نصاب زکوٰۃ: روایتی اموال سے جدید سرمایہ کاری تک

ڈاکٹر محمد واسع ظفر
زکوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ یہ ایک مالی عبادت ہے جسے تزکیۂ نفس اور معاشرتی فلاح کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔اس کا اطلاق اموال میںفقرا و مساکین وغیرہ کے حق واجبی کو ادا کرنے پر ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مسلم اغنیا پر فرض کیا ہے۔ لیکن زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہونے کے لئے شارع نے کچھ شرائط کے ساتھ اموال کی ایک خاص مقدار یا تعداد کو مقرر کیا ہے، جسے شریعت میں ’’نصاب زکوٰۃ‘‘ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ زکوٰۃ کی فرضیت کا درست تعین کرنے اور اس کی کماحقہ ادائیگی کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر مسلمان بالخصوص جو صاحب ثروت ہے، اس بات کا علم رکھے کہ زکوٰۃ کن چیزوں پر اور کب عائد ہوتی ہے ، ان کا نصاب کیا ہے اور ان سے متعلق شرعی احکام کیا ہیں؟ دور حاضر میں سونا، چاندی، نقدی، تجارتی اموال، بینک بیلنس، شیئر مارکیٹ میں سرمایہ کاری، زمین و باغات کی پیداوار، مواشی وغیرہ اموال کی صورتوںمیں نصاب زکوٰۃ کے مسائل کو سمجھنا مزید اہم ہوگیا ہے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ نصاب زکوٰۃ کے شرعی معیار کو سمجھا جائے اور اس سلسلے میں عملی رہنمائی حاصل کی جائے، تاکہ اس اہم فریضے کی ادائیگی درست طریقے سے انجام دی جاسکے۔
سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ شریعت میںسونا، چاندی، غلہ، پھلوں، سامان تجارت، چوپایوں، معدنیات اور محفوظ مال میں زکوٰۃ ادا کرنا لازم قرار دیا گیاہے بشرطیکہ حد نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال گزر جائے، سال گزرنے سے پہلے کسی بھی مال پر کوئی زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی گو وہ حد نصاب کو پہنچ چکا ہو کیوں کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: ’’جسے کوئی مال حاصل ہو تو اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں جب تک کہ اس پر اس کے مالک کے یہاں سال نہ گزر جائے۔‘‘ (سنن الترمذیؒ، حدیث نمبر ۶۳۱، ۶۳۲، بروایت حضرت عبداللہ بن عمرؓ)۔ لیکن کھیت و باغات کی پیداوار کو اس اصول سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے کیوں ان کی زکوٰۃ پیداوار کی کٹائی کے دن ہی ادا کردینے کا حکم سورۃ الأنعام کی آیت نمبر ۱۴۱؍ میں دیا گیا ہے۔ نیز دوسرے اموال پر سال گزرنے کے بعد بھی اگر کسی شخص پر قرض ہو تو نصاب کا حساب قرض کی رقم سے زائد پر کیا جائے گا۔ حاجات و ضروریات کی چیزوں مثلاً طعام، لباس،مکان، گھریلو ساز و سامان، سامان آرائش، سواری، صاحب علم کے مطالعے کے لئے رکھی گئی کتابیں اور آلات صنعت و حرفت پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔
سونا کے نصاب کے سلسلے میں رسول اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہے : ’’اور سونے میں تم پر کچھ بھی نہیں ہے حتیٰ کہ تمھارے پاس بیس دینار ہوں، پس جب تمھارے پاس بیس دینار ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان پر آدھا دینار زکوٰۃ ہے اور جو زیادہ ہو وہ اسی حساب سے ہوگا۔‘‘ (سنن أبي داودؒ، حدیث نمبر۱۵۷۳، بروایت حضرت علیؓ)۔ بیس دینار، آج کل کے حساب سے تقریباً ساڑھے سات تولہ یعنی (ایک تولہ= 11.664 گرام کے حساب سے) 87.48 گرام ہوتا ہے۔ اس طرح ساڑھے سات تولہ سوناکی زکوٰۃ  2.187 گرام سونا یا اس کی قیمت ہوئی۔ چاندی کے نصاب کے سلسلے میں رسول اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ’’میں نے تم سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوٰۃ معاف کردی ہے، تو اب تم چاندی کی زکوٰۃ ادا کرو، ہر چالیس درہم میں ایک درہم اور ایک سو نوے درہم میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے، جب دو سو ہوجائیں تو ان میں پانچ درہم ہیں۔‘‘ (سنن الترمذيؒ، حدیث نمبر۶۲۰، بروایت حضرت علیؓ)۔ دوسری روایت میں ’’پانچ اوقیہ‘‘ کے الفاظ کے ساتھ چاندی کے نصاب کی تقیید کی گئی ہے جیسے صحیح بخاریؒ میں رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نقل ہے: ’’پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘ (حدیث نمبر ۱۴۰۵، بروایت ابوسعید الخدریؓ)۔ تو یہ جاننا چاہیے کہ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتاہے، اس حساب سے پانچ اوقیہ، دو سو درہم کے برابر ہوئے اور آج کل کے حساب سے یہ تقریباً ساڑھے باون تولہ یعنی 612.36 گرام ہوتا ہے۔ اس طرح چاندی کی زکوٰۃ ہر چالیس درہم میں ایک درہم کی شرح سے پانچ اوقیہ یا دو سو درہم میں کل ۵ درہم یعنی 15.309 گرام چاندی یا اس کی قیمت ہوئی۔
اگر کسی شخص کے پاس کچھ سونا اور کچھ چاندی ہو اور دونوں میں سے کوئی بھی اپنے نصاب کو نہ پہنچتا ہو تو جمہور فقہاکی راے کے مطابق دونوں کی مالیت کا حساب لگایا جائے گا اور اگر وہ کسی ایک کے نصاب کی مالیت کے برابر ہوجائے تو ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ مثال کے طور ایک شخص کے پاس ساٹھ گرام سونا اور پانچ سو گرام چاندی ہے۔ ساٹھ گرام سونے کی قیمت پٹنہ میں آج بتاریخ ۲۷؍ ستمبر ۲۰۲۶، فی گرام ۲۷۳،۱۵ روپیہ کی در سے نو لاکھ، سولہ ہزار، تین سو اسی ( ۳۸۰،۱۶،۹) روپے ہوئی اور پانچ سو گرام چاندی کی قیمت آج فی گرام ۲۳۵ روپیہ کی در سے ایک لاکھ، سترہ ہزار، پانچ سو (۵۰۰،۱۷،۱) روپے ہوئی۔ سونے کے نصاب (ساڑھے سات تولہ یا  87.48 گرام) کی مالیت آج کے دن تیرہ لاکھ، چھتیس ہزار، بیاسی (۰۸۲،۳۶،۱۳) روپے اور چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ یعنی 612.36 گرام) کی مالیت آج کے دن ایک لاکھ، تینتالیس ہزار، نو سو پانچ (۹۰۵،۴۳،۱) روپے ہوتی ہے۔ اس طرح دیکھیں تو ساٹھ گرام سونا کی قیمت ہی چاندی کے نصاب کی مالیت سے کئی گنا زیادہ ہے، تو ایسی صورت میں مذکورہ شخص پر زکوٰۃ واجب ہوگا۔ اسے ساٹھ گرام سونا اور پانچ سو گرام چاندی کی مالیت کو جوڑ کر اس کا ڈھائی فی صدزکوٰۃ ادا کرنا ہوگا۔ چوں کہ سونے چاندی کا بھاؤ وقت اور جگہ کے اعتبار سے تبدیل ہوتا رہتا ہے، اس لئے صاحب مال کو چاہیے کہ ہر سال زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت اپنے شہر کے صرافہ بازار کا ریٹ معلوم کرلے اور اسی کے حساب سے ان کی مالیت متعین کرکے زکوٰۃ ادا کرے۔
سونے چاندی کے زیورات کی زکوٰۃ کے سلسلے میں فقہائے امت میں اختلاف ہے کیوں کہ اس مسئلہ میں صحابہ کرامؓ کی راے بھی مختلف رہی ہے۔ جمہور کے نزدیک جن میں امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ شامل ہیں، عورت کے استعمال کے زیورات میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ ان حضرات نے یہ موقف بعض آثار کی بنیاد پر اختیار کیا ہے۔ مثلاً، امام بیہقیؒ نے عبداللہ بن عمرؓ کا یہ قول نقل کیا ہے: ’’لَیْسَ فِي الْحُليِّ زَکَاۃٌ‘‘ ’’زیورات میں زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر ۷۵۳۷)۔ نیز یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ عبداللہ بن عمرؓ نے اپنی بیٹیوں کے لئے چار سو دینار کے زیور بنوائے، مگر اس کی زکوٰۃ نہیں نکالتے تھے۔ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر ۷۵۳۸)۔ امام بیہقیؒ نے حضرت عائشہؓ کا بھی یہ قول نقل کیا ہے: ’’میری بھتیجیاں یتیم تھیں جو میری پرورش میں تھیں، ان کے پاس زیور تھا مگر اس سے زکوٰۃ نہیں نکالی جاتی تھی۔‘‘ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر۷۵۳۵)۔ حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کے سلسلے میں بھی یہ روایت ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو سونے کا زیور پہناتی تھیں اور اس کی زکوٰۃ نہیں دیتی تھیں جو پچاس ہزار کے لگ بھگ ہوتا تھا۔ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر۷۵۴۲)۔ ان روایات کے علاوہ امام بیہقیؒ نے اسی باب میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول بھی اس راے کی حمایت میں نقل کیا ہے۔ یہ ساری روایت محدثین کے نزدیک صحیح ہیں۔
اس راے کے برخلاف احناف کا موقف یہ ہے کہ سونے چاندی کے استعمال کے زیورات میں بھی زکوٰۃ واجب ہے اگر وہ نصاب کو پہنچ جائیں۔ ان کی دلیل حضرت ام سلمہؓ کی یہ روایت ہے: ’’میں سونے کے اوضاح (پازیب) پہنا کرتی تھی، میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! کیا یہ کنز ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’ جو مال زکوٰۃ کی مقدار کو پہنچ جائے اور اس کی زکوٰۃ ادا کردی جائے تو وہ کنز نہیں ہے۔‘‘ (سنن أبی داوُد، حدیث نمبر ۱۵۶۴)۔ اس حدیث کو اکثر محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن بعضوں نے حسن درجہ میں رکھا ہے۔ دوسری روایت عبداللہ بن عمروؓ سے ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بیٹی بھی تھی اور بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے۔ آپؐ نے اس عورت سے پوچھا: ’’کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتی ہو؟‘‘، اس نے کہا : نہیں! آپؐ نے فرمایا: ’’کیا تمھیں یہ اچھا لگے گا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمھیں ان کے بدلے آگ کے دو کنگن پہنائے؟ عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کہتے ہیں کہ اس عورت نے دونوں کنگن اتار کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے ڈال دیے اور بولی : یہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے لئے ہیں۔ (سنن أبی داوُدؒ، حدیث نمبر۱۵۶۳)۔ یہ روایت محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔ ایک اور روایت حضرت عائشہؓ کی ہے جسے روایت کیا ہے عبداللہ بن شداد بن الہادؓ نے، وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ام المومنین حضرت عائشہؓ کے پاس گئے، وہ کہنے لگیں: ایک بار رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، آپؐ نے میرے ہاتھ میں چاندی کی کچھ انگوٹھیاں دیکھیں تو فرمایا: ’’عائشہ! یہ کیا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: میں نے انھیں اس لئے بنوایا ہے تاکہ میں آپ کے لئے بناؤ سنگار کروں۔ آپؐ نے پوچھا: ’’کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟‘‘ میں نے کہا: نہیں! یا جو کچھ اللہ کو منظور تھا کہا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’یہ تمھیں جہنم میں لے جانے کے لئے کافی ہیں۔‘‘ (سنن أبی داوُدؒ، حدیث نمبر۱۵۶۵)۔ یہ روایت بھی محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔
حضرت عروہؓ سیدہ عائشہؓ سے ہی نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ’’زیور پہننے میں کوئی حرج نہیں، جب اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے۔‘‘ حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے خزانچی سالم کو لکھا کرتے تھے کہ وہ ان کی بیٹیوںکے زیور کی ہر سال زکوٰۃ نکالے۔ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر۷۵۴۵)۔ یہ روایت بھی صحیح ہے، بعض محدثین نے اسے حسن درجہ میں رکھا ہے۔ اسی طرح علقمہؒ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعودؓ کی بیوی نے زیور کے بارے میں پوچھا تو انہوں کہا: ’’جب وہ دو سو درہم کو پہنچ جائیں تو ان میں زکوٰۃ ہے۔‘‘ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر۷۵۴۶)۔ یہ روایت بھی صحیح ہے۔ ان روایات سے امام ابوحنیفہؒ کے مسلک کی تائید ہوتی ہے لیکن امام مالکؒ، امام شافعیؒ، اور امام احمدؒ کے مطابق سونے چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ صرف اس صورت میں فرض ہوگی جب وہ تجارت کے لئے یا خزانہ کے طور پر مال کو محفوظ کرنے کے لئے بنوائے گئے ہوں۔ تاہم احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ عورتوں کے استعمال اور آرائش کے زیورات پر بھی زکوٰۃ ادا کیے جائیں۔
ریزرو بینک کے جاری کردہ کاغذی نوٹ اپنے پاس ذخیرہ کیے ہوئے سونے چاندی کے قائم مقام ہیں، اس لئے ان پر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی۔ واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں کرنسی سونے اور چاندی کی ہی ہوا کرتی تھی؛ سونے کی کرنسی ’’دینار‘‘ کہی جاتی تھی اور چاندی کی’ ’درہم‘‘۔ بیس دینار کی قوت خرید اُس زمانے میں دو سو درہم کی قوت خرید کے لگ بھگ برابر تھی، اس لئے نصاب میں یہ فرق بھی اسی لحاظ سے رکھا گیا تھا۔ آج کے دور میں سونے اور چاندی کے سکوں کا رواج ختم ہوچکا ہے اور ان کی جگہ لوہے و کانسے کے سکوں یا کاغذی نوٹوں نے لے لی ہے۔ اس لئے گھر یا بینک میں محفوظ کاغذی نوٹوں پر بھی سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ عائد ہوگی۔ اب سوال یہ ہے کہ کاغذی نوٹوں کی زکوٰۃ کانصاب سونے کے نصاب کی مالیت کے اعتبار سے مقرر کیا جائے یا چاندی کے نصاب کی مالیت کے اعتبار سے؟  تو اس دور کے اکثر فقہا کی راے یہی ہے کہ کاغذی نوٹوں کا نصاب، چاندی کے نصاب کی مالیت کے اعتبار سے طے کیا جائے کیوں کہ اس میں فقرا و مساکین کا زیادہ فائدہ ہے اور احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اس حساب سے آج کے دن اگر کسی کے پاس کم از کم ایک لاکھ، تینتالیس ہزار، نو سو پانچ (۹۰۵،۴۳،۱) روپے محفوظ ہوگئے (جیسا کہ احقر نے سطور بالا میں چاندی کے نصاب کی مالیت کا حساب کرکے بتایا ہے) تو وہ صاحب نصاب ہوگیا اور اس رقم پر سال گزرنے کے بعد ڈھائی فی صد کے حساب سے زکوٰۃ واجب ہوگی گو اس کے پاس سونا اور چاندی میں سے کچھ بھی نہ ہو۔ کاغذی کرنسی کی زکوٰۃ کا نصاب سونے کے نصاب کی مالیت کے اعتبار سے طے نہ کرنے کی وجہ بالکل ظاہر ہے کہ وہ رقم جیسا کہ احقر نے سطور بالا میں حساب کرکے بتایا ہے بہت زیادہ ہے۔ اس کے حساب سے آج کے دن کسی کے پاس کم از کم  تیرہ لاکھ، چھتیس ہزار، بیاسی (۰۸۲،۳۶،۱۳) روپے جمع ہوں جو ساڑھے سات تولہ سونا کی مالیت ہے، اور اس پر سال گزرے تب اس کے اوپر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اس طرز عمل سے غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کا سخت نقصان ہوگا۔ اس لئے چاندی کے نصاب کی مالیت کا لحاظ رکھتے ہوئے کرنسی نوٹوں کی زکوٰۃ کا حساب لگانا ہی محتاجوں کی مصلحت اور زکوٰۃ کی فرضیت کی حکمتوں کے پیش نظر بہتر ہے۔
سامان تجارت بھی نقدی کی ہی مثل ہے کیوں اس میں نقدی میں تبدیل ہونے کی امکانی قوت موجود ہے۔ اس لئے صحابہ، تابعین اور بعد کے ادوار کے جمہور علما و فقہا سامان تجارت پر وجوب زکوٰۃ کے قائل ہیں۔ لہٰذا اگر کسی شخص کے پاس سامان تجارت اتنی قیمت کا ہے کہ چاندی کے نصاب کی مالیت کو پہنچتا ہے اور اس پر سال گزر گیا، تو اسے اس کی زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ سارے اموال تجارت کی قیمت کا حساب لگاکر اس کا ڈھائی فی صد زکوٰۃ کے طور پر نکال دے۔ سال کا حساب وہاں سے شروع ہوگا جب سے سامان تجارت کی مالیت بقدر نصاب ہوجائے۔ اگر سال کے دوران میں سامان تجارت کی مالیت نصاب سے کم ہوگئی لیکن سال کے اختتام پر پھر بقدر نصاب ہوگئی تو امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک سال کو منقطع نہیں سمجھا جائے گا اور سال کے اختتام پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
شیئر بازار (Share Market) میں لگائی گئی رقم بھی جمع پونجی کے زمرے میں ہے، اس لئے اس پر بھی زکوٰہ واجب ہوگی اگر اصل سرمایہ اور اس پر ہونے والا نفع حد نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر جائے۔ اس لئے کمپنیوں کے شیئرز (Shares) اور میوچول فنڈس (Mutual Funds)کی اکائیوں (Units) کا حساب رکھنا چاہیے اور سال کے آخر میں بازار میں رائج ان کی فی اکائی قیمت(Unit Price) کی در سے پوری مالیت کا حساب لگا کر اس کا ڈھائی فی صد زکوٰۃ کے طور پر نکال دینا چاہیے۔ انعامی بانڈز میں رقم لگانے اور اس پر انعام وصول کرنے کو اکثر علما نے شرعاً حرام قرار دیا ہے کیوں کہ اس میں سود اور قمار (جوا) دونوں شامل ہوتا ہے، تاہم اگر کسی نے اس میں رقم لگادی ہے تو اس رقم پر بھی سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہوگی۔ یہاں یہ بھی واضح کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شیئرز بھی ان ہی کمپنیوں کا خریدنا درست ہے جن کا بنیادی کاروبار شریعت کی رو سے حلال ہو۔ جو کمپنیاں حرام کاروبار میں ملوث ہوں مثلاً شراب ، منشیات یا دیگر نشہ آور چیزوں کا بنانا یا بیچنا، فحش فلمیں اور بے حیائی پھیلانے والے مواد کا کاروبار، حرام گوشت کا کاروبار وغیرہ ان کے شیئرز خریدنا قطعاً درست نہیں ہے۔ اسی طرح میوچول فنڈس یونٹس بھی ان کمپنیوں کا ہی خریدنا درست ہے جن کا سرمایہ حلال کاروبار، تجارت اور حلال شیئرز میں لگایا جاتا ہو۔ پھر بھی اگر کسی نے ان میں سرمایہ کاری کردی ہو تو لگائی گئی رقم پر بھی سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہوگی۔ خلاصۂ کلام یہ کہ شیئرز، میوچول فنڈس اور بانڈز میں لگائی گئی رقم پر سال کے اختتام پر ڈھائی فی صد کی در سے زکوٰۃواجب ہوگی۔ اگر کسی شخص کے پاس سامان تجارت بھی ہے، سونا چاندی بھی ہے، نقدی و بینک بیلنس بھی، نیز شیئرز، میوچول فنڈس اور بانڈز بھی، تو سال کے آخر میں سب کی مالیت متعین کرکے ان کی زکوٰۃ ادا کرے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

نصاب زکوٰۃ: روایتی اموال سے جدید سرمایہ کاری تک

ڈاکٹر محمد واسع ظفر
زکوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ یہ ایک مالی عبادت ہے جسے تزکیۂ نفس اور معاشرتی فلاح کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔اس کا اطلاق اموال میںفقرا و مساکین وغیرہ کے حق واجبی کو ادا کرنے پر ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مسلم اغنیا پر فرض کیا ہے۔ لیکن زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہونے کے لئے شارع نے کچھ شرائط کے ساتھ اموال کی ایک خاص مقدار یا تعداد کو مقرر کیا ہے، جسے شریعت میں ’’نصاب زکوٰۃ‘‘ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ زکوٰۃ کی فرضیت کا درست تعین کرنے اور اس کی کماحقہ ادائیگی کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر مسلمان بالخصوص جو صاحب ثروت ہے، اس بات کا علم رکھے کہ زکوٰۃ کن چیزوں پر اور کب عائد ہوتی ہے ، ان کا نصاب کیا ہے اور ان سے متعلق شرعی احکام کیا ہیں؟ دور حاضر میں سونا، چاندی، نقدی، تجارتی اموال، بینک بیلنس، شیئر مارکیٹ میں سرمایہ کاری، زمین و باغات کی پیداوار، مواشی وغیرہ اموال کی صورتوںمیں نصاب زکوٰۃ کے مسائل کو سمجھنا مزید اہم ہوگیا ہے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ نصاب زکوٰۃ کے شرعی معیار کو سمجھا جائے اور اس سلسلے میں عملی رہنمائی حاصل کی جائے، تاکہ اس اہم فریضے کی ادائیگی درست طریقے سے انجام دی جاسکے۔
سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ شریعت میںسونا، چاندی، غلہ، پھلوں، سامان تجارت، چوپایوں، معدنیات اور محفوظ مال میں زکوٰۃ ادا کرنا لازم قرار دیا گیاہے بشرطیکہ حد نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال گزر جائے، سال گزرنے سے پہلے کسی بھی مال پر کوئی زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی گو وہ حد نصاب کو پہنچ چکا ہو کیوں کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: ’’جسے کوئی مال حاصل ہو تو اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں جب تک کہ اس پر اس کے مالک کے یہاں سال نہ گزر جائے۔‘‘ (سنن الترمذیؒ، حدیث نمبر ۶۳۱، ۶۳۲، بروایت حضرت عبداللہ بن عمرؓ)۔ لیکن کھیت و باغات کی پیداوار کو اس اصول سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے کیوں ان کی زکوٰۃ پیداوار کی کٹائی کے دن ہی ادا کردینے کا حکم سورۃ الأنعام کی آیت نمبر ۱۴۱؍ میں دیا گیا ہے۔ نیز دوسرے اموال پر سال گزرنے کے بعد بھی اگر کسی شخص پر قرض ہو تو نصاب کا حساب قرض کی رقم سے زائد پر کیا جائے گا۔ حاجات و ضروریات کی چیزوں مثلاً طعام، لباس،مکان، گھریلو ساز و سامان، سامان آرائش، سواری، صاحب علم کے مطالعے کے لئے رکھی گئی کتابیں اور آلات صنعت و حرفت پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔
سونا کے نصاب کے سلسلے میں رسول اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہے : ’’اور سونے میں تم پر کچھ بھی نہیں ہے حتیٰ کہ تمھارے پاس بیس دینار ہوں، پس جب تمھارے پاس بیس دینار ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان پر آدھا دینار زکوٰۃ ہے اور جو زیادہ ہو وہ اسی حساب سے ہوگا۔‘‘ (سنن أبي داودؒ، حدیث نمبر۱۵۷۳، بروایت حضرت علیؓ)۔ بیس دینار، آج کل کے حساب سے تقریباً ساڑھے سات تولہ یعنی (ایک تولہ= 11.664 گرام کے حساب سے) 87.48 گرام ہوتا ہے۔ اس طرح ساڑھے سات تولہ سوناکی زکوٰۃ  2.187 گرام سونا یا اس کی قیمت ہوئی۔ چاندی کے نصاب کے سلسلے میں رسول اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ’’میں نے تم سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوٰۃ معاف کردی ہے، تو اب تم چاندی کی زکوٰۃ ادا کرو، ہر چالیس درہم میں ایک درہم اور ایک سو نوے درہم میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے، جب دو سو ہوجائیں تو ان میں پانچ درہم ہیں۔‘‘ (سنن الترمذيؒ، حدیث نمبر۶۲۰، بروایت حضرت علیؓ)۔ دوسری روایت میں ’’پانچ اوقیہ‘‘ کے الفاظ کے ساتھ چاندی کے نصاب کی تقیید کی گئی ہے جیسے صحیح بخاریؒ میں رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نقل ہے: ’’پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘ (حدیث نمبر ۱۴۰۵، بروایت ابوسعید الخدریؓ)۔ تو یہ جاننا چاہیے کہ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتاہے، اس حساب سے پانچ اوقیہ، دو سو درہم کے برابر ہوئے اور آج کل کے حساب سے یہ تقریباً ساڑھے باون تولہ یعنی 612.36 گرام ہوتا ہے۔ اس طرح چاندی کی زکوٰۃ ہر چالیس درہم میں ایک درہم کی شرح سے پانچ اوقیہ یا دو سو درہم میں کل ۵ درہم یعنی 15.309 گرام چاندی یا اس کی قیمت ہوئی۔
اگر کسی شخص کے پاس کچھ سونا اور کچھ چاندی ہو اور دونوں میں سے کوئی بھی اپنے نصاب کو نہ پہنچتا ہو تو جمہور فقہاکی راے کے مطابق دونوں کی مالیت کا حساب لگایا جائے گا اور اگر وہ کسی ایک کے نصاب کی مالیت کے برابر ہوجائے تو ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ مثال کے طور ایک شخص کے پاس ساٹھ گرام سونا اور پانچ سو گرام چاندی ہے۔ ساٹھ گرام سونے کی قیمت پٹنہ میں آج بتاریخ ۲۷؍ ستمبر ۲۰۲۶، فی گرام ۲۷۳،۱۵ روپیہ کی در سے نو لاکھ، سولہ ہزار، تین سو اسی ( ۳۸۰،۱۶،۹) روپے ہوئی اور پانچ سو گرام چاندی کی قیمت آج فی گرام ۲۳۵ روپیہ کی در سے ایک لاکھ، سترہ ہزار، پانچ سو (۵۰۰،۱۷،۱) روپے ہوئی۔ سونے کے نصاب (ساڑھے سات تولہ یا  87.48 گرام) کی مالیت آج کے دن تیرہ لاکھ، چھتیس ہزار، بیاسی (۰۸۲،۳۶،۱۳) روپے اور چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ یعنی 612.36 گرام) کی مالیت آج کے دن ایک لاکھ، تینتالیس ہزار، نو سو پانچ (۹۰۵،۴۳،۱) روپے ہوتی ہے۔ اس طرح دیکھیں تو ساٹھ گرام سونا کی قیمت ہی چاندی کے نصاب کی مالیت سے کئی گنا زیادہ ہے، تو ایسی صورت میں مذکورہ شخص پر زکوٰۃ واجب ہوگا۔ اسے ساٹھ گرام سونا اور پانچ سو گرام چاندی کی مالیت کو جوڑ کر اس کا ڈھائی فی صدزکوٰۃ ادا کرنا ہوگا۔ چوں کہ سونے چاندی کا بھاؤ وقت اور جگہ کے اعتبار سے تبدیل ہوتا رہتا ہے، اس لئے صاحب مال کو چاہیے کہ ہر سال زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت اپنے شہر کے صرافہ بازار کا ریٹ معلوم کرلے اور اسی کے حساب سے ان کی مالیت متعین کرکے زکوٰۃ ادا کرے۔
سونے چاندی کے زیورات کی زکوٰۃ کے سلسلے میں فقہائے امت میں اختلاف ہے کیوں کہ اس مسئلہ میں صحابہ کرامؓ کی راے بھی مختلف رہی ہے۔ جمہور کے نزدیک جن میں امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ شامل ہیں، عورت کے استعمال کے زیورات میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ ان حضرات نے یہ موقف بعض آثار کی بنیاد پر اختیار کیا ہے۔ مثلاً، امام بیہقیؒ نے عبداللہ بن عمرؓ کا یہ قول نقل کیا ہے: ’’لَیْسَ فِي الْحُليِّ زَکَاۃٌ‘‘ ’’زیورات میں زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر ۷۵۳۷)۔ نیز یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ عبداللہ بن عمرؓ نے اپنی بیٹیوں کے لئے چار سو دینار کے زیور بنوائے، مگر اس کی زکوٰۃ نہیں نکالتے تھے۔ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر ۷۵۳۸)۔ امام بیہقیؒ نے حضرت عائشہؓ کا بھی یہ قول نقل کیا ہے: ’’میری بھتیجیاں یتیم تھیں جو میری پرورش میں تھیں، ان کے پاس زیور تھا مگر اس سے زکوٰۃ نہیں نکالی جاتی تھی۔‘‘ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر۷۵۳۵)۔ حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کے سلسلے میں بھی یہ روایت ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو سونے کا زیور پہناتی تھیں اور اس کی زکوٰۃ نہیں دیتی تھیں جو پچاس ہزار کے لگ بھگ ہوتا تھا۔ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر۷۵۴۲)۔ ان روایات کے علاوہ امام بیہقیؒ نے اسی باب میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول بھی اس راے کی حمایت میں نقل کیا ہے۔ یہ ساری روایت محدثین کے نزدیک صحیح ہیں۔
اس راے کے برخلاف احناف کا موقف یہ ہے کہ سونے چاندی کے استعمال کے زیورات میں بھی زکوٰۃ واجب ہے اگر وہ نصاب کو پہنچ جائیں۔ ان کی دلیل حضرت ام سلمہؓ کی یہ روایت ہے: ’’میں سونے کے اوضاح (پازیب) پہنا کرتی تھی، میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! کیا یہ کنز ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’ جو مال زکوٰۃ کی مقدار کو پہنچ جائے اور اس کی زکوٰۃ ادا کردی جائے تو وہ کنز نہیں ہے۔‘‘ (سنن أبی داوُد، حدیث نمبر ۱۵۶۴)۔ اس حدیث کو اکثر محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن بعضوں نے حسن درجہ میں رکھا ہے۔ دوسری روایت عبداللہ بن عمروؓ سے ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بیٹی بھی تھی اور بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے۔ آپؐ نے اس عورت سے پوچھا: ’’کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتی ہو؟‘‘، اس نے کہا : نہیں! آپؐ نے فرمایا: ’’کیا تمھیں یہ اچھا لگے گا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمھیں ان کے بدلے آگ کے دو کنگن پہنائے؟ عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کہتے ہیں کہ اس عورت نے دونوں کنگن اتار کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے ڈال دیے اور بولی : یہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے لئے ہیں۔ (سنن أبی داوُدؒ، حدیث نمبر۱۵۶۳)۔ یہ روایت محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔ ایک اور روایت حضرت عائشہؓ کی ہے جسے روایت کیا ہے عبداللہ بن شداد بن الہادؓ نے، وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ام المومنین حضرت عائشہؓ کے پاس گئے، وہ کہنے لگیں: ایک بار رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، آپؐ نے میرے ہاتھ میں چاندی کی کچھ انگوٹھیاں دیکھیں تو فرمایا: ’’عائشہ! یہ کیا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: میں نے انھیں اس لئے بنوایا ہے تاکہ میں آپ کے لئے بناؤ سنگار کروں۔ آپؐ نے پوچھا: ’’کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟‘‘ میں نے کہا: نہیں! یا جو کچھ اللہ کو منظور تھا کہا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’یہ تمھیں جہنم میں لے جانے کے لئے کافی ہیں۔‘‘ (سنن أبی داوُدؒ، حدیث نمبر۱۵۶۵)۔ یہ روایت بھی محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔
حضرت عروہؓ سیدہ عائشہؓ سے ہی نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ’’زیور پہننے میں کوئی حرج نہیں، جب اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے۔‘‘ حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے خزانچی سالم کو لکھا کرتے تھے کہ وہ ان کی بیٹیوںکے زیور کی ہر سال زکوٰۃ نکالے۔ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر۷۵۴۵)۔ یہ روایت بھی صحیح ہے، بعض محدثین نے اسے حسن درجہ میں رکھا ہے۔ اسی طرح علقمہؒ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعودؓ کی بیوی نے زیور کے بارے میں پوچھا تو انہوں کہا: ’’جب وہ دو سو درہم کو پہنچ جائیں تو ان میں زکوٰۃ ہے۔‘‘ (سنن الکبریٰ للبیہقیؒ، حدیث نمبر۷۵۴۶)۔ یہ روایت بھی صحیح ہے۔ ان روایات سے امام ابوحنیفہؒ کے مسلک کی تائید ہوتی ہے لیکن امام مالکؒ، امام شافعیؒ، اور امام احمدؒ کے مطابق سونے چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ صرف اس صورت میں فرض ہوگی جب وہ تجارت کے لئے یا خزانہ کے طور پر مال کو محفوظ کرنے کے لئے بنوائے گئے ہوں۔ تاہم احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ عورتوں کے استعمال اور آرائش کے زیورات پر بھی زکوٰۃ ادا کیے جائیں۔
ریزرو بینک کے جاری کردہ کاغذی نوٹ اپنے پاس ذخیرہ کیے ہوئے سونے چاندی کے قائم مقام ہیں، اس لئے ان پر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی۔ واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں کرنسی سونے اور چاندی کی ہی ہوا کرتی تھی؛ سونے کی کرنسی ’’دینار‘‘ کہی جاتی تھی اور چاندی کی’ ’درہم‘‘۔ بیس دینار کی قوت خرید اُس زمانے میں دو سو درہم کی قوت خرید کے لگ بھگ برابر تھی، اس لئے نصاب میں یہ فرق بھی اسی لحاظ سے رکھا گیا تھا۔ آج کے دور میں سونے اور چاندی کے سکوں کا رواج ختم ہوچکا ہے اور ان کی جگہ لوہے و کانسے کے سکوں یا کاغذی نوٹوں نے لے لی ہے۔ اس لئے گھر یا بینک میں محفوظ کاغذی نوٹوں پر بھی سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ عائد ہوگی۔ اب سوال یہ ہے کہ کاغذی نوٹوں کی زکوٰۃ کانصاب سونے کے نصاب کی مالیت کے اعتبار سے مقرر کیا جائے یا چاندی کے نصاب کی مالیت کے اعتبار سے؟  تو اس دور کے اکثر فقہا کی راے یہی ہے کہ کاغذی نوٹوں کا نصاب، چاندی کے نصاب کی مالیت کے اعتبار سے طے کیا جائے کیوں کہ اس میں فقرا و مساکین کا زیادہ فائدہ ہے اور احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اس حساب سے آج کے دن اگر کسی کے پاس کم از کم ایک لاکھ، تینتالیس ہزار، نو سو پانچ (۹۰۵،۴۳،۱) روپے محفوظ ہوگئے (جیسا کہ احقر نے سطور بالا میں چاندی کے نصاب کی مالیت کا حساب کرکے بتایا ہے) تو وہ صاحب نصاب ہوگیا اور اس رقم پر سال گزرنے کے بعد ڈھائی فی صد کے حساب سے زکوٰۃ واجب ہوگی گو اس کے پاس سونا اور چاندی میں سے کچھ بھی نہ ہو۔ کاغذی کرنسی کی زکوٰۃ کا نصاب سونے کے نصاب کی مالیت کے اعتبار سے طے نہ کرنے کی وجہ بالکل ظاہر ہے کہ وہ رقم جیسا کہ احقر نے سطور بالا میں حساب کرکے بتایا ہے بہت زیادہ ہے۔ اس کے حساب سے آج کے دن کسی کے پاس کم از کم  تیرہ لاکھ، چھتیس ہزار، بیاسی (۰۸۲،۳۶،۱۳) روپے جمع ہوں جو ساڑھے سات تولہ سونا کی مالیت ہے، اور اس پر سال گزرے تب اس کے اوپر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اس طرز عمل سے غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کا سخت نقصان ہوگا۔ اس لئے چاندی کے نصاب کی مالیت کا لحاظ رکھتے ہوئے کرنسی نوٹوں کی زکوٰۃ کا حساب لگانا ہی محتاجوں کی مصلحت اور زکوٰۃ کی فرضیت کی حکمتوں کے پیش نظر بہتر ہے۔
سامان تجارت بھی نقدی کی ہی مثل ہے کیوں اس میں نقدی میں تبدیل ہونے کی امکانی قوت موجود ہے۔ اس لئے صحابہ، تابعین اور بعد کے ادوار کے جمہور علما و فقہا سامان تجارت پر وجوب زکوٰۃ کے قائل ہیں۔ لہٰذا اگر کسی شخص کے پاس سامان تجارت اتنی قیمت کا ہے کہ چاندی کے نصاب کی مالیت کو پہنچتا ہے اور اس پر سال گزر گیا، تو اسے اس کی زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ سارے اموال تجارت کی قیمت کا حساب لگاکر اس کا ڈھائی فی صد زکوٰۃ کے طور پر نکال دے۔ سال کا حساب وہاں سے شروع ہوگا جب سے سامان تجارت کی مالیت بقدر نصاب ہوجائے۔ اگر سال کے دوران میں سامان تجارت کی مالیت نصاب سے کم ہوگئی لیکن سال کے اختتام پر پھر بقدر نصاب ہوگئی تو امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک سال کو منقطع نہیں سمجھا جائے گا اور سال کے اختتام پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
شیئر بازار (Share Market) میں لگائی گئی رقم بھی جمع پونجی کے زمرے میں ہے، اس لئے اس پر بھی زکوٰہ واجب ہوگی اگر اصل سرمایہ اور اس پر ہونے والا نفع حد نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر جائے۔ اس لئے کمپنیوں کے شیئرز (Shares) اور میوچول فنڈس (Mutual Funds)کی اکائیوں (Units) کا حساب رکھنا چاہیے اور سال کے آخر میں بازار میں رائج ان کی فی اکائی قیمت(Unit Price) کی در سے پوری مالیت کا حساب لگا کر اس کا ڈھائی فی صد زکوٰۃ کے طور پر نکال دینا چاہیے۔ انعامی بانڈز میں رقم لگانے اور اس پر انعام وصول کرنے کو اکثر علما نے شرعاً حرام قرار دیا ہے کیوں کہ اس میں سود اور قمار (جوا) دونوں شامل ہوتا ہے، تاہم اگر کسی نے اس میں رقم لگادی ہے تو اس رقم پر بھی سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہوگی۔ یہاں یہ بھی واضح کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شیئرز بھی ان ہی کمپنیوں کا خریدنا درست ہے جن کا بنیادی کاروبار شریعت کی رو سے حلال ہو۔ جو کمپنیاں حرام کاروبار میں ملوث ہوں مثلاً شراب ، منشیات یا دیگر نشہ آور چیزوں کا بنانا یا بیچنا، فحش فلمیں اور بے حیائی پھیلانے والے مواد کا کاروبار، حرام گوشت کا کاروبار وغیرہ ان کے شیئرز خریدنا قطعاً درست نہیں ہے۔ اسی طرح میوچول فنڈس یونٹس بھی ان کمپنیوں کا ہی خریدنا درست ہے جن کا سرمایہ حلال کاروبار، تجارت اور حلال شیئرز میں لگایا جاتا ہو۔ پھر بھی اگر کسی نے ان میں سرمایہ کاری کردی ہو تو لگائی گئی رقم پر بھی سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہوگی۔ خلاصۂ کلام یہ کہ شیئرز، میوچول فنڈس اور بانڈز میں لگائی گئی رقم پر سال کے اختتام پر ڈھائی فی صد کی در سے زکوٰۃواجب ہوگی۔ اگر کسی شخص کے پاس سامان تجارت بھی ہے، سونا چاندی بھی ہے، نقدی و بینک بیلنس بھی، نیز شیئرز، میوچول فنڈس اور بانڈز بھی، تو سال کے آخر میں سب کی مالیت متعین کرکے ان کی زکوٰۃ ادا کرے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں