ایمان، روحانی علاج اور جدید طب میں توازن کی ضرورت

 

ڈاکٹر فیاض مقبول

’’کسی نے ہمارے خاندان پر کالا جادو کر دیا ہے۔‘‘ ’’اس گھر کو نظرِ بد لگ گئی ہے۔‘‘ ’’دلہن پر جنات کا اثر ہے۔‘‘ ’’جادو کی وجہ سے میاں بیوی کے ہاں اولاد نہیں ہو رہی۔‘‘
ہمارے معاشرے میں ایسے جملے خصوصاً شادیوں کے موسم میں زیادہ سننے کو ملتے ہیں، جب خاندان جذباتی، سماجی اور مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام نظرِ بد، سحر یا جنات کے وجود کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ حقیقی دینی عقیدے اور توہم پرستی، دھوکہ دہی، نفسیاتی مسائل اور عام طبی بیماریوں میں فرق کیسے کیا جائے۔
میں یہ بات ایک معالج اور طب و اسلام کے باہمی تعلق کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے عرض کر رہا ہوں۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران مجھے نظرِ بد، حسد، جنات، سحر اور رُقیہ سے متعلق مختلف مباحث کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ ان تجربات نے یہ احساس دلایا کہ ہمیں نہ ایمان کا اندھا انکار کرنا چاہیے اور نہ دین کے نام پر کیے جانے والے ہر دعوے کو بلا تحقیق قبول کرنا چاہیے۔ ہمیں علم، دلیل اور اعتدال کی ضرورت ہے۔
ایمان اور طب ایک دوسرے کے مخالف نہیں
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: ’’العَینُ حَقٌّ‘‘ یعنی نظرِ بد حقیقت ہے۔ اسلامی تعلیمات میں سحر اور جنات کا ذکر بھی موجود ہے اور شرعی حدود کے اندر رُقیہ کی اجازت بھی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بیماری، خاندانی اختلاف، بے اولادی، گھبراہٹ، ڈپریشن یا غیر معمولی رویّے کو جادو یا جنات سے منسوب کر دیا جائے۔
اسلام ہمیں جائز اور معمول کے اسباب اختیار کرنے سے نہیں روکتا۔ مسلمان دعا بھی کر سکتا ہے اور ڈاکٹر سے رجوع بھی؛ رُقیہ بھی کر سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ نفسیات سے مشورہ بھی لے سکتا ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ بعض افراد روحانی علاج کے نام پر مریضوں کو طبی معائنے اور علاج سے دور رکھتے ہیں۔ کسی شخص کو جن زدہ قرار دینے سے پہلے اس کی طبی حالت کا جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ بظاہر غیر معمولی رویّے کے پیچھے مرگی، خون میں شکر کی کمی، اعصابی بیماری یا نفسیاتی عارضہ بھی ہو سکتا ہے۔
دعا اور دوا ایک دوسرے کی حریف نہیں؛ ایمان کو طب کا معاون ہونا چاہیے، متبادل نہیں۔
شادی کی روایات اور بڑھتی ہوئی توہم پرستی
ہمارے بزرگ نئی شادی کرنے والے جوڑوں کو آرام، احتیاط اور غیر ضروری مشغولیات سے بچنے کی نصیحت کرتے تھے۔ ان میں تھکن، حادثات اور ذہنی دباؤ سے بچنے جیسی عملی حکمت ہو سکتی تھی۔ تاہم، بعض روایات وقت کے ساتھ توہم پرستی میں بدل گئی ہیں۔
کبھی مخصوص رنگوں کو نحوست سے جوڑا جاتا ہے، کبھی گھر کے کونوں میں کیلیں لگانے، اشیا دفن کرنے یا نامعلوم مادّے جلانے اور استعمال کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
ایسے اعمال کو قبول کرنے سے پہلے سوال کرنا چاہیے: کیا اس کی واضح دلیل قرآن و سنت میں موجود ہے؟ کوئی عمل صرف مذہبی الفاظ استعمال کرنے سے شرعی طور پر جائز نہیں ہو جاتا۔
خود ساختہ عاملوں اور نام نہاد روحانی معالجوں کے بارے میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ حقیقی رُقیہ خوف پھیلانے، مریض کو جسمانی اذیت دینے، بھاری رقوم وصول کرنے یا کسی بے گناہ شخص کو جادو کا ذمہ دار ٹھہرانے کا نام نہیں۔
مجھے مسجد نبوی ﷺ میں رمضان کے دوران تہجد کے بعد ایک ایسا واقعہ دیکھنے کا موقع ملا، جب لوگوں کا ایک ہجوم ایک شخص کو مبینہ روحانی اثر سے متاثر سمجھ کر اس کے گرد جمع تھا۔ لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور اسے جسمانی طور پر قابو میں رکھے ہوئے تھے۔ جب میں نے، بطور معالج، اس کی طبی حالت جانچنے کی کوشش کی تو مجھے پیچھے دھکیل دیا گیا۔
اس واقعے نے ایک اہم سبق دیا: روحانی مدد کبھی بھی بروقت طبی امداد میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ مریض کے پاس قرآن پڑھنا اور دعا کرنا روحانی تسکین دے سکتا ہے، لیکن یہ طبی معائنے اور ہنگامی علاج کا متبادل نہیں۔
بانجھ پن کو جادو سے منسوب نہ کریں
بے اولادی کو بعض اوقات نظرِ بد، سحر یا جنات کے اثر سے جوڑ دیا جاتا ہے، حالانکہ اس کی متعدد سائنسی طور پر تسلیم شدہ طبی وجوہات ہیں۔ ان میں ہارمونز کی بے ترتیبی، بیضہ بننے کے مسائل، اینڈومیٹریوسس، تولیدی نالیوں کی خرابی، مردانہ تولیدی مسائل اور عمر کے ساتھ زرخیزی میں کمی شامل ہیں۔
بے اولادی کا سامنا کرنے والے جوڑوں کو الزام، خوف اور بدگمانی کے بجائے ہمدردی اور تعاون کی ضرورت ہے۔ ہر غیر واضح بیماری کو جادو قرار دینا یا کسی رشتہ دار پر الزام لگانا ناانصافی اور خاندانی انتشار کا سبب بن سکتا ہے۔
دعا، صبر اور شرعی حدود کے مطابق رُقیہ روحانی سہارا فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ مناسب طبی معائنہ اور علاج بھی ضروری ہے۔
غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
’’کہہ دیجیے: آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔‘‘ (سورۃ النمل: 65)
قرآنِ مجید میں سحر کے حوالے سے بھی تنبیہ موجود ہے کہ اسے آزمائش اور گمراہی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے کاہنوں اور غیب گوئی کے دعوے کرنے والوں کے پاس جانے سے خبردار فرمایا ہے۔ (صحیح مسلم)
لہٰذا کسی شخص کا یہ دعویٰ کہ ’’مجھے معلوم ہے کہ کس نے آپ پر جادو کیا ہے‘‘ قابلِ اعتماد دلیل کے بغیر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے دعوے بے بنیاد الزامات، دشمنی اور خاندانی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں غیب کے بارے میں غیر ضروری دعووں سے بچنا اور قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنا چاہییں۔
مشکوک روحانی اعمال سے احتیاط
اشیا دفن کرنا، گھر میں کیلیں یا پنیں لگانا، تکیوں کے نیچے پراسرار چیزیں چھپانا، نامعلوم مادّے جلانا یا کھانا، اور تصاویر، بال یا کپڑے کسی خود ساختہ عامل کو دینا مختلف خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ ان میں جسمانی نقصان، زہر خورانی، رازداری کی خلاف ورزی اور جذباتی یا مالی استحصال شامل ہیں۔
کسی عمل کے دوران قرآنِ مجید کی آیات پڑھنا بذاتِ خود اس عمل کے شرعی طور پر درست ہونے کی دلیل نہیں۔ اس کے لئے قرآن و سنت اور معتبر شرعی اصولوں کی روشنی میں جائز ہونا ضروری ہے۔
نبی کریم ﷺ نے علاج اختیار کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:
’’علاج کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی پیدا نہیں کی جس کے لئے اس نے شفا بھی پیدا نہ کی ہو۔‘‘ (سنن ابی داؤد؛ جامع ترمذی)
اس لئے روحانی اور طبی نگہداشت ایک دوسرے کے معاون ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ دونوں اپنے درست دائرے میں اختیار کیے جائیں۔
خوف کے بجائے علم اور ہمدردی
ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو دینی عقیدے کا احترام کرے، توہم پرستی کی حوصلہ شکنی کرے اور مریضوں کو بروقت مناسب علاج کی طرف رہنمائی دے۔
نظرِ بد اور سحر سے متعلق اسلامی تعلیمات کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بیماری یا پریشانی کو مافوق الفطرت اسباب سے جوڑ دیا جائے۔ اسی طرح طبی علاج اختیار کرنا ایمان کے منافی نہیں۔
دعا، مستند رُقیہ، اللہ تعالیٰ پر توکل اور مناسب طبی و نفسیاتی علاج ایک متوازن اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے اجزا ہیں۔ ایمان اور طب مل کر شفا، انسانی وقار اور ہمدردانہ نگہداشت کو فروغ دے سکتے ہیں۔
کالم نگار طبیب اور اسلامی طبی تحقیق کے محقق ہیں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

ایمان، روحانی علاج اور جدید طب میں توازن کی ضرورت

 

ڈاکٹر فیاض مقبول

’’کسی نے ہمارے خاندان پر کالا جادو کر دیا ہے۔‘‘ ’’اس گھر کو نظرِ بد لگ گئی ہے۔‘‘ ’’دلہن پر جنات کا اثر ہے۔‘‘ ’’جادو کی وجہ سے میاں بیوی کے ہاں اولاد نہیں ہو رہی۔‘‘
ہمارے معاشرے میں ایسے جملے خصوصاً شادیوں کے موسم میں زیادہ سننے کو ملتے ہیں، جب خاندان جذباتی، سماجی اور مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام نظرِ بد، سحر یا جنات کے وجود کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ حقیقی دینی عقیدے اور توہم پرستی، دھوکہ دہی، نفسیاتی مسائل اور عام طبی بیماریوں میں فرق کیسے کیا جائے۔
میں یہ بات ایک معالج اور طب و اسلام کے باہمی تعلق کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے عرض کر رہا ہوں۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران مجھے نظرِ بد، حسد، جنات، سحر اور رُقیہ سے متعلق مختلف مباحث کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ ان تجربات نے یہ احساس دلایا کہ ہمیں نہ ایمان کا اندھا انکار کرنا چاہیے اور نہ دین کے نام پر کیے جانے والے ہر دعوے کو بلا تحقیق قبول کرنا چاہیے۔ ہمیں علم، دلیل اور اعتدال کی ضرورت ہے۔
ایمان اور طب ایک دوسرے کے مخالف نہیں
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: ’’العَینُ حَقٌّ‘‘ یعنی نظرِ بد حقیقت ہے۔ اسلامی تعلیمات میں سحر اور جنات کا ذکر بھی موجود ہے اور شرعی حدود کے اندر رُقیہ کی اجازت بھی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بیماری، خاندانی اختلاف، بے اولادی، گھبراہٹ، ڈپریشن یا غیر معمولی رویّے کو جادو یا جنات سے منسوب کر دیا جائے۔
اسلام ہمیں جائز اور معمول کے اسباب اختیار کرنے سے نہیں روکتا۔ مسلمان دعا بھی کر سکتا ہے اور ڈاکٹر سے رجوع بھی؛ رُقیہ بھی کر سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ نفسیات سے مشورہ بھی لے سکتا ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ بعض افراد روحانی علاج کے نام پر مریضوں کو طبی معائنے اور علاج سے دور رکھتے ہیں۔ کسی شخص کو جن زدہ قرار دینے سے پہلے اس کی طبی حالت کا جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ بظاہر غیر معمولی رویّے کے پیچھے مرگی، خون میں شکر کی کمی، اعصابی بیماری یا نفسیاتی عارضہ بھی ہو سکتا ہے۔
دعا اور دوا ایک دوسرے کی حریف نہیں؛ ایمان کو طب کا معاون ہونا چاہیے، متبادل نہیں۔
شادی کی روایات اور بڑھتی ہوئی توہم پرستی
ہمارے بزرگ نئی شادی کرنے والے جوڑوں کو آرام، احتیاط اور غیر ضروری مشغولیات سے بچنے کی نصیحت کرتے تھے۔ ان میں تھکن، حادثات اور ذہنی دباؤ سے بچنے جیسی عملی حکمت ہو سکتی تھی۔ تاہم، بعض روایات وقت کے ساتھ توہم پرستی میں بدل گئی ہیں۔
کبھی مخصوص رنگوں کو نحوست سے جوڑا جاتا ہے، کبھی گھر کے کونوں میں کیلیں لگانے، اشیا دفن کرنے یا نامعلوم مادّے جلانے اور استعمال کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
ایسے اعمال کو قبول کرنے سے پہلے سوال کرنا چاہیے: کیا اس کی واضح دلیل قرآن و سنت میں موجود ہے؟ کوئی عمل صرف مذہبی الفاظ استعمال کرنے سے شرعی طور پر جائز نہیں ہو جاتا۔
خود ساختہ عاملوں اور نام نہاد روحانی معالجوں کے بارے میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ حقیقی رُقیہ خوف پھیلانے، مریض کو جسمانی اذیت دینے، بھاری رقوم وصول کرنے یا کسی بے گناہ شخص کو جادو کا ذمہ دار ٹھہرانے کا نام نہیں۔
مجھے مسجد نبوی ﷺ میں رمضان کے دوران تہجد کے بعد ایک ایسا واقعہ دیکھنے کا موقع ملا، جب لوگوں کا ایک ہجوم ایک شخص کو مبینہ روحانی اثر سے متاثر سمجھ کر اس کے گرد جمع تھا۔ لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور اسے جسمانی طور پر قابو میں رکھے ہوئے تھے۔ جب میں نے، بطور معالج، اس کی طبی حالت جانچنے کی کوشش کی تو مجھے پیچھے دھکیل دیا گیا۔
اس واقعے نے ایک اہم سبق دیا: روحانی مدد کبھی بھی بروقت طبی امداد میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ مریض کے پاس قرآن پڑھنا اور دعا کرنا روحانی تسکین دے سکتا ہے، لیکن یہ طبی معائنے اور ہنگامی علاج کا متبادل نہیں۔
بانجھ پن کو جادو سے منسوب نہ کریں
بے اولادی کو بعض اوقات نظرِ بد، سحر یا جنات کے اثر سے جوڑ دیا جاتا ہے، حالانکہ اس کی متعدد سائنسی طور پر تسلیم شدہ طبی وجوہات ہیں۔ ان میں ہارمونز کی بے ترتیبی، بیضہ بننے کے مسائل، اینڈومیٹریوسس، تولیدی نالیوں کی خرابی، مردانہ تولیدی مسائل اور عمر کے ساتھ زرخیزی میں کمی شامل ہیں۔
بے اولادی کا سامنا کرنے والے جوڑوں کو الزام، خوف اور بدگمانی کے بجائے ہمدردی اور تعاون کی ضرورت ہے۔ ہر غیر واضح بیماری کو جادو قرار دینا یا کسی رشتہ دار پر الزام لگانا ناانصافی اور خاندانی انتشار کا سبب بن سکتا ہے۔
دعا، صبر اور شرعی حدود کے مطابق رُقیہ روحانی سہارا فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ مناسب طبی معائنہ اور علاج بھی ضروری ہے۔
غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
’’کہہ دیجیے: آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔‘‘ (سورۃ النمل: 65)
قرآنِ مجید میں سحر کے حوالے سے بھی تنبیہ موجود ہے کہ اسے آزمائش اور گمراہی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے کاہنوں اور غیب گوئی کے دعوے کرنے والوں کے پاس جانے سے خبردار فرمایا ہے۔ (صحیح مسلم)
لہٰذا کسی شخص کا یہ دعویٰ کہ ’’مجھے معلوم ہے کہ کس نے آپ پر جادو کیا ہے‘‘ قابلِ اعتماد دلیل کے بغیر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے دعوے بے بنیاد الزامات، دشمنی اور خاندانی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں غیب کے بارے میں غیر ضروری دعووں سے بچنا اور قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنا چاہییں۔
مشکوک روحانی اعمال سے احتیاط
اشیا دفن کرنا، گھر میں کیلیں یا پنیں لگانا، تکیوں کے نیچے پراسرار چیزیں چھپانا، نامعلوم مادّے جلانا یا کھانا، اور تصاویر، بال یا کپڑے کسی خود ساختہ عامل کو دینا مختلف خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ ان میں جسمانی نقصان، زہر خورانی، رازداری کی خلاف ورزی اور جذباتی یا مالی استحصال شامل ہیں۔
کسی عمل کے دوران قرآنِ مجید کی آیات پڑھنا بذاتِ خود اس عمل کے شرعی طور پر درست ہونے کی دلیل نہیں۔ اس کے لئے قرآن و سنت اور معتبر شرعی اصولوں کی روشنی میں جائز ہونا ضروری ہے۔
نبی کریم ﷺ نے علاج اختیار کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:
’’علاج کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی پیدا نہیں کی جس کے لئے اس نے شفا بھی پیدا نہ کی ہو۔‘‘ (سنن ابی داؤد؛ جامع ترمذی)
اس لئے روحانی اور طبی نگہداشت ایک دوسرے کے معاون ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ دونوں اپنے درست دائرے میں اختیار کیے جائیں۔
خوف کے بجائے علم اور ہمدردی
ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو دینی عقیدے کا احترام کرے، توہم پرستی کی حوصلہ شکنی کرے اور مریضوں کو بروقت مناسب علاج کی طرف رہنمائی دے۔
نظرِ بد اور سحر سے متعلق اسلامی تعلیمات کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بیماری یا پریشانی کو مافوق الفطرت اسباب سے جوڑ دیا جائے۔ اسی طرح طبی علاج اختیار کرنا ایمان کے منافی نہیں۔
دعا، مستند رُقیہ، اللہ تعالیٰ پر توکل اور مناسب طبی و نفسیاتی علاج ایک متوازن اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے اجزا ہیں۔ ایمان اور طب مل کر شفا، انسانی وقار اور ہمدردانہ نگہداشت کو فروغ دے سکتے ہیں۔
کالم نگار طبیب اور اسلامی طبی تحقیق کے محقق ہیں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں