جنگ نیوز
سری نگر/کشمیر میں موسمِ بہار کے ٹیولپ سیزن کے بعد خزاں کی سیاحت کو فروغ دینے کے لئے محکمہ فلوریکلچر نے ’کرسنتھیمم گارڈن‘ کو ایک نئی سیاحتی کشش کے طور پر تیار کیا ہے۔ اس سال یہاں تقریباً ساڑھے تین لاکھ پودے لگائے گئے ہیں، جن پر پھولوں کی بہار موسم اور حالات کے مطابق 5 یا 6 دسمبر تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔
ڈائریکٹر فلوریکلچر، گارڈنز اینڈ پارکس کشمیر، ماتھورا معصوم نے کہا کہ باغ میں پھولوں کی کیاریاں وسیع کرنے کے ساتھ رنگین پلازا، آبی مناظر، پرگولا، سیلفی پوائنٹس اور بہتر راستے و دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ چاہتا ہے کہ کرسنتھیمم گارڈن بھی ٹیولپ گارڈن کی طرح مقبول ہو، تاکہ موسمِ بہار کے ساتھ خزاں میں بھی کشمیر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے۔ یہ باغ خاص طور پر خزاں کے پھولوں کے لئے تیار کیا گیا ہے، جبکہ چنار، میپل اور جِنکگو کے درخت اس کے قدرتی حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔
ماتھورا معصوم کے مطابق خزاں میں چنار کے بدلتے رنگ دیکھنے آنے والے سیاح اب کرسنتھیمم کے پھولوں سے بھی لطف اندوز ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خراب موسم کے باوجود محکمے کے افسران، مالیوں اور دیگر عملے نے باغ کو تیار کرنے کے لئے سخت محنت کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کرسنتھیمم کے پودے ٹیولپ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور ہلکی برف باری بھی برداشت کر سکتے ہیں، جس سے سیاحوں کو نسبتاً طویل عرصے تک باغ کی سیر کا موقع مل سکتا ہے۔


