روٹی  کی اہمیت

مصنفہ : ٹی  این  بھارتی

ادھر  گرمی کی  چھٹیوں   کا  بگل  بجا  ادھر  بچو ں نے  شور وغل مچا دیا  نانی کے گھر جائیں گے دودھ ملائی کھائیں گے ۔   پانچ برس کی  شرارتی  مدیحہ  نے امی اور ابو  سے ضدی انداز میں کہا مجھے نانی  کے گھر  جانا ہے ۔ اپنی بیٹی کو نانی کے گھر ضرور لے چلیں گے ابو  نے مدیحہ کو گود میں  بیٹھاتے ہوئے کہا  چلو  تیار ى کر لو  صبح  پانچ بجے کی ٹرین سے نانی کے گھر چلتے ہیں ۔ مدیحہ  نے ابو کے رخسار پر بوسوں کی بارش کردی  میرے پیارے ابو جان کہہ کر اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھا دئیے بھائی جان صبح کی ٹرین سے ہم نانی کے گھر جا رہے  ہیں ذرا میرا بیگ  نیچے ا تار دیجئے میں اپنی گڑیا  کو بھی ساتھ لے کر جاو گی  ۔ ا رے   رے  رے   نانی کے گھر کھلونے نہیں لے کر جاتے  وہاں اتنی مستی کر یں گے کہ تم کو گڑ یا سے کھیلنے کاوقت ہی نہیں ملے گا  ۔ دس  سالہ باسق ارحم نے  مدیحہ  کو سمجھایا نہیں بھائی جان میں تو اپنی گڑیا ساتھ  لے کر ہی جاوں گی ۔ امی جان نے کمرے میں داخل ہو تے ہوئے کہا چلو بچوں آپ کے بیگ تیار کر دوں  تم دونوں باہر کھیلنے جاو  مدیحہ نے مچل کر کہا  امی جان میری  گڑیا بھی بیگ میں رکھئے گا ۔  اچھا  با با  رکھ لیتی ہوں ۔

فرحت نے  ذرا دیر میں سامان پیک کر لیا ۔ دونوں بچے صبح سویرے جاگ گئے  ابو جان  باسق کو لے کر   فجر کی نماز ادا کرنے چلے گئے ۔ مدیحہ  نہا کر تیار ہوگئ ۔چاروں نے جھٹ پٹ ناشتہ کیا اور سفر کے لئے روانہ ہوئے۔ مدیحہ  تم تو پہلی مرتبہ ٹرین کا سفر کرو گی تو شرارت بالکل نہ کرنا باسق نے چھوٹی بہن کو سمجھایا۔  ٹھیک ہے بھائی جان  میں شرا رٹ نہیں کرو گی ۔  پلیٹ فارم پر جاتے ہی دونوں بچے خوشی سے جھوم کر گانے لگے  ریل گاڑی  چھک چھک  ریل گاڑی چھک چھک  چھک چھک  بھئ چھک چھک ۔۔۔۔۔ ڈبہ میں داخل ہو کرمدیحہ نے ابو کی گود سے اترتے ہی کہا  مجھے کھڑکی کی طرف بیٹھنا ہے لو جی اپنی پیاری بیٹی کو  کھڑکی کے پاس ہی بیٹھا  دیتا  ہوں۔

جیسے ہی ریل نے رفتار پکڑی  مدیحہ نے ابو جان سے سوال کیا یہ ریل گاڑی  کیسے چلتی ہے ؟ بیٹی ریل میں سب سے آگے  ایک انجن ہوتا  ہے اور انجن کے ساتھ تمام ڈبوں  کو  جوڑ دیا جاتا ہے ۔

تیز رفتار گاڑی  منزل کی جانب رواں دواں تھی مدیحہ نیند کی آغوش میں جا چکی تھی  ۔ کرت پور اسٹیشن آتے ہی  فرحت  کی آنکھ پر نم ہوگئ  پورے چھ  برس بعد وہ  اپنے ما ئیکہ  جا،رہی تھی ۔مدیحہ ریل سے اترتے ہی  نانا جان کی گود  میں سما  گئ ۔ ما موں جان نے باسق  کو گلے لگایا ۔  دروازے پر دستک کی آواز  سنتے  ہی نانی  نے د روا زہ   کھو لا تو فرحت  ماں کے  گلے لگ گئ  ۔ سب نے منہ ہاتھ دھو کر ناشتہ کیا ۔ عائشہ  اور  عارض  ماموں کے بچے مدیحہ اور باسق  کے ساتھ باہر کھیلنے چلے گئے   مدیحہ  کے  ابوجان ، ما موں جان اور  نا نا جان  بھی بازار  چلے گئے  ۔ نانی نے باورچی خانہ کی راہ لی ۔    پسینہ سے شرابور بچوں  نے  بھوک لگ  رہی  ہے  بھوک  کی  رٹ  لگائی  تو مدیحہ کی ممانی نے مٹی کے چولہے  میں لکڑی جلاتے ہوئے کہا بچوں تم سب پہلے  نہا  لو  تب تک میں روٹی پکا تی ہوں ۔ ممانی جان  میں تو اس میں نہا وں گی مدیحہ نے صحن میں بنی حو ضی کی طرف اشارہ کیا اچھا تو رکو !!  حوضی میں پانی بھر دیتی ہوں ۔ ہینڈ پمپ سے حوضی میں  پانی  بھر کر ممانی نے چولہے کا رخ کیا  اور روٹی پکانی شروع کر دی  عائشہ اور مدیحہ حوضی  میں کود پڑ یں  ۔ چھپاک   چھپاک  ایکدوسرے پر پانی ڈا ل کر  کبھی حو ضی کے اندر کبھی باہر !! مدیحہ  جل کی  رانی ہے جیون اس کا پانی ہے  !!  ارے  بدھو !  غلط بول رہی ہو عائشہ نے مدیحہ کو  ٹوکا  ! مچھلی جل کی ہے رانی   بولو !!

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

روٹی  کی اہمیت

مصنفہ : ٹی  این  بھارتی

ادھر  گرمی کی  چھٹیوں   کا  بگل  بجا  ادھر  بچو ں نے  شور وغل مچا دیا  نانی کے گھر جائیں گے دودھ ملائی کھائیں گے ۔   پانچ برس کی  شرارتی  مدیحہ  نے امی اور ابو  سے ضدی انداز میں کہا مجھے نانی  کے گھر  جانا ہے ۔ اپنی بیٹی کو نانی کے گھر ضرور لے چلیں گے ابو  نے مدیحہ کو گود میں  بیٹھاتے ہوئے کہا  چلو  تیار ى کر لو  صبح  پانچ بجے کی ٹرین سے نانی کے گھر چلتے ہیں ۔ مدیحہ  نے ابو کے رخسار پر بوسوں کی بارش کردی  میرے پیارے ابو جان کہہ کر اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھا دئیے بھائی جان صبح کی ٹرین سے ہم نانی کے گھر جا رہے  ہیں ذرا میرا بیگ  نیچے ا تار دیجئے میں اپنی گڑیا  کو بھی ساتھ لے کر جاو گی  ۔ ا رے   رے  رے   نانی کے گھر کھلونے نہیں لے کر جاتے  وہاں اتنی مستی کر یں گے کہ تم کو گڑ یا سے کھیلنے کاوقت ہی نہیں ملے گا  ۔ دس  سالہ باسق ارحم نے  مدیحہ  کو سمجھایا نہیں بھائی جان میں تو اپنی گڑیا ساتھ  لے کر ہی جاوں گی ۔ امی جان نے کمرے میں داخل ہو تے ہوئے کہا چلو بچوں آپ کے بیگ تیار کر دوں  تم دونوں باہر کھیلنے جاو  مدیحہ نے مچل کر کہا  امی جان میری  گڑیا بھی بیگ میں رکھئے گا ۔  اچھا  با با  رکھ لیتی ہوں ۔

فرحت نے  ذرا دیر میں سامان پیک کر لیا ۔ دونوں بچے صبح سویرے جاگ گئے  ابو جان  باسق کو لے کر   فجر کی نماز ادا کرنے چلے گئے ۔ مدیحہ  نہا کر تیار ہوگئ ۔چاروں نے جھٹ پٹ ناشتہ کیا اور سفر کے لئے روانہ ہوئے۔ مدیحہ  تم تو پہلی مرتبہ ٹرین کا سفر کرو گی تو شرارت بالکل نہ کرنا باسق نے چھوٹی بہن کو سمجھایا۔  ٹھیک ہے بھائی جان  میں شرا رٹ نہیں کرو گی ۔  پلیٹ فارم پر جاتے ہی دونوں بچے خوشی سے جھوم کر گانے لگے  ریل گاڑی  چھک چھک  ریل گاڑی چھک چھک  چھک چھک  بھئ چھک چھک ۔۔۔۔۔ ڈبہ میں داخل ہو کرمدیحہ نے ابو کی گود سے اترتے ہی کہا  مجھے کھڑکی کی طرف بیٹھنا ہے لو جی اپنی پیاری بیٹی کو  کھڑکی کے پاس ہی بیٹھا  دیتا  ہوں۔

جیسے ہی ریل نے رفتار پکڑی  مدیحہ نے ابو جان سے سوال کیا یہ ریل گاڑی  کیسے چلتی ہے ؟ بیٹی ریل میں سب سے آگے  ایک انجن ہوتا  ہے اور انجن کے ساتھ تمام ڈبوں  کو  جوڑ دیا جاتا ہے ۔

تیز رفتار گاڑی  منزل کی جانب رواں دواں تھی مدیحہ نیند کی آغوش میں جا چکی تھی  ۔ کرت پور اسٹیشن آتے ہی  فرحت  کی آنکھ پر نم ہوگئ  پورے چھ  برس بعد وہ  اپنے ما ئیکہ  جا،رہی تھی ۔مدیحہ ریل سے اترتے ہی  نانا جان کی گود  میں سما  گئ ۔ ما موں جان نے باسق  کو گلے لگایا ۔  دروازے پر دستک کی آواز  سنتے  ہی نانی  نے د روا زہ   کھو لا تو فرحت  ماں کے  گلے لگ گئ  ۔ سب نے منہ ہاتھ دھو کر ناشتہ کیا ۔ عائشہ  اور  عارض  ماموں کے بچے مدیحہ اور باسق  کے ساتھ باہر کھیلنے چلے گئے   مدیحہ  کے  ابوجان ، ما موں جان اور  نا نا جان  بھی بازار  چلے گئے  ۔ نانی نے باورچی خانہ کی راہ لی ۔    پسینہ سے شرابور بچوں  نے  بھوک لگ  رہی  ہے  بھوک  کی  رٹ  لگائی  تو مدیحہ کی ممانی نے مٹی کے چولہے  میں لکڑی جلاتے ہوئے کہا بچوں تم سب پہلے  نہا  لو  تب تک میں روٹی پکا تی ہوں ۔ ممانی جان  میں تو اس میں نہا وں گی مدیحہ نے صحن میں بنی حو ضی کی طرف اشارہ کیا اچھا تو رکو !!  حوضی میں پانی بھر دیتی ہوں ۔ ہینڈ پمپ سے حوضی میں  پانی  بھر کر ممانی نے چولہے کا رخ کیا  اور روٹی پکانی شروع کر دی  عائشہ اور مدیحہ حوضی  میں کود پڑ یں  ۔ چھپاک   چھپاک  ایکدوسرے پر پانی ڈا ل کر  کبھی حو ضی کے اندر کبھی باہر !! مدیحہ  جل کی  رانی ہے جیون اس کا پانی ہے  !!  ارے  بدھو !  غلط بول رہی ہو عائشہ نے مدیحہ کو  ٹوکا  ! مچھلی جل کی ہے رانی   بولو !!

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں