اسلام کی روشنی میں تجارت کے رہنما اصول

 

 

 

محمد ارمان

تجارت انسانی زندگی کی اہم ضروریات میں سے ایک ہے۔ انسان اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنے کے لئے محنت کرتا ہے، کاروبار کرتا ہے اور رزق حاصل کرنے کے مختلف ذرائع اختیار کرتا ہے۔ لیکن ایک مسلمان کے لئے تجارت کا مقصد محض مال کمانا نہیں، بلکہ حلال روزی حاصل کرنا، لوگوں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا بھی ہے۔ اسلام نے تجارت کو جائز قرار دینے کے ساتھ اس کے لئے ایسے اصول و ضوابط بھی عطا فرمائے ہیں، جن کی پابندی سے انسان کی معاشی زندگی پاکیزہ اور بابرکت بن سکتی ہے۔
اس مضمون میں ہم تجارت کی اہمیت، حلال روزی کی فضیلت، ایک بہترین تاجر کی خصوصیات اور نبی اکرم ﷺ کے اسلوب تجارت کا مطالعہ کریں گے۔
اللہ تعالیٰ قرآن عظیم میں ارشاد فرماتا ہے:
بے شک رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ (سورۃ الاحزاب:21)
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کے ہر شعبے میں رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمارے لئے بہترین رہنما ہے۔ جس طرح آپ نے ہمیں عبادات، اخلاق اور معاشرت کے اصول سکھائے، اسی طرح اپنی عملی زندگی سے حلال مال حاصل کرنے اور تجارت کرنے کا بہترین طریقہ بھی بتایا۔
حلال روزی کی اہمیت:
اپنے والدین، بیوی بچوں اور دیگر زیر کفالت افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لئے حلال ذرائع سے روزی کمانا ایک اہم دینی و معاشرتی ذمہ داری ہے۔ اسلام انسان کو محنت، خودداری اور جائز طریقے سے معاش حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
اور جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ (سورۃ الجمعہ: 10)
اسی طرح ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے:
اور اللہ کے فضل کی تلاش میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ (سورۃ البقرہ: 198)
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام ہمیں عبادت کے ساتھ جائز معاشی جدوجہد کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ محنت سے روزی کمائے، اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرے اور اپنے کاروبار میں حلال و حرام کی حدود کا خیال رکھے۔
حلال مال کمانے کے جائز طریقوں میں تجارت بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اور اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔ (سورۃ البقرہ: 275)
افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ جائز تجارت اور محنت کے بجائے سودی معاملات اور ناجائز ذرائع سے مال حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالاں کہ اسلام نے تجارت کو جائز اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ مزید افسوس اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص تجارت تو کرتا ہے، لیکن اس میں سچائی، امانت داری، دیانت داری اور انصاف کا خیال نہیں رکھتا۔
سچے تاجر کی فضیلت:
رسول اللہ ﷺ نے تجارت میں سچائی اور امانت داری کی تعلیم دی ہے۔ حدیث مبارک میں سچے اور امانت دار تاجر کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ وہ قیامت کے دن انبیا، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہوگا۔ (جامع ترمذی)
اس فرمان نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ تجارت محض نفع حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اگر اسے اسلامی اصولوں کے مطابق انجام دیا جائے تو یہ نیکی اور اجر و ثواب کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
ایک بہترین تاجر کے اندر ان بنیادی خصوصیات کا ہونا ضروری ہے:
سچائی: اپنے مال کی خوبیوں اور خامیوں کو واضح کرنا اور خریدار کو غلط معلومات نہ دینا۔
امانت داری: لوگوں کے مال، حقوق اور اعتماد کی حفاظت کرنا۔
دیانت داری: خرید و فروخت میں دھوکے، خیانت اور ناجائز طریقوں سے بچنا۔
حسن اخلاق: گاہکوں کے ساتھ نرمی، احترام اور خوش اخلاقی سے پیش آنا۔
انصاف: ناپ تول پورا کرنا، قیمت اور معیار کے بارے میں واضح رہنا اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ کرنا۔
حلال نفع: جائز منافع حاصل کرنا، لیکن مال کی طلب میں حرام ذرائع اختیار نہ کرنا۔
یہی وہ بنیادی اصول ہیں جو تجارت کو محض کاروبار سے بلند کرکے ایک اخلاقی اور ذمہ دارانہ عمل بنا دیتے ہیں۔
اور یہ تمام اوصاف اور ان تمام اصولوں کی پابندی ہمیں حضور ﷺ کی تجارت میں ملتی ہے۔
نبی اکرم ﷺ کا اسلوب تجارت:
جب آپ کی عمر مبارک پچیس سال ہوئی تو آپ کی سچائی، امانت داری اور حسن معاملہ کا چرچا تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کی امانت داری اور حسن شہرت کے پیش نظر اپنے مال تجارت کے لئے آپ کا انتخاب کیا۔ آپ نے ان کی پیشکش قبول فرمائی اور ان کے مال تجارت کے ساتھ ملک شام کا سفر کیا۔اور اس بار کی تجارت میں ہر بار سے بڑھ کر منافع حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مال میں میسر آیا جس کی خاص وجہ حضور ﷺ کا طریقہ تجارت اور اسلامی اصول کی پابندی کرنا تھا۔
اس واقعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تجارت میں اعتماد کی کتنی اہمیت ہے۔ جب کوئی شخص سچا، امانت دار اور خوش اخلاق ہو تو لوگ اس کے ساتھ معاملہ کرنے میں اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جھوٹ اور دھوکے سے حاصل ہونے والا نفع بظاہر زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن وہ اعتماد اور اخلاقی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ لہذا حضور اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تجارت میں نفع حاصل کرنا کوئی بری بات نہیں، بشرطیکہ وہ حلال طریقے سے حاصل کیا جائے۔ کاروبار میں ترقی کی خواہش بھی فطری ہے، لیکن اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے جھوٹ، دھوکا، خیانت کا راستہ اختیار کرنا درست نہیں۔
میرے عزیز ساتھیو!
آج ہمیں حضور کے طریقہ تجارت کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حلال روزی کمانے، دیانت داری کے ساتھ تجارت کرنے اور سیرت مصطفیٰ ﷺ کو اپنی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

اسلام کی روشنی میں تجارت کے رہنما اصول

 

 

 

محمد ارمان

تجارت انسانی زندگی کی اہم ضروریات میں سے ایک ہے۔ انسان اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنے کے لئے محنت کرتا ہے، کاروبار کرتا ہے اور رزق حاصل کرنے کے مختلف ذرائع اختیار کرتا ہے۔ لیکن ایک مسلمان کے لئے تجارت کا مقصد محض مال کمانا نہیں، بلکہ حلال روزی حاصل کرنا، لوگوں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا بھی ہے۔ اسلام نے تجارت کو جائز قرار دینے کے ساتھ اس کے لئے ایسے اصول و ضوابط بھی عطا فرمائے ہیں، جن کی پابندی سے انسان کی معاشی زندگی پاکیزہ اور بابرکت بن سکتی ہے۔
اس مضمون میں ہم تجارت کی اہمیت، حلال روزی کی فضیلت، ایک بہترین تاجر کی خصوصیات اور نبی اکرم ﷺ کے اسلوب تجارت کا مطالعہ کریں گے۔
اللہ تعالیٰ قرآن عظیم میں ارشاد فرماتا ہے:
بے شک رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ (سورۃ الاحزاب:21)
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کے ہر شعبے میں رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمارے لئے بہترین رہنما ہے۔ جس طرح آپ نے ہمیں عبادات، اخلاق اور معاشرت کے اصول سکھائے، اسی طرح اپنی عملی زندگی سے حلال مال حاصل کرنے اور تجارت کرنے کا بہترین طریقہ بھی بتایا۔
حلال روزی کی اہمیت:
اپنے والدین، بیوی بچوں اور دیگر زیر کفالت افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لئے حلال ذرائع سے روزی کمانا ایک اہم دینی و معاشرتی ذمہ داری ہے۔ اسلام انسان کو محنت، خودداری اور جائز طریقے سے معاش حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
اور جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ (سورۃ الجمعہ: 10)
اسی طرح ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے:
اور اللہ کے فضل کی تلاش میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ (سورۃ البقرہ: 198)
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام ہمیں عبادت کے ساتھ جائز معاشی جدوجہد کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ محنت سے روزی کمائے، اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرے اور اپنے کاروبار میں حلال و حرام کی حدود کا خیال رکھے۔
حلال مال کمانے کے جائز طریقوں میں تجارت بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اور اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔ (سورۃ البقرہ: 275)
افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ جائز تجارت اور محنت کے بجائے سودی معاملات اور ناجائز ذرائع سے مال حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالاں کہ اسلام نے تجارت کو جائز اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ مزید افسوس اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص تجارت تو کرتا ہے، لیکن اس میں سچائی، امانت داری، دیانت داری اور انصاف کا خیال نہیں رکھتا۔
سچے تاجر کی فضیلت:
رسول اللہ ﷺ نے تجارت میں سچائی اور امانت داری کی تعلیم دی ہے۔ حدیث مبارک میں سچے اور امانت دار تاجر کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ وہ قیامت کے دن انبیا، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہوگا۔ (جامع ترمذی)
اس فرمان نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ تجارت محض نفع حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اگر اسے اسلامی اصولوں کے مطابق انجام دیا جائے تو یہ نیکی اور اجر و ثواب کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
ایک بہترین تاجر کے اندر ان بنیادی خصوصیات کا ہونا ضروری ہے:
سچائی: اپنے مال کی خوبیوں اور خامیوں کو واضح کرنا اور خریدار کو غلط معلومات نہ دینا۔
امانت داری: لوگوں کے مال، حقوق اور اعتماد کی حفاظت کرنا۔
دیانت داری: خرید و فروخت میں دھوکے، خیانت اور ناجائز طریقوں سے بچنا۔
حسن اخلاق: گاہکوں کے ساتھ نرمی، احترام اور خوش اخلاقی سے پیش آنا۔
انصاف: ناپ تول پورا کرنا، قیمت اور معیار کے بارے میں واضح رہنا اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ کرنا۔
حلال نفع: جائز منافع حاصل کرنا، لیکن مال کی طلب میں حرام ذرائع اختیار نہ کرنا۔
یہی وہ بنیادی اصول ہیں جو تجارت کو محض کاروبار سے بلند کرکے ایک اخلاقی اور ذمہ دارانہ عمل بنا دیتے ہیں۔
اور یہ تمام اوصاف اور ان تمام اصولوں کی پابندی ہمیں حضور ﷺ کی تجارت میں ملتی ہے۔
نبی اکرم ﷺ کا اسلوب تجارت:
جب آپ کی عمر مبارک پچیس سال ہوئی تو آپ کی سچائی، امانت داری اور حسن معاملہ کا چرچا تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کی امانت داری اور حسن شہرت کے پیش نظر اپنے مال تجارت کے لئے آپ کا انتخاب کیا۔ آپ نے ان کی پیشکش قبول فرمائی اور ان کے مال تجارت کے ساتھ ملک شام کا سفر کیا۔اور اس بار کی تجارت میں ہر بار سے بڑھ کر منافع حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مال میں میسر آیا جس کی خاص وجہ حضور ﷺ کا طریقہ تجارت اور اسلامی اصول کی پابندی کرنا تھا۔
اس واقعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تجارت میں اعتماد کی کتنی اہمیت ہے۔ جب کوئی شخص سچا، امانت دار اور خوش اخلاق ہو تو لوگ اس کے ساتھ معاملہ کرنے میں اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جھوٹ اور دھوکے سے حاصل ہونے والا نفع بظاہر زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن وہ اعتماد اور اخلاقی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ لہذا حضور اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تجارت میں نفع حاصل کرنا کوئی بری بات نہیں، بشرطیکہ وہ حلال طریقے سے حاصل کیا جائے۔ کاروبار میں ترقی کی خواہش بھی فطری ہے، لیکن اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے جھوٹ، دھوکا، خیانت کا راستہ اختیار کرنا درست نہیں۔
میرے عزیز ساتھیو!
آج ہمیں حضور کے طریقہ تجارت کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حلال روزی کمانے، دیانت داری کے ساتھ تجارت کرنے اور سیرت مصطفیٰ ﷺ کو اپنی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں