فیاض احمد مرکزی
ہر چہار جانب نظر اٹھا کر دیکھا جائے تو ماحولیاتی اور فضائی الودگی دن بدن بڑھتی ہوئی نظر ارہی ہے اور زمین کا درجہ حرارت بھی دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں درختوں کا بے دریغ صفایا کیا جا رہا ہے
یاد رکھیں جہاں درخت ہمیں اکسیجن فراہم کرنے اور ماحول کو پاکیزہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں وہیں کاربن ڈائی اکسائیڈ کو جذب کر کے ماحول میں توازن کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن کچھ لوگ ان درختوں کو بے دریغ کاٹنے میں ہمہ وقت مستعد رہتے ہیں پیڑ پودے صرف انسانی زندگی کے لئے ہی مفید نہیں ہیں بلکہ ان سے بہت سی دوسری مخلوقات کو بھی فائدہ پہنچتا ہے پیڑ پودوں سے انسانوں کو یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ ان سے اکسیجن اور سایہ پاتے ہیں اور پرندوں جانوروں اور شہد کی مکھیوں کو بھی درختوں سے فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ وہ ان سے خوراک اور پناہ حاصل کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جہاں درختوں کی کثرت ہوتی ہے وہاں پر پرندوں اور شہد کی مکھیوں کا ہجوم ہوتا ہے
اس دنیا میں کچھ لوگ ماحولیات کی تحفظ کے لئے سرگرداں ہیں وہ واقعی شجرکاری کی حفاظت و اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں اس لئے کہ پیڑ پودے ہمارے ماحول کا لازمی حصہ ہیں جو ماحول کو خوشگوار رکھنے میں منفرد ہیں یہی وجہ ہے کہ جہاں پیڑ پودوں کی کمی ہوتی ہے وہاں ماحول کے بعض مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں اور لوگوں کی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے
ہمارے معاشرے میں درختوں کی اہمیت و افادیت حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس عمل سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حالت جنگ میں بھی درختوں کو کاٹنے اور فصلوں کو رودنے اور تباہ و برباد کرنے سے منع فرمایا ہے سنن ابی داؤد کی ایک حدیث کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پر لعنت فرمائی ہے جو بلاجواز کسی درخت کو کاٹے
دوسری حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ جو شخص بغیر کسی جواز کے درخت کاٹتا ہے اللہ تعالی اسے جہنم میں ڈالے گا
تیسری حدیث میں ہے اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور اس میں پودا لگانے کے استطاعت ہو تو اسے چاہیے کہ وہ پودا لگائے
چوتھی حدیث پاک میں ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام معبد کے یہاں تشریف لے گئے اور دریافت فرمایا کہ اےام معبد یہ کھجور کا درخت کس نے بویا کسی مسلمان نے یا کافر نے؟ عرض کیا مسلمان نے فرمایا نہیں بوتا ہے مسلمان کوئی بھی پودا پھر اس پودے سے اگنے والے اناج یا پھل سے انسان بہائم اور پرندے کھاتے ہیں تو وہ بونے والے کے حق میں قیامت تک کے لئے صدقہ ہے
پانچویں حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان درخت لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے پھر اس میں پرند یعنی انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے
جو لوگ محض چند تقریبات اور تیوہاروں کے لئے درخت کاٹتے ہیں وہ ممالک جو مسابقتی ترقی کی خاطر جنگلات کو تباہ کرتے ہیں اور وہ ادارے اور صنعتیں جو اپنے وقتی وقت مقاصد کی تکمیل کے لئے پودوں کا صفایہ کرتے ہیں انہیں ماحولیاتی تحفظ کی نبوی تعلیمات پر غور کرنا چاہیے انہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ جو کچھ بھی صنعت کاری کے خاطر کر رہے ہیں وہ اخر کار ان کے اپنے ترقی کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا
مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ہمیں اپنے گرد و پیش کو صاف ستھرا رکھنا چاہیے اپنے اس پاس زیادہ سے زیادہ پودے لگانا چاہیے تاکہ اس روۓ زمین کے فطری وسائل کو برباد ہونے سے بچایا جا سکے کیونکہ ماحولیات کا تحفظ اسلام کا اہم ترین پہلو ہے مذکورہ سیرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درخشندہ تعلیمات کو بروئے کار لا کر قدرتی وسائل کے استعمال میں اعتدال زمین میں توازن اور ماحولیات کو تحفظ عطا کیا جا سکتا ہے اور وسائل فطرت سے مالا مال دنیا کو گلوبل وارمنگ سے بچایا جا سکتا ہے
لہذا بحیثیت امتی ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات و ہدایات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے زمین اور اس کی فضا کو الودگی سے بچائیں اور ہر اس عمل سے اجتناب کریں جس سے زمین کے حسن اور ماحولیات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو پاکیزگی اور صفائی کے اعتبار سے اسلام سے بڑھ کر کوئی مذہب نہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پاکیزگی کو نصف ایمان قرار دیا ہے حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا صفائی ادھا ایمان ہے اس لئے ہمیں ہر قسم کے الودگی سے پیدا ہونے والے مسائل کے تدارک کے لئے سیرت رسول کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور انفرادی اور اجتماعی طور پر درخت کو لگانے میں اقدامات کرنی چاہیے اور لوگوں کے دلوں میں شجر کاری کی اہمیت جذب کرنی چاہیے تاکہ وہ ماحولیات کو فضائی الودگی کی مضر اثرات سے شجرکاری کے ذریعے سے بچا سکیں
اللہ تعالی ہم سب کو ان تمام باتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے(آمین)


