہیں؛ اصل امتحان مساوات، جمہوری شراکت داری اور فلسطینی مسئلے کے پائیدار حل کی جانب پیش رفت ہے۔


