کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تو نے

 

 

محمد مستجاب مرکزی

وہ قوم جس کا ظہور ایسے مقام سے ہوا جہاں کے حالات نہایت ہی ناگفتہ بہ تھے۔ جہاں ہر طرف ظلمت و جبر کا بازار گرم تھا،جہاں بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ہر طرف کفر و شرک کے بادل امڑتے نظر آتے تھے،ایسے سنگ لاخ مقام میں ایک ایسے ھادی و مرشد کی ضرورت تھی جو ان گمراہیوں کے دل دل سے نکال کر راہ ھدایت کے چراغ کو روشن فرمائے،جو اپنے نور سے عالم کی تاریکیوں کو منور کر دے، پھر اللہ تبارک و تعالی نے اپنے نور سے اپنے محبوب کو پیدا کیا جس نے دنیا کی تاریکیوں کو منور کر دیا، ظلمت کدے کو امن کا گہوارہ بنا دیا، کفر و شرک کے کالے بادلوں کو چھاٹ کر قنادل ایمان کو منور کیا، پھر اس قوم میں ایسے جانباز پیدا ہوئے جنہوں نے اسلام کی ابیاری کی اور امت مسلمہ ہر لحظہ ترقی کی طرف بڑھتی چلی گئی اور پوری دنیا پر اسلامی پرچم لہرا دیا۔۔۔
لیکن پھر اس امت مسلمہ پر ایک دور ایسا آیا کہ جس قوم کو راہ ترقی کی طرف جانا تھا وہی قوم راہ تنزلی کی طرف چل پڑی اور ذلت اور رسوائی اس قوم کا مقدر بنتی ہوئی نظر آئی،آخر ایسا کیوں؟
Why are the ultimate humility and disgrace
"اگر ہم نظر عمیق سے جائزہ کریں تو اس کی چند بنیادی وجوہات نظر آتی ہیں
(1) دینی تعلیم سے دوری: آج اگر معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ہمارا دینی تعلیم کی طرف رجحان بہت کم ہو گیا ہے ہم بھول گئے ہیں کہ یہ وہی تعلیم تھی جس نے ہمیں چلنے کا سلیقہ دیا، بولنے کا طریقہ بتایا، ہماری ہر لمحہ رہنمائی کی، یہی وجہ ہے کہ جب اس قوم کے افراد دینی تعلیم سے کٹ گئے تو ماں باپ کی نافرمان بڑھ گئی لہلہاتے اور مسکراتے گھر اجڑے ہوئے چمن بن گئے ورنہ وہ قوم جس میں اولاد کی تعلیم کا حال یہ تھا کہ ماں باپ کو "اف” تک نہ کہا جائے، آج اسی قوم کا بچہ، ماں باپ کی نافرمانی کرتے ہوئے نظر آرہا ہے، زبان سب و شتم دراز کرتا ہے، وجہ یہ ہے کہ اس کا دور دور تک تعلیم سے کوئی واسطہ نہیں، اگر رہا تو محض دنیاوی تعلیم سے۔
اس دنوی تعلیم سے اس نے ترقی تو حاصل کی مگر دینی تعلیم کی طرف رجحان بالکل نہیں کیا، جس کی وجہ سے وہ صحابہ کے کردار، اسلاف کی روش سے فراموش رہا اگر انسان دینی تعلیم سے رشتے کو مضبوط کر لے تو وہی زبان جو دشنام طرازی کے لئے کھلتی تھی وہی محبت کا پیغام دیتی ہوئی نظر آئے گی، وہی گھر جو فتنے فساد کا اڈہ بنا ہوا تھا امن و شانتی کا گہوارہ بنتا ہوا معلوم ہوگا۔جہاں کبھی ظلم و ستم کے بادل چھائے ہوئے تھے، وہاں عدل و انصاف کا سورج طلوع ہو جائے گا،جہاں ہر سو ظلم و تشدد کی آندھیاں چل رہی تھیں، وہاں امن و انصاف کی بہاریں لوٹ آئیں گی۔
(2) سوشل میڈیا سے رغبت: دور جدید میں سوشل میڈیا کا استعمال بہت تیزی کے ساتھ بام عروج پر ہے عوام تو عوام بعض خواص بھی عقل و شعور کو بالائے طاق رکھ کر بصیرت و تدبر سے کام لئے بغیر یقین کر بیٹھے ہیں۔ نہ صرف اپنے روزمرہ کے مسائل بلکہ دینی اور فقہی مسائل کو سوشل میڈیا سے تلاش کرتے ہیں جس کے سبب آئے دن اپنے ہی مؤقف سے انحراف اور اپنے سابقہ اقوال سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں اس کو ہمیشہ اپنے لوحِ ذہن پر ثبت رکھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کا استعمال ایک محدود دائرہ ہے ہر چیز میں اس کا استعمال نفع بخش نہیں، بالالتزام دینی مسائل میں،
(3)اتحاد کا فقدان: آج ہماری قوم میں انتشار پیدا ہو چکا ہے ہماری قوم ٹکڑوں میں منقسم ہو گئی ہے اسی زمین کے اوپر ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جہاں امن و سکون سے بھرپور فضا ہوتی تھی، لوگوں کے دل محبت کے گہوارے ہوتے تھے ،تفریق مذہب وملت کے باوجود بھی ایک دوسرے کے ساتھ ایکتا اور امن و شانتی کا پیغام باٹتے تھے،لیکن آج جس سمت نظر جاتی ہے ہر طرف ظلم و بربریت کے طوفان گرم ہیں مذہب و ملت کے نام پر قوم میں انتشار پیدا ہو چکا ہے، بھائی بھائی کا دشمن بنا ہوا ہے، آج آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں کہ کہاں گئی وہ ہماری محبتیں، کہاں گیا وہ ہمارا بھائی چارہ، کہاں ہے وہ جواں مردی جہاں ایک دوسرے کے لئے جان قربان کرنے تیار رہتے تھے، یاد رکھیں جس قوم میں اتحاد و اتفاق کا فقدان پایا جاتا ہے اس قوم کا شیرازہ بکھرنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا، وہ قوم تباہ و برباد ہو گئیں جس قوم کا اتحاد ختم ہو گیا۔ اس بات کو گوش گزار کرلیں۔۔۔
(4) حب دنیا کا دل میں گھر کر جانا: اخرت کی فکر چھوڑ کر آج انسان دنیاوی لذتوں میں گم ہو گیا ہے،کاش وہ جان پاتا کہ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی مچھرکے پر برابربھی حیثیت ہوتی تو وہ اس سے کافر کو ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔اگر جانتا ہے تو پھر وہ غفلت کی چادر تانے ہوئے ہے اور تعجب ہے اس شخص پر جو دائمی زندگی والے گھر (یعنی آخرت) کی تصدیق توکرتاہے لیکن کوشش دھوکے والے گھر (یعنی دنیا) کے لئے کرتاہے ۔انسان کو چاہیے کی فنا ہونے والی کو باقی رہنے والی پر ترجیح دے
(5) ٹیکنالوجی اور سائنسی پسماندگی:سائنسی علوم کی آبیاری اور فکری ارتقا میں مسلم علما و محققین کی خدمات ناقابلِ تردید ہیں۔ مگر بیشتر اسلامی ممالک ان جدید علوم میں دوسروں کے محتاج بنے ہوئے ہیں جبکہ یہ اسی قوم کا علمی ورثہ تھا جس نے انسانی فکر کو وسعت بخشی اور سائنسی ارتقا کے نئے دروازے کھولے،یہ وہی ملت تھی جس نے علم و تحقیق کے چراغ روشن کیے اور سائنسی ترقی کی راہیں ہموار کیں۔ مگر افسوس آج وہی قوم سائنسی علوم سے بیزار ہے۔ یاد رکھیں جو قوم جدید علوم، سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی اور معیاری تعلیم میں سرمایہ کاری نہیں کرتی، وہ معاشی اور تکنیکی میدانوں میں دوسروں کی محتاج ہوجاتی ہے۔ پھر انجام یہی ہوتا ہے کہ اس قوم کے پاؤں کو بیڑیوں سے جکڑ لیا جاتا ہے۔اس کی اڑان کے پروں کو کاٹ دیا جاتا ہے۔ ترقی کے افق پر اپنی شناخت قائم کرنے کے لئے عہدِ جدید کے علمی و سائنسی میدانوں میں آگے بڑھنا ہوگا۔آسمانوں کی بلند پروازی پر جانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی کا سہارا لینا ہوگا۔
ہمیں پھر سے اپنی تاریخ کے اوراق پلٹنے کی ضرورت ہے، اپنے تابناک ماضی کی یاد تازہ کرکے روشن مستقبل کی جانب پیش قدمی کرنا ہوگا۔ یاد رکھیں قوموں کی زندگی میں انقلاب اسی وقت آتا ہے جب وہ اپنے ماضی سے سبق سیکھ کر مستقبل کی تعمیر کا عزم کرتی ہیں۔
اے میری قوم کے درخشندہ ستاروں اسلام کے دامن کو مضبوطی سے تھام لو اور اپنے اسلاف کی روش کو اپنا نمونہ عمل بناو اور راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو ختم کر کے راہ ترقی کی طرف بڑھتے رہو، اپنے اندر عقابی روح کو پیدا کرو اور منزل آسمان بناؤ اور یاد رکھو کہ ہمارا تعلق انہی اسلاف سے ہے جو ایسی شاہین کی مانند ہوتے تھے جن کا ٹھکانہ پہاڑوں کی چوٹیاں ہوا کرتی ہیں
آج امت مسلمہ کو بیدار ہونا ہوگا، اپنے اندر سے راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو پس پشت ڈالنا ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

لولا نے چوتھی بار برازیل کے صدارتی انتخابات میں میدان مار لیا

جنگ نیوز برازیل کے صدارتی انتخابات میں لوئز اناسیو لولا...

تازہ ترین خبریں

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

لولا نے چوتھی بار برازیل کے صدارتی انتخابات میں میدان مار لیا

جنگ نیوز برازیل کے صدارتی انتخابات میں لوئز اناسیو لولا...

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تو نے

 

 

محمد مستجاب مرکزی

وہ قوم جس کا ظہور ایسے مقام سے ہوا جہاں کے حالات نہایت ہی ناگفتہ بہ تھے۔ جہاں ہر طرف ظلمت و جبر کا بازار گرم تھا،جہاں بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ہر طرف کفر و شرک کے بادل امڑتے نظر آتے تھے،ایسے سنگ لاخ مقام میں ایک ایسے ھادی و مرشد کی ضرورت تھی جو ان گمراہیوں کے دل دل سے نکال کر راہ ھدایت کے چراغ کو روشن فرمائے،جو اپنے نور سے عالم کی تاریکیوں کو منور کر دے، پھر اللہ تبارک و تعالی نے اپنے نور سے اپنے محبوب کو پیدا کیا جس نے دنیا کی تاریکیوں کو منور کر دیا، ظلمت کدے کو امن کا گہوارہ بنا دیا، کفر و شرک کے کالے بادلوں کو چھاٹ کر قنادل ایمان کو منور کیا، پھر اس قوم میں ایسے جانباز پیدا ہوئے جنہوں نے اسلام کی ابیاری کی اور امت مسلمہ ہر لحظہ ترقی کی طرف بڑھتی چلی گئی اور پوری دنیا پر اسلامی پرچم لہرا دیا۔۔۔
لیکن پھر اس امت مسلمہ پر ایک دور ایسا آیا کہ جس قوم کو راہ ترقی کی طرف جانا تھا وہی قوم راہ تنزلی کی طرف چل پڑی اور ذلت اور رسوائی اس قوم کا مقدر بنتی ہوئی نظر آئی،آخر ایسا کیوں؟
Why are the ultimate humility and disgrace
"اگر ہم نظر عمیق سے جائزہ کریں تو اس کی چند بنیادی وجوہات نظر آتی ہیں
(1) دینی تعلیم سے دوری: آج اگر معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ہمارا دینی تعلیم کی طرف رجحان بہت کم ہو گیا ہے ہم بھول گئے ہیں کہ یہ وہی تعلیم تھی جس نے ہمیں چلنے کا سلیقہ دیا، بولنے کا طریقہ بتایا، ہماری ہر لمحہ رہنمائی کی، یہی وجہ ہے کہ جب اس قوم کے افراد دینی تعلیم سے کٹ گئے تو ماں باپ کی نافرمان بڑھ گئی لہلہاتے اور مسکراتے گھر اجڑے ہوئے چمن بن گئے ورنہ وہ قوم جس میں اولاد کی تعلیم کا حال یہ تھا کہ ماں باپ کو "اف” تک نہ کہا جائے، آج اسی قوم کا بچہ، ماں باپ کی نافرمانی کرتے ہوئے نظر آرہا ہے، زبان سب و شتم دراز کرتا ہے، وجہ یہ ہے کہ اس کا دور دور تک تعلیم سے کوئی واسطہ نہیں، اگر رہا تو محض دنیاوی تعلیم سے۔
اس دنوی تعلیم سے اس نے ترقی تو حاصل کی مگر دینی تعلیم کی طرف رجحان بالکل نہیں کیا، جس کی وجہ سے وہ صحابہ کے کردار، اسلاف کی روش سے فراموش رہا اگر انسان دینی تعلیم سے رشتے کو مضبوط کر لے تو وہی زبان جو دشنام طرازی کے لئے کھلتی تھی وہی محبت کا پیغام دیتی ہوئی نظر آئے گی، وہی گھر جو فتنے فساد کا اڈہ بنا ہوا تھا امن و شانتی کا گہوارہ بنتا ہوا معلوم ہوگا۔جہاں کبھی ظلم و ستم کے بادل چھائے ہوئے تھے، وہاں عدل و انصاف کا سورج طلوع ہو جائے گا،جہاں ہر سو ظلم و تشدد کی آندھیاں چل رہی تھیں، وہاں امن و انصاف کی بہاریں لوٹ آئیں گی۔
(2) سوشل میڈیا سے رغبت: دور جدید میں سوشل میڈیا کا استعمال بہت تیزی کے ساتھ بام عروج پر ہے عوام تو عوام بعض خواص بھی عقل و شعور کو بالائے طاق رکھ کر بصیرت و تدبر سے کام لئے بغیر یقین کر بیٹھے ہیں۔ نہ صرف اپنے روزمرہ کے مسائل بلکہ دینی اور فقہی مسائل کو سوشل میڈیا سے تلاش کرتے ہیں جس کے سبب آئے دن اپنے ہی مؤقف سے انحراف اور اپنے سابقہ اقوال سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں اس کو ہمیشہ اپنے لوحِ ذہن پر ثبت رکھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کا استعمال ایک محدود دائرہ ہے ہر چیز میں اس کا استعمال نفع بخش نہیں، بالالتزام دینی مسائل میں،
(3)اتحاد کا فقدان: آج ہماری قوم میں انتشار پیدا ہو چکا ہے ہماری قوم ٹکڑوں میں منقسم ہو گئی ہے اسی زمین کے اوپر ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جہاں امن و سکون سے بھرپور فضا ہوتی تھی، لوگوں کے دل محبت کے گہوارے ہوتے تھے ،تفریق مذہب وملت کے باوجود بھی ایک دوسرے کے ساتھ ایکتا اور امن و شانتی کا پیغام باٹتے تھے،لیکن آج جس سمت نظر جاتی ہے ہر طرف ظلم و بربریت کے طوفان گرم ہیں مذہب و ملت کے نام پر قوم میں انتشار پیدا ہو چکا ہے، بھائی بھائی کا دشمن بنا ہوا ہے، آج آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں کہ کہاں گئی وہ ہماری محبتیں، کہاں گیا وہ ہمارا بھائی چارہ، کہاں ہے وہ جواں مردی جہاں ایک دوسرے کے لئے جان قربان کرنے تیار رہتے تھے، یاد رکھیں جس قوم میں اتحاد و اتفاق کا فقدان پایا جاتا ہے اس قوم کا شیرازہ بکھرنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا، وہ قوم تباہ و برباد ہو گئیں جس قوم کا اتحاد ختم ہو گیا۔ اس بات کو گوش گزار کرلیں۔۔۔
(4) حب دنیا کا دل میں گھر کر جانا: اخرت کی فکر چھوڑ کر آج انسان دنیاوی لذتوں میں گم ہو گیا ہے،کاش وہ جان پاتا کہ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی مچھرکے پر برابربھی حیثیت ہوتی تو وہ اس سے کافر کو ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔اگر جانتا ہے تو پھر وہ غفلت کی چادر تانے ہوئے ہے اور تعجب ہے اس شخص پر جو دائمی زندگی والے گھر (یعنی آخرت) کی تصدیق توکرتاہے لیکن کوشش دھوکے والے گھر (یعنی دنیا) کے لئے کرتاہے ۔انسان کو چاہیے کی فنا ہونے والی کو باقی رہنے والی پر ترجیح دے
(5) ٹیکنالوجی اور سائنسی پسماندگی:سائنسی علوم کی آبیاری اور فکری ارتقا میں مسلم علما و محققین کی خدمات ناقابلِ تردید ہیں۔ مگر بیشتر اسلامی ممالک ان جدید علوم میں دوسروں کے محتاج بنے ہوئے ہیں جبکہ یہ اسی قوم کا علمی ورثہ تھا جس نے انسانی فکر کو وسعت بخشی اور سائنسی ارتقا کے نئے دروازے کھولے،یہ وہی ملت تھی جس نے علم و تحقیق کے چراغ روشن کیے اور سائنسی ترقی کی راہیں ہموار کیں۔ مگر افسوس آج وہی قوم سائنسی علوم سے بیزار ہے۔ یاد رکھیں جو قوم جدید علوم، سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی اور معیاری تعلیم میں سرمایہ کاری نہیں کرتی، وہ معاشی اور تکنیکی میدانوں میں دوسروں کی محتاج ہوجاتی ہے۔ پھر انجام یہی ہوتا ہے کہ اس قوم کے پاؤں کو بیڑیوں سے جکڑ لیا جاتا ہے۔اس کی اڑان کے پروں کو کاٹ دیا جاتا ہے۔ ترقی کے افق پر اپنی شناخت قائم کرنے کے لئے عہدِ جدید کے علمی و سائنسی میدانوں میں آگے بڑھنا ہوگا۔آسمانوں کی بلند پروازی پر جانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی کا سہارا لینا ہوگا۔
ہمیں پھر سے اپنی تاریخ کے اوراق پلٹنے کی ضرورت ہے، اپنے تابناک ماضی کی یاد تازہ کرکے روشن مستقبل کی جانب پیش قدمی کرنا ہوگا۔ یاد رکھیں قوموں کی زندگی میں انقلاب اسی وقت آتا ہے جب وہ اپنے ماضی سے سبق سیکھ کر مستقبل کی تعمیر کا عزم کرتی ہیں۔
اے میری قوم کے درخشندہ ستاروں اسلام کے دامن کو مضبوطی سے تھام لو اور اپنے اسلاف کی روش کو اپنا نمونہ عمل بناو اور راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو ختم کر کے راہ ترقی کی طرف بڑھتے رہو، اپنے اندر عقابی روح کو پیدا کرو اور منزل آسمان بناؤ اور یاد رکھو کہ ہمارا تعلق انہی اسلاف سے ہے جو ایسی شاہین کی مانند ہوتے تھے جن کا ٹھکانہ پہاڑوں کی چوٹیاں ہوا کرتی ہیں
آج امت مسلمہ کو بیدار ہونا ہوگا، اپنے اندر سے راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو پس پشت ڈالنا ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں