خواجہ سراؤں کی زندگی اور ہمارا معاشرہ

 

سماویہ اعظم

ہر انسان کی زندگی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کسی کے لئے زندگی آسانیوں کے دروازے کھول دیتی ہے تو کوئی اذیتوں میں زندگی گزارتا ہے۔ خواجہ سرا بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ان کی زندگی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اس معاشرے میں رہتے ہوئے کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں جب بھی انہیں سڑکوں اور بازاروں میں دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ ان کی مسکراہٹ کے پیچھے کتنی کہانیاں چھپی ہوئی ہیں۔ ہم ان کے لباس، انداز اور آواز پر تبصرے تو کر لیتے ہیں، لیکن ان کی خواہشات، احساسات اور محرومیوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی انسان کی زندگی کا فیصلہ صرف اس کی ظاہری شناخت کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟
ایک بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ ہر شے سے بے خبر اور گناہوں سے پاک ہوتا ہے۔ ہر بچے کو دوسرے بچوں کی طرح ماں کی گود، باپ کی شفقت، بہن بھائیوں کی محبت اور گھر کے پُرسکون ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پر خوشیاں منائی جائیں، اس کی شرارتوں پر مسکرایا جائے اور اس پر فخر کیا جائے، لیکن خواجہ سرا بچوں کے لئے زندگی کا آغاز ہی ایسے سوالات سے ہوتا ہے جن کے جواب ان کے اپنے گھر والے بھی نہیں دے پاتے۔
جب خاندان کو بچے کی جنس یا شناخت کے حوالے سے کسی مختلف صورتِ حال کا سامنا ہوتا ہے تو اسے قبول کرنے کے بجائے اس کی پیدائش یا شناخت کو شرمندگی، خوف اور بدنامی کا سبب سمجھ لیا جاتا ہے۔ ایک ایسا بچہ جسے سب سے پہلے اپنے گھر سے تحفظ ملنا چاہیے، اسی گھر میں اجنبیت محسوس کرنے لگتا ہے۔
والدین کی محبت کسی بھی بچے کی شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر کسی بچے کو اس کی شناخت کی وجہ سے بار بار یہ احساس دلایا جائے کہ وہ دوسروں سے مختلف ہے اور اس کا وجود خاندان کے لئے باعثِ شرمندگی ہے تو وہ احساسِ کمتری کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہے جب اسے کسی اجنبی کی نفرت سے زیادہ اپنے ہی لوگوں کی بے رخی کا سامنا کرنا پڑے۔ جس گھر میں وہ انگلی پکڑ کر چلنا سیکھتا ہے، اسی گھر کی دہلیز اس کے لئے بھاری ہو جاتی ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اپنے ہی والدین کی محبت سے محروم ہونے کا احساس انسان کو اندر سے توڑ سکتا ہے؟
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم بہت سی باتوں کو سمجھے بغیر ان کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔ خواجہ سرا کہیں نظر آئیں تو لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، انہیں عجیب نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور بعض اوقات ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں۔ ہم ان باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، لیکن جس شخص کو روزانہ ایسے رویوں کا سامنا کرنا پڑے، اس کے لئے یہ سب کتنا تکلیف دہ ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کسی پر ہنسنا یا اسے حقارت سے دیکھنا ہماری ناقص تربیت اور محدود سوچ کا نتیجہ ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ کسی کی ظاہری شناخت کو مذاق کا موضوع بنانا نہ تو بہادری ہے اور نہ ہی اچھے اخلاق کی علامت۔
خواجہ سراؤں کی زندگی کا ایک اہم مسئلہ تعلیم تک رسائی بھی ہے۔ تعلیم ہر انسان کو شعور دیتی ہے اور اس کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ زندگی میں آگے بڑھنے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ مگر جب کسی بچے کو تعلیمی ادارے میں داخلے سے لے کر وہاں کے ماحول تک، مختلف سطحوں پر نامناسب رویوں کا سامنا کرنا پڑے تو اس کے لئے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ بعض بچے ساتھیوں کے مذاق، نامناسب تبصروں اور دوسروں کی بے جا مداخلت سے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے ایسا ماحول فراہم کریں جہاں ہر طالب علم کو عزت، تحفظ اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔ اگر ہم اپنے بچوں کو یہ سکھا دیں کہ کسی کی مختلف شناخت اس کی تضحیک کا جواز نہیں، تو آنے والی نسلوں کے رویوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
تعلیم کے بعد روزگار کا مسئلہ بھی درپیش ہوتا ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ اسے اچھی ملازمت ملے اور وہ کسی کا محتاج نہ رہے۔ خواجہ سرا افراد بھی آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ کوئی کاروبار کرنا چاہتا ہے، کوئی تدریس، فنون، طب یا کسی دوسرے شعبے میں اپنی صلاحیتیں آزمانا چاہتا ہے، لیکن اگر کسی شخص کو اس کی شناخت کی وجہ سے ملازمت دینے سے انکار کر دیا جائے یا اسے کام کی جگہ پر مسلسل تضحیک کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے کیسے لائے گا؟
ہر انسان کو اپنی محنت اور قابلیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ کسی کو محض اس کی شناخت کی وجہ سے روزگار سے محروم کرنا اس کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم نے ان افراد کو اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے مناسب مواقع فراہم کیے ہیں؟ کیا ہمارے تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز انہیں قبول کرتے ہیں؟ اگر مواقع کی کمی ہو اور پھر اسی کمی کو ان کی ناکامی قرار دے دیا جائے تو یہ رویہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ معاشرے کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ہر انسان کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے۔
خواجہ سرا افراد کو بھی ایسا ماحول ملنا چاہیے جہاں وہ تضحیک اور تشدد کے خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ان کی شکایات کو سنجیدگی سے لیں، قانون کے مطابق کارروائی کریں اور ایسے انتظامات کو بہتر بنائیں جن سے ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکے۔ تحفظ کا احساس ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور خواجہ سرا افراد بھی اس حق سے محروم نہیں ہونے چاہییں۔
ہمارے معاشرے میں مذہب، اخلاق اور انسانیت کی بات کی جاتی ہے۔ ہم دوسروں کو اچھے اخلاق اپنانے کی تلقین کرتے ہیں اور خدمتِ خلق کو نیکی سمجھتے ہیں، لیکن جب یہی اصول کسی ایسے شخص کے معاملے میں بھلا دیے جائیں جس کی شناخت ہم سے مختلف ہو تو ہمیں اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔ کسی انسان کے ساتھ عزت سے پیش آنے کے لئے ضروری نہیں کہ ہم اس کی زندگی کے ہر پہلو کو مکمل طور پر سمجھتے ہوں۔ اختلافِ رائے کے باوجود احترام کیا جا سکتا ہے اور کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کیے بغیر اس کے بنیادی حقوق کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔
ہمیں اپنے رویوں کے ساتھ ساتھ اپنے نظام پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ لوگوں کو آگاہی فراہم کرنا، روزگار کے منصفانہ مواقع پیدا کرنا، صحت کی سہولتوں تک رسائی ممکن بنانا اور قانونی حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنانا ایسے اقدامات ہیں جو عملی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ فلاحی ادارے اور سماجی تنظیمیں بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن سب سے پہلے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری بخوبی سمجھنا ہوگی۔
اگر ہم کسی کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو کم از کم اسے تکلیف پہنچانے سے گریز کریں۔ اگر ہم کسی مسئلے کا فوری حل نہیں نکال سکتے تو کم از کم اسے مزید سنگین بنانے کا سبب نہ بنیں۔ ایک بہتر معاشرہ وہ نہیں جہاں تمام لوگ ایک جیسے ہوں، بلکہ وہ ہے جہاں مختلف ہونے کے باوجود ہر شخص کو عزت اور تحفظ حاصل ہو۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اس فرق کو نفرت کی بنیاد بنانے کے بجائے ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں کو دوسروں کا مذاق اڑانے سے روکنا چاہیے اور انہیں یہ احساس دلانا چاہیے کہ کسی انسان کی کمزوری یا مختلف شناخت کو نشانہ بنانا بہادری نہیں ہے۔ اگر کسی خواجہ سرا کو کسی جگہ ہراساں کیا جا رہا ہو تو ہمیں اس کے حق میں آواز اٹھانی چاہیے۔
اگر ہم واقعی ایک مہذب اور باشعور معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں خواجہ سرا افراد پر تبصرے کرنے کے بجائے ان کی مشکلات کو سمجھنا اور ان کا ساتھ دینا ہوگا، کیونکہ ایک مثالی معاشرہ وہی ہے جہاں ہر فرد کو اپنی زندگی عزت اور وقار کے ساتھ گزارنے کا حق حاصل ہو۔
بقولِ شاعر
گالوں پر غازے کے پیچھے درد کے سوکھے پھول
لچکیلی بانہوں کی شاخوں پر نفرت کی دھول

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

خواجہ سراؤں کی زندگی اور ہمارا معاشرہ

 

سماویہ اعظم

ہر انسان کی زندگی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کسی کے لئے زندگی آسانیوں کے دروازے کھول دیتی ہے تو کوئی اذیتوں میں زندگی گزارتا ہے۔ خواجہ سرا بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ان کی زندگی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اس معاشرے میں رہتے ہوئے کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں جب بھی انہیں سڑکوں اور بازاروں میں دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ ان کی مسکراہٹ کے پیچھے کتنی کہانیاں چھپی ہوئی ہیں۔ ہم ان کے لباس، انداز اور آواز پر تبصرے تو کر لیتے ہیں، لیکن ان کی خواہشات، احساسات اور محرومیوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی انسان کی زندگی کا فیصلہ صرف اس کی ظاہری شناخت کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟
ایک بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ ہر شے سے بے خبر اور گناہوں سے پاک ہوتا ہے۔ ہر بچے کو دوسرے بچوں کی طرح ماں کی گود، باپ کی شفقت، بہن بھائیوں کی محبت اور گھر کے پُرسکون ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پر خوشیاں منائی جائیں، اس کی شرارتوں پر مسکرایا جائے اور اس پر فخر کیا جائے، لیکن خواجہ سرا بچوں کے لئے زندگی کا آغاز ہی ایسے سوالات سے ہوتا ہے جن کے جواب ان کے اپنے گھر والے بھی نہیں دے پاتے۔
جب خاندان کو بچے کی جنس یا شناخت کے حوالے سے کسی مختلف صورتِ حال کا سامنا ہوتا ہے تو اسے قبول کرنے کے بجائے اس کی پیدائش یا شناخت کو شرمندگی، خوف اور بدنامی کا سبب سمجھ لیا جاتا ہے۔ ایک ایسا بچہ جسے سب سے پہلے اپنے گھر سے تحفظ ملنا چاہیے، اسی گھر میں اجنبیت محسوس کرنے لگتا ہے۔
والدین کی محبت کسی بھی بچے کی شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر کسی بچے کو اس کی شناخت کی وجہ سے بار بار یہ احساس دلایا جائے کہ وہ دوسروں سے مختلف ہے اور اس کا وجود خاندان کے لئے باعثِ شرمندگی ہے تو وہ احساسِ کمتری کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہے جب اسے کسی اجنبی کی نفرت سے زیادہ اپنے ہی لوگوں کی بے رخی کا سامنا کرنا پڑے۔ جس گھر میں وہ انگلی پکڑ کر چلنا سیکھتا ہے، اسی گھر کی دہلیز اس کے لئے بھاری ہو جاتی ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اپنے ہی والدین کی محبت سے محروم ہونے کا احساس انسان کو اندر سے توڑ سکتا ہے؟
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم بہت سی باتوں کو سمجھے بغیر ان کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔ خواجہ سرا کہیں نظر آئیں تو لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، انہیں عجیب نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور بعض اوقات ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں۔ ہم ان باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، لیکن جس شخص کو روزانہ ایسے رویوں کا سامنا کرنا پڑے، اس کے لئے یہ سب کتنا تکلیف دہ ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کسی پر ہنسنا یا اسے حقارت سے دیکھنا ہماری ناقص تربیت اور محدود سوچ کا نتیجہ ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ کسی کی ظاہری شناخت کو مذاق کا موضوع بنانا نہ تو بہادری ہے اور نہ ہی اچھے اخلاق کی علامت۔
خواجہ سراؤں کی زندگی کا ایک اہم مسئلہ تعلیم تک رسائی بھی ہے۔ تعلیم ہر انسان کو شعور دیتی ہے اور اس کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ زندگی میں آگے بڑھنے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ مگر جب کسی بچے کو تعلیمی ادارے میں داخلے سے لے کر وہاں کے ماحول تک، مختلف سطحوں پر نامناسب رویوں کا سامنا کرنا پڑے تو اس کے لئے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ بعض بچے ساتھیوں کے مذاق، نامناسب تبصروں اور دوسروں کی بے جا مداخلت سے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے ایسا ماحول فراہم کریں جہاں ہر طالب علم کو عزت، تحفظ اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔ اگر ہم اپنے بچوں کو یہ سکھا دیں کہ کسی کی مختلف شناخت اس کی تضحیک کا جواز نہیں، تو آنے والی نسلوں کے رویوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
تعلیم کے بعد روزگار کا مسئلہ بھی درپیش ہوتا ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ اسے اچھی ملازمت ملے اور وہ کسی کا محتاج نہ رہے۔ خواجہ سرا افراد بھی آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ کوئی کاروبار کرنا چاہتا ہے، کوئی تدریس، فنون، طب یا کسی دوسرے شعبے میں اپنی صلاحیتیں آزمانا چاہتا ہے، لیکن اگر کسی شخص کو اس کی شناخت کی وجہ سے ملازمت دینے سے انکار کر دیا جائے یا اسے کام کی جگہ پر مسلسل تضحیک کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے کیسے لائے گا؟
ہر انسان کو اپنی محنت اور قابلیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ کسی کو محض اس کی شناخت کی وجہ سے روزگار سے محروم کرنا اس کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم نے ان افراد کو اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے مناسب مواقع فراہم کیے ہیں؟ کیا ہمارے تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز انہیں قبول کرتے ہیں؟ اگر مواقع کی کمی ہو اور پھر اسی کمی کو ان کی ناکامی قرار دے دیا جائے تو یہ رویہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ معاشرے کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ہر انسان کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے۔
خواجہ سرا افراد کو بھی ایسا ماحول ملنا چاہیے جہاں وہ تضحیک اور تشدد کے خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ان کی شکایات کو سنجیدگی سے لیں، قانون کے مطابق کارروائی کریں اور ایسے انتظامات کو بہتر بنائیں جن سے ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکے۔ تحفظ کا احساس ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور خواجہ سرا افراد بھی اس حق سے محروم نہیں ہونے چاہییں۔
ہمارے معاشرے میں مذہب، اخلاق اور انسانیت کی بات کی جاتی ہے۔ ہم دوسروں کو اچھے اخلاق اپنانے کی تلقین کرتے ہیں اور خدمتِ خلق کو نیکی سمجھتے ہیں، لیکن جب یہی اصول کسی ایسے شخص کے معاملے میں بھلا دیے جائیں جس کی شناخت ہم سے مختلف ہو تو ہمیں اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔ کسی انسان کے ساتھ عزت سے پیش آنے کے لئے ضروری نہیں کہ ہم اس کی زندگی کے ہر پہلو کو مکمل طور پر سمجھتے ہوں۔ اختلافِ رائے کے باوجود احترام کیا جا سکتا ہے اور کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کیے بغیر اس کے بنیادی حقوق کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔
ہمیں اپنے رویوں کے ساتھ ساتھ اپنے نظام پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ لوگوں کو آگاہی فراہم کرنا، روزگار کے منصفانہ مواقع پیدا کرنا، صحت کی سہولتوں تک رسائی ممکن بنانا اور قانونی حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنانا ایسے اقدامات ہیں جو عملی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ فلاحی ادارے اور سماجی تنظیمیں بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن سب سے پہلے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری بخوبی سمجھنا ہوگی۔
اگر ہم کسی کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو کم از کم اسے تکلیف پہنچانے سے گریز کریں۔ اگر ہم کسی مسئلے کا فوری حل نہیں نکال سکتے تو کم از کم اسے مزید سنگین بنانے کا سبب نہ بنیں۔ ایک بہتر معاشرہ وہ نہیں جہاں تمام لوگ ایک جیسے ہوں، بلکہ وہ ہے جہاں مختلف ہونے کے باوجود ہر شخص کو عزت اور تحفظ حاصل ہو۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اس فرق کو نفرت کی بنیاد بنانے کے بجائے ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں کو دوسروں کا مذاق اڑانے سے روکنا چاہیے اور انہیں یہ احساس دلانا چاہیے کہ کسی انسان کی کمزوری یا مختلف شناخت کو نشانہ بنانا بہادری نہیں ہے۔ اگر کسی خواجہ سرا کو کسی جگہ ہراساں کیا جا رہا ہو تو ہمیں اس کے حق میں آواز اٹھانی چاہیے۔
اگر ہم واقعی ایک مہذب اور باشعور معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں خواجہ سرا افراد پر تبصرے کرنے کے بجائے ان کی مشکلات کو سمجھنا اور ان کا ساتھ دینا ہوگا، کیونکہ ایک مثالی معاشرہ وہی ہے جہاں ہر فرد کو اپنی زندگی عزت اور وقار کے ساتھ گزارنے کا حق حاصل ہو۔
بقولِ شاعر
گالوں پر غازے کے پیچھے درد کے سوکھے پھول
لچکیلی بانہوں کی شاخوں پر نفرت کی دھول

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں