نیا تعلیمی سال، نئی امیدیں اور پرانے سوالات!

 

تجمل قادری

نئے تعلیمی سال کا آغاز نئی امیدوں، نئے خوابوں اور روشن مستقبل کی آرزوؤں کے ساتھ ہوتا ہے۔ بچے نئی جماعتوں میں قدم رکھتے ہیں اور والدین ان کے بہتر مستقبل کے خواب سجاتے ہیں، لیکن ان خوابوں کی تکمیل کے لئے حکومت اور محکمۂ تعلیم کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس نئے تعلیمی سال میں سرکاری اسکولوں کے حالات بدلیں گے؟ کیا بچوں کو وقت پر درسی کتابیں اور بنیادی سہولیات ملیں گی؟ کیا اساتذہ کو تدریس کے لئے مناسب ماحول فراہم کیا جائے گا، یا ایک بار پھر وہی مسائل برقرار رہیں گے؟ تعلیم ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔
اعداد و شمار اور زمینی حقیقت
وزارت تعلیم کی UDISE+ رپورٹ 2024–25 کے مطابق جموں و کشمیر میں تقریباً 24,192 اسکول، 26.54 لاکھ طلبہ اور 1,66,717 اساتذہ درج کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب، پرفارمنس گریڈنگ انڈیکس (PGI) 2.0 میں جموں و کشمیر کا اسکور 2023–24 کے 527.3 سے کم ہوکر25-2024میں2.500رہ گیا۔
یہ اعداد و شمار سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔ اصل سوال اسکولوں کی تعداد یا طلبہ کے داخلوں کا نہیں، بلکہ انہیں فراہم کی جانے والی تعلیم کے معیار کا ہے۔
کتابیں وقت پر نہیں تو تعلیم کیسے آگے بڑھے گی؟
ہر سال تعلیمی سیشن کے آغاز پر طلبہ اور والدین کی سب سے بڑی توقع ہوتی ہے کہ بچوں کو بروقت کتابیں فراہم کی جائیں۔ اگر تدریسی سرگرمیاں شروع ہوجائیں لیکن کتابیں دستیاب نہ ہوں تو نقصان بچوں کا ہوتا ہے، جن کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہوجاتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ درسی کتابوں کی چھپائی اور تقسیم تعلیمی سال شروع ہونے سے پہلے مکمل کرے اور متعلقہ افسران کی جواب دہی مقرر کرے۔ بچوں کو ہر سال کتابوں کے انتظار کی آزمائش سے کیوں گزرنا پڑے؟ ان کے تعلیمی مستقبل کو ترجیح دینا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اسکول عمارتیں نہیں، مستقبل تعمیر کرنے کے مراکز ہیں
کسی اسکول کی کامیابی صرف اس کی عمارت سے نہیں ناپی جاسکتی۔ صاف پانی، فعال بیت الخلا، مناسب کلاس رومز، لائبریری، سائنس لیبارٹری، کمپیوٹر اور کھیلوں کی سہولیات معیاری تعلیم کے لئے ضروری ہیں۔
حکومت کو ہر سرکاری اسکول کا جائزہ لے کر سہولیات کی کمی دور کرنی چاہیے۔ صرف نئے منصوبوں کے اعلانات کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ بچوں کو ان سے حقیقی فائدہ پہنچے۔ اسکول میں بیٹھا ہر بچہ کسی گھر کی امید ہے، اور اس کی ضروریات کو نظرانداز کرنا اس کے مستقبل کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔
استاد کو پڑھانے دیں، غیر تدریسی کاموں کا بوجھ نہ ڈالیں
سرکاری تعلیمی نظام کا ایک اہم مسئلہ اساتذہ پر غیر تدریسی ذمہ داریوں کا بوجھ ہے۔ استاد کی اصل ذمہ داری بچوں کو تعلیم دینا، ان کی صلاحیتیں نکھارنا اور تعلیمی کمزوریوں کو دور کرنا ہے۔
جب اساتذہ کو مختلف محکموں کے سروے، دفتری کارروائیوں اور بار بار رپورٹس تیار کرنے جیسے کاموں میں مصروف رکھا جاتا ہے تو تدریس کے لئے ان کا وقت متاثر ہوتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ اساتذہ کو حتی الامکان تدریسی ذمہ داریوں تک محدود رکھے اور دیگر کاموں کے لئے مناسب متبادل انتظامات کرے۔ اگر استاد کا زیادہ وقت غیر تدریسی کاموں میں صرف ہوگا تو تعلیمی معیار بہتر بنانے کی توقع کیسے پوری ہوگی؟
اساتذہ کی تعیناتی اور کم داخلوں والے اسکول
کچھ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، جبکہ بعض میں طلبہ کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ عملے جیسے مسائل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ محکمۂ تعلیم کو اسکول وار اعداد و شمار کی بنیاد پر اساتذہ کی مناسب تعیناتی یقینی بنانی چاہیے۔
اسی طرح، کم داخلوں والے اسکولوں کو ضم کرنے سے پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ طلبہ کی تعداد کم ہونے کی وجوہات کیا ہیں۔ کیا وہاں سہولیات کی کمی ہے یا والدین سرکاری تعلیم سے مطمئن نہیں؟ اسکولوں کے انضمام میں بچوں کے سفری فاصلے، محفوظ آمدورفت اور تعلیم تک رسائی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ کسی بچے کو محض انتظامی فیصلے کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔
حکومت سے چند بنیادی سوالات
حکومت اور محکمۂ تعلیم کو نئے تعلیمی سال میں کتابوں کی بروقت فراہمی، بنیادی سہولیات کی بہتری، اساتذہ کی مناسب تعیناتی اور اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کی فعالیت یقینی بنانی چاہیے۔ تعلیمی منصوبوں کے اخراجات اور نتائج کا شفاف جائزہ بھی ضروری ہے۔
والدین اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کراتے وقت حکومت پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس اعتماد کو برقرار رکھنا محکمۂ تعلیم کی ذمہ داری ہے۔
آخر میں حکومت سے یہی سوال ہے: کیا اس سال بھی بچے پرانی مشکلات کے ساتھ تعلیم حاصل کریں گے، یا ان کی امیدوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں گے؟
نئے تعلیمی سال کی اصل کامیابی داخلوں کی تعداد یا اعلانات میں نہیں، بلکہ اس بچے کے اطمینان میں ہے جسے وقت پر کتاب ملے، اس استاد کے اطمینان میں ہے جسے پڑھانے کا پورا موقع ملے، اور ان والدین کے اعتماد میں ہے جو اپنے بچے کا مستقبل سرکاری اسکول کے حوالے کرتے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ پرانی کوتاہیوں سے سبق سیکھے اور تعلیم کو محض پالیسیوں اور وعدوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی ترجیح بنائے، کیونکہ آج کلاس روم میں بیٹھا بچہ ہی کل جموں و کشمیر کا مستقبل ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

نیا تعلیمی سال، نئی امیدیں اور پرانے سوالات!

 

تجمل قادری

نئے تعلیمی سال کا آغاز نئی امیدوں، نئے خوابوں اور روشن مستقبل کی آرزوؤں کے ساتھ ہوتا ہے۔ بچے نئی جماعتوں میں قدم رکھتے ہیں اور والدین ان کے بہتر مستقبل کے خواب سجاتے ہیں، لیکن ان خوابوں کی تکمیل کے لئے حکومت اور محکمۂ تعلیم کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس نئے تعلیمی سال میں سرکاری اسکولوں کے حالات بدلیں گے؟ کیا بچوں کو وقت پر درسی کتابیں اور بنیادی سہولیات ملیں گی؟ کیا اساتذہ کو تدریس کے لئے مناسب ماحول فراہم کیا جائے گا، یا ایک بار پھر وہی مسائل برقرار رہیں گے؟ تعلیم ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔
اعداد و شمار اور زمینی حقیقت
وزارت تعلیم کی UDISE+ رپورٹ 2024–25 کے مطابق جموں و کشمیر میں تقریباً 24,192 اسکول، 26.54 لاکھ طلبہ اور 1,66,717 اساتذہ درج کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب، پرفارمنس گریڈنگ انڈیکس (PGI) 2.0 میں جموں و کشمیر کا اسکور 2023–24 کے 527.3 سے کم ہوکر25-2024میں2.500رہ گیا۔
یہ اعداد و شمار سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔ اصل سوال اسکولوں کی تعداد یا طلبہ کے داخلوں کا نہیں، بلکہ انہیں فراہم کی جانے والی تعلیم کے معیار کا ہے۔
کتابیں وقت پر نہیں تو تعلیم کیسے آگے بڑھے گی؟
ہر سال تعلیمی سیشن کے آغاز پر طلبہ اور والدین کی سب سے بڑی توقع ہوتی ہے کہ بچوں کو بروقت کتابیں فراہم کی جائیں۔ اگر تدریسی سرگرمیاں شروع ہوجائیں لیکن کتابیں دستیاب نہ ہوں تو نقصان بچوں کا ہوتا ہے، جن کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہوجاتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ درسی کتابوں کی چھپائی اور تقسیم تعلیمی سال شروع ہونے سے پہلے مکمل کرے اور متعلقہ افسران کی جواب دہی مقرر کرے۔ بچوں کو ہر سال کتابوں کے انتظار کی آزمائش سے کیوں گزرنا پڑے؟ ان کے تعلیمی مستقبل کو ترجیح دینا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اسکول عمارتیں نہیں، مستقبل تعمیر کرنے کے مراکز ہیں
کسی اسکول کی کامیابی صرف اس کی عمارت سے نہیں ناپی جاسکتی۔ صاف پانی، فعال بیت الخلا، مناسب کلاس رومز، لائبریری، سائنس لیبارٹری، کمپیوٹر اور کھیلوں کی سہولیات معیاری تعلیم کے لئے ضروری ہیں۔
حکومت کو ہر سرکاری اسکول کا جائزہ لے کر سہولیات کی کمی دور کرنی چاہیے۔ صرف نئے منصوبوں کے اعلانات کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ بچوں کو ان سے حقیقی فائدہ پہنچے۔ اسکول میں بیٹھا ہر بچہ کسی گھر کی امید ہے، اور اس کی ضروریات کو نظرانداز کرنا اس کے مستقبل کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔
استاد کو پڑھانے دیں، غیر تدریسی کاموں کا بوجھ نہ ڈالیں
سرکاری تعلیمی نظام کا ایک اہم مسئلہ اساتذہ پر غیر تدریسی ذمہ داریوں کا بوجھ ہے۔ استاد کی اصل ذمہ داری بچوں کو تعلیم دینا، ان کی صلاحیتیں نکھارنا اور تعلیمی کمزوریوں کو دور کرنا ہے۔
جب اساتذہ کو مختلف محکموں کے سروے، دفتری کارروائیوں اور بار بار رپورٹس تیار کرنے جیسے کاموں میں مصروف رکھا جاتا ہے تو تدریس کے لئے ان کا وقت متاثر ہوتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ اساتذہ کو حتی الامکان تدریسی ذمہ داریوں تک محدود رکھے اور دیگر کاموں کے لئے مناسب متبادل انتظامات کرے۔ اگر استاد کا زیادہ وقت غیر تدریسی کاموں میں صرف ہوگا تو تعلیمی معیار بہتر بنانے کی توقع کیسے پوری ہوگی؟
اساتذہ کی تعیناتی اور کم داخلوں والے اسکول
کچھ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، جبکہ بعض میں طلبہ کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ عملے جیسے مسائل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ محکمۂ تعلیم کو اسکول وار اعداد و شمار کی بنیاد پر اساتذہ کی مناسب تعیناتی یقینی بنانی چاہیے۔
اسی طرح، کم داخلوں والے اسکولوں کو ضم کرنے سے پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ طلبہ کی تعداد کم ہونے کی وجوہات کیا ہیں۔ کیا وہاں سہولیات کی کمی ہے یا والدین سرکاری تعلیم سے مطمئن نہیں؟ اسکولوں کے انضمام میں بچوں کے سفری فاصلے، محفوظ آمدورفت اور تعلیم تک رسائی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ کسی بچے کو محض انتظامی فیصلے کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔
حکومت سے چند بنیادی سوالات
حکومت اور محکمۂ تعلیم کو نئے تعلیمی سال میں کتابوں کی بروقت فراہمی، بنیادی سہولیات کی بہتری، اساتذہ کی مناسب تعیناتی اور اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کی فعالیت یقینی بنانی چاہیے۔ تعلیمی منصوبوں کے اخراجات اور نتائج کا شفاف جائزہ بھی ضروری ہے۔
والدین اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کراتے وقت حکومت پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس اعتماد کو برقرار رکھنا محکمۂ تعلیم کی ذمہ داری ہے۔
آخر میں حکومت سے یہی سوال ہے: کیا اس سال بھی بچے پرانی مشکلات کے ساتھ تعلیم حاصل کریں گے، یا ان کی امیدوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں گے؟
نئے تعلیمی سال کی اصل کامیابی داخلوں کی تعداد یا اعلانات میں نہیں، بلکہ اس بچے کے اطمینان میں ہے جسے وقت پر کتاب ملے، اس استاد کے اطمینان میں ہے جسے پڑھانے کا پورا موقع ملے، اور ان والدین کے اعتماد میں ہے جو اپنے بچے کا مستقبل سرکاری اسکول کے حوالے کرتے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ پرانی کوتاہیوں سے سبق سیکھے اور تعلیم کو محض پالیسیوں اور وعدوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی ترجیح بنائے، کیونکہ آج کلاس روم میں بیٹھا بچہ ہی کل جموں و کشمیر کا مستقبل ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں