خاندان کا بکھرتا شیرازہ اور اسلامی تعلیمات

 

 

محمد اجتنا

معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور افراد کی سب سے پہلی، بنیادی اور اہم ترین درسگاہ کا نام خاندان ہے۔ خاندان کسی بھی انسانی تہذیب کی وہ بنیادی اکائی (Unit) ہے جس پر پورے سماج کی اخلاقی، نفسیاتی اور مادی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر چہ اکائی مضبوط ہو تو معاشرہ امن، محبت اور ترقی کا گہوارہ بنتا ہے، اور اگر اس اکائی میں دراڑیں پڑ جائیں تو پوری قوم اخلاقی اور سماجی زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ رشتوں کے تقدس کی دیواریں جو صدیوں سے ہماری سماجی تحفظ کی ضامن تھیں، اب مادہ پرستی اور مغرب زدگی کی طوفان میں مسمار ہو رہی ہیں۔ اس سنگین صورتحال کا ادراک کرنا اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا حل تلاش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔
خاندانی نظام کے زوال کے بنیادی اسباب :
موجودہ دور میں ہمارے خاندانی ڈھانچے کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان سب کو سمجھے بغیر ہم اس مرض کا علاج نہیں کر سکتے ۔ چند وجوہات کی وجہ سے خاندانی نظام خراب ہوئے۔
(1)مادہ پرستی اور انفرادیت پسندی :- جدید دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان رشتوں پر مادی مفادات کو ترجیح دینے لگا ہے۔ ہر شخص صرف اپنے حقوق کی بات کرتا ہے، قربانی اور ایثار کا جذبہ جو خاندانی رشتوں کو جوڑ کر رکھتا تھا، اب ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ پیسہ، عہدہ اور ظاہری نمائش رشتوں کے خلوص پر غالب آچکے ہیں ۔
(2)جدید میڈیا، سوشل میڈیا اور اسکرین ٹائم کا بے جا استعمال:-انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے اگرچہ دنیا کو جوڑ دیا ہے، لیکن ایک ہی چھت کے نیچے رہنے دلوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی ورچوئل دنیا میں مگن افراد کے پاس اپنے شریک حیات، بچے یا بوڑھے والدین کے لئے وقت نہیں ہے، آج سب لوگ سوشل میڈیا پر مگن ہوگئے ہیں ۔
(3)غیر اسلامی رسومات اور معاشی بوجھ:- شادی کو ہم نے ایک مسنونہ عمل کے بجائے نمائش اور معاشی بوجھ بنا دیا ہے، جہیز کی بھاری مانگ، مہر کے معاملات میں افراط و تفریط، اور شادی کی تقریبات پر لاکھوں کروڑوں روپیے کا ضیاع خاندانی زندگی کا آغاز ہی تناؤ اور قرضوں سے کرتا ہے۔ معاشی دباؤ کے باعث میاں بیوی کے درمیان تلخیاں بڑھتی ہیں جو بالآخر علیحدگی پر ختم ہوتی ہیں۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خاندانی نظام کا حل:-
اسلام ایک دین فطرت ہے جس نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کی مکمل رہنمائی فرمائی ہے۔ اسلام نے خاندانی نظام کو بچانے اور اسے مستحکم کرنے کے لئے نہایت واضح، منصفانہ اور پائیدار اصول وضع کیا ہیں۔ اگر ہم ان اصول کو دوبارہ اپنی زندگیوں میں دوبارہ نافذ کر لیں تو اس زوال کو نہ صرف روکا جا سکتا ہے بلکہ ایک مثالی معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے ۔ اگر ہم چند اسلامی وجوہات پر عمل کرے تو معاشرہ بہتر سے بہتر ہو سکتا ہے۔
(1)رشتوں کی بنیاد مودت اور رحمت:- اسلام میاں بیوی کے رشتے کو محض ایک کانونی معاہدہ نہیں قرار دیتا، بلکہ اسے ایک مقدس اور روحانی تعلق مانتا ہے۔ قران مجید میں اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے "ومن ایتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا و جعل بینکم مودۃ و رحمۃ ان فی ذلك لایت لقوم یتفکرون ”
ترجمہ:- اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ ان سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی بے شک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لئے ۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خاندانی زندگی کا اصل مقصد "سکون”کا حصول ہے، اور یہ سکون صرف اس وقت ممکن ہے جب گھر کا ماحول محبت اور ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کرنے سے لبریز ہو۔
(2)شوہر اور بیوی کے دائرہ کار کا تعین:- اسلام نے خاندان کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لئے اختیارات اور ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم کی ہے قران کریم نے مرد کو گھر کا نگران بنایا ہے
اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا ” الرجال قومون علی النساء بما فضل اللہ بعضھم علی بعض و بما انفقوا من اموالھم ”
ترجمہ:- مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لئے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے
مرد کو افسر بنانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ ظالم یا ڈکٹیٹر بن جائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گھر کا مالی، اخلاقی اور حفاظتی بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے۔ دوسری طرف نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اور اس کے مقام کو واضح کرتے ہوئے فرمایا۔ ” حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور تم سب سے اپنی رعایا کے متعلق باز پرس ہوگی۔ حاکم وقت بھی نگہبان ہے، اور مرد اپنے گھر والوں کا نگران ہے، اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگران ہے۔(صحیح بخاری)
الغرض تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی نگہبانی کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
(3)حسن سلوک اور مثالی اسوہ حسنہ:- معاشرتی خوشحالی کے لئے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مردوں کو اپنے گھر والوں کے ساتھ نرمی اور محبت کا معاملہ کرنے کی سخت تاکید فرمائی اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ "تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لئے تم سب سے بہتر ہوں”(سنن ترمذی)
حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنی عملی زندگی سے ثابت کیا کہ گھر کے کاموں میں زوجہ محترمہ کا ہاتھ بٹانا، ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا، اور ان کی دل جوئی کرنا سنت نبوی ہے۔ اگر اج کے مرد اس اسوہ کو اپنا لیں تو ادھے سے زیادہ گھریلو جھگڑے خود بخود ختم ہو جائیں ۔
(4)بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت:- خاندانی نظام کا ایک بڑا مقصد صالح نسل کی پرورش ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے صرف بچوں کو مہنگے اسکولوں میں پڑھانا اور دنیاوی سہولیات دینا نہیں ہے، بلکہ ان کے دلوں میں خوف خدا اور رشتوں کا احترام پیدا کرنا ہے ۔ قرآن شریف میں ہے "یاایھا الذین آمنوا قوا انفسکم و اھلیکم نارا وقودھا الناس و الحجارۃ (سورۃ تحریم)
ترجمہ:- اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔
جب بچوں کو بچپن ہی سے صلح رحمی، والدین کی فرمانبرداری اور بزرگوں کے ادب کی تعلیم دی جائے گی تو وہ بڑے ہو کر خاندان کو توڑنے والے نہیں بلکہ جوڑنے والے بنیں گے ۔
ہمارے خاندانی نظام کا تحفظ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم مادہ پرستی کی دوڑ سے نکل کر دوبارہ قران و سنت کے احکامات کو اپنے گھروں میں نافذ کریں۔ ہمیں اپنے حقوق کے مطالبے سے زیادہ دوسروں کے فرائض ادا کرنے کی فکر کرنی ہوگی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

خاندان کا بکھرتا شیرازہ اور اسلامی تعلیمات

 

 

محمد اجتنا

معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور افراد کی سب سے پہلی، بنیادی اور اہم ترین درسگاہ کا نام خاندان ہے۔ خاندان کسی بھی انسانی تہذیب کی وہ بنیادی اکائی (Unit) ہے جس پر پورے سماج کی اخلاقی، نفسیاتی اور مادی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر چہ اکائی مضبوط ہو تو معاشرہ امن، محبت اور ترقی کا گہوارہ بنتا ہے، اور اگر اس اکائی میں دراڑیں پڑ جائیں تو پوری قوم اخلاقی اور سماجی زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ رشتوں کے تقدس کی دیواریں جو صدیوں سے ہماری سماجی تحفظ کی ضامن تھیں، اب مادہ پرستی اور مغرب زدگی کی طوفان میں مسمار ہو رہی ہیں۔ اس سنگین صورتحال کا ادراک کرنا اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا حل تلاش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔
خاندانی نظام کے زوال کے بنیادی اسباب :
موجودہ دور میں ہمارے خاندانی ڈھانچے کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان سب کو سمجھے بغیر ہم اس مرض کا علاج نہیں کر سکتے ۔ چند وجوہات کی وجہ سے خاندانی نظام خراب ہوئے۔
(1)مادہ پرستی اور انفرادیت پسندی :- جدید دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان رشتوں پر مادی مفادات کو ترجیح دینے لگا ہے۔ ہر شخص صرف اپنے حقوق کی بات کرتا ہے، قربانی اور ایثار کا جذبہ جو خاندانی رشتوں کو جوڑ کر رکھتا تھا، اب ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ پیسہ، عہدہ اور ظاہری نمائش رشتوں کے خلوص پر غالب آچکے ہیں ۔
(2)جدید میڈیا، سوشل میڈیا اور اسکرین ٹائم کا بے جا استعمال:-انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے اگرچہ دنیا کو جوڑ دیا ہے، لیکن ایک ہی چھت کے نیچے رہنے دلوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی ورچوئل دنیا میں مگن افراد کے پاس اپنے شریک حیات، بچے یا بوڑھے والدین کے لئے وقت نہیں ہے، آج سب لوگ سوشل میڈیا پر مگن ہوگئے ہیں ۔
(3)غیر اسلامی رسومات اور معاشی بوجھ:- شادی کو ہم نے ایک مسنونہ عمل کے بجائے نمائش اور معاشی بوجھ بنا دیا ہے، جہیز کی بھاری مانگ، مہر کے معاملات میں افراط و تفریط، اور شادی کی تقریبات پر لاکھوں کروڑوں روپیے کا ضیاع خاندانی زندگی کا آغاز ہی تناؤ اور قرضوں سے کرتا ہے۔ معاشی دباؤ کے باعث میاں بیوی کے درمیان تلخیاں بڑھتی ہیں جو بالآخر علیحدگی پر ختم ہوتی ہیں۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خاندانی نظام کا حل:-
اسلام ایک دین فطرت ہے جس نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کی مکمل رہنمائی فرمائی ہے۔ اسلام نے خاندانی نظام کو بچانے اور اسے مستحکم کرنے کے لئے نہایت واضح، منصفانہ اور پائیدار اصول وضع کیا ہیں۔ اگر ہم ان اصول کو دوبارہ اپنی زندگیوں میں دوبارہ نافذ کر لیں تو اس زوال کو نہ صرف روکا جا سکتا ہے بلکہ ایک مثالی معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے ۔ اگر ہم چند اسلامی وجوہات پر عمل کرے تو معاشرہ بہتر سے بہتر ہو سکتا ہے۔
(1)رشتوں کی بنیاد مودت اور رحمت:- اسلام میاں بیوی کے رشتے کو محض ایک کانونی معاہدہ نہیں قرار دیتا، بلکہ اسے ایک مقدس اور روحانی تعلق مانتا ہے۔ قران مجید میں اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے "ومن ایتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا و جعل بینکم مودۃ و رحمۃ ان فی ذلك لایت لقوم یتفکرون ”
ترجمہ:- اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ ان سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی بے شک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لئے ۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خاندانی زندگی کا اصل مقصد "سکون”کا حصول ہے، اور یہ سکون صرف اس وقت ممکن ہے جب گھر کا ماحول محبت اور ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کرنے سے لبریز ہو۔
(2)شوہر اور بیوی کے دائرہ کار کا تعین:- اسلام نے خاندان کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لئے اختیارات اور ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم کی ہے قران کریم نے مرد کو گھر کا نگران بنایا ہے
اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا ” الرجال قومون علی النساء بما فضل اللہ بعضھم علی بعض و بما انفقوا من اموالھم ”
ترجمہ:- مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لئے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے
مرد کو افسر بنانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ ظالم یا ڈکٹیٹر بن جائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گھر کا مالی، اخلاقی اور حفاظتی بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے۔ دوسری طرف نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اور اس کے مقام کو واضح کرتے ہوئے فرمایا۔ ” حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور تم سب سے اپنی رعایا کے متعلق باز پرس ہوگی۔ حاکم وقت بھی نگہبان ہے، اور مرد اپنے گھر والوں کا نگران ہے، اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگران ہے۔(صحیح بخاری)
الغرض تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی نگہبانی کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
(3)حسن سلوک اور مثالی اسوہ حسنہ:- معاشرتی خوشحالی کے لئے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مردوں کو اپنے گھر والوں کے ساتھ نرمی اور محبت کا معاملہ کرنے کی سخت تاکید فرمائی اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ "تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لئے تم سب سے بہتر ہوں”(سنن ترمذی)
حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنی عملی زندگی سے ثابت کیا کہ گھر کے کاموں میں زوجہ محترمہ کا ہاتھ بٹانا، ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا، اور ان کی دل جوئی کرنا سنت نبوی ہے۔ اگر اج کے مرد اس اسوہ کو اپنا لیں تو ادھے سے زیادہ گھریلو جھگڑے خود بخود ختم ہو جائیں ۔
(4)بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت:- خاندانی نظام کا ایک بڑا مقصد صالح نسل کی پرورش ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے صرف بچوں کو مہنگے اسکولوں میں پڑھانا اور دنیاوی سہولیات دینا نہیں ہے، بلکہ ان کے دلوں میں خوف خدا اور رشتوں کا احترام پیدا کرنا ہے ۔ قرآن شریف میں ہے "یاایھا الذین آمنوا قوا انفسکم و اھلیکم نارا وقودھا الناس و الحجارۃ (سورۃ تحریم)
ترجمہ:- اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔
جب بچوں کو بچپن ہی سے صلح رحمی، والدین کی فرمانبرداری اور بزرگوں کے ادب کی تعلیم دی جائے گی تو وہ بڑے ہو کر خاندان کو توڑنے والے نہیں بلکہ جوڑنے والے بنیں گے ۔
ہمارے خاندانی نظام کا تحفظ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم مادہ پرستی کی دوڑ سے نکل کر دوبارہ قران و سنت کے احکامات کو اپنے گھروں میں نافذ کریں۔ ہمیں اپنے حقوق کے مطالبے سے زیادہ دوسروں کے فرائض ادا کرنے کی فکر کرنی ہوگی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں