اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

 

حمیرا فاروق
آونیرہ شوپیاں

سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین سے زندگی گزار سکیں۔ نسل آدم کو آگے بڑھانے کے لئے اللہ نے انسان کے لئے نکاح رکھا جس سے نسل انسانیت چل رہی ہے ۔جہاں اولاد کو والدین کے لئے ایک ایسی نعمت بنایا گیا کہ ان کی تربیت اگر اصول شریعت کے مطابق کی جاے تو یہی اولاد ان کے لئے باعث رحمت، جنت اور مغفرت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
اللہ کی دی ہوئی یہ نعمت والدین کے اوپر ایک ذمہ داری بھی دی اس میں اگر کوئی کوتاہی دوران تربیت سرزد کی ہوگی تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے بارے میں ان سے سوال کریں گے۔
اپنے اولاد کو کھانا کھلانا ،مہنگے لباس میں ملبوس رکھنا اور دیگر سہولیات زیست ان کے لئے میسر رکھنا تربیت نہیں اور نہ تربیت اس چیز کو کہا جاتا ہے کہ ہم صرف بچوں کے جسمانی ضرورت کو پورا کرنے میں اپنا سارا توجہ صرف کرے، بلکہ ہمیں ان کی دینی ، ذہنی اور معاشرتی تربیت کرنی چاہیے ۔ اکثر یہی ہوتا ہے کہ والدین اپنے بچے کی جسمانی صحت پر زیادہ زور دیتے ہیں جسے ان کا روحانی صحت مجروح ہو جاتا ہے اور بچہ ان اخلاقی اور ذہنی بیماریوں کا مریض بن جاتا ہے جس کا علاج کرنا مشکل اور کبھی کبھار ناممکن تک نوبت آتی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالی نے اپنے اہل و عیال کے بارے میں یہ تلقین کی کہ ان کو جہنم کے آگ سے بچاؤ۔ لیکن تربیت سے عاری لوگوں کے لئے یہ بےمعنی لگتا ہے جبکہ حقیقت یہی ہے۔
کسی بھی قوم کے زوال کا سبب دیکھا جائے وہ اخلاقی زوال اور ذہنی غلامی ہیں اور اس چیز کا تعلق تربیت کے ساتھ خاص ہے ۔ اگر انسان کی نشوونما کے وقت اس سے یہ تعلیم دی جائے کہ غلط اور صحیح کیا ہے؟ کیونکہ ذمہ داری صرف دنیاوی ضروریات تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی برائیوں کا ازالہ کرنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل کے والدین اپنے کاروبار ، ملازمت اور دنیا کی دیگر امور کے ساتھ اتنا مصروف ہو گیےہے کہ تربیت اولاد کس کو کہا جاتا ہے؟ سب بھول گئے اس لئے آج کل اولاد زیادہ نافرمان دیکھنے کو نظر آتے ہیں ۔ والدین خود ان اخلاقی برائیوں کے مریض بن گئے جو ان کے لئے باعث ذلت و رسوائی ہے ۔ایسے والدین اپنی اولاد کو کیسے تربیت کریں جو شادی شدہ زندگی کے بعد بھی غیر محرموں سے غلط تعلقات میں مبتلا ہونگے ۔ ہم نے مغربیت کو ایسے فروغ دیا کہ شیطان بھی شرماتا ہے، والدین نے یہی سمجھا کہ بچے کو خوراک دے کر ان کی جسمانی پروش اور کسی بڑے اسکول میں ان کا داخلہ کروانا جہاں بچے کو شہرت حاصل ہو اور مہنگی چیزیں فراہم کرنا پرورش ہیں حالانکہ تربیت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔ تربیت بچے کے اخلاقیات کو سنوارنا ، ذہنی فکر کو اجاگر کرنے کا نام ہے۔ اولاد کو چیزوں کے مابین تمیز کروانا اور بڑوں کی عزت و چھوٹوں سے شفقت کرنے کا نام ہے ۔ حلال و حرام سچ اور جھوٹ ، اسلام کے اصولوں کو اپنی زندگی میں اپنانے کا نام تربیت ہے ۔ کھانا پینا تو جانوروں کو بھی آتا ہیں۔ لیکن انسان کو اگر اللہ نے اشرف المخلوقات کے رتبے سے نوازا ہے تو اس کا عمل بھی ویسا ہونا چاہیے آج کل کے والدین کو بالخصوص اپنے بچوں کا خیال رکھنا اتنا ضروری ہے جتنا زندگی کے لئے ہوا کا ہونا لازمی ہے۔ کیونکہ جس طرح ماحول کی آلودگی انسانی صحت کو مجروح کرتا ہے اسی طرح اگر ایک انسان کی تربیت میں کوئی کوتاہی رہے تو اس کا نقصان آنے والی نسلیں چکھ لیتی ہیں۔
فتنے کا ایک ایسا دور شروع ہو گیا ہے جن کے کئی وجوہات ہیں ۔ جس کی اور والدین زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ ہر بچہ قابل بھروسہ نہیں ہوتا اور والدین اپنا وقت بچانے اور خود کو بچوں سے بری کرنے کے لئے ان کے ہاتھ میں موبائل فون دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے والدین کو تنگ نہ کرے۔ لیکن ان کو یہ خیال نہیں رہتا ہے کہ بچے کی آن لائن سرگرمیاں کیا ہے؟ وہ بچوں سے وقتی چھٹکارا حاصل تو کرلیتے ہیں لیکن ان کی زندگی میں والدین کی یہ غلطی بہت برا اثر چھوڑتی ہے کچھ بچے ایسے فتنے کے شکار ہو جاتے ہیں جہاں تک ایک شادی شدہ کی بھی رسائی ممکن نہیں وہ قلبی و ذہنی طور پر اس طرف فحاش بن گیا ہے کہ ارد گرد ماحول سے بھی وہی طلب کرتا ہے۔ اگرچہ والدین بچوں کو ہر سہولت مہیا رکھیں لیکن اگر ان کے دوستوں کی سرگرمیوں پر مناسب توجہ نہ دے کے تو بچہ وقتی طور پر خاموش ہو جاتا ہے اور ان سے وحشیانہ نتائج سامنے آجاتے ہیں۔ اگر اسلام کی روح سے تربیت کو دیکھ گے وہ بچوں کو محبت اور مودت سے پیش آنا ، ان کے اخلاق سنبھالنا دینی تعلیم سے آراستہ کرنا اور دیگر سرگرمیوں میں نظم و ضبط قائم رکھنا۔ اگر انسان ان چیزوں میں غفلت کرے تو نقصان دہ نتائج دیکھنی کو ملیں گی کیونکہ رسول ﷺ کا ارشاد ہے "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعایت کے بارے میں پوچھا جائے گا ” لہذا اگر والدین خود تربیت یافتہ ، علم دین کا فہم رکھنے والے ہوں گے ضرور وہ اپنے بچوں کو بھی اس آگ سے بچائیں گے جس کے بارے میں "عذاب عظیم” کا لفظ استعمال کیا گیا . خود نماز قرآن اور دین کا ایک ایسا ماحول گھر میں قائم کرے کہ بچوں کو خود دین کا کام کرنا بوجھ نہ لگے ۔ بچوں کی تربیت صرف مدرسوں، اسکولوں تک محدود نہیں بلکہ ماں کو بچے کی پہلی درسگا مانا گیا بچوں کو سکھانے کے بجائے والدین کو اپنے عمل میں صحیح راستہ اختیار کرنا ہوگا تاکہ بچے پر بُرا اثر نہ پڑے کیونکہ بچہ سننے اور سیکھنے سے زیادہ والدین کے اخلاق و کردار کا عکس بن جاتے ہیں اگر وہ ایک دوسرےاور بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت کرتے ہیں تو ان کے بچے پر بھی وہی اثر پڑتا ہے۔ اگر اس کے برعکس ایک دوسرے کا برا بلا اور رشتہ داروں کی برائی کرتے ہوں تو سوفیصد بچے اسی کا عکس بن جاتے ہیں۔ لہذا تعلیم سے پہلے احترام دینی علم اور احساس کا ہونا ضروری ہے تاکہ والدین بچے کو ایک ذمہ داری کے طور پر پرورش کریں۔ اپنے بزرگوں اور صحابہ اور نبی مبارک زندگی کے اخلاق سے ان کو اس قدر متاثر کرے کہ وہ اپنے زمانے کے عمر اور علی بن جائے ۔ جس کے سائے سے شیطان بھاگ جاے اورعلم سے جہالت کو شکست حاصل رہے۔
رشتہ داروں سے خوش اخلاقی سے ملنا، مہمانوں کی مہمان نوازی کرنا اپنے بچوں کو سکھانا ضروری ہے ۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے لئے کچھ وقت نکال کر ان کے پریشانی کو سمجھے اور ان کو ڈانٹنے کے بجائے کھل کر بات کریں تاکہ ان کے اندر کا ڈر نکل جائے اور وہ اپنی ہر پریشانی کی وجہ اپنے والدین کو بتا سکے اور اگر والدین سے کوئی سوال پوچھے تو اس پر والدین کو توجہ دینے کی کافی ضرورت ہے اور گھر میں ایک ایسا بہترین ماحول پیدا کرے جہاں بچے کو دوسروں کا سہارا نہ چاہیے اور نہ ہی موبائل فون کی بے جا ضرورت اس کو محسوس ہو جائے اپنے بچوں کو تنہائی میں چھوڑنے کے بجائے ان کے ساتھ بہترین وقت گزاریں تنہا جا کر موبائل فون کا عادی نہ بن جائے کھیل کو دینی مطالعہ اور اچھے لوگوں کے ساتھ ملنا ان کا شیڈول بنائے ۔ اسلام میں تربیت یہ نہیں ہے کہ بچے کے دل میں والدین کا خوف پیدا ہو بلکہ یہ ہے کہ بچے کے دل میں خوف الہی اور تقوی گزاری دیانتداری پیدا ہو قران کو اس کی تربیت کی کتاب بنایا جائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس کے لئے اسوہ حسنہ تاکہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ اللہ کے سامنے جواب دینا ہے ۔آج کل بچوں کو تربیت کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ آج کا ماحول مکمل طور پر وحشیانہ اور خوف زدہ نظر آرہا ہے۔ انٹرنیٹ سے بچے اتنے برے اثرات قبول کرتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ اگرچہ موبائل فون بذات خود کوئی برائی نہیں لیکن بچوں کے غلط استعمال سے اس سے خوفزدہ واقعات ہر دن سامنے آتے ہیں لہذا والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی بہترین رہنمائی کرے کیونکہ اولاد صرف خواہش نہیں بلکہ اللہ تعالی کی نعمت اور امانت ہے اور امانت کا تقاضا یہی ہے کہ اس سے محبت حکمت اور ذمہ داری کے ساتھ سنبھالا جائے۔ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت اس قدر کرنی چاہیے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے اثرات سے بچ جائے اور آئندہ نسلیں بھی محفوظ رہے یہ ہمارا فرض ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

 

حمیرا فاروق
آونیرہ شوپیاں

سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین سے زندگی گزار سکیں۔ نسل آدم کو آگے بڑھانے کے لئے اللہ نے انسان کے لئے نکاح رکھا جس سے نسل انسانیت چل رہی ہے ۔جہاں اولاد کو والدین کے لئے ایک ایسی نعمت بنایا گیا کہ ان کی تربیت اگر اصول شریعت کے مطابق کی جاے تو یہی اولاد ان کے لئے باعث رحمت، جنت اور مغفرت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
اللہ کی دی ہوئی یہ نعمت والدین کے اوپر ایک ذمہ داری بھی دی اس میں اگر کوئی کوتاہی دوران تربیت سرزد کی ہوگی تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے بارے میں ان سے سوال کریں گے۔
اپنے اولاد کو کھانا کھلانا ،مہنگے لباس میں ملبوس رکھنا اور دیگر سہولیات زیست ان کے لئے میسر رکھنا تربیت نہیں اور نہ تربیت اس چیز کو کہا جاتا ہے کہ ہم صرف بچوں کے جسمانی ضرورت کو پورا کرنے میں اپنا سارا توجہ صرف کرے، بلکہ ہمیں ان کی دینی ، ذہنی اور معاشرتی تربیت کرنی چاہیے ۔ اکثر یہی ہوتا ہے کہ والدین اپنے بچے کی جسمانی صحت پر زیادہ زور دیتے ہیں جسے ان کا روحانی صحت مجروح ہو جاتا ہے اور بچہ ان اخلاقی اور ذہنی بیماریوں کا مریض بن جاتا ہے جس کا علاج کرنا مشکل اور کبھی کبھار ناممکن تک نوبت آتی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالی نے اپنے اہل و عیال کے بارے میں یہ تلقین کی کہ ان کو جہنم کے آگ سے بچاؤ۔ لیکن تربیت سے عاری لوگوں کے لئے یہ بےمعنی لگتا ہے جبکہ حقیقت یہی ہے۔
کسی بھی قوم کے زوال کا سبب دیکھا جائے وہ اخلاقی زوال اور ذہنی غلامی ہیں اور اس چیز کا تعلق تربیت کے ساتھ خاص ہے ۔ اگر انسان کی نشوونما کے وقت اس سے یہ تعلیم دی جائے کہ غلط اور صحیح کیا ہے؟ کیونکہ ذمہ داری صرف دنیاوی ضروریات تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی برائیوں کا ازالہ کرنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل کے والدین اپنے کاروبار ، ملازمت اور دنیا کی دیگر امور کے ساتھ اتنا مصروف ہو گیےہے کہ تربیت اولاد کس کو کہا جاتا ہے؟ سب بھول گئے اس لئے آج کل اولاد زیادہ نافرمان دیکھنے کو نظر آتے ہیں ۔ والدین خود ان اخلاقی برائیوں کے مریض بن گئے جو ان کے لئے باعث ذلت و رسوائی ہے ۔ایسے والدین اپنی اولاد کو کیسے تربیت کریں جو شادی شدہ زندگی کے بعد بھی غیر محرموں سے غلط تعلقات میں مبتلا ہونگے ۔ ہم نے مغربیت کو ایسے فروغ دیا کہ شیطان بھی شرماتا ہے، والدین نے یہی سمجھا کہ بچے کو خوراک دے کر ان کی جسمانی پروش اور کسی بڑے اسکول میں ان کا داخلہ کروانا جہاں بچے کو شہرت حاصل ہو اور مہنگی چیزیں فراہم کرنا پرورش ہیں حالانکہ تربیت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔ تربیت بچے کے اخلاقیات کو سنوارنا ، ذہنی فکر کو اجاگر کرنے کا نام ہے۔ اولاد کو چیزوں کے مابین تمیز کروانا اور بڑوں کی عزت و چھوٹوں سے شفقت کرنے کا نام ہے ۔ حلال و حرام سچ اور جھوٹ ، اسلام کے اصولوں کو اپنی زندگی میں اپنانے کا نام تربیت ہے ۔ کھانا پینا تو جانوروں کو بھی آتا ہیں۔ لیکن انسان کو اگر اللہ نے اشرف المخلوقات کے رتبے سے نوازا ہے تو اس کا عمل بھی ویسا ہونا چاہیے آج کل کے والدین کو بالخصوص اپنے بچوں کا خیال رکھنا اتنا ضروری ہے جتنا زندگی کے لئے ہوا کا ہونا لازمی ہے۔ کیونکہ جس طرح ماحول کی آلودگی انسانی صحت کو مجروح کرتا ہے اسی طرح اگر ایک انسان کی تربیت میں کوئی کوتاہی رہے تو اس کا نقصان آنے والی نسلیں چکھ لیتی ہیں۔
فتنے کا ایک ایسا دور شروع ہو گیا ہے جن کے کئی وجوہات ہیں ۔ جس کی اور والدین زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ ہر بچہ قابل بھروسہ نہیں ہوتا اور والدین اپنا وقت بچانے اور خود کو بچوں سے بری کرنے کے لئے ان کے ہاتھ میں موبائل فون دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے والدین کو تنگ نہ کرے۔ لیکن ان کو یہ خیال نہیں رہتا ہے کہ بچے کی آن لائن سرگرمیاں کیا ہے؟ وہ بچوں سے وقتی چھٹکارا حاصل تو کرلیتے ہیں لیکن ان کی زندگی میں والدین کی یہ غلطی بہت برا اثر چھوڑتی ہے کچھ بچے ایسے فتنے کے شکار ہو جاتے ہیں جہاں تک ایک شادی شدہ کی بھی رسائی ممکن نہیں وہ قلبی و ذہنی طور پر اس طرف فحاش بن گیا ہے کہ ارد گرد ماحول سے بھی وہی طلب کرتا ہے۔ اگرچہ والدین بچوں کو ہر سہولت مہیا رکھیں لیکن اگر ان کے دوستوں کی سرگرمیوں پر مناسب توجہ نہ دے کے تو بچہ وقتی طور پر خاموش ہو جاتا ہے اور ان سے وحشیانہ نتائج سامنے آجاتے ہیں۔ اگر اسلام کی روح سے تربیت کو دیکھ گے وہ بچوں کو محبت اور مودت سے پیش آنا ، ان کے اخلاق سنبھالنا دینی تعلیم سے آراستہ کرنا اور دیگر سرگرمیوں میں نظم و ضبط قائم رکھنا۔ اگر انسان ان چیزوں میں غفلت کرے تو نقصان دہ نتائج دیکھنی کو ملیں گی کیونکہ رسول ﷺ کا ارشاد ہے "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعایت کے بارے میں پوچھا جائے گا ” لہذا اگر والدین خود تربیت یافتہ ، علم دین کا فہم رکھنے والے ہوں گے ضرور وہ اپنے بچوں کو بھی اس آگ سے بچائیں گے جس کے بارے میں "عذاب عظیم” کا لفظ استعمال کیا گیا . خود نماز قرآن اور دین کا ایک ایسا ماحول گھر میں قائم کرے کہ بچوں کو خود دین کا کام کرنا بوجھ نہ لگے ۔ بچوں کی تربیت صرف مدرسوں، اسکولوں تک محدود نہیں بلکہ ماں کو بچے کی پہلی درسگا مانا گیا بچوں کو سکھانے کے بجائے والدین کو اپنے عمل میں صحیح راستہ اختیار کرنا ہوگا تاکہ بچے پر بُرا اثر نہ پڑے کیونکہ بچہ سننے اور سیکھنے سے زیادہ والدین کے اخلاق و کردار کا عکس بن جاتے ہیں اگر وہ ایک دوسرےاور بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت کرتے ہیں تو ان کے بچے پر بھی وہی اثر پڑتا ہے۔ اگر اس کے برعکس ایک دوسرے کا برا بلا اور رشتہ داروں کی برائی کرتے ہوں تو سوفیصد بچے اسی کا عکس بن جاتے ہیں۔ لہذا تعلیم سے پہلے احترام دینی علم اور احساس کا ہونا ضروری ہے تاکہ والدین بچے کو ایک ذمہ داری کے طور پر پرورش کریں۔ اپنے بزرگوں اور صحابہ اور نبی مبارک زندگی کے اخلاق سے ان کو اس قدر متاثر کرے کہ وہ اپنے زمانے کے عمر اور علی بن جائے ۔ جس کے سائے سے شیطان بھاگ جاے اورعلم سے جہالت کو شکست حاصل رہے۔
رشتہ داروں سے خوش اخلاقی سے ملنا، مہمانوں کی مہمان نوازی کرنا اپنے بچوں کو سکھانا ضروری ہے ۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے لئے کچھ وقت نکال کر ان کے پریشانی کو سمجھے اور ان کو ڈانٹنے کے بجائے کھل کر بات کریں تاکہ ان کے اندر کا ڈر نکل جائے اور وہ اپنی ہر پریشانی کی وجہ اپنے والدین کو بتا سکے اور اگر والدین سے کوئی سوال پوچھے تو اس پر والدین کو توجہ دینے کی کافی ضرورت ہے اور گھر میں ایک ایسا بہترین ماحول پیدا کرے جہاں بچے کو دوسروں کا سہارا نہ چاہیے اور نہ ہی موبائل فون کی بے جا ضرورت اس کو محسوس ہو جائے اپنے بچوں کو تنہائی میں چھوڑنے کے بجائے ان کے ساتھ بہترین وقت گزاریں تنہا جا کر موبائل فون کا عادی نہ بن جائے کھیل کو دینی مطالعہ اور اچھے لوگوں کے ساتھ ملنا ان کا شیڈول بنائے ۔ اسلام میں تربیت یہ نہیں ہے کہ بچے کے دل میں والدین کا خوف پیدا ہو بلکہ یہ ہے کہ بچے کے دل میں خوف الہی اور تقوی گزاری دیانتداری پیدا ہو قران کو اس کی تربیت کی کتاب بنایا جائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس کے لئے اسوہ حسنہ تاکہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ اللہ کے سامنے جواب دینا ہے ۔آج کل بچوں کو تربیت کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ آج کا ماحول مکمل طور پر وحشیانہ اور خوف زدہ نظر آرہا ہے۔ انٹرنیٹ سے بچے اتنے برے اثرات قبول کرتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ اگرچہ موبائل فون بذات خود کوئی برائی نہیں لیکن بچوں کے غلط استعمال سے اس سے خوفزدہ واقعات ہر دن سامنے آتے ہیں لہذا والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی بہترین رہنمائی کرے کیونکہ اولاد صرف خواہش نہیں بلکہ اللہ تعالی کی نعمت اور امانت ہے اور امانت کا تقاضا یہی ہے کہ اس سے محبت حکمت اور ذمہ داری کے ساتھ سنبھالا جائے۔ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت اس قدر کرنی چاہیے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے اثرات سے بچ جائے اور آئندہ نسلیں بھی محفوظ رہے یہ ہمارا فرض ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں